It was narrated from Al'Irbad bin Sariyah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to send Salah on the first row three times and on the second row once
مجھ سے یحییٰ بن عثمان الحمصی نے بیان کیا، کہا: ہم سے بقیہ نے بحیر بن سعد سے، خالد بن معدان سے اور جبیر بن نفیر کی سند سے بیان کیا, عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار دعا فرماتے تھے۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Complete the first row, then the one behind it, and if any row is to be left incomplete let it be the last row.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے خالد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر جو اس سے قریب ہو، اور اگر کچھ کمی رہے تو پچھلی صف میں رہے ۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ)said: Whoever completes a row, may Allah be generous to him, and whoever cuts a row, may Allah cut him off.
ہم سے عیسیٰ بن ابراہیم بن مثرود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے معاویہ بن صالح سے، ابو الزاہیریہ نے کثیر بن مرہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو صف کو جوڑے گا اللہ تعالیٰ اسے جوڑے گا، اور جو صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best rows for men are the front rows and the worst are the last, and the best rows for women are the back rows and the worst are those in the front. '
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے سہیل کی سند سے اپنے والد سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎، اور بد تر صف آخری صف ہے ۲؎، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے ۳؎، اور ان کی سب سے بدتر صف پہلی صف ہے ۴؎۔
It was narrated that 'Abdul Hamid bin Mahmud said:
We were with Anas رضی اللہ عنہ and we prayed with one of the Amirs. They pushed us until we stood and prayed between two rows, and Anas started moving backward and said: 'We used to avoid this at the time of the Messenger of Allah (ﷺ).
ہم سے عمرو بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو نعیم نے سفیان کی سند سے اور یحییٰ بن ہانی سے, عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ
ہم انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں ( بھیڑ کی وجہ سے ) دھکیلا یہاں تک کہ ہم نے دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھی، تو انس رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اس سے بچتے تھے۔
It was narrated that Al Bara رضی اللہ عنہ said:
When we prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) I liked to be to his right.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہم کو عبداللہ نے مسعر کی سند سے، ثابت بن عبید کی سند سے اور ابن براء رضی اللہ عنہ سے, براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو میں آپ کے دائیں کھڑا ہونے کو پسند کرتا تھا۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ)said: When any one of you leads the people in prayer, let him make it short, for among them are the sick, the weak and the elderly. And when any one of you prays by himself, let him make it as long as he wishes.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العراج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں، اور جب کوئی تنہا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) used to make his prayer very brief but still complete when leading people.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عوانہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے ہلکی اور کامل نماز پڑھتے تھے ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah رضی اللہ عنہ , from his father that:
The Prophet (ﷺ) said: I stand in prayer, then I hear a child crying, so I make my prayer brief, because I do not want to cause hardship for his mother.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ نے اوزاعی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور بچوں کا رونا سنتا ہوں تو اپنی نماز ہلکی کر دیتا ہوں، اس ڈر سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں ۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to enjoin upon us to make the prayer short, but he would lead us in prayer and recite As-Saffat.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے ابن ابی ذہب کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے حارث بن عبدالرحمٰن نے سالم بن عبد اللہ کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے، اور آپ ہماری امامت سورۃ الصافات سے کرتے تھے ۔
It was narrated that Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) leading the people in prayer, carrying Umamah bint Abi Al-As on his shoulder. When he bowed he put her down and when he stood up from prostration he picked her up again.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے عثمان بن ابی سلیمان کی سند سے، عامر بن عبداللہ بن زبیر سے، عمرو بن سلیم الزرقی کی سند سے, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی امامت کرتے ہوئے دیکھا، آپ ( اپنی نواسی ) امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ رکوع میں جاتے تو اسے اتار دیتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اسے دوبارہ اٹھا لیتے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
Muhammad (ﷺ) said: 'Does the one who raises his head before the Imam not fear that Allah may turn his head into the head of a donkey? '
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے محمد بن زیاد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لیتا ہے کیا وہ ( اس بات سے ) نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کا سر گدھے کے سر میں تبدیل نہ کر دے ۔
It was narrated that Abu Ishaq said:
I heard 'Abdullah bin Yazid delivering a Khutbah. He said: 'Al-Bara رضی اللہ عنہ , who was no liar,told us that when they prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) would raise his head from bowing and they would remain standing until they saw him prostrate, then they would prostrate. '
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن الیاس نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن یزید کو خطبہ دیتے ہوئے سنا:براء رضی اللہ عنہ (جو جھوٹے نہ تھے ) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، اور آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو وہ سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ دیکھ لیتے کہ آپ سجدہ میں جا چکے ہیں، پھر وہ سجدہ میں جاتے۔
It was narrated that Hittan bin 'Abdullah said:
Abu Musa رضی اللہ عنہ led us in prayer and when he was sitting, a man from among the people entered and said: 'Prayer is based on righteousness and is always mentioned alongside Zakah (in the Qur'an).' When Abu Musa رضی اللہ عنہ had said the Salam, he turned to the people and said: 'Which of you spoke these words?' The people kept quiet. Then he said: 'O Hittan, perhaps you said it?' He said: 'No, but I was afraid that you would rebuke me for it.' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) taught us our prayer and Sunnah prayers, and he said: The Imam is appointed to be followed, so when he says the Takbir, say the Takbir; when he says Not (the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray, say Amin, and Allah will respond to you; when he rises up from bowing and says, 'Sami' Allalhu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), say 'Rabbana lakal-hamd (Our Lord, to You be praise),' and Allah will hear you; when he prostrates, prostrate, and when he sits up, sit up. The Imam should prostrate before you do and sit up before you do.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This makes up for that.'
ہم سے مومل بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے سعید کی سند سے، قتادہ کی سند سے اور یونس بن جبیر سے, حطان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ قعدہ میں گئے تو قوم کا ایک آدمی اندر آیا اور کہنے لگا کہ نماز نیکی اور زکاۃ کے ساتھ ملا دی گئی ہے ، تو جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سلام پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟ تو سبھی لوگ خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو انہوں نے کہا: اے حطان! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے! تو انہوں نے کہا: نہیں میں نے نہیں کہی ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھ ہی کو اس پر سرزنش نہ کرنے لگ جائیں، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہماری نماز اور ہمارے طریقے سکھاتے تھے، تو آپ فرماتے: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين»کہے تو تم لوگ آمین کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری ( دعا ) قبول فرمائے گا، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ ( رکوع ) سے سر اٹھائے اور «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ سجدہ سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے، اور تم سے پہلے سر بھی اٹھاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادھر کی کسر ادھر پوری ہو جائے گی ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
A man from the Ansar came when the Iqamah for prayer had been said. He entered the Masjid and prayed behind Muadh, and he(Muadh رضی اللہ عنہ ) made the prayer lengthy. The man went away and prayed in a comer of the Masjid, then he left. When Muadh finished praying, it was said to him that so-and-so had done such and such. Muadh رضی اللہ عنہ said: 'Tomorrow I will mention that to the Messenger of Allah (ﷺ).' So Muadh رضی اللہ عنہ came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him about that. The Messenger of Allah (ﷺ) sent for him and asked him: 'What made you do what you did? He said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), I had been working with my camel to bring water all day, and when I came the Iqamah for prayer had already been said, so I entered the Masjid and joined him in the prayer, then he recited such and such a Surah and made it lengthy, so I went away and prayed in a comer of the Masjid.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do you want to cause hardship to the people, O Muadh do you want to cause hardship to the people, O Muadh do you want to cause hardship to the people, 0 Muadh? '
ہم سے واصل بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن فضیل نے العمش کی سند سے، محارب بن دثر اور ابو صالح کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انصار کا ایک شخص آیا اور نماز کھڑی ہو چکی تھی تو وہ مسجد میں داخل ہوا، اور جا کر معاذ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے لگا، انہوں نے رکعت لمبی کر دی، تو وہ شخص ( نماز توڑ کر ) الگ ہو گیا، اور مسجد کے ایک گوشے میں جا کر ( تنہا ) نماز پڑھ لی، پھر چلا گیا، جب معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو ان سے کہا گیا کہ فلاں شخص نے ایسا ایسا کیا ہے، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے صبح کر لی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بیان کروں گا ؛ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلا بھیجا، وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے ایسا کرنے پر ابھارا؟ تو اس نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے دن بھر ( کھیت کی ) سینچائی کی تھی، میں آیا، تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی، تو میں مسجد میں داخل ہوا، اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا، انہوں نے فلاں فلاں سورت پڑھنی شروع کر دی، اور ( قرآت ) لمبی کر دی، تو میں نے نماز توڑ کر جا کر الگ ایک کونے میں نماز پڑھ لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) rode a horse and fell from it, and sustained an injury on his right side. He led one of the prayers sitting, and we prayed behind him sitting. When he had finished he said: The Imam is appointed to be followed. If he prays standing then pray standing; when he bows, bow; when he says, Sami' Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), say 'Rabbana lakalhamd (Our Lord, to You be praise); and if he prays sitting then pray sitting, all of you.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے اور آپ کے داہنے پہلو میں خراش آ گئی، تو آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر پڑھیں، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ سلام پھیر کر پلٹے تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم«ربنا لك الحمد» کہو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
It was narrated that Aisha رضی اللہ عنہا said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) became seriously ill, Bilal رضی اللہ عنہ came to tell him it was time to pray and he said: 'Tell Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer. ' She said: I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr رضی اللہ عنہ is a tender-hearted man, and when he stands in your place he will not be able to make the people hear his voice; why don't you tell 'Umar رضی اللہ عنہ (to do it)?' He said: 'Tell a Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in the prayer.' I said to Hafsah: 'Tell him.' So she told him. He said: 'You are (like) the female companions of Yosuf. Tell Abu Bakr رضی اللہ عنہ lead the people in prayer. ' She said: So they told Abu Bakr رضی اللہ عنہ. When he started to pray, the Messenger of Allah (ﷺ) began to feel better, so he got up and came with the help of two men, with his feet dragging along the ground. (When) he entered the Masjid, Abu Bakr رضی اللہ عنہ heard him coming and he wanted to step back, but the Messenger of Allah (ﷺ) gestured to him: 'Stay where you are.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and sat on Abu Bakr's left, so the Messenger of Allah (ﷺ) was leading the people in prayer sitting, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was standing and following the Messenger of Allah (ﷺ) and the people were following the prayer of Abu Bakr رضی اللہ عنہ.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی، بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی خبر دینے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوبکر نرم دل آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قرآن ) نہیں سنا سکیں گے ۱؎ اگر آپ عمر کو حکم دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو صلاۃ پڑھائیں ، تو میں نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو، تو حفصہ نے ( بھی ) آپ سے کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیاں ہو ، ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ( بالآخر ) لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو آپ اٹھے اور دو آدمیوں کے سہارے چل کر نماز میں آئے، آپ کے دونوں پاؤں زمین سے گھسٹ رہے تھے، جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کے آنے کی آہٹ محسوس کی، اور وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ جس طرح ہو اسی طرح کھڑے رہو ، ام المؤمنین کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے، ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔
It was narrated that 'Ubaidullah bin 'Abdullah said:
I entered upon Aisha رضی اللہ عنہا and said: 'Will you not tell me about the sickness of the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'When the Messenger of Allah (ﷺ), became seriously ill, he said: Have the people prayed? We said: No, they are waiting for you, 0 Messenger of Allah (ﷺ) He said: Put some water in a tub for me. We did that and he performed Ghusl, then he tried to get up but he fainted. Then he came to us and said: Have the people prayed? We said: No, they are waiting for you, O Messenger of Allah (ﷺ). He said: Put some water in a tub for me. We did that and he performed Ghusl, then he tried to get up but he fainted. Then for the third time he said the same thing. She said: The people were in the Masjid, waiting for the Messenger of Allah (ﷺ) to lead the prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) sent word to Abu Bakr رضی اللہ عنہ, telling him to lead the people in prayer, so the messenger came to him and said: The Messenger of Allah (ﷺ) is telling you to lead the people in prayer. Abu Bakr رضی اللہ عنہ was a tenderhearted man, he said: O 'Umar. lead the in prayer. But ('Umar) said: You have more right to that. So Abu Bakr رضی اللہ عنہ led them in prayer during those days. When the Messenger of Allah (ﷺ) felt a little better, he came with the help of two men, one of whom was Al-'Abbas, to pray Zuhr. When Abu Bakr رضی اللہ عنہ saw him, he wanted to step back, but the Messenger of Allah (ﷺ) gestured to him not to step back. He told them (the two men) to seat him beside Abu Bakr رضی اللہ عنہ, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ started to pray standing. The people were following the prayer of Abu Bakr and the Messenger of Allah (ﷺ) was praying sitting. ' I ('Ubaidullah) entered upon Ibn Abbas رضی اللہ عنہ and said 'Shall I not tell you what Aisha رضی اللہ عنہا narrated to me about the sickness of the Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: 'Yes.' So I told him and he did not deny any of it, but he said: 'Did she tell you the name of the man who was with Al-'Abbas رضی اللہ عنہ ?' I said: 'No.' He said: 'That was Ali, may Allah honor his face. '
ہم سے عباس بن عبد العظیم العنبری نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا: ہم سے زیدہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا, عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا حال نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت بڑھ گئی، تو آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر اٹھنے چلے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے چلے تو پھر بیہوش ہو گئے، پھر تیسری بار بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا، لوگ مسجد میں جمع تھے، اور عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو قاصد ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی تھے، تو انہوں نے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھا دو، تو انہوں نے کہا: آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؛ چنانچہ ان ایام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے ( ان دونوں میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ) نماز ظہر کے لیے آئے، تو جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، اور ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ان کے بغل میں بٹھا دیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صلاۃ کی اقتداء کر رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے۔ ( عبیداللہ کہتے ہیں ) میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ سے وہ چیزیں بیان نہ کر دوں جو مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! ضرور بیان کرو، تو میں نے ان سے سارا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار نہیں کیا، البتہ اتنا پوچھا: کیا انہوں نے اس شخص کا نام لیا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: وہ علی ( کرم اللہ وجہہ ) تھے۔
It was narrated that 'Amr said:
I heard Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہم say: 'Mu'adh رضی اللہ عنہ used to pray with the Prophet (ﷺ) then he would go back to his people to lead them in a prayer. He stayed late one night and prayed with the Prophet (ﷺ) then he went back to his people to lead them in prayer, and he recited Surat Al-Baqarah. When a man from his people heard that, he stepped aside and prayed (on his own), then he left. They said: 'You have become a hypocrite, O so and-so!' He said: 'By Allah, I have not become a hypocrite, and I will go to the Prophet (ﷺ) and tell him (about that),' So he went to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah(ﷺ), Muadh رضی اللہ عنہ prays with you, then he comes to lead us in prayer. You delayed the prayer, and he prayed with you then he came back to lead us in prayer, and he started to recite Shut Al-Baqarah. When I heard that, I stepped aside and prayed by myself, because we are people who bring water with the camels and we work hard.' The Prophet (ﷺ) said to him: 'O Muadh, do you want to cause hardship to the people? Recite such and such a Surah, and such and such a Surah. '
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمرو کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کی امامت کرتے، ایک رات انہوں نے نماز لمبی کر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کرنے لگے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی، جب مقتدیوں میں سے ایک شخص نے قرآت سنی تو نماز توڑ کر پیچھے جا کر الگ سے نماز پڑھ لی، پھر وہ ( مسجد سے ) نکل گیا، تو لوگوں نے پوچھا، فلاں! تو منافق ہو گیا ہے؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم میں نے منافقت نہیں کی ہے، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، اور آپ کو اس سے باخبر کروں گا ؛ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر ہمارے پاس آتے ہیں، اور ہماری امامت کرتے ہیں، پچھلی رات انہوں نے نماز بڑی لمبی کر دی، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آ کر انہوں نے ہماری امامت کی، تو سورۃ البقرہ پڑھنا شروع کر دی، جب میں نے ان کی قرآت سنی تو پیچھے جا کر میں نے ( تنہا ) نماز پڑھ لی، ہم پانی ڈھونے والے لوگ ہیں، دن بھر اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو تم ( نماز میں ) فلاں، فلاں سورت پڑھا کرو ۔
It was narrated from Abu Bakr رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) offered the fear prayer (Salat Al-Khauf). He led those who were behind him in two Rak'ah and those who came (after them) in two Rak'ah, so the Prophet (ﷺ) prayed four Rak'ahs and each group prayed two.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے اشعث کی سند سے اور حسن کی سند سے بیان کیا, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو اپنے پیچھے والوں کو دو رکعت پڑھائی، ( پھر وہ چلے گئے ) اور جو ان کی جگہ آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ۔