It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah bought some food from a Jew on credit, and he gave him a shield of his as a pledge.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار اناج ( غلہ ) خریدا اور اسے اپنی ایک زرہ بطور رہن دی۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah died when his shield was in pledge with a Jew for thirty Sa's of barley for his family
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گھر والوں کی خاطر تیس صاع جَو کے بدلے رہن ( گروی ) رکھی ہوئی تھی۔
It was narrated that Jabir said: A man from Banu 'Adhrah stated that a slave of his was to be set free after he died. News of that reached the Messenger of Allah and he said: 'Do you have any other property basides him/' He said? 'No.' the Messenger of Allah said; 'Who will buy him from me?' Nu'aim bin 'Abdullah Al-Adawi bought him for eight hundred Dirhams, which the Messenger of Allah brought and gave to him (the former owner). Then the Messenger of Allah said: 'Start with yourself and give charity to (yourself). If there is anything left over, then give it to your family; if there is anything left over from your family, then give it to your relatives; if there is anything left over from your relatives, then give it to such and such,' saying 'In front of you, to your right and to your left.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنا ایک غلام بطور مدبر آزاد ( یعنی مرنے کے بعد آزاد ہونے کی شرط پر ) کر دیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی، تو آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟“ چنانچہ اسے نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( دراہم ) کو لے کر آئے اور اسے ادا کر دیا، پھر فرمایا: ”اپنی ذات سے شروع کرو اور اس پر صدقہ کرو، پھر کچھ بچ جائے تو وہ تمہارے گھر والوں کا ہے، تمہارے گھر والوں سے بچ جائے تو تمہارے رشتے داروں کے لیے ہے اور اگر تمہارے رشتے داروں سے بھی بچ جائے تو اس طرح اور اس طرح“، اپنے سامنے، اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے ہوئے۔
It was narrated from Jabir that: a man from among the Ansar who was called Abu (Madhkur) stated that a slave of his who was called Ya'qub was to be set free after he died, and he did not own any other property apart from him. The Messenger of Allah called for him (the slave) to be brought and he said: Who will buy him? Nu'aim bin 'Abdullah bought him for eight hundred dirhams, and he gave it to him and said: If one of you is poor, let him start with himself; if there is anything left over, (let him give it) to his dependents; if there is anything left over, (let him give it) to his relatives; and if there is anything left over, (let him give it) here and there.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ابومذکور نامی انصاری نے ایک یعقوب نامی غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: ”اسے کون خریدے گا؟“ اسے نعیم ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خریدا، آپ نے اس ( انصاری ) کو وہ ( درہم ) دے کر فرمایا: ”تم میں جب کوئی محتاج ہو تو پہلے اپنی ذات سے شروع کرے، پھر اگر بچے تو اپنے گھر والوں پر، پھر اگر بچے تو اپنے رشتے داروں پر، اور اگر پھر بھی بچ رہے تو ادھر ادھر“ ( یعنی دوسرے فقراء پر خرچ کرے ) ۔
It was narrated from Jabir that: the Prophet sold a Mudabbar.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر ( غلام ) کو بیچ دیا۔
It was narrated from'Aishah that Barirah came to 'Aishah asking her to help her with her contract of manumission.' Aishah said: Go back to your masters, and if they agree to let me pay off your contract of manumission, and let your loyalty be to me, then I will do it Barirah told her masters about that, but they refused and said: If she wants to seek reward (with Allah) by freeing you, let her do so, but your loyalty will be to us. She told the Messenger of Allah about that , and the Messenger of Allah said to her; Buy her and set her free, and loyalty belongs to the one who set the slave free, Then the Messenger of Allah said: What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah? Whoever stipulates something that is not in the Book of Allah, it is not valid even if he stipulates one hundred conditions? The condition of Allah is more deserving of being followed and is more hinting.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
بریرہ رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، اپنی کتابت کے سلسلے میں ان کی مدد چاہتی تھیں، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم اپنے گھر والوں ( مالکوں ) کے پاس لوٹ جاؤ، اب اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت ( کی رقم ) ادا کر دوں اور تمہارا ولاء ( حق وراثت ) میرے لیے ہو گا تو میں ادا کر دوں گی، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ اپنے گھر والوں سے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں البتہ تمہارا ولاء ( ترکہ ) ہمارے لیے ہو گا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”انہیں خرید لو ۲؎ اور آزاد کر دو“۔ ولاء ( وراثت ) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہیں، لہٰذا اگر کوئی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہ ہو، تو وہ پوری نہ ہو گی گرچہ سو شرطیں لگائی گئی ہوں، اللہ کی شرط قبول کرنے اور اعتماد کرنے کے لائق ہے“۔
It was narrated that 'Aishah said: Barirah came to me and said: 'O 'Sishah, I have drawn up a contract of manumission with my master, (to buy my freedom) in return for nine Uwqiyah, one Uwqiyah to be paid each year; help me,' she had not yet paid anything toward her contract of manumission.' 'Aishah, who liked her and wanted to help her, said: 'Go back to your masters and if they agree to let me pay the whole sum and that your loyalty will be to me, I will do it.' So Barirah went to her masters and suggested that to them, but they refused and said: 'if she wants to seek reward (with Allah) by freeing you, let her do so, but (you loyalty) will be to us, 'Aishah told the Messenger of Allah about that and he said: 'Do not let that stop you. Buy her and set her free, and loyalty belongs to the one who sets the slave free.; so she did that, then the Messenger of Allah stood up before the people, praised and glorified Allah, then said: 'What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah? Whoever stipulates conditions that are not in even if there are a hundred conditions? The decree of Allah takes priority, and the conditions of Allah binding. And loyalty belongs to the one who sets the slaves free.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا نے آ کر کہا: عائشہ! میں نے نو اوقیہ کے بدلے اپنے گھر والوں ( مالکوں ) سے مکاتبت کر لی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ دوں گی تو آپ میری مدد کریں۔ ( اس وقت ) انہوں نے اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہ کیا تھا۔ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اور ان میں دلچسپی لے رہی تھیں: جاؤ اپنے لوگوں ( مالکوں ) کے پاس اگر وہ پسند کریں کہ میں انہیں یہ رقم ادا کر دوں اور تمہارا ولاء ( حق وراثت ) میرے لیے ہو گا تو میں ایسا کروں، بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے لوگوں ( مالکوں ) کے پاس گئیں اور ان کے سامنے یہ بات پیش کی، تو انہوں نے انکار کیا اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن وہ ولاء ( ترکہ ) ہمارا ہو گا، اس کا ذکر عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ چیز تمہیں ان سے مانع نہ رکھے، خریدو اور آزاد کر دو، ولاء ( ترکہ ) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا“، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”امابعد، لوگوں کا کیا حال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہوتیں، جو ایسی شرط لگائے گا جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہے تو وہ باطل ہے گرچہ وہ سو شرطیں ہوں، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ زیادہ قابل قبول اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ لائق بھروسہ ہے، ولاء ( حق وراثت ) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا“۔
it was narrated from 'Abdullah that: the Messenger of Allah forbade selling loyalty or giving it away.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء ( وراثت ) کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
It was narrated from Ibn 'Umar that: the Messenger of Allah forbade selling loyalty or giving it away. (Shah)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء ( حق وراثت ) بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah forbade selling loyalty or giving it away. (Sahih)]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
It was narrated from Jabir that: the Messenger of Allah forbade selling water.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
Abu Al-Minhal said: I heard Iyas bin 'Umar - and on one occasion he said: Ibn 'Abd - say: 'I heard the Messenger of Allah forbid the sale of water.
ایاس بن عمر (یا ابن عبد) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی بیچنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ قتیبہ کہتے ہیں: مجھے ان ( سفیان ) سے ایک مرتبہ ابومنہال کے بعض کلمات سمجھ میں نہیں آئے جیسا میں نے چاہا۔
It was narrated from Iyas that: the Messenger of Allah forbade selling surplus water. The keeper of al-Wahat sold the surplus water of al-Wahat, and 'Abdullah bin 'Arm disapproved of that.
ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہط کے نگراں نے وہط کا فاضل پانی بیچا تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند کیا۔
Iya bin 'Abd, the companion of the Prophet said: do not sell surplus water, for the Prophet forbade the sale of surplus water.
ابومنہال نے خبر دی ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ نے کہا: فاضل پانی مت بیچو، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Ibn Wa'lah Misri that he asked Ibn 'Abbas about what is produced from grapes. Ibn'Abbas said: A man gave the Messenger of Allah a skin full of wine, and the Prophet said to him;' did you know that Allah has forbidden it?' He whispered something and I did not understand what he whispered as I wanted to. I asked a person who was beside him and the Prophet said to him; 'What are you whispering about?' He said: 'I told him to sell it.' The Prophet said: 'The One Who forbade drinking it also forbade selling it.' Then he opened the vessels and poured out their contents.
ابن وعلہ مصری سے روایت ہے کہ
انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انگور کے رس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کی مشکیں تحفہ میں دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں علم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے؟“ پھر اس نے کانا پھوسی کی - میں اس بات کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکا تو میں نے اس کی بغل کے آدمی سے پوچھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”تم نے اس سے کیا کانا پھوسی کی؟“، وہ بولا: میں نے اس سے کہا کہ وہ اسے بیچ دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا ہے، اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے“، تو اس آدمی نے دونوں مشکوں کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ جو کچھ اس میں تھا بہہ گیا۔
It was narrated that 'Aishah said: When the Verses of Riba were revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood up on the Minbar and recited them to the people, then he forbade dealing in wine.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی، پھر شراب کی تجارت حرام قرار دی۔
Abu Mas'us 'Uqbah bin 'Amr said: The Messenger of Allah forbade the price of a dog, the gift of a female fornicator, and the fee of a fortuneteller.
ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور نجومی کی آمدنی سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah said - among the things that be forbade - 'And the price of a dog.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، کتے کی قیمت کو ( بھی ) ۔
It was narrated from Jabir bin 'Adbullah that: the Messenger of Allah forbade the price of dogs and cats, except hunting dogs. (Da'if) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: This is Munkar.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے، اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا سوائے شکاری کتے کے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے ۱؎۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that he heard the Messenger of Allah say, when he was in Makkah during the Year of the Conquest: Allah and His Messenger have forbidden the sale of wine, dead animals, pigs and idols. It was said: O messenger of Allah, what do you thing about the fat of the dead animal, for ships are caulked with it, skins are daubed with it and people use it in their lamps. He said: No, it is Haram. And the Messenger of Allah then said: My Allah curse the Jews, for when Allah, the Mighty and Sublime, forbade the meat (of dead animals) to them, they melted it down and sold it, and consumed its price.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ مکہ میں تھے: اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے بیچنے سے منع فرمایا۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردے کی چربی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس سے تو کشتیاں چکنی کی جاتی ہیں، کھالوں میں استعمال ہوتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، وہ حرام ہے“، اس وقت آپ نے یہ بھی فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک و برباد کرے، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تھی، انہوں نے اسے پگھلایا، پھر بیچا اور اس کی قیمت کھائی“۔