It was narrated that 'Imran bin Husain, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah said: 'There is no vow to commit an act of disobedience, and its expiation is the expiation for an oath.'
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ کے کام ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that 'Imran bin Husain said: The Messenger of Allah said: 'There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath.'
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن زبیر ضعیف ہیں، ان جیسے سے حجت قائم نہیں ہوتی اور اس حدیث کے سلسلے میں ان کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔
It was narrated that 'Imran said: The Messenger of Allah said: There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath.
عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that 'Imran said: The Messenger of Allah said: There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath. It was said: Az-Zubair did not hear this Hadith from 'Imran bin Husain.
عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ( محمد کے والد ) زبیر نے اس حدیث کو عمران بن حصین سے نہیں سنا۔
It was narrated from Muhammad bin Az-Zubair, from his father, from a man from the inhabitants of Al-Basrah, who said: I accompanied 'Imran bin Husain, who said: 'I heard the Messenger of Allah say: Vows are of two types: A vow that is made to do an act of obedience to Allah; that is for Allah and must be fulfilled, and a vow that is made to do an act of disobedience to Allah; that is for Shaitan and should not be fulfilled, and its expiation is the expiation for an oath.'
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نذر کی دو قسمیں ہیں: جو نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے اور جو نذر اللہ کی معصیت کی ہو تو وہ شیطان کی ہے اور اسے پورا نہیں کرنا ہے اور اس کا کفارہ وہی ہو گا جو قسم کا ہوتا ہے ۔
It was narrated that Muhammad bin Az-Zubayr Hanzali said: My father told me that a man told him, that he asked 'Imran bin Husain about a man who made a vow not to attend the prayers in the mosque of his people. 'Imran said: I heard the Messenger of Allah say: There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath.
زبیر حنظلی سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہو گا، تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that 'Imran bin Husain said: The Messenger of Allah said: There is no vow to commit an act of disobedience or at the time of anger, and its expiation is the expiation for an oath.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی کوئی نذر نہیں، اور نہ ہی غضب میں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
It was narrated that 'Imran bin Husain said: The Messenger of Allah said: There is no vow to commit an act of disobedience and its expiation is the expiation for an oath. Mansur bin Zadhan contradicted him in his wording.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ منصور بن زاذان کی روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
It was narrated that 'Imran bin Husain said: The Messenger of Allah said: There is no vow for the son of Adam with regard to that which he does not possess, or to do an act of disobedience to Allah, the Mighty and Sublime. 'Ali bin Zaid contradicted him -for he reported it from Al-Hasan from 'Abdur-Rahman bin Samurah.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے ۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Samurah that the Prophet said: There is no vow to commit an act of disobedience or with regard to that which the son of Adam does not possess.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: علی بن زید ضعیف ہیں اور اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح عمران بن حصین رضی اللہ عنہما ہے اور دوسری سند سے یہ حدیث عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔
It was narrated that 'Imran bin Husain said: The Messenger of Allah said: There is no vow to commit an act of disobedience or with regard to that which the son of Adam does not possess.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔
It was narrated that Anas said: The Prophet saw a man being supported by two others and said: 'What is this?' They said: 'He vowed to walk to the House of Allah.' He said: 'Allah has no need for this man to torture himself. Tell him to ride.'
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے ۱؎۔
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah passed by an old man who was being supported between two men and said: 'What is the matter with him?' They said: 'He vowed to walk.' He said: 'Allah has no need for him to torture himself. Tell him to ride.' So he was told to ride.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے عرض کیا: اس نے ( کعبہ ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس کے اس طرح اپنی جان کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اسے حکم دو کہ سوار ہو کر چلے، چنانچہ انہوں نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔
It was narrated that Anas bin Malik said: The Messenger of Allah came to a man who was being supported by two others and said: 'What is the matter with him?' It was said: 'He vowed to walk to the Ka'bah.' He said: 'Allah does not benefit from his torturing himself.' And he told him to ride.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا: اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath and says: If Allah wills, then he has made an exception. '
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بات کی قسم کھائے، پھر وہ ان شاءاللہ کہے تو اس نے استثناء کر لیا ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah, who attributed it to the Prophet: Sulaiman said: 'I will certainly go around to ninety women tonight, each of whom will bear a child who will fight in the cause of Allah.' It was said to him: 'Say: If Allah wills' but he did not say it. He went around to them but none of them bore a child except for one woman who bore half a person. The Messenger of Allah said: If he had said: 'If Allah wills,' he would not have broken his vow, and this would have been a means to help him to get what he wanted.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان علیہ السلام نے کہا: آج رات میں نوے ( ۹۰ ) عورتوں ( بیویوں ) کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان سے کہا گیا: آپ ان شاءاللہ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان علیہ السلام اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پا لینے میں کامیاب بھی رہتے ۔