It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: Allah, the Mighty and Sublime, likes it when there are two men, one of whom killed the other, then they both enter Paradise. And another time he said: He laughs at two men, one of whom killed the other, then they both entered Paradise.
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر تعجب کرتا ہے کہ ایک ان میں کا ساتھی کو قتل کرتا ہے“، اور دوسری بار آپ نے یوں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے جن میں کا ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہوئے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah laughs at two men, one of whom killed the other but they both entered Paradise. The first one fought in the cause of Allah and was killed, then Allah accepted the repentance of the one who killed him, and he fought and was martyred.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے۔ ( دونوں لڑتے ہیں ) ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے۔ لیکن دونوں جنت میں جاتے ہیں، ایک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، تو وہ قتل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مارنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے۔ پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور شہادت پا جاتا ہے“۔ ( اس طرح دونوں جنت کے مستحق ہو جاتے ہیں ) ۔
It was narrated from Salman Al-Khair that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever guards Ribat (the frontier) for one day and one night, will be given a reward like that for fasting and praying Qiyam for a month, and whoever dies at Ribat (guarding the frontier) will be rewarded, and he will be given provision, and he will be kept safe from Al-Fattan. [1] [1] According to As-Sindi, the preferred pronunciation is Al-Fattan, plural of Fatan refering to Al-Munkar and An-Nakir, while Al-Fattan would refer to Ash-Shaitan or the like, among the punishment of the grave, or, the angels of chastisement.
سلمان الخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک مہینے کے روزے و نماز کا ثواب ملے گا، اور جو پہرہ دینے کی حالت میں مر گیا اسے اسی طرح کا اجر برابر ملتا رہے گا، اور اس کا رزق بھی جاری کر دیا جائے گا، اور وہ فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا“ ۱؎۔
It was narrated that Salman said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever guards Ribat (the frontier) in the cause of Allah for one day and one night, he will have (a reward) like that of fasting and praying Qiyam for a month. If he dies he will continue to receive reward for what he did, and he will be kept safe from Al-Fattan, and he will be given provision.'
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک ماہ کے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا، اور اگر وہ ( اس دوران ) مر گیا تو وہ جو کام کر رہا تھا اس کا وہ کام جاری تصور کیا جائے گا۔ اور ( منکر و نکیر کے ) فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا، ( یعنی وہ اس سے سوال و جواب کرنے کے لیے اس کے پاس حاضر نہ ہوں گے ) اور اس کے لیے اس کا رزق ( جو شہداء کا رزق ہے ) جاری کر دیا جائے گا“۔
It was narrated from Zurah bin Ma'bad: Abu Salih, the freed slave of 'Uthman, said: 'I heard 'Uthman bin 'Affan say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Ribat (guarding the frontier) for one day in the cause of Allah is better in rank than a thousand days spent within the residence.'
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” ( جہاد کے دنوں میں ) اللہ کے راستے کی ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں کی ہزار دنوں کی پہرہ داری سے بہتر ہے“۔
It was narrated that Abu Salih, the freed slace of 'Uthman, said: uthman bin 'Affan said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A day in the cause of Allah is better than a thousand days doing anything else.'
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کے راستے ( جہاد ) کا ایک دن اس کے سوا کے ہزار دن سے بہتر ہے“۔
It was narrated that Anas bin Malik said: When the Messenger of Allah (ﷺ) went to Quba' he used to come to Umm Haram bint Milhan and she would feed him. Umm Haram was married to 'Ubadah bint As-Samit. The Messenger of Allah (ﷺ entered upon her and she fed him and checked his head for lice. The Messenger of Allah (ﷺ) fell asleep, then he woke up smiling. She said: 'What is making you smile, O Messenger of Allah?' He said: 'Some people of my Ummah were shown to me, fighting in the cause of Allah and riding across the sea like kings on thrones.' I said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them.' So the Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them.' So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for her then he slept again.' (One of narrators) Al-Harith, said (in his narration): He slept then he woke up smiling. I said to him: 'What is making you smile, O Messenger of Allah?' He said: 'Some people of my Ummah were shown to me, fighting in the cause of Allah and riding across the sea like kings on thrones,' as he had said the first time. I said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to make me one of them.' He said: 'You will be one of the first.' And she traveled by sea at the time of Mu'awiyah, then she fell from her mount when she came out of the sea and died.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے یہاں بھی جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں۔ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر کی جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں۔ آپ سو گئے، پھر جب اٹھے تو ہنستے ہوئے اٹھے، کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ آپ نے فرمایا: ” ( خواب میں ) مجھے میری امت کے کچھ مجاہدین دکھائے گئے وہ اس سمندر کے سینے پر سوار تھے، تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ لگتے تھے“، یا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں جیسے لگتے تھے۔ ( اس جگہ اسحاق راوی کو شک ہو گیا ہے ( کہ ان کے استاد نے «ملوك على الأسرة» کہا، یا «مثل الملوك على الأسرة» کہا ) ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ سو گئے۔ ( اور حارث کی روایت میں یوں ہے۔ آپ سوئے ) پھر جاگے، پھر ہنسے پھر میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے ( جیسے اس سے پہلے فرمایا تھا ) فرمایا: ”مجھے میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے وہ تختوں پر بیٹھے بادشاہ تھے، یا تختوں پر بیٹھے بادشاہوں جیسے لگتے تھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا فرمائیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں شامل فرمائے، آپ نے فرمایا: تم ( سمندر میں جہاد کرنے والوں کے ) پہلے گروپ میں ہو گی۔ ( انس بن مالک راوی حدیث فرماتے ہیں ) پھر وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندری سفر پر جہاد کے لیے نکلیں تو وہ سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر کر ہلاک ہو گئیں“۔
It was narrated from Anas bin Malik that Umm Haram bint Milhan said: The Messenger of Allah (ﷺ) came to us and took a nap in our house, then he woke up smiling. I said: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be ransomed for you, what has made you smile?' He said: 'I saw some people of my Ummah riding on the sea like kings on thrones.' I said: 'Pray to Allah to make me one of them.' He said: 'You will be one of them.' Then he slept again, and woke up smiling. I asked him and he said the same thing. I said: 'Pray to Allah to make me one of them.' He said: 'You will be one of the first.' Then 'Ubadah bin As-Samit married her, and he traveled by sea, and she traveled with him, but when she came ashore a mule was brought to her and she mounted it, and it threw her off and broke her neck.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آئے اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کس چیز نے آپ کو ہنسایا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اپنی امت میں سے ایک جماعت دیکھی جو اس سمندری ( جہاز ) پر سوار تھے، ایسے لگ رہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں“، میں نے کہا: اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے کو انہیں میں سے سمجھو“، پھر آپ سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے، پھر میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنی پہلی ہی بات دہرائی، میں نے پھر دعا کی درخواست کی کہ آپ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے انہیں لوگوں میں کر دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( سوار ہونے والوں کے ) پہلے دستے میں ہو گی“۔ پھر ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے شادی کی ۱؎، اور وہ سمندری جہاد پر نکلے تو وہ بھی انہیں کے ساتھ سمندری سفر پر نکلیں، پھر جب وہ جہاز سے نکلیں تو سواری کے لیے انہیں ایک خچر پیش کیا گیا، وہ اس پر سوار ہوئیں تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی ( اور ان کا انتقال ہو گیا ) ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah (ﷺ) promised us that we would invade India. If I live to see that, I will sacrifice myself and my wealth. If I am killed, I will be one of the best of the martyrs, and if I come back, I will be Abu Hurairah Al-Muharrar. [1] [1] Al-Muharrar: The one freed (from the Fire).
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( مسلمانوں ) سے ہندوستان پر لشکر کشی کا وعدہ فرمایا، یعنی پیش گوئی کی، تو اگر ہند پر لشکر کشی میری زندگی میں ہوئی تو میں جان و مال کے ساتھ اس میں شریک ہوں گا۔ اگر میں قتل کر دیا گیا تو بہترین شہداء میں سے ہوں گا، اور اگر زندہ واپس آ گیا تو میں ( جہنم سے ) نجات یافتہ ابوہریرہ کہلاؤں گا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah (ﷺ) promised that we would invade India. If I live to see that I will sacrifice myself and my wealth. If I am killed, I will be one of the best of the martyrs, and if I come back, I will be Abu Hurairah Al-Muharrar.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ہندوستان کے غزوے کا وعدہ فرمایا یعنی پیش گوئی کی تو میں نے اگر اسے پا لیا، یعنی میری زندگی ہی میں ہند میں جہاد کا وقت آ گیا تو میں اپنی جان و مال سب اس میں لگا دوں گا۔ اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو برتر شہداء میں شامل ہوں گا اور اگر ( شہادت نصیب نہ ہوئی ) زندہ بچ کر واپس آ گیا تو ابوہریرہ «محرر» ہوں گا، یعنی وہ ابوہریرہ ہوں گا جو جہنم کے عذاب سے آزاد کر دیا گیا ہو گا۔
It was narrated that Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are two groups of my Ummah whom Allah will free from the Fire: The group that invades India, and the group that will be with 'Isa bin Maryam, peace be upon him.'
ثوبان رضی الله عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر دیا ہے۔ ایک گروہ وہ ہو گا جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا“۔
It was narrated from Abu Sukainah, a man from among the Muharririn,[1] that a man among the Companions of the the Prophet (ﷺ) said: When the Prophet (ﷺ) commanded them to dig the trench (Al-Khandaq), there was a rock in their way preventing them from digging. The Messenger of Allah (ﷺ) stood, picked up a pickaxe, put his Rida' (upper garment) at the edge of the ditch and said: 'And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower.' [1] One-third of the rock broke off while Salman Al-Farisi was standing there watching, and there was a flash of light when the Messenger of Allah (ﷺ)struck (the rock). Then he struck it again and said: 'And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. Nonce can change His Words. Ans He is the All-Hearer, the All-Knower' And another third of the rock broke off and there was another flash of light, which Salman saw. Then he struck (the rock) a third time and said: 'And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice. None can change His Words. And He is the All-Hearer, the All-Knower.' The last third fell, and the Messenger of Allah (ﷺ) came out, picked up his Rida' and sat down. Salman said: 'O Messenger of Allah, Each time you struck the rock there was a flash of light.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'O Salman, did you see that?' He said: 'Yes, by the One Who sent you with the truth, O Messenger of Allah.' He said: 'When I struck the first blow, the cities of Kisra and their environs were shown to me, and many other cities, and I saw them with my own eyes.' Those of his Companions who were present said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their land as spoils of war, and to destroy their lands at our hands.' So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for that. (Then he said:) 'Then I struck the second blow and the cities of Caesar and their environs were shown to me, and I saw them with my own eyes.' They said: 'O Messenger of Allah, pray to Allah to grant us victory and to give us their lands as spoils of war, and to destroy their lands at our hands.' So the Messenger of Allah (ﷺ) prayed for that. (Then he said:) 'Then I struck the third blow and the cities of Ethiopia were shown to me, and the villages around them, and I saw them with my own eyes.' But the Messenger of Allah (ﷺ) said at that point: 'Leave the Ethiopians alone so long as they leave you alone, and leave the Turks alone so long as they leave you alone.' [1] An-An'am 6:115.
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک چٹان نمودار ہوئی جو ان کی کھدائی میں رکاوٹ بن گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، کدال پکڑی اپنی چادر خندق کے ایک کنارے رکھی، اور آیت «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر کدال چلائی تو ایک تہائی پتھر ٹوٹ کر گر گیا، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کدال چلائی، ایک چمک پیدا ہوئی پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر دوبارہ کدال چلائی تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا پھر دوبارہ چمک پیدا ہوئی، سلمان نے پھر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے آیت: «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو باقی تیسرا تہائی حصہ بھی الگ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے نکل آئے، اپنی چادر لی اور تشریف فرما ہوئے، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب آپ نے ضرب لگائی تو میں نے آپ کو دیکھا، جب بھی آپ نے ضرب لگائی آپ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: سلمان! تم نے یہ دیکھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول جی ہاں! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ( میں نے ایسا ہی دیکھا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے ( پردے اٹھا کر ) فارس کے شہر اور اس کے اطراف کے دیہات اور دوسرے بہت سے شہر دکھائے گئے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے خود دیکھا“، اس وقت آپ کے جو صحابہ وہاں موجود تھے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیں فتح نصیب فرمائے اور ان کا ملک ہمیں بطور غنیمت عطا کرے، اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں ویران و برباد کرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرما دی، پھر جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو پردے اٹھا کر مجھے قیصر کے شہر اور اس کے اطراف ( کے قصبات و دیہات ) دکھائے گئے ( کہ یہ سب تمہیں ملنے والے ہیں ) میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ان ممالک کو فتح کرنے میں وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ علاقے ہمیں غنیمت میں ملیں اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی دعا فرمائی، پھر جب میں نے تیسری ضرب لگائی، تو مجھے ملک حبشہ کے شہر اور گاؤں دکھائے گئے، میں نے فی الحقیقت انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس موقع پر آپ نے یوں فرمایا: ”حبشہ کو چھوڑ دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں“ ( لیکن اگر وہ تم سے ٹکرائیں تو تم بھی ان سے ٹکراؤ اور انہیں شکست دو ) ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Hour will not begin until the Muslims fight the Turks, a people with faces like hammered shields who wear clothes made of hair and shoes made of hair.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے، بالوں کے لباس پہنیں گے ۱؎ اور بالوں میں چلیں گے“ ۲؎۔
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd, from his father, that he thought he was better than other Companions of the Prophet (ﷺ). The Prophet of Allah (ﷺ) said: Rather, Allah support this Ummah because of their supplication, their Salah, and their sincerity.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے“ ۲؎۔
It was narrated from Jubair bin Nufair Al-Hadrami that he heard Abu Ad-Darda' say: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Bring me the weak, for you only receive provision and Divine support by virtue of your weak ones.'
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے“ ۱؎۔
It was narrated from Zaid bin Khalid that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever equips a warrior in the cause of Allah has fought, and whoever looks after his family in his absence has fought.
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں کسی لڑنے والے کو اسلحہ اور دیگر سامان جنگ سے لیس کیا۔ اس نے ( گویا کہ ) خود جنگ میں شرکت کی، اور جس نے مجاہد کے جہاد پر نکلنے کے بعد اس کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ۱؎ تو وہ بھی ( گویا کہ ) جنگ میں شریک ہوا“۔
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever equips a warrior has fought, and whoever looks after his family in his absence has fought.'
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مجاہد کو مسلح کر کے بھیجا، تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔ اور جس نے مجاہد کے پیچھے ( یعنی اس کی غیر موجودگی میں ) اس کے گھر والوں کی حفاظت و نگہداشت کی تو اس نے ( گویا ) خود جہاد کیا“۔
It was narrated that Al-Ahnaf bin Qais said: We set out as pilgrims and came to Al-Madinah intending to perform Hajj. While we were in our camping place unloading our mounts, someone came to us and said: 'The people have gathered in the Masjid and there is panis.' So we set out and found the people gathered around a group in the middle of the Masjid, among whom were 'Ali, Zubayr, Talhah and Sa'd bin Abi Waqas. While we were like that, 'Uthman, may Allah be pleased with him, came, wearing a yellow cloak with which he had covered his head. He said: 'Is Talhah here? Is Az-Zubair here? Is Sa'd here?' They said: 'Yes.' He said: 'I adjure you be the One beside Whom there is none worthy of worship, din't the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever buys the Mirbad [1] of Banu so-and so, Allah will forgive him, and I bought it for twenty or twenty-five thousand, then I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him, and he said: Add it to our Masjid and the reward for it will be yours?' They said: 'By Allah, yes.' He said: 'I adjure you by the One beside Whom there is none worthy of worship, didn't the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever buys the well of Rumah, Allah will forgive him, so I bought it for such and such and amount, then I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him, and he said: Give it to provide water for the Muslims, and the reward for it will be yours?' They said: 'By Allah, yes.' He said: 'I adjure you by the One beside Whom there is none worthy of worship, didn't the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever equips these (men)- meaning the army of Al-'Usrah (Tabuk) - Allah will forgive him, so I equipped them until they were not lacking even a rope or a bridle?' They said: 'By Allah, yes.' He said: 'O Allah, bear witness, O Allah, bear witness, O Allah, bear witness.' [1] Mirbad: A place for drying dates.
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ
ہم حاجی لوگ نکلے، اور مدینہ پہنچے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا ہم ابھی اپنا سامان اتار کر اپنے ڈیروں میں رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والا ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں، اور گھبرائے ہوئے ہیں، ہم بھی وہاں پہنچے دیکھا کہ لوگ بیچ مسجد میں کچھ ( اکابر ) صحابہ کو گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص ( رضی اللہ عنہم ) ہیں، ہم ابھی یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان رضی اللہ عنہ پیلی چادر پہنے ہوئے اور اسی سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تشریف لائے ۱؎، اور کہا: کیا یہاں طلحہ ہیں؟ کیا یہاں زبیر ہیں؟ کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہیں، تو انہوں نے کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بنی فلاں کا کھلیان ( مسجد نبوی کے قریب کی زمین ) خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا“ تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو، اس کا ثواب تمہیں ملے گا“ ( چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا ) لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں یہ سچ ہے۔ انہوں نے ( پھر ) کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے اتنے اور اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اتنے اور اتنے میں اسے خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے ( وقف ) کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا“، ( تو میں نے اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے عام کر دیا ) ، لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں ( یہ سچ ہے ) ، انہوں نے پھر کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈال کر کہا تھا جو کوئی انہیں ( تنگی و محتاجی والی فوج کو ) ضروریات جنگ سے مسلح کر دے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا، میں نے اس لشکر کو ہر طرح سے مسلح کر دیا یہاں تک کہ رسی اور نکیل کی بھی انہیں ضرورت نہ رہی۔ لوگوں نے کہا اے ہمارے رب! ہاں ( یہ سچ ہے ) ۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the prophet (ﷺ) said: Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah will be called in Paradise: 'O slave of Allah, here is prosperity.' Whoever is one of the people of Salah, he will be called from the gate of Paradise, Whoever is one of the people of jihad, he will be called from the gate of paradise. Whoever is one of the people of charity, he will be called from the gate of Paradise. Whoever is one of the people who fast, he will be called from the gate of Ar-Rayyan. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: O Messenger of Allah, no distress or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Yes, and I hope that you will be one of them.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے ( جہاد ) میں جوڑا جوڑا دیا ۱؎ جنت میں اس سے کہا جائے گا: اللہ کے بندے یہ ہے ( تیری ) بہتر چیز، تو جو کوئی نمازی ہو گا اسے باب صلاۃ ( صلاۃ کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی مجاہد ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا، اور جو کوئی خیرات دینے والا ہو گا اسے باب صدقہ ( صدقہ و خیرات والے دروازہ ) سے پکارا جائے گا، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہو گا اسے باب ریان ( سیراب و شاداب دروازے ) سے بلایا جائے گا“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ( اللہ کے نبی! ) اس کی کوئی ضرورت و حاجت تو نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ۲؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, the gatekeepers of Paradise will call him from the gates of Paradise (saying): O So-and-so, come and enter!' Abu Bakr said: 'O Messenger of Allah, such a person will never perish or be miserable.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I hope that you will be one of them.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے میں جوڑا جوڑا صدقہ دیا اسے جنت کے سبھی دروازوں کے دربان بلائیں گے: اے فلاں ادھر آؤ ( ادھر سے ) جنت میں داخل ہو“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس میں آپ اس شخص کا کوئی نقصان تو نہیں سمجھتے ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( نہیں ) میں تو توقع رکھتا ہوں کہ تم ان ہی ( خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہو گے“ ( جنہیں جنت کے سبھی دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کے لیے بلایا جائے گا ) ۔