It was narrated that Ibn 'Umar said: Umar had made a vow to spend a night in 'Itikaf in Al-Masjid Al-Haram. He asked the Messenger of Allah about that, and he ordered him to perform the 'Itikaf.
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ کے ذمہ مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔
It was narrated from Ibn 'Umar that 'Umar had vowed -during the Jahiliyyah- to spend a day in 'Itikaf. He asked the Messenger of Allah about that, and he commanded him to perform the 'Itikaf.
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں ( مسجد الحرام میں ) ایک دن کا اعتکاف اپنے اوپر واجب کر لیا تھا، انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں اس میں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۔
Abdullah bin Ka'b bin Malik narrated from his father, that he said to the Messenger of Allah -when his repentance was accepted: O Messenger of Allah! I want to give all my wealth in charity for Allah and His Messenger. The Messenger of Allah said to him: Keep some of your wealth for yourself; that is better for you.
Urdu
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہو جاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان ( کعب رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہو ۲؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ کا بھی ذکر ہے
Abdur-Rahman bin Ka'b bin Malik narrated that 'Abdullah bin Ka'b said: I heard Ka'b bin Malik narrating his Hadith about when he stayed behind and did not join the Messenger of Allah on the campaign to Tabuk. He said: 'When I sat down before him I said: O Messenger of Allah, as part of my repentance I want to give my wealth in charity to Allah and His Messenger. The Messenger of Allah said: Keep some of your wealth for yourself; that is better for you. I said: I will keep my share that is in Khaibar. '
Urdu
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ
جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔
Abdullah bin Ka'b bin Malik said: I heard Ka'b bin Malik narrating his Hadith about when he stayed behind and did not join the Messenger of Allah on the campaign to Tabuk. (he said) I said: 'As part of my repentance I want to give my wealth in charity for Allah and His Messenger.' The Messenger of Allah said: 'Keep some of your wealth for yourself; that is better for you.' I said: 'I will keep for myself my share that is in Khaibar.'
Urdu
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ
جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ( کہتے ہیں: ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا ( کچھ ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔
It was narrated from 'Ubaydullah bin Ka'b: I heard my father Ka'b bin Malik narrate: 'I said: O Messenger of Allah, Allah, the Mighty and Sublime, has saved me by my being truthful, and as part of my repentance I want to give my wealth in charity to Allah and His Messenger. He said: Keep some of your wealth for yourself; that is better for you. I said: I will keep my share that is in Khaibar.'
Urdu
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: We were with the Messenger of Allah in the year of Khaibar, and we did not get any spoils of war except for wealth, goods and clothes. Then a man from Banu Ad-Dubaib, who was called Rifa'ah bin Zaid, gave the Messenger of Allah a black slave who was called Mid'am. The Messenger of Allah set out for Wadi Al-Qura. When we were in Wadi Al-Qura, while Mid'am was unloading the luggage of the Messenger of Allah, an arrow came and killed him. The people said: 'Congratulations! You will go to Paradise,' but the Messenger of Allah said: 'No, by the One in Whose hand is my soul! The cloak that he took from the spoils of war on the Day of Khaibar is burning him with fire.' When the people heard that, a man brought one or two shoelaces to the Messenger of Allah and the Messenger of Allah said: 'One or two shoelaces of fire.'
Urdu
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
خیبر کے سال ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں مال ۱؎، سامان اور کپڑوں کے علاوہ کوئی غنیمت نہ ملی تو بنو ضبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعم نامی ایک کالا غلام ہدیہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی قریٰ کا رخ کیا، یہاں تک کہ جب ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوا اتار رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ایک تیر آ کر اسے لگا اور اسے قتل کر ڈالا، لوگوں نے کہا کہ تمہیں جنت مبارک ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ کملی جو اس نے غنیمت کے مال سے خیبر کے روز لے لی تھی ( اور مال تقسیم نہ ہوا تھا ) اس کے سر پر آگ بن کر دہک رہی ہے ۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چمڑے کا ایک یا دو تسمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں ۔
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah said: Whoever swears an oath and says, 'If Allah wills,' then he has the choice: If he wishes, he may go ahead, and if he wishes he may not.
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی بات پر قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو اب اسے اختیار ہے چاہے تو قسم پوری کرے اور چاہے تو نہ کرے ۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: Sulaiman bin Dawud said: 'Tonight I will go around ninety women, each of whom will bear a horseman who will perform Jihad in the cause of Allah.' His companion said to him: 'If Allah wills.' But he did not say: 'If Allah wills.' Then he went around to them all, but none of them got pregnant except a woman who bore half a man. By the One in Whose Hand is my soul! If he had said, 'If Allah wills,' they would all have performed Jihad in the cause of Allah as horsemen.
Urdu
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said: There is no vow to commit an act of disobedience and its expiation is the expiation for an oath.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ک
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۱؎۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah said: 'There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.'
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said: There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah said: 'There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.'
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: کہا گیا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا ۱؎۔
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said: There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah said: There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: سلیمان بن ارقم متروک الحدیث راوی ہے، واللہ اعلم، اس حدیث کے سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے کئی ایک نے سلیمان بن ارقم کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
It was narrated that 'Imran bin Husain said: The Messenger of Allah said: 'There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.'
Urdu
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ کے کاموں ) کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔