It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to travel quickly, he would delay Zuhr until the time of 'Asr and combine them, and he would delay Maghrib until he combined it with 'Isha' when the twilight had disappeared.
مجھ سے عمرو بن سواد بن اسود بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن وہب نے خبر دی، کہا: ہم سے جابر بن اسماعیل نے عقیل کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر دونوں کو ایک ساتھ جمع کرتے، اور مغرب کو شفق کے ڈوب جانے تک مؤخر کرتے، اور پھر اسے اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرتے۔
Nafi' said:
I went out with 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہم on a journey to some of his land. Then someone came to him and said: 'Safiyyah bint Abi 'Ubaid is sick, try to get there before it is too late.' He set out quickly, accompanied by a man of the Quraish. The sun set but he did not pray, although I knew him to be very careful about praying on time. When he slowed down I said: 'The prayer, may Allah have mercy on you.' He turned to me but carried on until the twilight was almost gone, then he stopped and prayed Maghrib, then he said the Iqamah for 'Isha', at that time the twilight had totally disappeared and led us in prayer. Then he turned to us and said: 'If the Messenger of Allah (ﷺ) was in a hurry to travel he would do this.'
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن جابر نے بیان کیا، کہا: نافع کہتے ہیں کہ
میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، وہ اپنی زمین ( کھیتی ) کا ارادہ کر رہے تھے، اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آپ کی بیوی صفیہ بنت ابو عبید سخت بیمار ہیں تو آپ جا کر ان سے مل لیجئے، چنانچہ وہ بڑی تیز رفتاری سے چلے اور ان کے ساتھ ایک قریشی تھا وہ بھی ساتھ جا رہا تھا، آفتاب غروب ہوا تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ نماز کی بڑی محافظت کرتے ہیں، تو جب انہوں نے تاخیر کی تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق ڈوبنے لگی تو اترے، اور مغرب پڑھی، پھر عشاء کی تکبیر کہی، اس وقت شفق غائب ہو گئی تھی، انہوں نے ہمیں ( عشاء کی ) نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated that Nafi' said:
We came back with Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم from Makkah. One night he kept on travelling until evening came, and we thought that he had forgotten the prayer!' But he kept quiet and kept going until the twilight had almost disappeared, then he stopped and prayed, and when the twilight disappeared he prayed 'Isha'. Then he turned to us and said: This is what we used to do with the Messenger of Allah (ﷺ) if he was in a hurry to travel.'
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عطف نے بیان کیا، نافع کہتے ہیں کہ
ہم لوگ ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے ( اور برابر چلتے رہے ) یہاں تک کہ ہم نے شام کر لی، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں، چنانچہ ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی، اور جب شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔
Kathir bin Qarawanda said:
We asked Salim bin 'Abdullah about prayer while traveling. We said: 'Did 'Abdullah رضی اللہ عنہم combine any of his prayer while traveling?' He said: 'No, except at Jam'.'[1] Then he paused, and said: 'Safiyyah was married to him, and she sent word to him that she was in her last day in this world and the first day in the Hereafter. So he ride off in a hurry, and I was with him. The time for prayer came and the Mu'adhdhin said to him: 'The prayer, O Abu 'Abdur-Rahman! But he kept going until it was between the time for the two prayer. Then he stopped and said to the Mu'adhdhin: Say the Iqamah, and when I say the Taslim at the end of Zuhr, say the Iqamah (again) straight away. So he said the Iqamah and he prayed Zuhr, two Rak'ahs, then he said the Iqamah (again) straight away, and he prayed 'Asr, two Rak'ahs. Then he rode off quickly until the sun set and the Mu'adhdhin said to him: The prayer, O Abu 'Abdur-Rahman! He said: Do what you did before. He rode on until the starts appeared, then he stopped and said: Say the Iqamah, then when I say the Taslim, say the Iqamah. So he said the Iqamah and he prayed Maghrib, three Rak'ahs, then he said the Iqamah (again) straight away and he prayed 'Isha', then he said one Taslim, turning his face. Then he said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If any one of you has urgent need that he fears he may miss, let him pray like this.'
ہم سے عبدہ بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن شمائل نے بیان کیا، کہا: کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ
ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر کی نماز کے بارے میں پوچھا، ہم نے کہا: کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں جمع بین الصلاتین کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، سوائے مزدلفہ کے، پھر چونکے اور کہنے لگے: ان کے نکاح میں صفیہ تھیں، انہوں نے انہیں کہلوا بھیجا کہ میں دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے دن میں ہوں ( اس لیے آپ آ کر آخری ملاقات کر لیجئے ) ، تو وہ سوار ہوئے، اور میں اس ان کے ساتھ تھا، وہ تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آ گیا، تو ان سے مؤذن نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئے، لیکن وہ چلتے رہے یہاں تک کہ دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آ گیا، تو اترے اور مؤذن سے کہا: اقامت کہو، اور جب میں ظہر پڑھ لوں تو اپنی جگہ پر ( دوبارہ ) اقامت کہنا، چنانچہ اس نے اقامت کہی، تو انہوں نے ظہر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر تو ( مؤذن نے ) اپنی اسی جگہ پر پھر اقامت کہی، تو انہوں نے عصر کی دو رکعت پڑھائی، پھر سوار ہوئے اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن نماز پڑھ لیجئے، تو انہوں نے کہا جیسے پہلے کیا تھا، اسی طرح کرو اور تیزی سے چلتے رہے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے تو اترے، اور کہنے لگے: اقامت کہو، اور جب سلام پھیر چکوں تو دوبارہ اقامت کہنا، پھر انہوں نے مغرب کی تین رکعت پڑھائی، پھر اپنی اسی جگہ پر اس نے پھر تکبیر کہی تو انہوں نے عشاء پڑھائی، اور اپنے چہرہ کے سامنے ایک ہی سلام پھیرا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اسی طرح نماز پڑھے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
If the Messenger of Allah (ﷺ) was in a hurry to travel, he would combine Maghrib and 'Isha'.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم said:
If the Messenger of Allah (ﷺ) was in a hurry to travel, or some emergency arose, he would combine Maghrib and 'Isha'.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی، کہا: ہم سے معمر نے موسیٰ بن عقبہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی یا کوئی معاملہ درپیش ہوتا، تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
Sufyan said: I heard Az-Zuhri say: 'Salim told me that his father said:
'I saw the Prophet (ﷺ), if he was in a hurry to travel, joining Maghrib and 'Isha'.
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا: میں نے زہری کو کہتے سنا: مجھ سے سالم نے اپنے والد سے بیان کیا، کہتے ہیں
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr and 'Asr together, and Maghrib and 'Isha' together, when there was no fear and he was not traveling.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابو الزبیر کی سند سے، سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھی ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم that:
The Prophet (ﷺ) used to pray in Al-Madinah combining two prayer. Joining Zuhr and 'Asr, and Maghrib and 'Isha', when there was no fear nor rain. It was said to him: Why? He said: So that there would not be any hardship on his Ummah.
ہم سے محمد بن عبد العزیز بن ابی رزمہ نے جن کا نام غزوان تھا، بیان کیا: ہم سے الفضل بن موسیٰ نے الاعمش کی سند سے، حبیب بن ابی ثابت کی سند سے، سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ ایسا کیوں کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تاکہ آپ کی امت کے لیے کوئی پریشانی نہ ہو۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم said:
I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) eight (Rak'ahs) together and seven (Rak'ahs) together.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن جریج نے عمرو بن دینار کی سند سے اور ابو الشعثا کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( ظہر و عصر کی ) آٹھ رکعتیں، اور ( مغرب و عشاء کی ) سات رکعتیں ملا کر پڑھیں۔
Ja'far bin Muhammad narrated from his father that Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) traveled until he came to 'Arafah, where he found that the tent had pitched for him. He stayed there until the sun had passed its zenith, then he called for Al-Qaswa' which was saddled for him. When he reached the bottom of the valley he addressed the people. Then Bilal رضی اللہ عنہ called the Adhan, then the Iqamah, then he prayed Zuhr, then he called the Iqamah, then he prayed 'Asr, and he did not offer any other prayer in between.
مجھ سے ابراہیم بن ہارون نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے جعفر بن محمد نے اپنے والد سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حج میں منی سے مزدلفہ ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ۲؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔
It was narrated from 'Abdullah bin Yazid that Abu Ayyub Al-Ansari رضی اللہ عنہ told him, that:
During the Farewell Pilgrimage. He prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) Maghrib and 'Isha' prayers together at Al-Muzdalifah.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک کی سند سے، یحییٰ بن سعید سے، عدی بن ثابت کی سند سے، عبداللہ بن یزید کی سند سے, ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھی۔
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said:
I was with Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم when he departed from 'Arafah. When he came to Jam' (Al-Muzdalifah), he combined Maghrib and 'Isha', and when he finished he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) did similar to this in this place.'
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا, سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ
جب ابن عمر رضی اللہ عنہم عرفات سے چلے تو میں ان کے ساتھ تھا، جب وہ مزدلفہ آئے تو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی، اور جب فارغ ہوئے تو کہنے لگے: اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی تھی۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
The Prophet (ﷺ) prayed Maghrib and 'Isha' at Al-Muzdalifah.
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن نے مالک کی سند سے، زہری سے، سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء ( جمع کر کے ) پڑھی۔
It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) combine any two prayers except in Al-Muzdalifah, and on that day he prayed Subh before its time.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے الاعمش کی سند سے، عمرہ کی سند سے اور عبدالرحمٰن بن یزید کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ کے علاوہ کسی جگہ جمع بین الصلاتین کرتے نہیں دیکھا ، آپ نے اس روز فجر ( اس کے عام ) وقت سے پہلے پڑھ لی۔
It was narrated from Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما :
Whom the Prophet (ﷺ) had seated behind him on his camel on the way from 'Arafah, that when he reached the mountain pass, he dismounted and urinated - and he did not say that he passed water. He (Usamah) said: I poured water for him from a small vessel and he performed a light Wudu'. I said to him: 'The prayer.' He said: 'The prayer is still ahead of you.' When he came to Al-Muzdalifah he prayed Maghrib, then they untied the saddles of their mounts and then he prayed 'Isha'.
ہم سے حسین بن حریث نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابراہیم بن عقبہ اور محمد بن ابی حرملہ نے کریب سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے, اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
( انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں سواری پر پیچھے بٹھا لیا تھا ) تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی پر آئے تو اترے، اور پیشاب کیا، ( انہوں نے لفظ «بَالَ» کہا «أهراق الماء» نہیں کہا ) تو میں نے برتن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، آپ نے ہلکا پھلکا وضو کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز پڑھ لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے، جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب پڑھی، پھر لوگوں نے اپنی سواریوں سے کجاوے اتارے، پھر آپ نے عشاء پڑھی۔
Al-Walid bin Al'Ayzar said: I heard Abu 'Amr Ash-Shaibani say:
'The owner of this house - and he pointed to the house of 'Abdullah رضی اللہ عنہ - said: I asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'Which deed is most beloved to Allah, may He be exalted?' He said: 'Prayer offered on time, honoring one's parents, and Jihad in the cause of Allah.'
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ولید بن الاثار نے بیان کیا، کہا: میں نے ابو عمرو شیبانی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا
ہم سے ایک صحابی نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
I asked the Messenger of Allah (ﷺ) which action is most beloved to Allah? He said: 'Establishing prayer on time, honoring one's parents and Jihad in the cause of Allah.'
ہم سے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو معاویہ النخعی نے بیان کیا، انہوں نے ابو عمرو سے سنا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ۔
It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir that:
His father was in the Masjid of 'Amr bin Shurahbil and the Iqamah for prayer was said, so they were waiting for him. He said: I was praying Witr, and 'Abdullah رضی اللہ عنہ was asked: 'Is there any Witr after the Adhan?' He said: Yes, and after the Iqamah, and he narrated that the Prophet (ﷺ) slept and missed the prayer until the sun rose then prayed.' And the wording is that of Yahya.
ہم سے یحییٰ بن حکیم اور عمرو بن یزید نے بیان کیا: ہم سے ابن ابی عدی نے شعبہ کی سند سے، ابراہیم بن محمد بن المنتشر نے بیان کیا
اپنے والد کی سند سےوہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے کہ نماز کی اقامت کہی گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے ( جب وہ آئے تو ) انہوں نے کہا: میں وتر پڑھنے لگا تھا، ( اس لیے تاخیر ہوئی ) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے پوچھا: کیا ( فجر کی ) اذان کے بعد وتر ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ سورج نکل آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس حدیث کے الفاظ یحییٰ بن حکیم کے ہیں۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عوانہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز بھول جائے، جب یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے ۔