It was narrated from Mihjan رضی اللہ عنہ that:
He was in a gathering with the Messenger of Allah (ﷺ) when the Adhan was called for prayer. The A Messenger of Allah (ﷺ) got up, then he came back and Mihjan was still sitting there. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: What kept you from praying? Are you not a Muslim man? He said: Yes, but I had already prayed with my family. The Messenger of Allah (ﷺ)said to him: When you come you should pray with the people even if you have already prayed.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، زید بن اسلم کی سند سے، بنو الدیل کے ایک شخص سے جس کا نام بسر بن محجن تھا, محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ( اور جا کر نماز پڑھی ) ، پھر ( نماز پڑھ کر ) لوٹے، اور محجن اپنی مجلس ہی میں بیٹھے رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تم آؤ ( اور لوگ نماز پڑھ رہے ہوں ) تو لوگوں کے ساتھ تم بھی نماز پڑھ لیا کرو، اگرچہ تم پڑھ چکے ہو ۔
Jabir bin Yazid bin Al-Aswad Al Amir رضی اللہ عنہ told us that his father said:
I attended Fajr prayer with the Messenger of Allah (ﷺ)in Masjid Al Khaif. When he finished praying, he saw two men at the back of the people who had not prayed with him. He said: 'Bring them here.' So they were brought to him, trembling. He said: 'What kept you from praying with us? They said: '0 Messenger of Allah (ﷺ) we has already prayed in our lodgings.' He said: 'Do not do that. If you have already prayed in your lodgings, then you come to a Masjid in which there is a congregation, then pray with them, and it will be a voluntary prayer for you. '
ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعلیٰ بن عطا نے بیان کیا، کہا: ہم سے جابر بن یزید بن اسود عامری رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
میں مسجد خیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں موجود تھا، جب آپ اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے دیکھا کہ لوگوں کے آخر میں دو آدمی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: ان دونوں کو میرے پاس لاؤ ، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا، ان کے مونڈھے ( گھبراہٹ سے ) کانپ رہے تھے وہ گھبرائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ تو ان دونوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، جب تم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکو، پھر مسجد میں آؤ جہاں جماعت ہو رہی ہو تو تم ان کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ( سنت ) ہو جائے گی ۔
It was narrated that Ahu Dharr رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said to me, and struck my thigh: 'What will you do if you stay among people who delay the prayer until its time is over?' He said: 'What do you command me to do?' He said: 'Offer the prayer on time, then go about your business. Then if the Iqamah for that prayer is said and you are in the Masjid, then pray.'
ہمیں محمد بن عبد الاعلٰی اور محمد بن ابراہیم بن سدران نے خبر دی - اور یہ قول ان کا ہے - خالد بن حارث سے، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے، بدیل کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابو العالیہ کو عبداللہ بن ثابت کی سند سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پہ ہاتھ مار کر مجھ سے فرمایا: جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کر کے پڑھیں گے تو کیسے کرو گے؟ انہوں نے کہا: آپ جیسا حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اول وقت پر پڑھ لینا، پھر تم اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا، اور اگر جماعت کھڑی ہو چکی ہو اور تم ( ابھی ) مسجد ہی میں ہو تو پھر نماز پڑھ لینا ۔
It was narrated that Sulaiman - the freed slave of Maimunah رضی اللہ عنہا - said:
I saw Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم sitting in Al-Balat when the people were praying. I said: 'O Abu 'Abdur- Rahman, why are you not praying?' He said: 'I have already prayed, and I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Do not repeat a prayer twice in one day.
ہم سے ابراہیم بن محمد تیمی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے حسین المعلم کی سند سے اور عمرو بن شعیب کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کو بلاط ( ایک جگہ کا نام ) پر بیٹھے ہوئے دیکھا، اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا بات ہے آپ کیوں نہیں نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: دراصل میں نماز پڑھ چکا ہوں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ایک دن میں دو بار نماز نہ لوٹائی جائے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of (ﷺ) said: 'When you come to pray, do not come rushing; come walking in a dignified manner, and whatever you catch up with, pray, and whatever you miss, make it up. '
ہم سے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن الزہری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ہم سے زہری نے بیان کیا، سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ چلتے ہوئے آؤ، اور تم پر ( وقار ) سکینت طاری ہو، نماز جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۔
It was narrated that Abu Rafi رضی اللہ عنہ said:
After the Messenger of Allah (ﷺ) had prayed Asr, he would go to Banu 'Abdul-Ashhal to speak to them, until the time for Maghrib came. Abu Rafi said: While the Prophet (ﷺ) was hastening to pray Maghrib, we passed by and he said: 'Fie on you, fie on you!' That upset me so I slowed down because I thought hat he meant me. He said: 'What is the matter with you? Keep up!' I said: 'Is there something wrong?' He said: 'Why are you asking that? I said: 'Because you said: Fie on you to me.' He said: 'No, that was so-and-so whom I had sent to collect Zakat from the tribe of so-and-so, and he stole a Namirah and now he is clothed with something similar made of Fire. '
ہم سے عمرو بن سواد بن اسود بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن جریج نے منبود کی سند سے اور فضل بن عبید اللہ کی سند سے بیان کیا, ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ چکتے تو بنی عبدالاشہل کے لوگوں میں جاتے اور ان سے گفتگو کرتے یہاں تک کہ مغرب کی نماز کے لیے اترتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے تیزی سے جا رہے تھے کہ ہم بقیع سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس ہے تم پر، افسوس ہے تم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات مجھے گراں لگی، اور یہ سمجھ کر کہ آپ مجھ سے مخاطب ہیں، میں پیچھے ہٹ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ چلو ، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی بات ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ ، تو میں نے عرض کیا: آپ نے مجھ پر اف کہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! ( تم پر نہیں ) البتہ اس شخص پر ( اظہار اف ) کیا ہے جسے میں نے فلاں قبیلے میں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا، تو اس نے ایک دھاری دار چادر چرا لی ہے ؛ چنانچہ اب اسے ویسی ہی آگ کی چادر پہنا دی گئی ہے ۔
(Another chain) with similar from Abu Rafi رضی اللہ عنہ.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسحاق نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابو رافع کے خاندان کے ایک آدمی نے الفضل بن عبید اللہ بن ابی رافع کی سند سے بیان کیا, اس سند سے بھی ابورافع رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: The likeness of one who comes early to prayer is that of one who sacrificed a camel, then the one who comes after him is like one who sacrificed a cow, then the one who comes after him is like one who sacrificed a ram, then the one who comes after him is like one who sacrificed a chicken, then the one who comes after him is like one who sacrificed an egg.
ہم سے احمد بن محمد بن مغیرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان نے شعیب کی سند سے، وہ زہری کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوعبداللہ الاغر نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اول وقت میں نماز کے لیے جانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اونٹ کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو گائے کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو بھیڑ کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو مرغی کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو انڈے کی قربانی کرتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the Iqamah for prayer is said, there is no prayer except the prescribed prayer. '
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے زکریا کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھ سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا: میں نے عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: When the Iqamah for prayer is said, there is no prayer except the prescribed prayer.
ہم سے احمد بن عبداللہ بن الحکم اور محمد بن بشار نے بیان کیا: ہم سے محمد نے شعبہ کی سند سے، ورقاء بن عمر سے، عمرو بن دینار کی سند سے، عطاء بن یسار سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں ۔
It was narrated that Ibn Buhainah رضی اللہ عنہ said:
The Iqamah for Subh prayer was said, and the Messenger of Allah (ﷺ) saw a man praying while the Mu'adhdhin saying the Iqamah. He said: 'Are you praying Subh with four Rak'ahs? '
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو عوانہ نے سعد بن ابراہیم کی سند سے اور حفص بن عاصم کی سند سے بیان کیا , ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک ازدی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نماز فجر کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور مؤذن اقامت کہہ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم فجر کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو ؟
It was narrated that 'Abdullah bin Sarjis رضی اللہ عنہ said:
A man came while the Messenger of Allah (ﷺ) was praying Subh, and he prayed two Rak'ahs then joined the prayer. When the Messenger of Allah (ﷺ) had finished praying he said: O so-and-so, which of them is your prayer - the one you prayed with us or the one you prayed on your own? '
ہم سے یحییٰ بن حبیب بن عربی نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عاصم نے بیان کیا, عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں تھے، اس نے دو رکعت سنت پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: اے فلاں! ان دونوں میں سے تمہاری نماز کون سی تھی، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟ یا جو خود سے پڑھی ہے ۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) came to our house and I prayed with an orphan of ours behind him, and Umm Sulaim رضی اللہ عنہا prayed behind us.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے اسحاق بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ عنہم said:
There was a woman who used to pray behind the Messenger of Allah (ﷺ) who was beautiful, one of the most beautiful of people. Some of the people used to go to the front row to avoid seeing her, and some used to go to the back row so that when they bowed they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed the words: 'To Us are known those of you who hasten forward and those who lag behind.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے نوح یعنی ابن قیس نے بیان کیا، انہوں نے ابن مالک کی سند سے، جو عمرو ہیں، ابو الجوزا کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر: ۲۴ ) ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ۔
Abu Bakrah رضی اللہ عنہ narrated that:
He entered the Masjid when the when the Prophet (ﷺ) was bowing, so he bowed outside the row. The Prophet said: May Allah increase you in keenness, but do not do this again.
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن زریع سے، انہوں نے کہا: ہم سے سعید نے بیان کیا، وہ زیاد العالم سے، انہوں نے کہا: ہم سے حسن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ آپ کی حرص میں اضافہ فرمائے، پھر ایسا نہ کرنا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed one day then left and said: '0 so-and-so, why don't you improve your prayer? Shouldn't the one who is praying reflection how he prays it for himself? I can see behind me just as I can see in front of me. '
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ولید بن کثیر نے، سعید بن ابی سعید سے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر کر پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! تم اپنی نماز درست کیوں نہیں کرتے؟ کیا نمازی دیکھتا نہیں کہ اسے اپنی نماز کیسی پڑھنی چاہیئے، ( سن لو ) میں اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two Rak'ahs before Zuhr and two afterward, and he used to pray two Rak'ahs after Maghrib in his house, and two Rak'ahs after 'Isha', and he did not pray after Jumu'ah until he departed (from the Masjid), then he would pray two Rak'ahs at home.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور اس کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے تھے، اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے، اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے، اور جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہیں پڑھتے یہاں تک کہ جب گھر لوٹ آتے تو دو رکعت پڑھتے۔
It was narrated from Abu Ishaq, that 'Asim bin Damrah said:
We asked 'Ali رضی اللہ عنہ about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'Who among you could manage to do that?' We said: 'Even if we cannot do it, we still want to hear about it.' He said: 'When the sun reached the same height (in the east) as it reaches (in the west) at the time of 'Asr, he would pray two rak'ahs, and when the sun reached the same height (in the east) as it reaches (in the west) at the time for Zuhr he would pray four Rak'ahs. He would pray four Rak'ahs before Zuhr and two after, and he would pray four Rak'ahs before 'Asr, separating each two Rak'ahs with Taslim upon the angels who are close to Allah, and the prophets, and those who follow them of the believers and Muslims. '
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زری نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے ابواسحاق کی سند سے بیان کیا, عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ
ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ ہم نے کہا: گرچہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے مگر سن تو لیں، تو انہوں نے کہا: جب سورج یہاں ہوتا ۱؎ جس طرح عصر کے وقت یہاں ہوتا ہے ۲؎ تو آپ دو رکعت ( سنت ) پڑھتے ۳؎، اور جب سورج یہاں ہوتا جس طرح ظہر کے وقت ہوتا ہے تو آپ چار رکعت ( سنت ) پڑھتے ۴؎، اور ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے ۵؎، اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور عصر سے پہلے چار رکعت ( سنت ) پڑھتے، ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں اور نبیوں پر اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں پر سلام کے ذریعہ ۶؎ فصل کرتے۔
It was narrated from Abu Ishaq, that Asim bin Damrah said:
I asked 'Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) during the day before the prescribed prayers. He said: 'Who is able to do that?' Then he told us: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two Rak'ahs when the sun had passed its zenith, and four Rak'ahs before the middle of the day, with the Taslim at the end. '
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا: ہم سے حسین بن عبدالرحمٰن نے ابواسحاق رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ
میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے بارے میں پوچھا جسے آپ دن میں فرض سے پہلے پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر انہوں نے ہمیں بتایا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت سورج ڈھل جاتا دو رکعت پڑھتے، اور نصف النہار ہونے سے پہلے چار رکعت پڑھتے، اور اس کے آخر میں سلام پھیرتے۔