It was narrated that Hisham said: My father told me: 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
'The Messenger of Allah (ﷺ) never neglected to pray two Rak'ahs after 'Asr in my house.'
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے ہشام کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعت کبھی بھی نہیں چھوڑیں ۔
It was narrated that Al-Aswad said: 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) never entered upon me after 'Asr but he prayed them (the two Rak'ahs).
مجھ سے محمد بن قدامہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے جریر نے مغیرہ کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود کی سند سے، انہوں نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد میرے پاس جب بھی آتے تو دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔
It was narrated that Abu Ishaq said:
I heard Masruq and Al-Aswad say: We bear witness that 'Aishah رضی اللہ عنہا said: 'When the Messenger of Allah (ﷺ) was with me after 'Asr, he would pray them (these two Rak'ahs).'
ہم سے اسمٰعیل بن مسعود نے خالد بن حارث سے، شعبہ نے اور ابواسحاق کی سند سے، انہوں نے کہا
میں نے مسروق اور اسود کو کہتے سنا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کے بعد میرے پاس ہوتے تو ان دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
There are two prayers that the Messenger of Allah (ﷺ) never neglected to pray them in my house secretly nor publicly: Two Rak'ahs before Fajr and two Rak'ahs after 'Asr.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا: ہمیں علی بن مسہر نے ابواسحاق کی سند سے، عبدالرحمٰن بن اسود سے، اپنے والد سےام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں فجر کے پہلے کی دو رکعتوں اور عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو چھپے اور کھلے کبھی نہیں چھوڑا۔
It was narrated from Abu Salamah رضی اللہ عنہا that:
He asked 'Aishah رضی اللہ عنہا about the two prostrations (Rak'ahs) that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray after 'Asr. She said: He used to pray them before 'Asr, but if he got distracted or forgot them, he would pray them after 'Asr, and if he did a prayer he would be constant in it.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی حرملہ نے بیان کیا, ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دونوں رکعتوں کے متعلق سوال کیا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ کسی کام میں مشغول ہو گئے یا بھول گئے تو انہیں عصر کے بعد ادا کیا، اور آپ جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے برقرار رکھتے۔
It was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) once prayed two Rak'ahs after 'Asr in her house. She asked him about that and he said: They are two Rak'ahs that I used to pray after Zuhr, but I got distracted and forgot them until I prayed 'Asr.
مجھ سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے المعتمر نے بیان کیا، کہا: میں نے معمر کو یحییٰ بن ابی کثیر سے اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھی تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دو رکعتیں ہیں جنہیں میں ظہر کے بعد پڑھتا تھا تو میں انہیں نہیں پڑھ سکا، یہاں تک کہ میں نے عصر پڑھ لی ، ( تو میں نے اب عصر کے بعد پڑھی ہے ) ۔
It was narrated that Umm Salamah رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) got distracted and did not pray the two Rak'ahs before 'Asr so he prayed them after 'Asr.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے طلحہ بن یحییٰ نے بیان کیا، وہ عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہم کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے والی دو رکعت نہیں پڑھ سکے، تو انہیں عصر کے بعد پڑھی۔
Imran bin Hudair said:
I asked Lahiq about the two Rak'ahs before sunset. He said: Abdullah bin Az-Zubair used to pray them, and Mu'awiyah رضی اللہ عنہ sent word to him asking: 'What are these two Rak'ahs at sunset?' He had to refer to Umm Salamah رضی اللہ عنہا , and Umm Salamah رضی اللہ عنہا said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two Rak'ahs before 'Asr, then he was distracted and did not pray them, so he prayed them when the sun set, and I never saw him pray them before or after that.'
ہم سے عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے خبر دی، انہوں نے کہا: عمران بن حدیر کہتے ہیں
میں نے لاحق ( لاحق بن حمید ابومجلز ) سے سورج ڈوبنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پچھوا بھیجا کہ سورج ڈوبنے کے وقت کی یہ دونوں رکعتیں کیسی ہیں؟ تو انہوں نے بات ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا دی، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے تو ( ایک مرتبہ ) آپ انہیں نہیں پڑھ سکے، تو انہیں سورج ڈوبنے کے وقت ۱؎ پڑھی، پھر میں نے آپ کو انہیں نہ تو پہلے پڑھتے دیکھا اور نہ بعد میں۔
It was narrated from Yazid bin Abi Habib that Abu Al-Khair told him:
Abu Tamim Al-Jaishani stood up to pray two Rak'ahs before Maghrib, and I said to 'Uqbah bin 'Amir: 'Look at this man, what prayer is he praying?' He turned and looked at him, and said: 'This is a prayer that we used to pray at the time of the Messenger of Allah (ﷺ).'
ہم سے علی بن عثمان بن محمد بن سعید بن عبداللہ بن نفیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بکر بن مضر نے عمرو بن حارث کی سند سے، انہوں نے عزبی حاذبی رضی اللہ عنہ سے, ابوالخیر کہتے ہیں کہ
ابوتمیم جیشانی مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: انہیں دیکھئیے! یہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دیکھ کر بولے: یہ وہی نماز ہے جسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پڑھا کرتے تھے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that Hafsah رضی اللہ عنہا said:
When the dawn appears, the Messenger of Allah (ﷺ) would only pray two short Rak'ahs.
ہم سے احمد بن عبداللہ بن الحکم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے زید بن محمد کی سند سے بیان کیا، کہا: میں نے نافع کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے سنا: ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر طلوع ہونے کے بعد صرف دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
It was narrated that 'Amr bin 'Abasah رضی اللہ عنہ said:
I came to the Messenger of Allah, who became Muslim with you?' He said: 'Free men and slaves.' I said: 'Is there any moment which brings one closer to Allah than another?' He said: 'Yes, the last part of the night, so pray as much as you want until you pray Subh, then stop until the sun has risen until and it looks like a shield and (its shinning)spreads. Then pray as much as you want until an object's shadow is at its shortest, then stop until the sun passes its zenith, for Hell is stoked at midday. Then pray 'Asr, then stop until you pray 'Asr, then stop until the sun has set, for it sets between the horns of a Shaitan and rises between the horns of a Shaitan.' [1] [1] Similar has been recorded by Muslim.
مجھ سے حسن بن اسماعیل بن سلیمان اور ایوب بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا, ایوب نے کہا: اس نے ہمیں بتایا اور حسن نے کہا: مجھ سے شعبہ نے یعلیٰ بن عطاء کی سند سے، یزید بن طلق کی سند سے، عبدالرحمٰن بن بیلمانی کی سند سے بیان کیا, عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کون اسلام لایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام میں نے عرض کیا: کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ حاصل ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، رات کا آخری حصہ ہے، اس میں فجر پڑھنے تک جتنی نماز چاہو پڑھو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور اسی طرح اس وقت تک رکے رہو جب تک سورج ڈھال کی طرح رہے ( ایوب کی روایت میں «وما دامت» کے بجائے «فما دامت» ہے ) یہاں تک کہ روشنی پھیل جائے، پھر جتنی چاہو پڑھو یہاں تک کہ ستون اپنے سایہ پر کھڑا ہو جائے ۲؎ پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اس لیے کہ نصف النہار ( کھڑی دوپہر ) میں جہنم سلگائی جاتی ہے، پھر جتنا مناسب سمجھو نماز پڑھو یہاں تک کہ عصر پڑھ لو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔
It was narrated from Jubair bin Mut'im رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: O Banu 'Abd Manaf, do not prevent anyone from circumambulating this House and praying at any time he wants of night or day.
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: میں نے ابو الزبیر سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن بابہ کو بیان کرتے ہوئے سنا: جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! تم کسی کو رات یا دن کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کرنے، اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
If the Messenger of Allah (ﷺ) was setting out on a journey before the sun passed its zenith, he would delay Zuhr until the time of 'Asr, then he would stop and combine the prayer. If the sun passed its zenith before he set out, he would pray Zuhr and then set off.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے مفضل نے عقیل کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے تو عصر تک ظہر کو مؤخر کر دیتے، پھر سواری سے نیچے اترتے اور جمع بین الصلاتین کرتے یعنی دونوں صلاتوں کو ایک ساتھ پڑھتے ، اور اگر سفر کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
It was narrated from Abu At-Tufail 'Amir bin Wathilah رضی اللہ عنہ that:
Mu'adh bin Jabal رضی اللہ عنہ told him that they went out with the Messenger of Allah (ﷺ) in the year of Tabuk, and the Messenger of Allah (ﷺ) was joining Zuhr and 'Asr, and Maghrib and 'Isha'. He delayed the prayer one day then he went out and prayed Zuhr and 'Asr together, then he went in and came out again and prayed Maghrib and 'Isha'.
محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے ہمیں ان سے پڑھ کر خبر دی جب کہ میں سن رہا تھا، اور ان کا قول ابن القاسم کی روایت سے ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے ابو الزبیر المکی کی سند سے بیان کیا, ابوالطفیل عامر بن واثلۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے سال نکلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے رہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز کو مؤخر کیا، پھر نکلے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ ادا کیا، پھر اندر داخل ہوئے، پھر نکلے تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
Kathir bin Qarawanda said:
I asked Salim bin 'Abdullah about how his father prayed when traveling. We asked him: 'Did he combine any of his prayers when traveling?' He said that Safiyyah bint Abi 'Ubaid was married to him, and she wrote to him, when he was at some farmland of his, saying: 'This is the last of my days in this world, and the first day of the Hereafter. [1] He rode quickly to go to her, and when the time for Zuhr came, the Mu'adhdhin said to him: The prayer, O Abu 'Abdur-Rahman! But he paid no attention to him until it was between the time for the two prayers, then he stopped and said: Say the Iqamah and when I say the Taslim, say the Iqamah. Then he rode on again, and when the sun set the Mu'adhdhin said to him; The prayer! He said: Do as you did for Zuhr and 'Asr. When the stars had appeared, he stopped and said to the Mu'adhdhin: Say the Iqamah and when I say the Taslim, say the Iqamah. He prayed, then when he had finished he turned to us and said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If any one of you has an urgent need that he fears he may miss, let him pray like this.' [1] Meaning that she was dying.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن باز نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا: کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ
میں نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ) کی نماز کے بارے میں پوچھا، نیز ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سفر کے دوران کسی نماز کو جمع کرتے تھے؟ تو انہوں نے ذکر کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید ( جو ان کے عقد میں تھیں ) نے انہیں لکھا، اور وہ اپنے ایک کھیت میں تھے کہ میرا دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے ( یعنی قریب المرگ ہوں آپ تشریف لائیے ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم سوار ہوئے، اور ان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بڑی تیزی دکھائی یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئیے، لیکن انہوں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی یہاں تک کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہو گیا، تو سواری سے اترے اور بولے: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو ( پھر ) تکبیر کہو، ۲؎ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا تو ان سے مؤذن نے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، انہوں نے کہا: جیسے ظہر اور عصر میں کیا گیا ویسے ہی کرو، پھر چل پڑے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے، تو سواری سے اترے، پھر مؤذن سے کہا: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو پھر تکبیر کہو، تو انہوں نے نماز پڑھی، پھر پلٹے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کسی کو ایسا معاملہ پیش آ جائے جس کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اسی طرح ( جمع کر کے ) نماز پڑھے ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم said:
I prayed with the Prophet (ﷺ) in Al-Madinah, eight together and seven together. He delayed Zuhr and brought 'Asr forward, and he delayed Maghrib and brought 'Isha' forward.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے عمرو کی سند سے اور جابر بن زید سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ایک ساتھ آٹھ رکعت، اور سات رکعت نماز پڑھی، آپ نے ظہر کو مؤخر کیا، اور عصر میں جلدی کی، اور مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم that:
He prayed Al-Uula (Zuhr) and 'Asr together in Al-Basrah with nothing in between them, and he prayed Maghrib and 'Isha' together with nothing in between them. He did that because he was busy and Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم said that he had prayed Zuhr and 'Isha' together with the Messenger of Allah (ﷺ) in Al-Madinah, eight Rak'ahs with nothing in between.
مجھ سے ابوعاصم خشیش بن اسرم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبان بن ہلال نے بیان کیا، کہا: ہم سے حبیب نے جو ابو حبیب کے بیٹے ہیں، انہوں نے عمرو بن حریم سے اور جابر بن زید کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
انہوں نے بصرہ میں پہلی نماز ( ظہر ) اور عصر ایک ساتھ پڑھی، ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، اور مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، انہوں نے ایسا کسی مشغولیت کی بناء پر کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا کہنا ہے کہ انہوں نے مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی نماز ( ظہر ) اور عصر آٹھ رکعتیں پڑھی، ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز فاصل نہیں تھی۔
It was narrated that Isma'il bin 'Abdur-Rahman, a Shaikh of the Quraish, said:
I accompanied Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم to Al-Hima. [1] When the sun set I felt too nervous to remind him of the prayer, so he went on until the light on the horizon had disappeared and it was getting dark, then he stopped and prayed Maghrib, three Rak'ahs, then he prayed two Rak'ahs immediately afterwards, then he said: 'This what I saw the Messenger of Allah (ﷺ) do.' [1] A place near Madinah.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں سفیان نے ابن ابی نجیح کی سند سے خبر دی, قریش کے ایک شیخ اسماعیل بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
میں حمی تک ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہا، جب سورج ڈوب گیا تو میں ڈرا کہ ان سے یہ کہوں کہ نماز پڑھ لیجئیے، چنانچہ وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ افق کی سفیدی اور ابتدائی رات کی تاریکی ختم ہو گئی، پھر وہ اترے اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Az-Zuhri said: Salim told me that his father said:
'I saw the Messenger of Allah (ﷺ), when he was in a hurry to travel, delaying Maghrib so that he could combine it with 'Isha'.'
مجھ سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، کہا: ہم سے بقیع نے بیان کیا، ابن ابی حمزہ سے اور احمد بن محمد بن مغیرہ نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہم کو عثمان نے بیان کیا، اور قول ان کا ہے، شعیب کی سند سے، زہری کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھے سالم نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کو سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب مؤخر کرتے یہاں تک کہ اس کو اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
The sun set when the Messenger of Allah (ﷺ) was in Makkah, and he joined the two prayers in Sarif." [1] [1] A valley about 12 km northeast of Makkah on the way to Al-Madinah.
ہم سے المو مل بن ایہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن محمد الجاری نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے مالک بن انس سے اور ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
سورج ڈوب گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے، تو آپ نے مقام سرف میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔