Jabir said: The Messenger of Allah forbade charging stud fees for a camel, the sale of water, the renting of land for cultivation. Selling one's land and water, this is what the Prophet forbade.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ سے جفتی کرانے پر اجرت لینے سے، پانی بیچنے اور زمین کو بٹائی پر دینے سے ۱؎ یعنی آدمی اپنی زمین اور پانی کو بیچ دے تو ان سب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah forbade charging stud fees for a stallion.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا۔
It was narrated that Anas bin Malik said: A man from Banu As-Sa'q, one of Banu Kilab, came to the Messenger of Allah and asked him about charging stud fees for a stallion. He forbade him to do that, but he said: 'We give payment for that. '
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
بنی کلاب کی شاخ بنی صعق کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے اسے اس سے منع فرمایا، اس نے کہا: ہمیں تو اس کی وجہ سے تحفے ملتے ہیں۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah forbade the earnings of a cupper, the price of a dog and stud fees for a stallion.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگانے کی کمائی سے، کتے کی قیمت سے اور نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا۔
It was narrated that (Abu Hurairah) said: The Messenger of Allah forbade the price of a dog and stud fees for a stallion.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا۔
It was narrated that (Abu Hurairah) said: The Messenger of Allah forbade the price of a dog and stud fees the price of a dog and stud fees for a stallion.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے اور نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: If a person becomes bankrupt, then a man finds the goods that he sold to him with him, he has more right to them than anyone else.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ( سامان خریدنے کے بعد ) مفلس ہو گیا، پھر بیچنے والے کو اس کے پاس اپنا مال بعینہ ملا تو دوسروں کی بہ نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے“ ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah from the Prophet, that: if a man becomes bankrupt, then a specific item is found with him, and is recognized, then it belongs to the one who sold it to him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جو مفلس ہو جائے اور اس کے پاس بعینہ کسی کا سامان موجود ہو اور وہ اسے پہچان لے فرمایا: ”اس سامان کا مستحق وہ ہے جس نے اسے اس کے ہاتھ بیچا تھا“۔
It was narrated the Abu Sa'eed Al-Khudri said: At the time of the Messenger of Allah, a man suffered loss of some fruit that he had purchased, and his debts increased. The Messenger of Allah said: 'Give him charity.' So the people gave him charity, but that was not enough to pay off his debts. 'The Messenger of Allah said: 'Take what you find, but you have no right to more than that. ' (meaning his creditors).
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کے پھلوں پر جو اس نے خریدے تھے آفت آ گئی اور اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر صدقہ کرو“، چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا، اس کی مقدار اتنی نہ ہو سکی کہ اس کا قرض پورا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہیں ملے لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں“ ۱؎۔
Usaid bin Hudair bin Simak narrated that: the Messenger of Allah ruled that if a man found (his goods) in the possession of a man who was not guilty, then if he wished he could give the man what he had paid for it, or if he wished he could go after the one who had stolen it. Abu Bakr and 'Umar passed similar judgments.
اسید بن حضیر بن سماک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی کسی شخص کے ہاتھ میں اپنی ( چوری کی ہوئی ) چیز پائے اور اس پر چوری کا الزام نہ ہو تو چاہے تو اتنی قیمت ادا کر کے اس سے لے لے جتنے میں اس نے اسے خریدا ہے اور چاہے تو چور کا پیچھا کرے، یہی فیصلہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ( بھی ) کیا۔
Usaid bin Zubair Al-Ansari, who was one of Banu Harithah narrated that: there was the governor of Al-Yamamah, and Marwan wrote to him saying that Mu'awiyah had written to him, saying that any man who had something stolen from him had more right to it wherever he found it. Then Marwan wrote saying that to me (Usaid). I wrote to Marwan saying that the Prophet had ruled that if the one who bought it from the one who stole it is ot guilty of anything (and did not realize that it was stolen goods), then the owner has the choice: If he wishes, he may buy it from the one who bought it from the thief, or if he wishes he may go after the thief. Abu Bakr, 'Umar and 'Uthman also passed judgment along these lines. Marwan sent my letter to Mu'awiyah, and Mu'awiyah wrote to Marwan (saying): 'Neither you nor Usaid are in a position to tell me what to do, rather I am the one who tells you what to do because I am superior in rank to you, so do what I tell you.' Marwan sent the letter of Mu'awiyah to me, and I said: I will not judge according to Mu'awiyah's opinion as long as I am the governor. '
بنی حارثہ کے ایک فرد اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ یمامہ کے گورنر تھے، مروان نے ان کو لکھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا ہے کہ جس کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے، جہاں بھی اسے پائے، پھر مروان نے یہ بات مجھے لکھی تو میں نے مروان کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ چوری کرنے والے سے ایک ایسے شخص نے کوئی چیز خریدی جس پر چوری کا الزام نہ ہو تو اس چیز کے مالک کو اختیار دیا جائے گا چاہے تو وہ اس کی قیمت دے کر اسے لے لے ( جتنی قیمت اس نے چور کو دی ہے ) اور اگر چاہے تو چور کا پیچھا کرے، یہی فیصلہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے کیا، پھر مروان نے میری یہ تحریر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو لکھا: تمہیں اور اسید کو حق نہیں کہ تم دونوں مجھ پر حکم چلاؤ بلکہ تمہارا والی اور امیر ہونے کی وجہ سے میں تم کو حکم کروں گا، لہٰذا جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے، اس پر عمل کرو، مروان نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی تحریر ( میرے پاس ) بھیجی تو میں نے کہا: جب تک میں حاکم ہوں ان کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کروں گا ۱؎۔
It was narrated from Sammurah that the Messenger of Allah said: A man has more right to his own wealth when he finds it, and the buyer should pursue the one who sold it to him.
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے جب کسی کے پاس پائے، اور بیچنے والا جس کے پاس چیز پائی گئی ہے وہ اپنے بیچنے والے کا پیچھا کرے“۔
It was narrated from Sammurah that the Messenger of Allah said: If a woman is married off by two guardians, then the first marriage is the one that counts, and if a man sells something to two men, it belongs to the first one.
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کی شادی دو ولیوں نے کر دی تو وہ ان میں پہلے شوہر کی ہو گی، اور جس نے کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچی تو وہ چیز ان میں سے پہلے کی ہو گی۔
it was narrated from Isla'il bin Ibrahim bin 'Abdullah bin Abi Rabi'ah, from his father, that his grandfather said: The Prophet borrowed forty thousand from me, then some wealth came to him, and he paid me back and said: 'May Allah bless your family and your wealth for you: the reward for lending is praise and repayment.
عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چالیس ہزار قرض لیے، پھر آپ کے پاس مال آیا تو آپ نے مجھے ادا کر دئیے، اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں، تمہارے گھر والوں اور تمہارے مال میں برکت عطا فرمائے، قرض کا بدلہ تو شکریہ ادا کرنا اور قرض ادا کرنا ہی ہے“۔
It was narrated that Muhammad bin Jahsh said: We were sitting with the Messenger of Allah when he raised his head toward the sky, and put his palm on his forehead, then he said: 'Subhan Allah, what a stern warning has been revealed! We fell silent and were scared. The following day I asked him: 'O Messenger of Allah, what is this stern warning that has been revealed? He said: 'By the One in Whose hand is my soul, if a man were to be killed in the cause of Allah then brought back to life, then killed, but he owed a debt, he would not enter paradise until his debt was paid off,
محمد بن جحش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، پھر ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا، پھر فرمایا: ”سبحان اللہ! کتنی سختی نازل ہوئی ہے؟“ ہم لوگ خاموش رہے اور ڈر گئے، جب دوسرا دن ہوا تو میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ کیا سختی ہے جو نازل ہوئی؟ آپ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایک شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کیا جائے اور اس پر قرض ہو تو وہ جنت میں داخل نہ ہو گا جب تک اس کا قرض ادا نہ ہو جائے“ ۱؎۔
It was narrated that samurah said: We were with the Prophet at a funeral, and he said: 'I there anyone from banu so and so here? He said this three times. Then a man stood up, and he said to him: 'What kept you form answering the first two times? I am not going to say anything but good to you, so and so (mentioning the name of a man from among them) has died and he is being detained (from entering Paradise) because of his debt. '
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا: ”کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے؟“ چنانچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا، سنو! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مر گیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے ( جنت میں جانے سے ) رکا ہوا ہے“ ۱؎۔
It was narrated that 'Imran bin Hudaifah said: Maimunah used to take out loans frequently, and some of her family criticized her and denounced her for that. She said: 'I will not stop taking loans, for I heard my close friend and my beloved say: There is no one who takes out a loans, and Allah knows that he intends to pay it back, but Allah will pay it back for him in this world.
عمران بن حذیفہ کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں اور کثرت سے لیا کرتی تھیں، تو ان کے گھر والوں نے اس سلسلے میں ان سے گفتگو کی اور ان کو برا بھلا کہا اور ان پر غصہ ہوئے تو وہ بولیں: میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی، میں نے اپنے خلیل اور محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی کوئی قرض لیتا ہے اور اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرض ادا کرنے کی فکر میں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا میں ادا کر دیتا ہے“۔
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah that Maimunah, the wife of the Prophet, took a loan, and it was said to her: O Mother of the Believers, why have you taken a loan when you do not have the means to pay if off? She said: I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever takes a loan intending to pay it back, Allah, the Mighty and Sublime, will help him. '
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے قرض لیا، ان سے کہا گیا: ام المؤمنین! آپ قرض لے رہی ہیں حالانکہ آپ کے پاس ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے؟، عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے کوئی قرض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کی فکر میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'If one of you is referred to a rich man (to help repay a debt), he should accept that referral, and (wrongdoing) is when a rich man takes a long time to repay a debt. '
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی شخص مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎، اور مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے“۔
It was narrated from 'Amr bin Ash-Sharid, that his father said: The Messenger of Allah said: 'if one who can afford it delay repayment, his honor and punishment become permissible. '
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہو جاتی ہے“ ۱؎۔