Amr bin shu'aib said: My father told me, mar rating from his father, from his father (and he mentioned 'Abdullah bin 'Amr) that he said: The Messenger of Allah said: It is not permissible to lend on the condition of a sale, or to stipulate two conditions in one transaction, or to make a profit on that which you do not possess.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلف ( قرض ) اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں، اور نہ ہی ایسی چیز کا نفع جس کے تاوان کی ذمے داری نہ ہو“۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said: The Messenger of Allah forbade lending on the condition of a sale, selling what you do not have, and profiting on what you do not possess.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلف ( قرض ) اور بیع ایک ساتھ کرنے سے، ایک ہی بیع میں دو شرطیں لگانے سے، اور اس چیز کے بیچنے سے جو تمہارے پاس موجود نہ ہو اور ایسی چیز کے نفع سے جس کے تاوان کی ذمہ داری نہ ہو، ( ان سب سے ) منع فرمایا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah forbade two transactions in one.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet forbade Muhaqalah, Muzahanah, Mukhabarah and selling with an exception unless it is defined.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ سے اور بیع میں استثناء کرنے سے سوائے اس کے کہ مقدار معلوم ہو منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah forbade Muhaqalah, Muzahanah, Mukhabarah, Mu'awamah, and selling with an exception unless it is defined but he gave concession allowing 'Araya.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ، معاومہ ( کئی سالوں کی بیع ) اور بیع میں الگ کرنے سے منع فرمایا اور بیع عرایا ( عاریت والی بیع ) میں رخصت دی۔
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet said: Any man who pollinates a date-palm tree then sells it, the fruits of the tree are for the one who pollinated it, unless the purchaser stipulated otherwise.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی کوئی کھجور کے درخت کی پیوند کاری کرے پھر اس درخت کو بیچے تو درخت کا پھل پیوند کاری کرنے والے کا ہو گا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا پھل کی شرط لگا لے“ ۱؎۔
It was narrated from Salim, from his father that the Prophet said: Whoever buys a date-palm tree after it has been pollinated, its fruits belong to the seller, unless the purchaser has stipulated otherwise. And whoever buys a slave who has wealth, his wealth belongs to the seller, unless the purchaser has stipulated otherwise. (sahih)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی تابیر ( پیوند کاری ) ہو جانے کے بعد ( کھجور کا ) درخت خریدے تو اس کا پھل بائع کا ہو گا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے، اور جو غلام بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع کا ہو گا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے“۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: I was with the Prophet on a journey, and my camel got tired. I thought I wanted to let it go, but the Messenger of Allah met me and prayed for it (the camel) and hit it. Then it started to run like never before. He said: 'Sell it to me for one Uwqyah.' I said 'No.' He said: 'Sell it to me.' So I sold it to him for one Uwqiyah but stipulated an exception, to ride it until we reached al-Madinah. When we reached Al-Medina, I brought the camel to him and asked him for its price, then I went back. He sent word to me saying; 'Do you think I bargained with you to take your camel?' Take your camel and your Dirhams.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میرا اونٹ تھک کر چلنے سے عاجز آ گیا، تو میں نے چاہا کہ اسے چھوڑ دوں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آ ملے، آپ نے اس کے لیے دعا کی اور اسے تھپتھپایا، اب وہ ایسا چلا کہ اس طرح کبھی نہ چلا تھا، آپ نے فرمایا: ”اسے ایک اوقیہ ( ۴۰ درہم ) میں مجھ سے بیچ دو“، میں نے کہا: نہیں ( بلکہ وہ آپ ہی کا ہے ) ، آپ نے فرمایا: ”اسے مجھ سے بیچ دو“ تو میں نے ایک اوقیہ میں اسے آپ کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینے تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط لگائی ۱؎، جب ہم مدینہ پہنچے تو میں اونٹ لے کر آپ کے پاس آیا اور اس کی قیمت چاہی، پھر میں لوٹا تو آپ نے مجھے بلا بھیجا، اور فرمایا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے کم قیمت لگائی تاکہ میں تمہارا اونٹ لے سکوں، لو اپنا اونٹ بھی لے لو اور اپنے درہم بھی“۔
It was narrated that Jabir said: I went on a campaign with the Messenger of Allah riding a camel of ours, then he quoted the whole Hadih. Then he said words to the effect that: The camel got tried and the Prophet hit it, so it became energetic and came to the front of the army. The Prophet said: 'O Jabir, I see that your camel has become energetic.' I said: It is because of your blessing, O Messenger of Allah,' He said: 'Sell it to me, and you can ride it till we arrive (in Al-Madinah). 'So I sold it to him. I was in great need of it myself but I felt too shy to refuse. When we finished our campaign, and we were close to Al-Madinah, I asked his permission to go on ahead. I said: 'O Messenger of Allah, I am newly married.' He said; 'Have you married a virgin or a previously married woman?' I said: 'A previously married woman, O Messenger of Allah. 'Abdullah bin 'Arm died and left behind young druthers, and I did not like to bring to them someone who was like them, so I married a previously married woman who could teach the, and rise them with good manners.' So he gave me permission, and said to me; 'Go to When I arrived, I told my maternal uncle that I had sold the camel and he scolded me. When the Messenger of Allah came, I brought the camel to him, and he gave me the price of the camel, and the camel, and share (of the spoils of war) with the rest of the people.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے سینچائی کرنے والے اونٹ پر بیٹھ کر جہاد کیا، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی، پھر ایک چیز کا تذکرہ کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ تھک گیا تو اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا تو وہ تیز ہو گیا یہاں تک کہ سارے لشکر سے آگے نکل گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! تمہارا اونٹ تو لگ رہا ہے کہ بہت تیز ہو گیا ہے“، میں نے عرض کیا: آپ کے ذریعہ سے ہونے والی برکت سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اسے، میرے ہاتھ بیچ دو۔ البتہ تم ( مدینہ ) پہنچنے تک اس پر سوار ہو سکتے ہو“، چنانچہ میں نے اسے بیچ دیا حالانکہ مجھے اس کی سخت ضرورت تھی۔ لیکن مجھے آپ سے شرم آئی۔ جب ہم غزوہ سے فارغ ہوئے اور ( مدینے کے ) قریب ہوئے تو میں نے آپ سے جلدی سے آگے جانے کی اجازت مانگی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ابھی جلد شادی کی ہے، آپ نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا: بیوہ سے، اللہ کے رسول! والد صاحب عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مارے گئے اور انہوں نے کنواری لڑکیاں چھوڑی ہیں، تو مجھے برا معلوم ہوا کہ میں ان کے پاس ان جیسی ( کنواری لڑکی ) لے کر آؤں، لہٰذا میں نے بیوہ سے شادی کی ہے جو انہیں تعلیم و تربیت دے گی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی اور مجھ سے فرمایا: ”اپنی بیوی کے پاس شام کو جانا“، جب میں مدینے پہنچا تو میں نے اپنے ماموں کو اونٹ بیچنے کی اطلاع دی، تو انہوں نے مجھے ملامت کی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو میں صبح کو اونٹ لے کر آپ کے پاس گیا، تو آپ نے مجھے اونٹ کی قیمت ادا کی اور اونٹ بھی دے دیا اور ( مال غنیمت میں سے ) ایک حصہ سب لوگوں کے برابر دیا۔
It was narrated that Jabir 'Abdullah said: I was with the Messenger of Allah on a journey, and I was riding a camel. He said: 'Why are you at the back of the people?, I said: 'My camel is tired, He took hold of its tail and shouted at it, then I was at the front of the people, worrying that it would go ahead of the others. When we drew close to al-Madinah he said: 'What happened to the camel? Sell it to me.' I said, No, it is yours O Messenger of Allah.; He said, 'No, sell it tome. I said, 'No, it is yours, O Messenger of Allah.' He said: 'No, sell it to me. I will take it for one Uwqiyah but you (continue to) ride it. Then when you reach Al-Madinah, bring it to us.' So when I reached Al-Madinah, I brought it him. He said to Bilal: 'O Bilal, weight out for him one Uwqiyyah and add a Qirat.' I said: 'This is something extra that the Messenger of Allah gave to.' I kept it with me and put it in a bag, and it stayed with me until the people of Ash-Sham came on the Day of Al-Harrah and took from us what they took.'
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں ایک اونٹ پر سوار تھا۔ آپ نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم سب سے پیچھے میں ہو؟“ میں نے عرض کیا: میرا اونٹ تھک گیا ہے، آپ نے اس کی دم کو پکڑا اور اسے ڈانٹا، اب حال یہ تھا کہ میں سب سے آگے تھا، ( ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے اونٹ سے آگے بڑھ جائے اس لیے ) مجھے اس کے سر سے ڈر ہو رہا تھا، تو جب ہم مدینے سے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ کا کیا ہوا؟ اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”نہیں، اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ وہ آپ ہی کا ہے، آپ نے کہا: ”نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ بیچ دو، میں نے اسے ایک اوقیہ میں لے لیا، تم اس پر سوار ہو اور جب مدینہ پہنچ جاؤ تو اسے ہمارے پاس لے آنا“، جب میں مدینے پہنچا تو اسے لے کر آپ کے پاس آیا، آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلال! انہیں ایک اوقیہ ( چاندی ) دے دو اور ایک قیراط مزید دے دو“، میں نے عرض کیا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زیادہ دیا ہے، ( یہ سوچ کر کہ ) وہ مجھ سے کبھی جدا نہ ہو، تو میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھا، پھر وہ قیراط میرے پاس برابر رہا یہاں تک کہ حرہ کے دن ۱؎ اہل شام آئے اور ہم سے لوٹ لے گئے جو لے گئے۔
It was narrated tat Jabir Said: The Messenger of Allah caught up with me when I was riding a bad camel of ours, and I said: 'We have a bad camel, mare's the pit! The Prophet said: Will you sell it to me, O Jabir?' I Said, 'No, It is yours, O Messenger of Allah.; He said: 'O Allah forgive him; O Allah, have mercy on him. I will buy it for such and such, and I will lend it to you to ride until (we reach) al-Madinah.' When Reached al-Madinah, I prepared it, and brought it to him, and he said: O Bilal, give him its price,' When I turned to leave, he called me back, and I was afraid that he would give it back at he said: 'It is yours.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پایا کہ میں اپنے سینچنے والے اونٹ پر سوار تھا، میں نے عرض کیا: افسوس! ہمارے پاس ہمیشہ پانی سینچنے والا اونٹ ہی رہتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! کیا تم اسے میرے ہاتھ بیچو گے؟“ میں نے عرض کیا: یہ تو آپ ہی کا ہے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی مغفرت کر، اس پر رحم فرما، میں نے تو اسے اتنے اتنے دام پر لے لیا ہے، اور مدینے تک اس پر سوار ہو کر جانے کی تمہیں اجازت دی ہے“، جب میں مدینے آیا تو اسے تیار کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! انہیں اس کی قیمت دے دو“، جب میں لوٹنے لگا تو آپ نے مجھے بلایا، مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ اسے لوٹائیں گے، آپ نے فرمایا: ”یہ تمہارا ہے“۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: We were traveling with the Messenger of Allah and I was riding a camel. The Messenger of Allah said to me: 'Will you sell it to me for such and such, may Allah forgive you?', I said, I said, 'Yes, it is yours, O Prophet of Allah.' He said: 'Will you sell it to me for such and such, may Allah forgive your?' I said: 'Yes, it is yours, O Prophet of Allah.' He said: 'Will you sell it to me for such and such, may Allah forgives you?' I said: 'Yes, it is yours. '''(One of the narrators) Abu Nadrah said: This became a phrase that was used by the Muslims: 'Do such and such, may Allah forgive you.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، میں سینچائی کرنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف کرے“، میں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے نبی! وہ آپ کا ہی ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اور اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف کرے“، میں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے نبی! وہ آپ ہی کا ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اسے میرے ہاتھ اتنے اور اتنے میں بیچو گے؟ اللہ تمہیں معاف کرے“، میں نے عرض کیا: ہاں، وہ آپ ہی کا ہے۔ ابونضرہ کہتے ہیں: یہ مسلمانوں کا تکیہ کلام تھا کہ جب کسی سے کہتے: ایسا ایسا کرو تو کہتے: «واللہ یغفر لک» ۔
It was narrated that 'Aishah said: I bought Barirah and her masters stipulated that her loyalty (Wala) should be to them, I mentioned that to the Prophet and he said: 'Set her free, and loyalty belongs to the one who pays the silver.''' She said: so I set her free. The Messenger of Allah called her and gave her the choice regarding her husband, and she chose herself. Her husband was a free man.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا تو ان کے گھر والوں نے ولاء ( وراثت ) کی شرط لگائی، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء ( وراثت ) اس کا حق ہے جس نے درہم ( روپیہ ) دیا ہے“، چنانچہ میں نے انہیں آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور انہیں ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا ۱؎ تو بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی زوجیت میں نہ رہنے کو ترجیح دی، حالانکہ ان کے شوہر آزاد تھے ۲؎۔
It was narrated from Aishah that: she wanted to buy Barirah to set her free, but they stipulated that her loyalty (should be to them. She mentioned that to the Messenger of Allah and the Messenger of Allah said: Buy her, and wet her free and loyalty (Wala) belongs to the one who sets the slave free. Some meat was brought to the Messenger of and it was said that this had been given in charity to Bariirah. He said: It is charity for her, and a gift for us. And she was given the choice
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے غلامی سے آزاد کرنے کے لیے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا، لوگوں نے ان کے ولاء ( وراثت ) کی شرط لگائی، انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء ( وراثت ) کا حق اسی کا ہے جو آزاد کرے“، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو کہا گیا: یہ تو بریرہ پر کیا گیا صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے تحفہ ( ہدیہ ) ہے“، اور انہیں ( بریرہ کو ) اختیار دیا گیا ( شوہر کے ساتھ رہنے اور نہ رہنے کا ) ۔
It was narrated from'Abdullah bin 'Umar that 'Aishah wanted to but a slave woman to set her free, but her people said: We will sell her to you on condition that her loyalty (Walla) is to us, She mentioned that top the Messenger of Allah and he said: That should not stop you. Loyalty belongs to the one who sets the slave free.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی خریدنا چاہی تاکہ اسے آزاد کریں، تو اس کے گھر والوں ( مالکان ) نے کہا: ہم اسے آپ سے اس شرط پر بیچیں گے کہ ولاء ( حق وراثت ) ہمارا ہو گا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”تم اس وجہ سے مت رک جانا، کیونکہ ولاء ( وراثت ) تو اس کے لیے ہے جو آزاد کرے“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah forbade selling something from the spoils of war prior to its distribution, having intercourse with a pregnant woman until she gives birth, and (eating) the flesh of any predator that has fangs.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم ہونے سے پہلے مال غنیمت بیچنے، حاملہ عورتوں ۱؎ کے ساتھ بچہ کی پیدائش سے پہلے جماع کرنے اور ہر دانت والے درندے کے گوشت ( کھانے ) سے منع فرمایا۔
it was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah said: 'Pre-emption is to be given in everything that is shared, whether it is a house or a garden. It is not right to sell it before informing one's partner, and if he sells it he (the partner) has more right to it, unless he gives Permission to sell it to someone else.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفعہ کا حق ہر چیز میں ہے، زمین ہو یا کوئی احاطہٰ ( باغ وغیرہ ) ، کسی حصہ دار کے لیے جائز نہیں کہ اپنے دوسرے حصہ دار کی اجازت کے بغیر اپنا حصہ بیچے، اگر اس نے بیچ دیا تو وہ ( دوسرا حصہ دار ) اس کا زیادہ حقدار ہو گا یہاں تک کہ وہ خود اس کی اجازت دیدے“۔
It was narrated from 'Umarah bin Khuzaimah that his paternal uncle, who was one of the companions of the Prophet told him, that: the Prophet bought a horse from a Bedouin and asked him to follow him, so that he could pay him for the horse. The Prophet hastened but the Bedouin was slow. Men started to talk to the Bedouin and make offers for the horse, and they did not realize that the Prophet had bought it, until some of them offered more than the Prophet had bought it for. Then the Bedouin called out to the Prophet and said; Are you going to buy this horse or shall I sell it? The Prophet stood up when he heard him calling and said: Have I not bought it from you? He said: 'No, by Allah, I have not sold it to you, and the Prophet said I bought it from you. The people started to gaiter around the Prophet and the Bedouion as they were talking, and the Bedouin started to say: Bring a witness who will testify that you bought it. Khuzaimah bin habit said: I bear witness that you bought it The Prophet turned to Khunzimah and said: Why are you bearing witness? He said: Because I know that you are truthful, O Messenger of Allah made the testimony of Khuzaimah equivalent to the testimony of two men. (sahih)
صحابی رسول عمارہ بن خزیمہ کے چچا (خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی ( دیہاتی ) سے ایک گھوڑا خریدا، اور اس سے پیچھے پیچھے آنے کو کہا تاکہ وہ اپنے گھوڑے کی قیمت لے لے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور اعرابی سست رفتاری سے چلا، لوگ اعرابی سے پوچھنے لگے اور گھوڑا خریدنے کے لیے ( بڑھ بڑھ کر قیمتیں لگانے لگے ) انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرید چکے ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اس سے زیادہ قیمت لگا دی جتنے پر آپ نے اس سے خریدا تھا، اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا، اگر آپ اس گھوڑے کو خریدیں تو ٹھیک ورنہ میں اسے بیچ دوں، آپ نے جب اس کی پکار سنی تو ٹھہر گئے اور فرمایا: ”کیا میں نے اسے تم سے خریدا نہیں ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نے اسے آپ سے بیچا نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے تم سے خرید چکا ہوں“ ۱؎، اب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اعرابی کے اردگرد اکٹھا ہونے لگے، دونوں تکرار کر رہے تھے، اعرابی کہنے لگا: ”گواہ لائیے جو گواہی دے کہ میں اسے آپ سے بیچ چکا ہوں“، خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے بیچ چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم گواہی کیسے دے رہے ہو“؟ انہوں نے کہا: آپ کے سچا ہونے پر یقین ہونے کی وجہ سے ۲؎، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا۔
Abdullah said: I heard the Messenger of Allah say: 'If the two parties to a transaction disagree, and neither of them has any proof, then it is as the owner of the goods says, or they may cancel it.'''
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیچنے اور خریدنے والے میں اختلاف ہو جائے اور ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہو تو اس کی بات کا اعتبار ہو گا جو صاحب مال ( بیچنے والا ) ہے ۱؎ ( اور خریدار کو اسی قیمت پر لینا ہو گا ) یا پھر دونوں بیع ترک کر دیں“ ۲؎۔
It was narrated that 'Abdul-Malik bin'Ubaid said: We were with Abu 'Ubaidah bin 'Abdullah bin Mas'ud when two men who were involved in a transaction came to him. One of them said: 'I bought it for such and such', and the other said; 'I sold it to him for such and such,' Abu 'Ubaidah said 'something like this was brought to Ibn Masud, and he said; I was with something like this was brought to him. He told the seller to swear an oath, them he gave the purchaser the choice; If he wished, he could buy it, and if he wished he could cancel (the transaction)''
عبدالملک بن عبید کہتے ہیں کہ
ہم ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس حاضر ہوئے، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے ایک سامان کی خرید و فروخت کر رکھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں لیا ہے، دوسرے نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں بیچا ہے تو ابوعبیدہ نے کہا: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ایسا ہی مقدمہ آیا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس ایسا ہی مقدمہ آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائع کو قسم کھانے کا حکم دیا پھر ( فرمایا: خریدار ) کو اختیار ہے، چاہے تو اسے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔