Al-Hasan said:
A person who was in a certain city. He fasted on Monday, and two persons bore witness that they had sighted the moon on the night of Sunday. He said: That man and the people of his city should not fast as an atonement except that they know (for certain) that the people of a certain city of Muslims had fasted on Sunday. In that case they should keep fast as an atonement.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے اشعث نے بیان کیا, حسن بصری سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا
جو کسی شہر میں ہو اور اس نے دوشنبہ ( پیر ) کے دن کا روزہ رکھ لیا ہو اور دو آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے اتوار کی رات چاند دیکھا ہے ( اور اتوار کو روزہ رکھا ہے ) تو انہوں نے کہا: وہ شخص اور اس شہر کے باشندے اس دن کا روزہ قضاء نہیں کریں گے، ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ مسلم آبادی والے کسی شہر کے باشندوں نے سنیچر کا روزہ رکھا ہے تو انہیں بھی ایک روزے کی قضاء کرنی پڑے گی ۔
Narrated Ammar: Abu Ishaq reported on the authority of Silah:
We were with Ammar رضی اللہ عنہ on the day when the appearance of the moon was doubtful. (The meat of) goat was brought to him. Some people kept aloof from (eating) it. Ammar رضی اللہ عنہ said: He who keeps fast on this day disobeys Abul Qasim (i.e. the Prophet) صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، وہ عمرو بن قیس سے، ابو اسحاق کی سند سے, صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ
ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک ( بھنی ہوئی ) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی ( کھانے سے احتراز کرتے ہوئے ) الگ ہٹ گیا اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے ( شک والے ) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not fast one day or two days just before Ramadan, except in the case of a man who has been in the habit of observing the particular fast, for he may fast on that day.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہے تو وہ ان دنوں کا روزہ رکھے ۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
She never saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم fasting the whole month except Sha'ban which he combined with Ramadan.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے توبہ العنبری نے، محمد بن ابراہیم کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال میں کسی مہینے کے مکمل روزے نہ رکھتے سوائے شعبان کے اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۔
Narrated Abdul Aziz Ibn Muhammad said:
Abbad Ibn Kathir came to Madina and went to the assembly of al-Ala. He caught hold of his hand and made him stand and said: O Allah, he narrates a tradition from his father on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ who reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When the middle of Sha'ban comes, do not fast. Al-Ala said: O Allah, my father narrated this tradition on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم . Abu Dawood said: Ath-thawri, Shibl bin Al-Ala, Abu Umais, and Zuhair bin Muhammad reported it from Al-Ala. Abu Dawood said: Abdul Rahman would not narrate it. I asked Ahmad: "Why is that?" He said: Because of the narration which he had that the prophet used to connect Shubah with Ramadan, and he reported from the prophet what contradicts it."Abu Dawood said: According to me, this does not contradicts that, and no one except Al-Ala narrated this from his father.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ
عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور ( جا کر ) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے: اے اللہ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھو ، علاء نے کہا: اے اللہ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز ابوداؤد نے کہا: عبدالرحمٰن ( عبدالرحمٰن ابن مہدی ) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، میں نے احمد سے کہا: ایسا کیوں ہے؟ وہ بولے: کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو ( روزہ رکھ کر ) رمضان سے ملا دیتے تھے، نیز انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برخلاف مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے۔
Narrated Abu Malik Al-Ashjai:
Husayn Ibn al-Harith al-Jadli from the tribe of Jadilah Qays said: The governor of Makkah delivered a speech and said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took a pledge from us that we should perform the rites of hajj after sighting the moon. If we do not sight it and two reliable persons bear witness, we should perform the rites of hajj on the basis of their witness. I then asked al-Husayn ibn al-Harith: Who was the governor of Makkah? He replied: I do not know. He then met me later on and told me: He was al-Harith Ibn Hatib, brother of Muhammad Ibn Hatib. The governor then said: There is among you a man who is more acquainted with Allah and His Messenger than I. He witnessed this from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He then pointed with his hand to a man. Al-Husayn said: I asked an old man beside me: Who is that man to whom the governor has alluded? He said: This is Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما , and he spoke the truth. He was more acquainted with Allah than he. He (Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما ) said: For this is what the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded us (to do).
ہم سے محمد بن عبدالرحیم ابو یحییٰ البزاز نے بیان کیا، ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، ہم سے عباد نے بیان کیا, ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ
ہم سے حسین بن حارث جدلی نے ( جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں ) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے؟ کہا کہ میں نہیں جانتا، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے: وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا: تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے؟ کہنے لگے: یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ کو ان سے زیادہ جانتے ہیں، اس پر انہوں نے ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ) کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم فرمایا ہے۔
Narrated Ribi bin Hirash:
On the authority of a man from the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: People differed among themselves on the last day of Ramadan (about the appearance of the moon of Shawwal). Then two bedouins came and witnessed before the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم swearing by Allah that they had sighted moon the previous evening. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded the people to break the fast. The narrator Khalaf has added in his version: and that they should proceed to the place of prayer (forEid) .
ہم سے مسدد اور خلف بن ہشام المقری نے بیان کیا : ہم سے ابو عوانہ نے منصور سے اور ربیع بن حراش سے بیان کیا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں ( چاند کی رویت پر ) اختلاف ہو گیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دایا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
A bedouin came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: I have sighted the moon. Al-Hasan added in his version: that is, of Ramadan. He asked: Do you testify that there is no god but Allah? He replied: Yes. He again asked: Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah? He replied: Yes. and he testified that he had sighted the moon. He said: Bilal, announce to the people that they must fast tomorrow.
ہم سے محمد بن بکار بن ریان نے بیان کیا، ہم سے الولید نے، یعنی ابن ابی ثور نے بیان کیا, ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے الحسین یعنی الجعفی نے بیان کیا، ہم سے زیدۃ المعنی کی سند سے، سماک کی سند سے، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے، ( راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے پوچھا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔
Narrated Ikrimah:
Once the people doubted the appearance of the moon of Ramadan, and intended neither to offer the tarawih prayer nor to keep fast. A bedouin came from al-Harrah and testified that he had sighted the moon. He was brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He asked: Do you testify that there is no god but Allah, and that I am the Messenger of Allah? He said: Yes; and he testified that he had sighted the moon. He commanded Bilal رضی اللہ عنہ who announced to the people to offer the tarawih prayer and to keep fast. Abu Dawood said: A group of narrators reported it from Simak, from Ikrimah , in Mursal form; and no one mentioned night prayer (Tarawih) except Hammad bin Salamah.
مجھ سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے سماک بن حرب کی سند سے بیان کیا, عکرمہ کہتے ہیں کہ
ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند ( کی روئیت ) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آ گیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا، آپ نے اس سے سوال کیا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The people looked for the moon, so I informed the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم that I had sighted it. He fasted and commanded the people to fast.
ہم سے محمود بن خالد اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن سمرقندی نے بیان کیا - اور میں ان کی حدیث میں زیادہ معتبر ہوں - انہوں نے کہا: مروان - وہ ابن محمد ہیں - ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا،یحییٰ بن عبداللہ بن سلیم کی سند سے، ابوبکر بن نافع کی سند سے، اپنے والد کی سند سے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی ( لیکن انہیں نظر نہ آیا ) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
Narrated Amr bin al-As رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The difference between our fasting and that of the people of the Book is eating shortly before dawn.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن علی بن رباح نے، ان سے اپنے والد سے، وہ ابو قیس رضی اللہ عنہ سے جو آزاد کردہ غلام تھے, عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے ۔
Narrated Al-Irbad Ibn Sariyyah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم invited me to a meal shortly before dawn in Ramadan saying: Come to the blessed morning meal.
ہم سے عمرو بن محمد الناقد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن خالد الخیاط نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے یونس بن سیف نے بیان کیا، وہ حارث بن زیاد کی سند سے، انہوں نے ابو رحیم کی سند سے, عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا: بابرکت «غداء»کھانے پر آؤ ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: How good is the believers meal of dates shortly before dawn.
ہم سے عمر بن الحسن بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے محمد بن ابی الوزیر ابو المطرف نے بیان کیا، ہم سے محمد بن موسیٰ نے سعید مقبری کی سند سے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور مومن کی کتنی اچھی سحری ہے ۔
Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The adhan (call to prayer) of Bilal should not prevent you from taking a meal shortly before dawn, not does the whiteness of horizon (before dawn) in this way (vertically) until it spreads out horizontally.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، عبداللہ بن سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی ( صبح کاذب ) ہی باز رکھے، جو اس طرح ( لمبائی میں ) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے ۔
Narrated Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The summons (adhan) of Bilal should not restrain one of you from taking a meal shortly before dawn, for he utters adhan or calls (for prayer) so that the man at prayer may return, and the man asleep may get up. Dawn is not (the whiteness) which indicates thus (in perpendicular) - the narrator Musaddad said: Yahya joined his palms (indicating the spread of whiteness vertically - until it indicates thus - and Yahya spread out two ring-fingers of his (demonstrating the spread of whiteness horizontally).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے تیمی کی سند سے بیان کیا, ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ابو عثمان رضی اللہ عنہ سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے ( تہجد پڑھنے ) والا تہجد پڑھنا بند کر دے، اور سونے والا جاگ جائے، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے ۔ مسدد کہتے ہیں: راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہو جائے ( یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے ) ۔
Narrated Talq رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Eat and drink; let not the white and ascending light prevent you from (eating and drinking); so eat and drink until the red light spreads horizontally.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ملازم بن عمرو نے بیان کیا، عبداللہ بن نعمان کی سند سے, طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے ۔
Narrated Adi bin Hatim رضی اللہ عنہ :
When the verse Until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread was revealed, I took a white rope and a black rope, and placed them beneath my pillow ; and then I looked at them, byt they were not clear to me. So I mentioned it to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He laughed and said: Your pillow is so broad and lengthy ; that is (i. e. means) night and day. The version of the narrator Uthman has: That is the blackness of night and whiteness of day.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حسین بن نمیر نے بیان کیا, ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن ادریس المعنی نے بیان کیا، حسین رضی اللہ عنہ نے شعبی کی سند سے, عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت کریمہ «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۷ ) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے ( صبح صادق جاننے کی غرض سے ) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے ۔ عثمان کی روایت میں ہے: اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When any of you hears the summons to prayer while he has a vessel in his hand, he should not lay it down till he fulfils his need.
ہم سے عبد الاعلٰی بن حماد نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، محمد بن عمرو سے، ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور ( کھانے پینے کا ) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے ۔
Narrated Asim bin Umar:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When the night approaches from this side and the day retreats on that side, and the sun sets - according to the version of Musaddad - he who fasts has reached the time to break it.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے ہشام المعنی کی سند سے بیان کیا, ہشام بن عروہ نے کہا: اپنے والد کی سند سے، عاصم بن عمر کی سند سے، اپنے والد کی سند سے، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو گیا ۔مسدد نے مزید کہا: اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار نے روزہ توڑ دیا۔
Narrated Abdullah bin Abi Awfa رضی اللہ عنہ :
We went along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم while he was fasting. When the sun set, he said to Bilal رضی اللہ عنہ : Bilal رضی اللہ عنہ, come down and prepare barley beverage for us. He said: Messenger of Allah, would that you waited for the evening. He said: Come down and prepare barley beverage for us. He said: Messenger of Allah, the say still remains on you (i.e. there remains the brightness of the day). He said: Come down and prepare barley drink for us. So he came down and prepared barley drink. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم drank it and said: When you see that the night approaches from this side, he who fasts has reached the time to break it ; and he pointed to the east with his finger.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا،سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! ( سواری سے ) اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر اور شام ہو جانے دیں تو بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، بلال رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو ، چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا: جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آ گئی تو روزے کے افطار کا وقت ہو گیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔