It was narrated that Shurahbil bin As-Simt said: I said: 'O 'Amr bin 'Abasah! Tell us a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ) without forgetting or omitting anything.' He said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever shoots an arrow in the cause of Allah, and it reaches the enemy, whether it misses or hits, it will be as if he freed slave. Whoever frees a believing slave, that will be a ransom for him, limb by limb, from the Fire of Hell. Whoever develops a gray hair in the cause of Allah, it will be light for him on the Day of Resurrection.
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ
میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا، دشمن کے قریب پہنچا، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے ایک مسلمان غلام آزاد کیا تو غلام کا ہر عضو ( آزاد کرنے والے کے ) ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص اللہ کی راہ میں ( لڑتے لڑتے ) بوڑھا ہو گیا، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گا“۔
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir that the Prophet (ﷺ) said: Allah, the Mighty and Sublime, will admit three people into Paradise for one arrow: The one who makes it, intending it to be used for a good cause, the one who shoots it, and one who passes it to him.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین طرح کے لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ ( پہلا ) تیر کا بنانے والا جس نے اچھی نیت سے تیر تیار کیا ہو، ( دوسرا ) تیر کا چلانے والا ( تیسرا ) تیر اٹھا اٹھا کر پکڑانے اور چلانے کے لیے دینے والا ( تینوں ہی جنت میں جائیں گے ) “۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: No one is wounded in the cause of Allah - and Allah knows best who is wounded in His cause - but he will come on the Day of Resurrection with his wounds bleeding the color of blood, but with the fragrance of musk.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہو گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ۱؎ تو قیامت کے دن ( اس طرح ) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہو گا۔ رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔
It was narrated that 'Abdullah bin Tha'labah said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Wrap them up with their blood, for there is no wound incurred in the cause of Allah, but he will come on the Day of Resurrection bleeding with the color of blood, but its fragrance will be that of musk.'
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں ( یعنی شہداء کو ) ان کے خون میں لت پت ڈھانپ دو، کیونکہ کوئی بھی زخم جو اللہ کے راستے میں کسی کو پہنچا ہو وہ قیامت کے دن ( اس طرح ) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا، رنگ خون کا ہو گا، اور خوشبو اس کی مشک کی ہو گی ۱؎“۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: On the day of Uhud, the people ran away, and the Messenger of Allah (ﷺ) was in one position among twelve men of the Ansar, one of whom was Talhah bin 'Ubaidullah. He said: 'Who will face the people?' Talhah said: 'I will.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Stay where you are.' One of the Ansar said: 'I will, O Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'You (go ahead).' So he fought until he was killed. Then he turned and saw the idolators. He said: 'Who will face the people?' Talhah said: 'I will'. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Stay where you are.' One of the Ansar said: 'I will, O Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'You (go ahead).' So he fought until he was killed. This carried on, and each man of the Ansar went out to face them and fought like the one before him, and was killed, until only the Messenger of Allah (ﷺ) and Talhah bin 'Ubaidullah were left. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who will face the people?' Talhah said: 'I will.' So Talhah fought like the eleven before him, until his hand was struck, and his fingers were cut off, and he exclaimed in pain. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If you had said Bismillah (in the Name of Allah), the angels would have lifted you up with the people looking on.' Then Allah drove back the idolators.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جنگ احد کے دن جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے، ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ انصاری صحابہ کے ساتھ ایک طرف موجود تھے انہیں میں ایک طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۱؎۔ مشرکین نے انہیں ( تھوڑا دیکھ کر ) گھیر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”ہماری طرف سے کون لڑے گا“؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں ( آپ کا دفاع کروں گا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جیسے ہو ویسے ہی رہو“ تو ایک دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ( دفاع کیلئے تیار ہوں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( لڑو ان سے ) تو وہ لڑے یہاں تک کہ شہید کر دیئے گئے“۔ پھر آپ نے مڑ کر ( سب پر ) ایک نظر ڈالی تو مشرکین موجود تھے آپ نے پھر آواز لگائی: ”قوم کی کون حفاظت کرے گا“؟ طلحہ رضی اللہ عنہ ( پھر ) بولے: میں حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: ” ( تم ٹھہرو ) تم جیسے ہو ویسے ہی رہو“، تو دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں قوم کی حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: ”تم ( لڑو ان سے ) “ پھر وہ صحابی ( مشرکین سے ) لڑے اور شہید ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ایسے ہی پکارتے رہے اور کوئی نہ کوئی انصاری صحابی ان مشرکین کے مقابلے کے لیے میدان میں اترتا اور نکلتا رہا اور اپنے پہلوں کی طرح لڑ لڑ کر شہید ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ بن عبیداللہ ہی باقی رہ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز لگائی۔ ”قوم کی کون حفاظت کرے گا“؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے ( پھر ) کہا: میں کروں گا ( یہ کہہ کر ) پہلے گیارہ ( شہید ساتھیوں ) کی طرح مشرکین سے جنگ کرنے لگ گئے۔ ( اور لڑتے رہے ) یہاں تک کہ ہاتھ پر ایک کاری ضرب لگی اور انگلیاں کٹ کر گر گئیں۔ انہوں نے کہا: «حس» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ( «حس» کے بجائے ) «بسم اللہ» کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا لیتے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے“، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کر دیا ( یعنی وہ مکہ لوٹ گئے ) ۔
Salamah bin Al-Akwa' said: On the day of Khaibar, my brother fought fiercely alongside the Messenger of Allah (ﷺ), then his sword recoiled upon him and killed him. The Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), complaining about that, said: 'A man has died by his own weapon.' Salamah said: The Messenger of Allah (ﷺ) returned from Khaibar and I said: 'O Messenger of Allah, do you permit me to recite some lines of Rajaz verse to you?' The Messenger of Allah (ﷺ) gave him permission but 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: Think what you are saying. I said: 'By Allah, if Allah had not guided us we would not have been guided We would not have given in charity nor prayed' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'You have spoken the truth.' (I continued:) 'Send down tranquility upon us, And make us steadfast when we meet the enemy. For the idolators have transgressed against us.' When I completed my Rajaz verse, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who said that?' I said: 'My brother.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'May Allah have mercy on him.' I said: 'O Messenger of Allah, some people are afraid to offer the (funeral) prayer for him, and they are saying that he is a man who died by his own weapon.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'He died striving as a Mujahid.' Ibn Shihab said: Then I asked a son of Salamah bin Al-Akwa', and he narrated a similar report to me from his father, except that he said: 'When I said: Some people are afraid to offer the (funeral) prayer for him, the Messenger of Allah (ﷺ) said: They lied. He died striving as Mujahid, and he will have a twofold reward, and he gestured with two of his fingers.'
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی، اور اسے ہلاک کر دیا۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑ گئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۱؎ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اپنے سامنے رجز یہ کلام ( یعنی جوش و خروش والا کلام ) پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمجھ بوجھ کر کہنا ۲؎ میں نے کہا: قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ـ نہ ہم صدقہ و خیرات کرتے، نہ نمازیں پڑھتے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچی بات کہی ہے“۔ ( دوسرے رجزیہ شعر کا ترجمہ ) : اے اللہ ہم سب پر سکینت ( اطمینان قلب ) نازل فرما - اور جب میدان جنگ میں دشمن سے ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ مشرکین نے ہم پر ظلم و زیادتی کی ہے ( تو ہماری ان کے مقابلے میں مدد فرما ) ۔ جب میں اپنا رجزیہ کلام پڑھ چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رجزیہ ( اشعار ) کس نے کہے ہیں؟“ میں نے کہا: میرے بھائی نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے“ ( بہت اچھے رجزیہ اشعار کہے ہیں ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! لوگ تو ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے بچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ شخص خود اپنے ہتھیار سے مرا ہے۔ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لڑتا ہوا مجاہد بن کر مرا ہے“ ۱؎۔ ابن شہاب زہری ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے باپ سے یہ حدیث اسی طرح بیان کیا سوائے اس ذرا سے فرق کے کہ جب میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ ان کی نماز پڑھنے سے خوف کھا رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غلط کہتے ہیں ( بدگمانی نہیں کرنی چاہیئے ) وہ جہاد کرتا ہوا بحیثیت ایک مجاہد کے مرا ہے“، آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اسے دو اجر ملیں گے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: Were it not that it would be too difficult for my Ummah, I would not have stayed behind from any expedition. But they could not find mounts, and I could not find any mounts for them, and it would be too hard for them to stay behind when I went out. And I wish that I could be killed in the cause of Allah, then brought back to life, then killed, then brought back to life, then killed, three times.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری امت کے لیے یہ بات باعث تکلیف و مشقت نہ ہوتی تو میں کسی بھی فوجی ٹولی و جماعت کے ساتھ نکلنے میں پیچھے نہ رہتا، لیکن لوگوں کے پاس سواریوں کا انتظام نہیں، اور نہ ہی ہمارے پاس وافر سواریاں ہیں کہ میں انہیں ان پر بٹھا کر لے جا سکوں؟ اور وہ لوگ میرا ساتھ چھوڑ کر رہنا نہیں چاہتے۔ ( اس لیے میں ہر سریہ ( فوجی دستہ ) کے ساتھ نہیں جاتا ) مجھے تو پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں“، آپ نے ایسا تین بار فرمایا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'By the One in Whose hand is my soul, were it not that some men among the believers would not like to stay behind when I went out (to fight), and I could not find any mounts for them, I would not have stayed behind from any campaign that fought in the cause of Allah. By the One in Whose hand is my soul, I wish that I could be killed in the cause of Allah, then brought back to life, then killed, then be brought back to life, then killed.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر بہت سے مسلمانوں کے لیے یہ بات ناگواری اور تکلیف کی نہ ہوتی کہ وہ ہم سے پیچھے رہیں۔ ( ہمارا ان کا ساتھ چھوٹ جائے ) اور ہمارے ساتھ یہ دقت بھی نہ ہوتی کہ ہمارے پاس سواریاں نہیں ہیں جن پر ہم انہیں سوار کرا کے لے جائیں تو میں اللہ کے راستے میں جنگ کرنے کے لیے نکلنے والے کسی بھی فوجی دستہ سے پیچھے نہ رہتا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں“۔
It was narrated from Ibn Abi 'Amirah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no Muslim soul among the people that is taken by its Lord and wishes it could come back to you, even if it had this world and everything in it, except the martyr. Ibn Abi 'Amirah said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If I were to be killed in the cause of Allah, that would be dearer to me that if all the people of the deserts and the cities were to be mine.' [1] [1] Meaning: If they were all my slaves and I set them free.
ابن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی مسلمان شخص جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اس دنیا سے جا چکا ہو یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ پھر لوٹ کر تمہارے پاس اس دنیا میں آئے اگرچہ اسے دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں دے دی جائیں سوائے شہید کے ۱؎، مجھے اپنا اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جانا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میری ملکیت میں دیہات، شہر و قصبات کے لوگ ہوں“ ۲؎۔
It was narrated that 'Amr said: I heard Jabir say: 'A man said on the day of Uhud: If I am killed in the cause of Allah, where do you think I will be? He said: In Paradise. He threw down some dates that were in his hand and fought until he was killed.'
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جنگ احد کے دن ایک شخص نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ہو گے“، ( یہ سنتے ہی ) اس نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی کھجوریں پھینک دیں، ( میدان جنگ میں اتر گیا ) جنگ کی اور شہید ہو گیا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: A man came to the Prophet (ﷺ) while he was delivering a Khutbah from the Minbar, and he said: 'If I fight in the cause of Allah with patience and seeking reward, facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins?' He said: 'Yes.' Then he fell silent for a while. Then he said: 'Where is the one who was asking just now?' The man said: 'Here I am.' He said: 'What did you say?' He said: 'What did you say?' He said: 'I said: I said: If I fight in the cause of Allah with patience and seeking reward,facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins?' He said: 'Yes, except for debt. Jibril told me that just now.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے جنگ کروں، اور جم کر لڑوں، آگے بڑھتا رہوں پیٹھ دکھا کر نہ بھاگوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر ایک لمحہ خاموشی کے بعد آپ نے پوچھا: ”سائل اب کہاں ہے“؟ وہ آدمی بولا: ہاں ( جی ) میں حاضر ہوں، ( یا رسول اللہ! ) آپ نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ اس نے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں جم کر اجر و ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے، پیٹھ نہ دکھاتے ہوئے لڑتا ہوا مارا جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ بخش دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( بخش دے گا ) سوائے قرض کے، جبرائیل علیہ السلام نے آ کر ابھی ابھی مجھے چپکے سے یہی بتایا ہے“ ۱؎۔
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, if I am killed in the cause of Allah with patience and seeking reward, facing the enemy and not running away, do you think that Allah will forgive my sins?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Yes.' When the man turned away, the Messenger of Allah (ﷺ) called him back and said: 'What did you say?' He repeated his question, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Yes, except debt. Jibril told me.'
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اس بارے میں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں، اور حال یہ ہو کہ میں نے ثواب کی نیت سے جم کر جنگ لڑی ہو، آگے بڑھتے ہوئے نہ کہ پیٹھ دکھاتے ہوئے، تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ پھر جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دے کر اسے بلایا۔ ( راوی کو شبہ ہو گیا بلایا ) یا آپ نے اسے بلانے کے لیے کسی کو حکم دیا۔ تو اسے بلایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) کہا: ”تم نے کیسے کہا تھا“؟ تو اس نے آپ کے سامنے اپنی بات دہرا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، سوائے قرض کے سب معاف کر دے گا، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے“۔
It was narrated from 'Abdullah bin Qatadah that he heard Abu Qatadah narrate from the Messenger of Allah (ﷺ), that he stood up among them and said that Jihad in the cause of Allah and belief in Allah are the best of deeds. Then a man stood up and said: O Messenger of Allah, if I am killed in the cause of Allah, will Allah forgive my sins? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Yes, if you are killed in the cause of Allah, and you are patient and seek reward, and you are facing the enemy, not running way - except for debt. Jibril (peace be upon him) told me that.
ابوقتادہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے لوگوں کو ( ایک دن ) خطاب فرمایا: ”اور انہیں بتایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اللہ پر ایمان سب سے بہتر اعمال میں سے ہیں“، ( یہ سن کر ) ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے، اگر میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بخش دے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کر دیئے گئے، اور تم نے لڑائی ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ثواب کی نیت سے لڑی ہے پیٹھ دکھا کر بھاگے نہیں ہو تو قرض ( حقوق العباد ) کے سوا سب کچھ معاف ہو جائے گا۔ کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے“۔
It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah that his father said: A man came to the Prophet (ﷺ) when he was on the Minbar and said: 'O Messenger of Allah, do you think that if I wield this sword of mine in the cause of Allah, with patience and seeking reward, facing the enemy, and not running away, will Allah forgive my sins?' He said: 'Yes.' When he turned away, he called him back and said: 'Jibril says: unless you are in debt.'
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ منبر پر ( کھڑے خطاب فرما رہے ) تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں، ثابت قدمی کے ساتھ، بہ نیت ثواب، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا، آپ نے اسے بلایا اور کہا: ”یہ جبرائیل ہیں، کہتے ہیں: مگر یہ کہ تم پر قرض ہو“ ( تو قرض معاف نہیں ہو گا ) ۔
It was narrated from Kathir bin Murrah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no soul on Earth that dies, and is in a good position before Allah, that would like to come back to you, even if it had all this world, except the one who is killed (in the cause of Allah); he wishes that he could come back and be killed again.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شہید کے سوا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر ملا ہوا ہو ( اچھا مقام و مرتبہ حاصل ہو ) پھر وہ لوٹ کر تم میں آنے کے لیے تیار ہو اگرچہ اسے پوری دنیا مل رہی ہو۔ ( صرف شہید ہے ) جو لوٹ کر دنیا میں آنا اور دوبارہ قتل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتا ہے“ ۱؎۔
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'A man from among the people of Paradise will be brought and Allah, the Mighty and Sublime, will say: O son of Adam, how do you find your place (in Paradise)? He would say: O Lord, it is the best place. He will say: Ask and wish (for whatever you want). He would say: I ask You to send me back to the world so that I may be killed in Your cause ten time - because of what be sees of the virtue of martyrdom.'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والوں میں سے ایک شخص اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ اس سے کہے گا: آدم کے بیٹے! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تو بہترین ٹھکانہ ملا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا تمہاری کوئی طلب اور کوئی تمنا ہو تو مانگو اور ظاہر کرو۔ وہ کہے گا: میری تجھ سے یہی تمنا و طلب ہے کہ تو مجھے دنیا میں دسیوں بار بھیج تاکہ ( میں جاؤں ) پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔ اس کی یہ تمنا شہادت کی فضیلت دیکھنے کی وجہ سے ہو گی“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The martyr does not feel the pain of being killed, except as any one of you feels a pinch.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے ( پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے ) “۔
Sahl bin Abi Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever asks Allah, the mighty and Sublime, sincerely for martyrdom, Allah will cause him to reach the status of the martyrs even of he dies in his bed.
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا“ ۱؎۔
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir that the Messenger of Allah (ﷺ) said: There are five things, whoever dies of any of them is a martyr. The one who is killed in the cause of Allah is a martyr; the one who dies of an abdominal complaint in the cause of Allah is a martyr; the one who dies of the plague in the cause of Allah is a martyr; and the woman who dies in childbirth in the cause of Allah is a martyr.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہو گا، اللہ کے راستے ( جہاد ) میں نکلا اور قتل ہو گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مر گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا تو وہ بھی شہید ہے، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مر گیا وہ بھی شہید ہے، عورت ( شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے ) حالت نفاس میں مر گئی تو وہ بھی شہید ہے“۔
It was narrated from Al-'Irbad bin Sariyah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The martyrs and those who dies in their beds referred a dispute to our Lord concerning those who dies of the plague. The martyrs said: 'Our brothers were killed as we were killed.' And those who dies in their beds said: 'Our brothers dies on their beds as we died.' Our Lord said: 'Look at their wounds; if their wounds; if their wounds are like the wounds of those who were killed then they are of them and belong with them.' And their wounds were like their (the martyrs') wounds.
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شہدا اور اپنے بستروں پر مرنے والے اللہ کے حضور اپنا جھگڑا ( مقدمہ ) پیش کریں گے، شہید لوگ کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں، جیسے ہم مارے گئے ہیں یہ لوگ بھی مارے گئے ہیں، اور جو لوگ اپنے بستروں پر وفات پائے ہیں وہ کہیں گے یہ ہمارے بھائی ہیں یہ لوگ اپنے بستروں پر مرے ہیں جیسے ہم لوگ اپنے بستروں پر پڑے پڑے مرے ہیں۔ تو میرا رب کہے گا: ان کے زخموں کو دیکھو اگر ان کے زخم شہیدوں کے زخم سے ملتے ہیں تو یہ لوگ شہیدوں میں سے ہیں اور شہیدوں کے ساتھ رہیں گے، تو جب دیکھا گیا تو ان کے زخم شہیدوں کی طرح نکلے“ ۱؎۔