It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah forbade vows and said: They do not bring any good; they are just a means of taking wealth from the miserly.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ( ماننے ) سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said: The Messenger of Allah forbade vows and said: 'They do not change anything; they are just a means of taking wealth from the miserly.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی چیز رد نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۔
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah said: 'A vow does not bring anything forward or put it back; it is just a means of taking wealth from the miserly.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ کسی ( مقدر ) چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: A vow does not bring anything to the son of Adam that has not been decreed for him. It is just a means of taking wealth from the miserly.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said: Do not make vows, for a vow does not have any impact on the Qadar. Rather it is just a means of taking wealth from the miserly.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر ( کے لکھے ) میں کچھ کام نہیں آتی، اس سے تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے ۔
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said: Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ۱؎۔
It was narrated that 'Aishah said: I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔
It was narrated that 'Aishah said: I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو نذر مانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کرے گا تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔
Imran bin Husain said: The Messenger of Allah said: 'The best of you are my generation, then those who come after them, then those whom after them, then those who come after them.' -I do not know if he said two times after him or three. Then he mentioned some people who betray and cannot be trusted, who bear witness without being asked to do so, who make vows and do not fulfill them, and fatness will prevail among them.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے زیادہ اچھے اور بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ثم الذين يلونهم» کا ذکر دو بار کیا یا تین بار، پھر آپ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو خیانت کریں گے اور انہیں امین ( امانت دار ) نہیں سمجھا جائے گا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی اور نذر مانیں گے اور اسے پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہو گا ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ابوجمرہ نصر بن عمران ہیں۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah passed by a man who was leading another man by a rope. The Prophet took it, and cut it, and he said: 'It is a vow.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: یہ نذر ہے ۱؎۔
It was narrated from Ibn 'Abbas: The Prophet passed by a man who was circumambulating the Ka'bah, led by another man with a reign in his nose. The Prophet took him by the hand and commanded him to lead him by his hand. Ibn Juraij said: Sulaiman told me that Tawus told him, from Ibn 'Abbas, that the Prophet passed by him when he was circumambulating the Ka'bah, and a man had tied his hand to another man with some string or thread or whatever. The Prophet cut it with his hand then said: 'Lead him with your hand.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ( آدمی ) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جاؤ۔
It was narrated from 'Imran bin Husain that the Prophet said: There is no vow to commit an act of disobedience, and no vow concerning that which the son of Adam does not possess.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو ۔
It was narrated from Thabit bin Ad-Dahhak, that the Messenger of Allah said: Whoever swears by a religion other than Islam, telling a lie, will be as he said, and whoever kills himself with something, he will be punished with it in the Hereafter, and there is no vow concerning that which a man does not possess.
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی دین اسلام کے سوا کسی دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اسی طرح ہو گا جیسے اس نے کہا، اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۔
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said: My sister vowed to walk to the House of Allah, and she told me to ask the Messenger of Allah about that. So I asked the Prophet for her and he said: 'Let her walk, and let her ride.'
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر ( بھی ) جائے ۔
Uqbah bin 'Amir narrated that he asked the Prophet about a sister of his who had vowed to walk, barefoot and bareheaded. The Prophet said to him: Tell her to cover her head and ride, and fast for three days.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ دوپٹہ اوڑھے بغیر پیدل ( حج کرنے ) جائے گی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اوڑھنی اوڑھ کر اور سوار ہو کر جائے اور تین دن کے روزے رکھ لے ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: A woman traveled by sea and vowed to fast for a month, but she died before she could fast. Her sister came to the Prophet and told him about that, and he told her to fast on her behalf.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مر گئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that Sa'd bin 'Ubadah asked the Messenger of Allah about a vow which his mother had sworn, but she died before she could fulfill it. He said: Fulfill it on her behalf.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو چکا تھا تو آپ نے فرمایا: ان کی طرف سے تم اسے پوری کرو ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Sa'd bin 'Ubadah asked the Messenger of Allah about a vow which his mother had sworn, but she died before she could fulfill it. The Messenger of Allah said: 'Fulfill it on her behalf.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمے تھی اور وہ اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کر گئی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان کی طرف سے تم پوری کرو ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Sa'd bin 'Ubadah came to the Prophet and said: 'My mother died and she had sworn a vow, but she did not fulfill it.' He said: 'Fulfill it on her behalf.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میری ماں مر گئیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان کی جانب سے تم پوری کر دو ۔
It was narrated from Ibn 'Umar, that 'Umar had vowed to spend a night in 'Itikaf during the Jahiliyyah. He asked the Messenger of Allah about that, and he ordered him to perform the 'Itikaf.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۱؎۔