It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Praying in congregation is twenty-seven times better than praying alone.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Praying in congregation is twenty-five portions better than one of you praying alone.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے کسی کی تنہا نماز سے پچیس گنا افضل ہے ۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) said: Prayer in congregation is twenty-five levels better than a prayer offered on one's own.
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمٰن بن عمار کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھی ہوتی ہے ۔
It was narrated that Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ)said: 'If there are three people, let one of them lead the others in prayer, and the one who has the most right to lead the prayer is the one who recites (knows) the most (Qur'an). '
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عونہ نے قتادہ کی سند سے اور ابو نضرۃ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم said:
I prayed beside the Prophet (ﷺ) and Aisha رضی اللہ عنہا was behind us praying with us, and I was beside the Prophet (ﷺ) praying with him.
ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، ابن جریج نے کہا: مجھ سے زیاد نے بیان کیا کہ عبد القیس کے آزاد کردہ غلام قزعہ نے ان سے بیان کیا کہ میں نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہیں تھیں، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ عنہم said:
I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ)and I stood on his left. He took hold of me with his left hand and made me stand on his right.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے اور عطاء کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو میں آپ کے بائیں کھڑا ہوا، تو آپ نے مجھے اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑا، اور ( پیچھے سے لا کر ) اپنے دائیں کھڑا کر لیا۔
Ubay bin Ka'b رضی اللہ عنہ said:
One day the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Fajr, then he said: 'Did so-and-so attend the prayer? They said: 'No.' He said: '(What about) so-and-so? They said:'No' He said: 'These two prayers. are the most burdensome for the hypocrites. If they knew what (virtue) there is in them, they would come, even if they had to crawl. And the virtue of the first row is like that of the row of the angels. If you knew its virtue, you would compete for it. A man's prayer with another man is greater in reward than his prayer alone. And a man's prayer with two other men is greater in reward than his prayer with one other man; the more people there are, the more beloved that is to Allah, the Mighty and Sublime. '
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد بن حارث نے شعبہ کی سند سے، وہ ابواسحاق کی سند سے، انہوں نے انہیں عبداللہ بن ابی بصیر کے واسطہ سے، اپنے والد سے, شعبہ نے کہا، اور ابو اسحاق نے کہا، اور میں نے اسے ان سے اور ان کے والد سے سنا، انہوں نے کہا:ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا فلاں نماز میں موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور فلاں؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں نمازیں ( عشاء اور فجر ) منافقین پر سب سے بھاری ہیں، اگر لوگ جان لیں کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے، تو وہ ان دونوں میں ضرور آئیں خواہ چوتڑوں کے بل انہیں گھسٹ کر آنا پڑے، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے، اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم اس میں شرکت کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے، کسی آدمی کا کسی آدمی کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور ایک شخص کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور لوگ جتنا زیادہ ہوں گے اتنا ہی وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو گی ۔
It was narrated from 'Itban bin Malik رضی اللہ عنہ that he said:
O Messenger of Allah (ﷺ) the floods keep me from coming to the Masjid of my people. I would like you to come and pray in a place in my house so that I can take it as a Masjid. The Messenger of Allah (ﷺ) said: We shall do that. When the Messenger of Allah (ﷺ) entered he said: 'Where do you want (me to pray).' I showed him a comer of the house, and the Messenger of Allah (ﷺ) stood there, and we formed rows behind him, and he led us in praying two Rak'ahs.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبد الاعلی نے خبر دی، کہا: ہم سے معمر نے، زہری کی سند سے، محمود کی سند سے, عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے اور میرے قبیلہ کی مسجد کے درمیان ( برسات میں ) سیلاب حائل ہو جاتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیتے جسے میں مصلیٰ بنا لیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ہم آئیں گے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے پوچھا: تم کہاں چاہتے ہو؟ تو میں نے گھر کے ایک گوشہ کی جانب اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) turned to face us when he stood up to pray, before he said Takbir, and said: 'Make your rows straight and fill the gaps, for I can see you from behind my back. '
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے حمید کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی صفوں کو درست کر لیا کرو، اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah رضی اللہ عنہ that his father said:
We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when some of the people said: 'Why do you not stop with us to rest awhile, O Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: 'I am afraid that you will sleep and miss the prayer.' Bilal رضی اللہ عنہ said:'I will wake you up.' So they lay down and slept, and Bilal رضی اللہ عنہ leaned back on his mount. Then the Messenger of Allah (ﷺ) woke up when the sun had already started to rise, and he said: 'O Bilal, what about what you told us?' He said: 'I have never slept like that before.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah, the Mighty and Sublime, takes your souls when He wills and sends them back when He wills.' Stand up 0 Bilal and call the people to prayer.' Then Bilal stood up and & called the Adhan, and they performed Wudu' - that is, when the sun had risen (fully) - then he stood and lead them in prayer.
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو زبید نے جن کا نام ابطار بن القاسم تھا، حسین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم ( سفر میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! کاش آپ آرام کے لیے پڑاؤ ڈالتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ تم کہیں نماز سے سو نہ جاؤ ، اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سب کی نگرانی کروں گا، چنانچہ سب لوگ لیٹے، اور سب سو گئے، بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی پیٹھ اپنی سواری سے ٹیک لی، ( اور وہ بھی سو گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج نکل چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بلال! کہاں گئی وہ بات جو تم نے کہی تھی؟ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھ پر ایسی نیند جیسی اس بار ہوئی کبھی طاری نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے، اور جب چاہتا ہے اسے لوٹا دیتا ہے، بلال اٹھو! اور لوگوں میں نماز کا اعلان کرو ؛ چنانچہ بلال کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اذان دی، پھر لوگوں نے وضو کیا، اس وقت سورج بلند ہو چکا تھا، تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
It was narrated that Ma'din bin Abi Talhah Al-Ya'muri said:
Abu Ad-Darda رضی اللہ عنہ said to me: 'Where do you live?' I said: 'In a town near Hims.' Abu Ad-Darda رضی اللہ عنہ said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: There are no three people in a town or encampment among whom prayer is not established, but the Shaitan takes control of them. Therefore, stick to the congregation, for the wolf eats the sheep that strays off on its own. (One of the narrators (As Sa'ib) said: The congregation means the congregational prayer.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے زیدہ بن قدامہ کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے سائب بن حبیش الکلعی نے بیان کیا, معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ
مجھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارا گھر کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص کے دُوَین نامی بستی میں، اس پر ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب کسی بستی یا بادیہ میں تین افراد موجود ہوں، اور اس میں نماز نہ قائم کی جاتی ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑ یا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری ہی کو کھاتا ہے ۔ سائب کہتے ہیں: جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: By the One in Whose Hand is my soul! I nearly ordered that firewood be gathered to be lit, then I would have ordered that the Adhan be called for prayer, and ordered a man to lead the people in prayer, then I would have gone from behind to those men and burned their houses down over them. By the One in Whose Hand is my soul! If any one of them knew that he would get a meaty bone or some meat in between two ribs, he would attend Isha'.''
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، تو وہ جمع کی جائے، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے ( مسجد میں ) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا ۔
It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
Whoever would like to meet Allah tomorrow as a Muslim, let him regularly attend these five (daily) prayers whenever the call for them is given (that in the mosques), for Allah prescribed for His Prophet the ways of guidance, and they (the prayers) are part of those ways of guidance. I do not think that there is anyone among you who does not have a place where he prays in his house. But if you were to pray in your houses and forsake the Masjids, you would be forsaking the Sunnah of your Prophet, and if you were to forsake the Sunnah of your Prophet you would go astray. There is no Muslim slave who performs Wudu and does it well, then walks to the prayer, but Allah will record one Hasanah (good deed) for each step he takes, or raise' him one level by it or erase one sin from him. I remember how we used to take short steps, and I remember (a time) when no one stayed behind from the prayer except a hypocrite whose hypocrisy was well known. And I have seen a man coming Supported by two others until he would be made to stand in the row.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہم کو عبداللہ بن المبارک نے مسعودی کی سند سے، علی بن الاقمر کی سند سے، ابو الاحوص کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ
جس شخص کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ کل قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ وہ مسلمان ہو، تو وہ ان پانچوں نمازوں کی محافظت کرے ، جب ان کی اذان دی جائے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور یہ نمازیں ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہو گا جس کی ایک مسجد اس کے گھر میں نہ ہو جس میں وہ نماز پڑھتا ہو، اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے، اور جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے ( اپنے گھر سے ) چلتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے عوض جسے وہ اٹھاتا ہے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، یا اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے، یا اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے، میں نے اپنے لوگوں ( صحابہ کرام ) کو دیکھا ہے جب ہم نماز کو جاتے تو قریب قریب قدم رکھتے، ( تاکہ نیکیاں زیادہ ملیں ) اور میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو منافق ہوتا، اور جس کا منافق ہونا لوگوں کو معلوم ہوتا، اور میں نے ( عہدرسالت میں ) دیکھا کہ آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر ( مسجد ) لایا جاتا یہاں تک کہ لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
A blind man came to the Messenger of Allah (ﷺ)and said: 'I do not have a guide to bring me to the prayer.' And he asked him to grant him a dispensation allowing him to pray in his house, and he gave him permission. Then when he turned away he said to him: 'Can you hear the call to prayer?' He said: 'Yes.' He said: 'Then respond to it. '
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ بن عبد اللہ بن العصام نے اپنے چچا یزید بن العصام کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۱؎، اور اس نے عرض کیا: میرا کوئی راہبر ( گائیڈ ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ( مؤذن کی پکار پر ) لبیک کہو ۔
It was narrated from Ibn Umm Maktum رضی اللہ عنہ that:
He said: O Messenger of Allah (ﷺ), there are many (dangerous) pests and wild animals in Al-Madinah. He said: Can you hear (the words) 'Come prayer, come to prosperity'? He said Yes. He said: Then be quick to respond, and he did not grant him a dispensation.
ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا۔ اور مجھ سے عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے عبدالرحمٰن بن ابیس کی سند سے بیان کیا, عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے,عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مدینہ میں کیڑے مکوڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) اور درندے بہت ہیں، ( تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم «حى على الصلاة»، اور «حى على الفلاح» کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو آؤ ، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔
It was narrated from Hisham bin 'Urwah from his father that:
'Abdullih bin Arqam رضی اللہ عنہ used to lead his companions in prayer. The time for prayer came one day and he went to relieve himself then he came back and said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'If any one of you feels the need to defecate, let him do that first, before he prays. '
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ہشام بن عروہ سے، اپنے والد سے
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے ۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If dinner is ready and the Iqamah for prayer is said, then start with dinner first. '
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز ( جماعت ) کھڑی کر دی گئی ہو، تو پہلے کھانا کھاؤ ۔
It was narrated from Abu Al Malih that his father said:
We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in Hunain and it rained. The caller of the Messenger of Allah (ﷺ) called out, telling us: 'Pray where you are. '
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے قتادہ کی سند سے، ابو ملیح سے اپنے والد سے، کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی: ( لوگو! ) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever performs wudu' and does it well, then sets out for the Masjid and finds that the people have already prayed, Allah will decree for him a reward like that of those who attended (the prayer), without reducing the slightest from their reward.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے ابن طہلہ کی سند سے، محسن بن علی الفہری کی سند سے، عوف بن حارث کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا، ( اور مسجد آیا ) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا ۔
It was narrated that 'Uthman bin 'Affan رضی اللہ عنہم said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever does wudu' properly, then walks to (attend) the prescribed prayer, and prays with the people or with the congregation or in the Masjid, Allah will forgive him his sins.
ہم سے سلیمان بن داؤد نے ابن وہب کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا کہ ان سے حکیم بن عبداللہ القرشی نے بیان کیا، ان سے نافع بن جبیر اور عبداللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ ان سے معاذ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, عثمان بن عفان کے آزاد کردہ غلام حمران کی طرف سے,عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے نماز کے لیے وضو کیا، اور کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا، اور آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی یا جماعت کے ساتھ، یا مسجد میں ( تنہا ) نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا ۔