Abdullah bin 'Amr said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'There is no raiding party that goes out in the cause of Allah and acquires some spoils of war, but they have been given two-thirds of their reward in this world instead of in the Hereafter, and there remains one-third (in the Hereafter). And if they do not acquire any spoils of war, then all of their reward (will come in the Hereafter).'
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اور مال غنیمت پاتے ہیں، تو وہ اپنی آخرت کے اجر کا دو حصہ پہلے پا لیتے ہیں ۱؎، اور آخرت میں پانے کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے، اور اگر غنیمت نہیں پاتے ہیں تو ان کا پورا اجر ( آخرت میں ) محفوظ رہتا ہے“۔
It was narrated from Ibn 'Umar, from the Prophet (ﷺ), of what he related from his Lord, the Mighty and Sublime: And of My slaves who goes out as a Mujahid striving in the cause of Allah, seeking my pleasure, I guarantee that I will bring him back with whatever he had earned as reward or spoils of war, and if I take his (soul) I will forgive him and have mercy on him.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث قدسی میں اپنے رب سے نقل فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میری رضا چاہتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا تو میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اگر میں اس کو لوٹاؤں گا ( یعنی زندہ واپس گھر بھیجوں گا ) تو لوٹاؤں گا اجر و ثواب اور غنیمت دے کر اور اگر اس کی روح قبض کر لوں گا تو اس کو بخش دوں گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازوں گا“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The parable of a Mujahid who strives in the cause of Allah - and Allah knows best who in His cause - is that of one who fasts, prays Qiyam, focuses with proper humility, bows and prostrates.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے ( اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں ( واقعی ) جہاد کرنے والا کون ہے ) ۔ اس کی مثال مسلسل روزے رکھنے والے، نمازیں پڑھنے والے، اللہ سے ڈرنے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والے کی سی ہے“ ۱؎۔
Abu Hurairah said: A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'Tell me of an action that is equal to Jihad.' He said: 'I cannot. When the Mujahid goes out, can you enter the Masjid and stand in prayer and never rest, and fast and never break your fast?' He said: 'Who can do that?'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر اس نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو ( یعنی وہی درجہ رکھتا ہو ) آپ نے فرمایا: ”میں نہیں پاتا کہ تو وہ کر سکے گا، جب مجاہد جہاد کے لیے ( گھر سے ) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ، اور کھڑے ہو کر نمازیں پڑھنی شروع کرو ( اور پڑھتے ہی رہو ) پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو، اور روزے رکھو ( رکھتے جاؤ ) افطار نہ کرو“، اس نے کہا یہ کون کر سکتا ہے؟ ۱؎۔
It was narrated from Abu Dharr that he asked the prophet of Allah (ﷺ) which deed was best. He said: Belief in Allah and Jihad in the cause of Allah, the Mighty and Sublime.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ) which deed is best. He said: 'Faith in Allah.' He said: 'Then what?' He said: 'Jihad in the cause of Allah.' He said: 'Then what?' He said: 'Hajjun Mabrur.' [1] [1] Hajj, that is accepted, or free of sin.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا“، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا“، اس نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا حج جو اللہ کے نزدیک قبول ہو جائے“۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Abu Sa'eed! Whoever is content with Allah as Lord, Islam as his religion and Muhammad as Prophet, then he is guaranteed Paradise. Abu Sa'eed found this amazing and said: Say it to me again, O Messenger of Allah. So he did that, then the Messenger of Allah (ﷺ) said: And there is something else by means of which a person may be raised one hundred degrees in Paradise, each of which is like that which is between the Heaven and the Earth. He said: What is it, O Messenger of Allah? He said: Jihad in the cause of Allah, Jihad in the cause of Allah.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوسعید! جو شخص راضی ہو گیا اللہ کے رب ۱؎ ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کر لیا ۲؎ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ۳؎ کا اقرار کر لیا، تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی ۴؎، ( راوی کہتے ہیں ) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے۔ ( چنانچہ ) عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے، تو آپ نے دہرا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن جنت میں بندے کو سو درجوں کی بلندی تک پہنچانے کے لیے ایک دوسری عبادت بھی ہے ( اور درجے بھی کیسے؟ ) ایک درجہ کا فاصلہ دوسرے درجے سے اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا: یہ دوسری عبادت کیا ہے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ( یہ دوسری عبادت ) اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے“۔
It was narrated that Abu Ad-Darda' said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever established Salah, pays Zakah, and dies not associating anything with Allah, he has a right from Allah the Mighty and Sublime, that He will forgive him, whether he emigrated, or died in his birthplace.' We said: 'O Messenger of Allah! Shall we not tell the people about it so that they may rejoice?' He said: 'In Paradise there are one hundred levels, (the distance) between each two of which is like (the distance) between the Heaven and the Earth; Allah has prepared them fro the Mujahidin who strive in His cause. Were it not that it would be too difficult for the believers and I cannot find mounts for them - and they do not like to stay behind if I go out (on a campaign) - I would not have stayed behind from any expedition. I wish that I could be killed then brought back to life, then killed again.'
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز قائم کی اور زکاۃ دی، اور اللہ کے ساتھ کسی طرح کا شرک کئے بغیر مرا تو چاہے ہجرت کر کے مرا ہو یا ( بلا ہجرت کے ) اپنے وطن میں مرا ہو، اللہ پر اس کا یہ حق بنتا ہے کہ اللہ اسے بخش دے، ہم صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ خبر لوگوں کو نہ پہنچا دیں جسے سن کر لوگ خوش ہو جائیں؟ آپ نے فرمایا: ”جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجے کے درمیان آسمان و زمین اتنا فاصلہ ہے، اور یہ درجے اللہ تعالیٰ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے بنائے ہیں، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشکل و مشقت میں ڈال دوں گا اور انہیں سوار کرا کے لے جانے کے لیے سواری نہ پاؤں گا اور میرے بعد میرا ساتھ چھوٹ جانے کی انہیں ناگواری اور تکلیف ہو گی تو میں کسی سریہ ( فوجی دستے ) کے ساتھ جانے سے بھی نہ چوکتا اور میں تو پسند کرتا اور چاہتا ہوں کہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، اور پھر قتل کیا جاؤں“ ۱؎۔
It was narrated from 'Amr bin Malik Al-Janbi that he heard Fadalah bin 'Ubaid say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'I am a Za'im - and the Za'im is the guarantor - for the one who believes in me and accepts Islam, and emigrates: A house on the outskirts of Paradise and a house in the middle of Paradise. And I am a guarantor, for the one who believes in me and accepts Islam, and strives in the cause of Allah: A house on the outskirts of Paradise and a house in the middle of Paradise and a house in the highest chambers of Paradise. Whoever does that and seeks goodness wherever it is, and avoids evil wherever it is, may die wherever he wants to die.'
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مجھ پر ایمان لایا، اور میری اطاعت کی، اور ہجرت کی، تو میں اس کے لیے جنت کے احاطے ( فصیل ) میں ایک گھر اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا ذمہ لیتا ہوں۔ اور میں اس شخص کے لیے بھی جو مجھ پر دل سے ایمان لائے، اور میری اطاعت کرے، اور اللہ کے راستے میں جہاد کرے ضمانت لیتا ہوں جنت کے گرد و نواح میں ( فصیل کے اندر ) ایک گھر کا، اور جنت کے وسط میں ایک گھر کا اور جنت کے بلند بالا خانوں ( منزلوں ) میں سے بھی ایک گھر ( اونچی منزل ) کا۔ جس نے یہ سب کیا ( یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد ) اس نے خیر کے طلب کی کوئی جگہ نہ چھوڑی ا؎ اور نہ ہی شر سے بچنے کی کوئی جگہ ۲؎ جہاں مرنا چاہے مرے“ ۳؎۔
It was narrated that Sabrah bin Abi Fakih said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'the Shaitan sits in the paths of the son of Adam. He sits waiting for him, in the path to Islam, and he says: Will you accept Islam, and leave your religion, and the religion of your forefathers? But he disobeys him and accepts Islam. Then he sits waiting for him, on the path to emigration, and he says: Will you emigrate and leave behind your land and sky? The one who emigrates is like a horse tethered to a peg. But he disobeys him and emigrates. Then he sits, waiting for him, on the path to Jihad, and he says: Will you fight in Jihad when it will cost you your life and your wealth? You will fight and be killed, and your wife will remarry, and your wealth will be divided. But he disobeys him and fights in Jihad.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever does that, then he had a right from Allah, the Mighty and Sublime, that He will admit him to paradise. Whoever is killed, he has a right from Allah, the Mighty and Sublime, that He will admit him to Paradise. If he is drowned, he has a right from Allah that He will admit him to paradise, or whoever is thrown by his mount and his neck is broken, he had a right from Allah that he will admit him to Paradise.'
سبرہ بن ابی فاکہہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: شیطان ابن آدم کو بہکانے کے لیے اس کے راستوں میں بیٹھا۔ کبھی وہ اسلام کے راستہ سے سامنے آیا۔ کہا: تم اسلام لاتے ہو؟ اپنے دین کو، اپنے باپ کے دین کو اور اپنے دادا کے دین کو چھوڑ رہا ہے؟ ( یہ اچھی بات نہیں ) لیکن انسان نے اس کی بات نہیں مانی اور اسلام لے آیا۔ پھر وہ ہجرت کے راستے سے اسے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم ہجرت کر رہے ہو؟ تم اپنی زمین اور اپنا آسمان چھوڑ کر جا رہے ہو، مہاجر کی مثال لمبی رسی میں بندھے گھوڑے کی مثال ہے ( جو رسی کے دائرے سے باہر کہیں آ جا نہیں سکتا ) ، لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی ( اس کے بہکانے میں نہیں آیا ) اور ہجرت کی۔ پھر وہ انسان کو جہاد کے راستے سے بہکانے کے لیے بیٹھا۔ کہا: تم جہاد کرتے ہو؟ یہ تو جان و مال کو کھپا دینا اور ضائع کر دینا ہے۔ تم جہاد کرو گے تو قتل کر دیئے جاؤ گے۔ تمہاری بیوی کی شادی کر دی جائے گی، اور تمہارا مال بانٹ دیا جائے گا۔ لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی اور جہاد کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا کیا اس کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے ( اپنی رحمت سے ) جنت میں داخل فرمائے، اور جو شخص ( اس راہ میں ) شہید ہو گیا اللہ تعالیٰ پر ایک طرح سے واجب ہو گیا کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے، اگر وہ ( اس راہ میں ) ڈوب گیا تو اسے بھی جنت میں داخل کرنا اللہ پر اس کا حق بنتا ہے، اگر اسے اس کی سواری گرا کر ہلاک کر دے تو بھی اللہ تعالیٰ پر اس کا حق بنتا ہے کہ اسے بھی ( اپنے فضل و کرم سے ) جنت میں داخل فرمائے“۔
Abu Hurairah used to narrate that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, he will be called in Paradise: 'O slave of Allah, here is prosperity.' Whoever is one of those who pray, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of those who participated in Jihad, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of those who fast, he will be called from the gate of Ar-Rayyan. Abu Bakr As-Siddiq said: O Messenger of Allah! No distress, or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Yes, and I hope that you will be one of them.
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں جوڑا دے ۱؎، جنت میں ( اسے مخاطب کر کے ) کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے ( تیری ) بہتر چیز۔ تو جو کوئی نمازی ہو گا اسے باب صلاۃ ( صلاۃ کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی مجاہد ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی صدقہ و خیرات دینے والا ہو گا اسے باب صدقہ ( صدقہ و خیرات والے دروازہ ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہو گا اسے باب ریان ( سیراب و شاداب دروازہ ) سے بلایا جائے گا“۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اس کی کوئی ضرورت و حاجت نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ۲؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے“۔
Abu Musa Al-Ash'ari said: A Bedouin came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'A man fights for fame, or he fights for the spoils of war, or he fights to show off. Who is the one who is fighting in the cause of Allah?' He said: 'The one who fights so that the word of Allah will be supreme is the one who is fighting in the cause of Allah, the Mighty and Sublime.'
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو ۱؎، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ ۲؎ بلند کرنے کے لیے لڑے“۔
It was narrated from Abu Hurairah, that one of the people of Ash-Sham said to him: O Shaikh, tell me of a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ). (He said: Yes; I heard the Messenger of Allah (ﷺ)) say: 'The first of people for whom judgment will be passed on the Day of Resurrection are three. A man who was martyred. He will be brought and Allah will remind him of His blessings and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I fought for Your sake until I was martyred. He will say: You are lying. You fought so that it would be said that so-and-so is brave, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the second will be) a man who acquired knowledge and taught others,and read Qur'an. He will be brought, and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I acquired knowledge and taught others, and read the Qur'an for Your sake. He will say: You are lying. You acquired knowledge so that it would be said that you were a scholar; and you read Qur'an so that it would be said that you were a reciter, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the third will be) a man whom Allah made rich and gave him all kinds of wealth. He will be brought and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. he will say: What did you do with them? He will say: I did not leave any way that You like wealth to be spent - Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: I did not understand what You like as I wanted to [1] - but I spent it. He will say: You are lying. You spent it so that it would be said that he was generous, and it was said. Then he will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire.' [1] That is, he did not hear or understand what came after it as well as he wanted to, but it was similar to what follows regarding the spending. Similar was stated by Shaikh 'Abdur-Rahman Al-punjani in his notes on the text, according to Al-Funjani in his commentary At-Ta'iqat As-Salafiyyah (2:51)
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( کی مجلس ) سے لوگ جدا ہونے لگے، تو اہل شام میں سے ایک شخص نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: شیخ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث مجھ سے بیان کیجئے، کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن پہلے پہل جن لوگوں کا فیصلہ ہو گا، وہ تین ( طرح کے لوگ ) ہوں گے، ایک وہ ہو گا جو شہید کر دیا گیا ہو گا، اسے لا کر پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی ( ان ) نعمتوں کی پہچان کروائے گا ( جو نعمتیں اس نے انہیں عطا کی تھیں ) ۔ وہ انہیں پہچان ( اور تسلیم کر ) لے گا۔ اللہ ( اس ) سے کہے گا: یہ ساری نعمتیں جو ہم نے تجھے دی تھیں ان میں تم نے کیا کیا وہ کہے گا: میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کر دیا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے۔ بلکہ تو اس لیے لڑاتا کہ کہا جائے کہ فلاں تو بڑا بہادر ہے چنانچہ تجھے ایسا کہا گیا ۱؎، پھر حکم دیا جائے گا: اسے لے جاؤ تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر لے جایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک وہ ہو گا جس نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ ( اس سے ) کہے گا: ان نعمتوں کا تو نے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور اسے ( دوسروں کو ) سکھایا اور تیرے واسطے قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: تو نے جھوٹ اور غلط کہا تو نے تو علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے چنانچہ تجھے کہا گیا۔ پھر اسے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹ کر اسے لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا“۔ ایک اور شخص ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے بڑی وسعت دی ہو گی طرح طرح کے مال و متاع دیئے ہوں گے اسے حاضر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ ( اس سے ) کہے گا: ان کے شکریہ میں تو نے کیا کیا وہ کہے گا: اے رب! میں نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں تو پسند کرتا ہے کہ وہاں خرچ کیا جائے۔ مگر میں نے وہاں خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بکتا ہے، تو نے یہ سب اس لیے کیا کہ تیرے متعلق کہا جائے کہ تو بڑا سخی اور فیاض آدمی ہے چنانچہ تجھے کہا گیا، اسے یہاں سے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹتا ہوا اسے لے جایا جائے گا۔ اور لے جا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں «تحب» ( کا مفہوم ) جیسا میں چاہتا تھا سمجھ نہ سکا لیکن جو میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ استاذ نے «تحب» کے آگے «أن ينفق فيها» “ کہا۔
It was narrated from Yahya bin Al-Walid bin 'Ubadah bin As-Samit that his grandfather said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever fights in the cause of Allah intending only to get an 'Iqal, he will have what he intended.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال ( اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی ) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی“ ۱؎۔
It was narrated from 'Ubadah bin As-Samit that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever fights seeking only an 'Iqbal, then he will have what he intended.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جہاد کیا اور اس نے ( مال غنیمت میں ) صرف عقال ( یعنی ایک معمولی چیز ) حاصل کرنے کا ارادہ کیا، تو اسے وہی چیز ملے گی جس کا اس نے ارادہ کیا“ ۱؎۔
It was narrated that Abu 'Umamah Al-Bahili said: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'What do you think of a man who fights seeking reward and fame - what will he have?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'He will not have anything.' He repeated it three times, and the Prophet (ﷺ) said to him: 'He will not have anything.' Then he said: 'Allah does not accept any deed, except that which is purely for Him, and seeking His Face.'
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کچھ نہیں ہے“ ۱؎۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو“۔
Mu'adh bin Jabal said that he heard the Prophet (ﷺ) say: Whoever fights in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, for the length of time between two milkings of a she-camel, Paradise is guaranteed for him. Whoever asks Allah to be killed (in Jihad) sincerely, from his heart, then he dies or is killed, he will have the reward of a martyr. Whoever is wounded or injured in the cause of Allah, it will come on the Day of Resurrection bleeding the most it ever bled, but its color will be like saffron, and its fragrance will be like musk. Whoever is wounded in the cause of Allah, upon him is the seal of the martyrs.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو ( مسلمان ) شخص اونٹنی دوہنے کے وقت مٹھی بند کرنے اور کھولنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر بھی ( یعنی ذرا سی دیر کے لیے ) اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ اور جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنی شہادت کی دعا کرے، پھر وہ مر جائے یا قتل کر دیا جائے تو ( دونوں ہی صورتوں میں ) اسے شہید کا اجر ملے گا، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہو جائے یا کسی مصیبت میں مبتلا کر دیا جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ ( زخمی ہونے کے وقت ) جیسا کچھ تھا، اس سے بھی زیادہ گہرا و نمایاں ہو گا، رنگ زعفران کی طرح اور ( اس کا زخم بدنما و بدبودار نہ ہو گا بلکہ اس کی ) خوشبو مشک کی ہو گی، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اس پر شہداء کی مہر ہو گی“ ۱؎۔ ۱؎: یعنی اس کا شمار شہیدوں میں ہو گا۔
It was narrated from Shurahbil bin As-Simt that he said to 'Amr bin 'Abasah: O 'Amr! Tell us a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ). He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever develops one gray hair in the cause of Allah, Most High, it will be light for him on the Day of Resurrection. Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, Most High, whether it reaches the enemy or not, it will be as if he freed a slave. Whoever frees a believing slave, it will be a ransom for him from the Fire, limb by limb.'
عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں ( جہاد کرتے کرتے ) بوڑھا ہو گیا، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گی، اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا خواہ دشمن کو لگا ہو یا نہ لگا ہو تو یہ چیز اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے درجہ میں ہو گی۔ اور جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا تو یہ آزاد کرنا اس کے ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات دلانے کا فدیہ بنے گا“۔
It was narrated that Abu Najih As-Sulami said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever shoots an arrow in the cause of Allah and it hits the target, it will raise him one level in Paradise.' That day I shot sixteen arrows that hit their targets. He said: And I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, it is equal to the reward of freeing a slave.'
ابونجیح سلمی (عمرو بن عبسہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا“ تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو ( اس کا ) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔
It was narrated that Shurahbil bin As-Simt said to Ka'b bin Murrah: O Ka'b! Tell us a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ) and be careful. He said: I heard him say: 'Whoever develops one gray hair in Islam, in the cause of Allah, it will be light for him on the Day of Resurrection.' He said to him: Tell us about the Prophet (ﷺ) and be careful. He said: I heard him say: 'Shoot, and whoever hits the enemy with an arrow, Allah will raise him one degree in status thereby.' Ibn An-Nahhan said: 'O Messenger of Allah, what is a degree?' He said: 'It is not like the doorstep of your mother; [1] rather (the distance) between two degrees is (that if) a hundred years.' [1] As explained after it; the degree of distance is greater than such a degree in this world.
شرحبیل بن سمط سے روایت ہے کہ
انہوں نے کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئے، لیکن دیکھئیے اس میں کوئی کمی و بیشی اور فرق نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو مسلمان اسلام پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوا تو قیامت کے دن یہی چیز اس کے لیے نور بن جائے گی“، انہوں نے ( پھر ) ان سے کہا: ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( کوئی اور ) حدیث بیان کیجئے، لیکن ( ڈر کر اور بچ کر ) بے کم و کاست ( سنائیے ) ۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” ( دشمن کو ) تیر مارو، جس کا تیر دشمن کو لگ گیا تو اس کے سبب اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا“، ( یہ سن کر ) ابن النحام نے کہا: اللہ کے رسول! وہ درجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( سن ) وہ تمہاری ماں کی چوکھٹ نہیں ہے ( جس کا فاصلہ بہت کم ہے ) بلکہ ایک درجہ سے لے کر دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے“۔