The Book of Fighting [The Prohibition of Bloodshed]
كتاب تحريم الدم
Chapter 38
It was narrated from Abu Burdah bin Abi Musa Al-Ash'ari, from his father: That the Prophet [SAW] sent him to Yemen, then he sent Mu'adh bin Jabal after that. When he arrived he said: 'O people, I am the envoy of the Messenger of Allah [SAW] to you.' Abu Musa gave him a cushion to sit down, then a man was brought who had been a Jew, then he became a Muslim, then he reverted to Kufr. Mu'adh said: 'I will not sit down until he is killed; this is the decree of Allah and His Messenger,' (saying it) three times. When he was killed, he sat down.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا، جب وہ ( معاذ ) یمن آئے تو کہا: لوگو! میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے گاؤ تکیہ رکھ دیا تاکہ وہ اس پر ( ٹیک لگا کر ) بیٹھیں، پھر ایک شخص ان کے پاس لایا گیا جو یہودی تھا، وہ اسلام قبول کر لینے کے بعد کافر ہو گیا تھا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں بیٹھوں گا جب تک اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے اسے قتل نہ کر دیا جائے۔ ( ایسا ) تین بار ( کہا ) ، پھر جب اسے قتل کر دیا گیا تو وہ بیٹھے۔
It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said: On the day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah [SAW] granted amnesty to the people, except four men and two women. He said: 'Kill them, even if you find them clinging to the covers of Ka'bah.' (They were) 'Ikrimah bin Abi Jahl, 'Abdullah bin Khatal, Miqyas bin Subabah and 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh. 'Abdullah bin Khatl was caught while he was clinging to the covers of Ka'bah. Sa'eed bin Huraith and 'Ammar bin Yasir both rushed toward him, but Sa'eed, who was the younger of the two, got there before 'Ammar, and he killed him. Miqyas bin Subabah was caught by the people in the marketplace, and they killed him. 'Ikrimah traveled by sea, and he was caught in a storm. The crew of the ship said: 'Turn sincerely toward Allah, for your (false) gods cannot help you at all in this situation.' 'Ikrimah said: 'By Allah, if nothing came to save me at sea except sincerity toward Allah then nothing else will save me on land. O Allah, I promise You that if You save me from this predicament I will go to Muhammad [SAW] and put my hand in his, and I am sure that I will find him generous and forgiving.' So he came, and accepted Islam. 'Abdullah (bin Sa'd) bin Abi Sarh hid in the house of 'Uthman bin 'Affan, and when the Messenger of Allah [SAW] called the people to give their Oath of Allegiance, he brought him, and made him stand before the Prophet [SAW]. He ('Uthman) said: 'O Messenger of Allah! Accept the allegiance of 'Abdullah.' He raised his head and looked at him three times, refusing his allegiance each time, then he accepted his allegiance after three times. Then he turned to his Companions and said: 'Was there not any sensible man among you who would get up when he saw me refusing to give him my hand and kill him?' They said: 'We did not know, O Messenger of Allah, what was in your heart. Why did you not gesture to us with your eyes?' He said: 'It is not befitting for a Prophet that his eyes be deceitful.'
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب فتح مکہ کا دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو امان دے دی، سوائے چار مرد اور دو عورتوں کے، اور فرمایا: ”انہیں قتل کر دو چاہے تم انہیں کعبہ کے پردے سے چمٹا ہوا پاؤ“، یعنی عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۱؎۔ عبداللہ بن خطل اس وقت پکڑا گیا جب وہ کعبے کے پردے سے چمٹا ہوا تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر ( رضی اللہ عنہما ) اس کی طرف بڑھے، سعید عمار پر سبقت لے گئے، یہ زیادہ جوان تھے، چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا، مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا تو اسے قتل کر دیا۔ عکرمہ ( بھاگ کر ) سمندر میں ( کشتی پر ) سوار ہو گئے، تو اسے آندھی نے گھیر لیا، کشتی کے لوگوں نے کہا: سب لوگ خالص اللہ کو پکارو اس لیے کہ تمہارے یہ معبود تمہیں یہاں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ عکرمہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر سمندر سے مجھے سوائے توحید خالص کے کوئی چیز نہیں بچا سکتی تو خشکی میں بھی اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ اے اللہ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو مجھے میری اس مصیبت سے بچا لے گا جس میں میں پھنسا ہوا ہوں تو میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور میں ان کو مہربان اور بخشنے والا پاؤں گا، چنانچہ وہ آئے اور اسلام قبول کر لیا۔ رہا عبداللہ بن ابی سرح، تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا۔ تو عثمان ان کو لے کر آئے اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کھڑا کر دیا اور بولے: اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے، آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا، ہر مرتبہ آپ انکار کر رہے تھے، لیکن تین مرتبہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں کوئی ایک شخص بھی سمجھ دار نہ تھا جو اس کی طرف اٹھ کھڑا ہوتا جب مجھے اس کی بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچتے دیکھا کہ اسے قتل کر دے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں کیا معلوم کہ آپ کے دل میں کیا ہے؟ آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے لیے یہ مناسب اور لائق نہیں کہ وہ کنکھیوں سے خفیہ اشارہ کرے“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: A man from among the Ansar accepted Islam, then he apostatized and went back to Shirk. Then he regretted that, and sent word to his people (saying): 'Ask the Messenger of Allah [SAW], is there any repentance for me?' His people came to the Messenger of Allah [SAW] and said: 'So and so regrets (what he did), and he has told us to ask you if there is any repentance for him?' Then the Verses: 'How shall Allah guide a people who disbelieved after their Belief up to His saying: Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful' was revealed. So he sent word to him, and he accepted Islam.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انصار کا ایک شخص اسلام لایا پھر وہ مرتد ہو گیا اور مشرکین سے جا ملا۔ اس کے بعد شرمندہ ہوا تو اپنے قبیلہ کو کہلا بھیجا کہ میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو: کیا میرے لیے توبہ ہے؟ اس کے قبیلہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: فلاں شخص ( اپنے کئے پر ) شرمندہ ہے اور اس نے ہم سے کہا ہے کہ ہم آپ سے پوچھیں: کیا اس کی توبہ ہو سکتی ہے؟ اس وقت یہ آیت اتری: «كيف يهدي اللہ قوما كفروا بعد إيمانهم» سے «غفور رحيم» تک ”اللہ اس قوم کو کیوں کر ہدایت دے گا جو ایمان لانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد کافر ہوئی، اللہ تعالیٰ ایسے بے انصاف لوگوں کو راہ راست پر نہیں لاتا، ان کی تو یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے تمام فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، جس میں یہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی، مگر وہ لوگ جن ہوں نے اس سے توبہ کر لی اور نیک ہو گئے، پس بیشک اللہ غفور رحیم ہے“ ( آل عمران: ۸۶-۸۹ ) تو آپ نے اسے بلا بھیجا اور وہ اسلام لے آیا۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said concerning Surat An-Nahl - : Whoever disbelieved in Allah after his belief, except him who is forced thereto and whose heart is at rest with Faith; but such as open their breasts to disbelief, on them is wrath from Allah, and theirs will be a great torment. This was abrogated, and an exception was made, as Allah said: Then, verily, your Lord for those who emigrated after they had been put to trials and thereafter strove hard and fought (for the Cause of Allah) and were patient, verily, your Lord afterward is, Oft-Forgiving, Most Merciful. This was 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh who was the governor of Egypt and used to write to the Messenger of Allah [SAW]. The Shaitan misled him and he went and joined the unbelievers. So he (the Prophet [SAW]) commanded that he be killed on the day of the Conquest of Makkah. Then, 'Uthman bin 'Afan sought protection for him, and the Messenger of Allah [SAW] granted him protection.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے سورۃ النحل کی اس آیت: «من كفر باللہ من بعد إيمانه إلا من أكره» ”جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو … ان کے لیے درد ناک عذاب ہے“ ( النحل: ۱۰۶ ) کے بارے میں کہا: یہ منسوخ ہو گئی اور اس سے مستثنیٰ یہ لوگ ہوئے، پھر یہ آیت پڑھی: «ثم إن ربك للذين هاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاهدوا وصبروا إن ربك من بعدها لغفور رحيم» ”پھر جو لوگ فتنے میں پڑ جانے کے بعد ہجرت کر کے آئے، جہاد کیا اور صبر کیا تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے“ ( النحل: ۱۱۰ ) اور کہا: وہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے جو ( عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ) مصر کے والی ہوئے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منشی تھے، انہیں شیطان نے بہکایا تو وہ کفار سے مل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے تو ان کے لیے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پناہ طلب کی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دے دی ۱؎۔
Ibn 'Abbas narrated that : There was a blind man during the time of the Messenger of Allah [SAW] who had an Umm Walad by whom he had two sons. She used to slander and defame the Messenger of Allah [SAW] a great deal, and he would rebuke her, but she would not pay heed, and he would forbid her to do that, but she ignored him. (The blind man said) One night I mentioned the Prophet [SAW], and she slandered him. I could not bear it so I went and got a dagger which I thrust into her stomach and leaned upon it, and killed her. In the morning she was found slain. Mention of that was made to the Prophet [SAW] and he gathered the people and said: I adjure by Allah; a man over whom I have the right, that he should obey me, and he did what he did, to stand up. The blind man started to tremble and said: O Messenger of Allah [SAW], I am the one who killed her. She was my Umm Walad and she was kind and gentle toward me, and I have two sons like pearls from her, but she used to slander and defame you a great deal. I forbade her, but she did not stop, and I rebuked her, but she did not pay heed. Finally, I mentioned your name and she slandered you, so I went and got a dagger which I thrust into her stomach, and leaned on it until I killed her. The Messenger of Allah [SAW] said: I bear witness that her blood is permissible.
عثمان شحام کہتے ہیں کہ
میں ایک اندھے آدمی کو لے کر عکرمہ کے پاس گیا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگے کہ مجھ سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک نابینا آدمی تھا، اس کی ایک ام ولد ( لونڈی ) تھی، اس سے اس کے دو بیٹے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا بھلا کہتی تھی، وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ مانتی نہیں تھی، وہ اسے روکتا تھا مگر وہ باز نہ آتی تھی ( نابینا کا بیان ہے ) ایک رات کی بات ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو اس نے آپ کو برا بھلا کہا، مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر اسے زور سے دبایا اور اسے مار ڈالا، وہ مر گئی، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: ”میں قسم دیتا ہوں اس کو جس پر میرا حق ہے! جس نے یہ کیا ہے وہ اٹھ کھڑا ہو“، تو وہ نابینا گرتا پڑتا آیا اور بولا: اللہ کے رسول! یہ میرا کام ہے، وہ میری ام ولد ( لونڈی ) تھی، وہ مجھ پر مہربان اور رفیق تھی، میرے اس سے موتیوں جیسے دو بیٹے ہیں، لیکن وہ آپ کو اکثر برا بھلا کہتی تھی اور آپ کو گالیاں دیتی تھی، میں اسے روکتا تھا تو وہ باز نہیں آتی تھی، میں اسے ڈانٹتا تھا تو وہ اثر نہ لیتی تھی، کل رات کی بات ہے میں نے آپ کا تذکرہ کیا تو اس نے آپ کو برا بھلا کہا، میں نے خنجر لیا اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! تم لوگ گواہ رہو اس کا خون رائیگاں ہے“ ۱؎۔
It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami said: A man spoke harshly to Abu Bakr As-Siddiq, and I said: 'Shall I kill him?' He told me off, and said: 'That is not for anyone after the Messenger of Allah [SAW].'
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سخت کلامی کی تو میں نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کر دوں؟ تو آپ نے مجھے جھڑکا اور کہا: یہ مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نہیں ہے ۱؎۔
It was narrated that Abu Barzah said: Abu Bakr got infuriated with a man, and I said: 'Who is he, O Khalifah of the Messenger of Allah?' He said: 'Why?' I said: 'So that I might strike his neck (killing him) if you tell me to.' He said: 'Would you really do that?' I said: 'Yes. By Allah,' the seriousness of what I said took away his anger. Then he said: 'That is not for anyone after Muhammad [SAW].'
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر غصہ ہوئے، تو میں نے کہا: اے خلیفہ رسول! یہ کون ہے؟ کہا: کیوں؟ میں نے کہا: تاکہ اگر آپ کا حکم ہو تو میں اس کی گردن اڑا دوں؟ انہوں نے کہا: کیا تم ایسا کر گزرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، ابوبرزہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میری اس بات کی سنگینی نے جو میں نے کہی ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا، پھر وہ بولے: یہ مقام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نہیں۔
It was narrated that Abu Barzah said: I passed by Abu Bakr and he was furious with one of his companions. I said: 'O Khalifah of the Messenger of Allah, who is the one with whom you are furious?' He said: 'Why are you asking about him?' I said: 'I will strike his neck (kill him).' By Allah, the seriousness of what I said took away his anger. Then he said: 'That is not for anyone after Muhammad [SAW].'
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی پر غصہ ہو رہے تھے، میں نے کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! یہ کون ہے جس پر آپ غصہ ہو رہے ہیں؟ کہا: آخر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے کہا: تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ ابوبرزہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میری اس بات کی سنگینی نے ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا، پھر بولے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔
It was narrated that Abu Barzah said: Abu Bakr became infuriated with a man. He said: If you tell me to, I will do it. He said: By Allah, that is not for any human being after Muhammad [SAW].
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک شخص پر غصہ ہوئے، میں نے کہا: اگر آپ حکم دیں تو میں کچھ کروں، انہوں نے کہا: سنو، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔
It was narrated from Abu Nadrah, that Abu Barzah said: Abu Bakr got very angry with a man, so much so that his color changed. I said: 'O Khalifah of the Messenger of Allah, if you tell me to, I will strike his neck (kill him).' It was as if cold water had been poured on him and he became calm. He said: 'May your mother be bereft of you, Abu Barzah! That is not for anyone after the Messenger of Allah [SAW].'
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ ان کا رنگ بدل گیا، میں نے کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! اللہ کی قسم! اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں، اچانک دیکھا گویا آپ پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا ہو، چنانچہ اس شخص پر آپ کا غصہ ختم ہو گیا اور کہا: ابوبرزہ! تمہاری ماں تم پر روئے، یہ مقام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا ہے ہی نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ( ابونضرۃ ) غلط ہے صحیح ابونصر ہے، ان کا نام حمید بن ہلال ہے۔ شعبہ نے مخالفت کرتے ہوئے اس ( ابونضرۃ ) کے برعکس ( ابونصر ) کہا ہے۔ ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
Abu Nasr narrated from Abu Barzah, that he said: I came to Abu Bakr when he had spoken harshly to a man who had answered back. I said: 'Shall I not strike his neck (kill him)?' He rebuked me, and said: 'That is not for anyone after the Messenger of Allah [SAW].'
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے ایک شخص کو کچھ سخت سست کہا تو اس نے جواب میں ویسا ہی کہا، میں نے کہا: کیا اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ نے مجھے جھڑکا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونصر کا نام حمید بن ہلال ہے اور اسے ان سے یونس بن عبید نے مسنداً روایت کیا ہے ۱؎۔
It was narrated from Yunus bin 'Ubaid, from Humaid bin Hilal, from 'Abdullah bin Mutarrif bin Ash-Shikhkhir, from Abu Barzah Al-Aslami, that he said: We were with Abu Bakr As-Siddiq, and he got angry with a man from among the Muslims, and became very angry indeed. When I saw that, I said: 'O Khalifah of the Messenger of Allah, shall I strike his neck?' When I mentioned killing him, he stopped being angry with him and changed the subject. When we parted, he sent for me and said: 'O Abu Barzah, what did you say?' I said: 'I have forgotten what I said; remind me.' He said: 'Do you not remember what you said?' I said: 'No, by Allah.' He said: 'Don't you remember, when you saw me angry with a man, and said, 'I will strike his neck O Khalifah of the Messenger of Allah?' Don't you remember that? Would you really have done that?' I said: 'Yes, by Allah, and if you tell me to do it now, I will do it.' He said: 'By Allah, that is not for anyone after Muhammad [SAW].'
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، آپ ایک مسلمان آدمی پر غصہ ہوئے اور آپ کا غصہ سخت ہو گیا، جب میں نے دیکھا تو عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں؟ جب میں نے قتل کا نام لیا تو انہوں نے یہ ساری گفتگو بدل کر دوسری گفتگو شروع کر دی، پھر جب ہم جدا ہوئے تو مجھے بلا بھیجا اور کہا: ابوبرزہ! تم نے کیا کہا؟ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ بھول چکا تھا، میں نے کہا: مجھے یاد دلائیے، تو آپ نے کہا: کیا تم نے جو کہا تھا وہ تمہیں یاد نہیں آ رہا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تو آپ نے کہا: جب مجھے ایک شخص پر غصہ ہوتے دیکھا تو کہا تھا: اے خلیفہ رسول! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں؟ کیا یہ تمہیں یاد نہیں ہے؟ کیا تم ایسا کر گزرتے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! اگر آپ اب بھی حکم دیں تو میں کر گزروں، تو آپ نے کہا: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کسی کا یہ مقام نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس سے متعلق مروی احادیث میں یہ حدیث سب سے بہتر اور عمدہ ہے ۱؎۔
It was narrated that Safwan bin 'Assal said: A Jew said to his companion: 'Let us go to this Prophet.' His companion said to him: 'Do not say Prophet; if he hears you, he will become big-headed.' So they came to the Messenger of Allah [SAW] and asked him about nine clear signs. He said to them: 'Do not associate anything with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill any soul whom Allah has forbidden you to kill, except by right, do not speak falsely about an innocent man before a ruler, do not engage in magic, do not consume Riba (usury), do not slander chaste women, and do not flee on the day of the march (to battle). And for you Jews especially, do not break the Sabbath.' They kissed his hands and feet and said: 'We bear witness that you are a Prophet.' He said: 'What is keeping you from following me?' They said: 'Dawud prayed that there would always be a Prophet among his descendants, and we are afraid that if we follow you, the Jews will kill us.'
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک یہودی نے اپنے دوست سے کہا: ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو، دوست نے اس سے کہا: تم یہ نہ کہو کہ وہ نبی ہے، اگر اس نے تمہاری بات سن لی تو اس کی چار چار آنکھیں ہوں گی ( یعنی اسے بہت خوشی ہو گی ) ، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے نو واضح احکام کے بارے میں پوچھا ( جو موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے ) ۱؎ آپ نے ان سے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری اور زنا نہ کرو اور اللہ نے جس نفس کو حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرو، کسی بےقصور کو ( سزا دلانے کی غرض سے ) حاکم کے پاس نہ لے جاؤ، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر الزام تراشی نہ کرو، جنگ کے دن پیٹھ دکھا کر نہ بھاگو، اور اے یہود! ایک حکم تمہارے لیے خاص ہے کہ تم ہفتے ( سنیچر ) کے دن میں غلو نہ کرو، یہ سن کر ان لوگوں نے آپ کے ہاتھ پاؤں چوم لیے ۲؎ اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر کون سی چیز تمہیں میری پیروی کرنے سے روک رہی ہے؟“ انہوں نے کہا: داود علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ ہمیشہ نبی ان کی اولاد میں سے ہو، ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی پیروی کریں گے تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'Whoever ties a know and blows on it, he has practiced magic; and whoever practices magic, he has committed Shirk; and whoever hangs up something (as an amulet) will be entrusted to it.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی گرہ لگائی پھر اس میں پھونک ماری تو اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا، اس نے شرک کیا ۱؎ اور جس نے گلے میں کچھ لٹکایا، وہ اسی کے حوالے کر دیا گیا“ ۲؎۔
It was narrated that Zaid bin Arqam said: A Jewish man cast a spell on the Prophet [SAW], and he fell ill as a result of it, for several days. Then Jibra'il, peace be upon him, came to him and said: 'A Jewish man has put a spell on you. In such and such a well there is a knot that he tied for you.' The Messenger of Allah [SAW] sent them to take it out and bring it to him. Then the Messenger of Allah [SAW] got up as if he had been released from some bonds. No mention of that was made to that Jew, and he did not see that in his face at all.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
یہود کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو کیا۔ اس کی وجہ سے آپ کچھ دنوں تک بیمار رہے، آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: ایک یہودی نے آپ کو جادو کیا ہے، اس نے آپ کے لیے فلاں کنوئیں میں گرہ باندھ کر ڈال رکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے اسے نکالا، وہ گرہ آپ کے پاس لائی گئی تو آپ کھڑے ہو گئے، گویا آپ کسی رسی کے بندھن سے کھلے ہوں۔ پھر آپ نے اس کا ذکر اس یہودی سے نہیں کیا اور نہ ہی اس نے آپ کے چہرے پر کبھی اس کا اثر پایا ۱؎۔
It was narrated from Qabus bin Mukhariq that his father said: I heard Sufyan Ath-Thawri narrating this Hadith. He said: 'A man came to the Prophet [SAW] and said: What if a man comes to me and wants to take my wealth? He said: Remind him of Allah. He said: What if he pays no heed? He said: Seek the help of the Muslims around you against him. He said: What if there are no Muslims around me? He said: Seek the help of the ruler against him. He said: What if the ruler is far away from me? He said: Fight to defend your wealth until you either become one of the martyrs of the Hereafter, or you protect your wealth (successfully).
مخارق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: میرے پاس ایک شخص آتا ہے اور میرا مال چھینتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے اللہ کی یاد دلاؤ“، اس نے کہا: اگر وہ اللہ کو یاد نہ کرے، آپ نے فرمایا: ”تو تم اس کے خلاف اپنے اردگرد کے مسلمانوں سے مدد طلب کرو“۔ اس نے کہا: اگر میرے اردگرد کوئی مسلمان نہ ہو تو؟ آپ نے فرمایا: ”حاکم سے مدد طلب کرو۔ اس نے کہا: اگر حاکم بھی مجھ سے دور ہو؟ آپ نے فرمایا: اپنے مال کے لیے لڑو، یہاں تک کہ اگر تم مارے گئے تو آخرت کے شہداء میں سے ہو گے ۱؎ یا اپنے مال کو بچا لو گے“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: A man came to the Messenger of Allah [SAW] and said: 'O Messenger of Allah, what do you think if someone comes to steal my wealth?' He said: 'Urge him by Allah.' He said: 'What if he persists?' He said: 'Urge him by Allah.' He said: 'What if he persists?' He said: 'Urge him by Allah.' He said: 'What if he persists?' He said: 'Then fight. If you are killed you will be in Paradise, and if you kill him, he will be in the Fire.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا حکم ہے اگر کوئی میرا مال ظلم سے لینے آئے؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“ , اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: پھر بھی وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”پھر ان سے لڑو، اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے ۱؎ اور اگر تم نے انہیں مار دیا تو وہ جہنم میں ہوں گے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that: A man came to the Messenger of Allah [SAW] and said: O Messenger of Allah, what do you think if someone comes to steal my wealth? He said: Urge him by Allah. He said: What if he persists? He said: Urge him by Allah. He said: What if he persists? He said: Urge him by Allah. He said: What if he persists? He said: Then fight. If you are killed you will be in Paradise and if you kill him, he will be in the Fire.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی میرا مال چھینے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”تو تم ان سے لڑو، اب اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے اور اگر تم نے مار دیا تو وہ جہنم میں ہو گا“۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said: I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'Whoever fights to protect his wealth and is killed, he is a martyr.'
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنا مال بچانے کے لیے لڑا اور مارا گیا تو وہ شہید ہے“۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said: I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'Whoever fights to protect his wealth and is killed, he is a martyr.'
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اپنے مال کو بچانے کے لیے لڑے اور مارا جائے وہ شہید ہے“۔