Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah said: Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہی کام انجام دے جو بہتر ہے ۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Samurah that the Messenger of Allah said: If any one of you swears an oath, then he sees something better than it, let him offer expiation for his oath, and look at what is better and do it.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو چاہیئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور دیکھے کہ کون سی بات بہتر ہے تو وہی کرے ۔
Abdur-Rahman bin Samurah said: The Messenger of Allah said: 'If you swear an oath, offer expiation for your oath, then do that which is better.'
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو پھر وہ کام کرو جو بہتر ہو ۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Samurah that the Prophet said: If you swear an oath, then you see something better than it, then offer expiation for your oath, and do that which is better.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہی کرو جو بہتر ہے ۔
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better and offer expiation for his oath.'
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۱؎۔
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him leave his oath, and do that which is better, and offer expiation for it.'
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر بات پائے تو اپنی قسم کو ترک کر دے اور وہی کرے جو بہتر ہو، اور قسم کا کفارہ ادا کرے ۔
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better and leave his oath.'
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے، پھر اس سے بہتر بات پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے ۔
It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said: I said: 'O Messenger of Allah, I have a cousin, and I come to him and ask him (for help) but he does not give me anything, and he does not uphold the ties of kinship with me. Then, when he needs me, he comes to me and asks me (for help). I swore that I would not give him anything, nor uphold the ties of kinship with him.' He commanded me to do that which is better and to offer expiation for my oath.
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے میرے چچا زاد بھائی کو دیکھا؟ میں اس کے پاس اس سے کچھ مانگنے آتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلہ رحمی نہیں کرتا ہے ۱؎، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس مجھ سے مانگنے آتا ہے، میں نے قسم کھا لی ہے کہ میں نہ اسے دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہی کروں جو بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Samurah said: The Prophet said to me: 'If you swear an oath, and you see something that is better, then do that which is better and offer expiation for your oath.'
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چیز کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو
Abdur-Rahman bin Samurah said: The Messenger of Allah said: 'If you swear an oath, then you see something that is better, then do that which is better and offer expiation for your oath.'
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
Abdur-Rahman bin Samurah said: The Messenger of Allah said to me: 'If you swear an oath, then you see something that is better, do that which is better, and offer expiation for your oath.'
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah said: There is no vow and no oath concerning that which one does not possess, nor to commit sin, nor to sever the ties of kinship.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے ۱؎
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said: Whoever swears an oath and says: 'If Allah wills', then if he wishes he may go ahead, and if he wishes he may not, without having broken his oath.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎ ۔
It was narrated from 'Umar bin Al-Khattab that the Prophet said: Actions are but by intentions, and each person will have but that which he intended. Thus, he whose emigration was for the sake of Allah and His Messenger, his emigration was for the sake of Allah and His Messenger, and he whose emigration was to achieve some worldly gain or to take some woman in marriage, his emigration was for that for which he emigrated.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو اسی کا ثواب ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو، تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہو گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہے ۱؎۔
Ubaid bin 'Umair said: I heard 'Aishah say: The Prophet used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey at her house. Hafsah and I agreed that if the Prophet came to either of us, she would say: 'I detect the smell of Maghafir (a nasty-smelling gum) on you. Have you eaten Maghafir?' He went to one of them and she said that to him. He said: 'No, rather I drank honey at the house of Zainab bint Jahsh, but I will never do it again.' Then the following was revealed: 'O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you' up to: 'If you two turn in repentance to Allah' -'Aishah and Hafsah- 'And (remember) when the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his wives.' refers to him saying: 'No, rather I drank honey.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ ( کے منہ ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا ۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں ( التحریم: ۱ ) «إن تتوبا إلى اللہ» ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) ( اے نبی کی بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) ( التحریم: ۴ ) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: میں نے تو شہد پیا ہے ( مگر اب نہیں پیوں گا ) کی وجہ سے آیت کریمہ «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی۔
It was narrated that Jabir said: I entered the house of the Prophet with him and there was some bread and vinegar. The Messenger of Allah said: 'Eat; what a good condiment is vinegar.'
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۱؎۔
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said: At the time of the Messenger of Allah we used to be called Samasir (brokers). The Messenger of Allah came to us when we were selling and called us by a name that was better than that. He said: 'O merchants (Tujjar), this selling involves lies and (false) oaths, so mix some charity with it.'
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کہ ہمیں «سماسر» ( دلال ) کہا جاتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خرید و فروخت کر رہے تھے تو آپ نے ہمیں ہمارے نام سے بہتر ایک نام دیا، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسم اور جھوٹ ۱؎ بھی شامل ہو جاتی ہیں تو تم اپنی خرید و فروخت میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said: We used to sell in Al-Baqi, and the Messenger of Allah came to us. We used to be called Samasir (brokers) but he said: 'O merchants!' And called us by a name that was better than our name. Then he said: 'This selling involves (false) oaths and lies, so mix some charity with it.'
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ بقیع میں خرید و فروخت کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم لوگوں کو«سماسرہ» ( دلال ) کہا جاتا تھا، تو آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا، پھر فرمایا: خرید و فروخت میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہو جاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said: The Prophet came to us when we were in the marketplace and said: 'This marketplace is filled with idle talk and (false) oaths, so mix some charity with it.'
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ بازار میں تھے کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ان بازاروں میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) غلط اور جھوٹی باتیں آ ہی جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۱؎۔
It was narrated that Qais bin Abi Gharazah said: In Al-Madinah we used to buy and sell Wasqs (of goods), and we used to call ourselves Samasir (brokers), and the people used to call us like that. The Messenger of Allah came out to us one day, and called us by a name that was better than that which we called ourselves and which the people called us. He said: 'O Tujjar (traders), your selling involves (false) oaths and lies, so mix some charity with it.'
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو «سماسرہ» ( دلال ) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں ( بلا قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آ جاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔