It was reported from Miqsam, from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had himself cupped when he was fasting and wearing ihram (pilgrim garb).
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی زیاد نے مقسم کی سند سے, ا بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی ( پچھنا ) لگوایا، آپ روزے سے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ۔
Narrated Abdur-Rahman bin Abi Laila:
A man from the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم told me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited cupping and perpetual fasting, but he had not made them unlawful showing mercy on his Companions. Thereupon he was asked: Messenger of Allah, you observe perpetual fast till dawn. He replied: I observe perpetual fast till dawn (for) my Lord gives me food and drink.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، وہ عبدالرحمٰن بن ابیس کی سند سے, عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ
مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حالت روزے میں ) سینگی لگوانے اور مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا، لیکن اپنے اصحاب کی رعایت کرتے ہوئے اسے حرام قرار نہیں دیا، آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! آپ تو بغیر کھائے پیئے سحر تک روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سحر تک روزے کو جاری رکھتا ہوں اور مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
We would not allow a man who was fasting to get himself cupped due to abomination of hardship.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان نے، یعنی ابن المغیرہ نے بیان کیا, ثابت کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا
ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی ( پچھنا ) نہیں لگانے دیتے تھے۔
It was reported from Zaid bin Aslam, from a man from the Companions:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Neither vomiting, nor emission, nor cupping breaks the fast of the one who is fasting.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے زید بن اسلم کے واسطہ سے، وہ اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کے واسطہ سے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا ۔
Narrated Mabad bin Hudhah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded to apply collyrium mixed with musk at the time of sleep. He said: A man who is fasting should abstain from it. Abu Dawud said: Yahya bin Main said to me: This tradition about the use of collyrium is munkar (i. e. contradicts the sound traditions on the subject).
ہم سے النفیل نے بیان کیا، ہم سے علی بن ثابت نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن نعمان بن معبد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک ملا ہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیا اور فرمایا: روزہ دار اس سے پرہیز کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ یعنی سرمہ والی حدیث منکر ہے۔
Ubaid Allah bin Abu Bakr bin Anas reported:
On the authority of Anas bin Malik used to apply collyrium when he was fasting.
ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابو معاویہ نے خبر دی، انہوں نے عتبہ ابو معاذ کی سند سے، انہوں نے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس کہتے ہیں کہ
انس بن مالک سرمہ لگاتے تھے اور روزے سے ہوتے تھے۔
Al-Amash said:
I did not see any of our companions who abominated the use of collyrium by a man who fasting. Ibrahim would permit the man who was fasting to apply collyrium with aloes.
ہم سے محمد بن عبداللہ المخرمی اور یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن عیسیٰ نے بیان کیا, اعمش کہتے ہیں کہ
میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو «صبر» ( ایک قسم کا سرمہ ہے ) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: if one has a sudden attack of vomiting while one is fasting, no atonement is required of him, but if he vomits intentionally he must make atonement.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن حسن نے بیان کیا، وہ محمد بن سیرین کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو قے ہو جائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضاء نہیں، ہاں اگر اس نے قصداً قے کی تو قضاء کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Madan bin Talha: That Abu ad-Darda رضی اللہ عنہ narrated to him:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم vomited and broke his fast. Then I met Thawban, the client of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, in the mosque in Damascus, I said (to him): Abu al-Darda has told me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم vomited and broke his fast. He said: He spoke the truth ; and I poured out water for his ablution صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ہم سے الحسین نے بیان کیا، ان سے یحییٰ کی سند سے، مجھ سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یشب بن ولید بن ہشام نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد, معدان بن طلحہ کا بیان ہے کہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہوئی تو آپ نے روزہ توڑ ڈالا، اس کے بعد دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ ابوالدرداء نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے ہو گئی تو آپ نے روزہ توڑ دیا اس پر ثوبان نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا اور میں نے ہی ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی ڈالا تھا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to kiss and embrace while he was fasting, but he was the one of you who had most control over his desire.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود اور علقمہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور چمٹ کر سوتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to kiss (me) during the month of fasting.
ہم سے ابو توبہ الربیع بن نافع نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، انہوں نے زیاد بن علقہ سے، وہ عمرو بن میمون کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے مہینے میں بوسہ لیتے ( لے لیا کرتے ) تھے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to kiss me when he was fasting and when I was fasting.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے سعد بن ابراہیم کی سند سے، وہ طلحہ بن عبداللہ یعنی ابن عثمان القرشی سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے اور میں بھی روزے سے ہوتی.
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ said: I got excited, so I kissed while I was fasting, I then said: Messenger of Allah, I have done a big deed; I kissed while I was fasting. He said: What do you think if you rinse your mouth with water while you are fasting. The narrator Isa ibn Hammad said in his version: I said to him: There is no harm in it. Then both of them agreed on the version: He said: Then what?
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا, ہم سے عیسیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ بکیر بن عبداللہ کی سند سے، انہوں نے عبد الملک بن سعید کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی، روزے کی حالت میں بوسہ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو ( تو کیا ہوا ) ، میں نے کہا: اس میں تو کچھ حرج نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بس کوئی بات نہیں ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to kiss her and suck her tongue when he was fasting. (Ibn Al-Arabi said: "It has been conveyed to me from Abu Dawood, that he said: "This chain is not Sahih.")
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن دینار نے بیان کیا، ہم سے سعد بن اوس العبدی نے مصد اع ابو یحییٰ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے اور ان کی زبان چوستے تھے۔ ابن اعرابی کہتے ہیں: یہ سند صحیح نہیں ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A man asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم whether one who was fasting could embrace (his wife) and he gave him permission; but when another man came to him, and asked him, he forbade him. The one to whom he gave permission was an old man and the one whom he forbade was a youth.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو احمد نے بیان کیا، یعنی الزبیری نے، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ابو العنبس کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔
Narrated Aishah and Umm Salamah رضی اللہ عنہما , wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would be overtaken by the dawn when he was in a state of sexual defilement. The narrator Abdullah al-Adhrami said in his version: During Ramadan, due to sexual intercourse and no owing to a dream (i. e. nocturnal emission), and would fast. Abu Dawud said: How brief is this sentence uttered by the narrator, this is, he was overtaken by daw when he was in the state of sexual defilement ? The tradition says: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was overtaken by dawn in the state of sexual defilement when he was fasting.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا۔ ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسحاق الدرمی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے مالک کی سند سے، عبد ربہ بن سعید سے، وہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کے واسطہ سے,ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں صبح کرتے۔ عبداللہ اذرمی کی روایت میں ہے: ایسا رمضان میں احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتا تھا، پھر آپ روزہ سے رہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کتنی کم تر ہے اس شخص کی بات جو یہ یعنی «يصبح جنبا في رمضان» کہتا ہے، حدیث تو ( جو کہ بہت سے طرق سے مروی ہے ) یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہو کر صبح کرتے تھے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , wife of Prophet صلی اللہ علیہ وسلم:
A man said to Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: Messenger of Allah, I was overtaken by dawn while I was sexually defiled, and I want to keep fast. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: I am also overtaken by dawn while I am in the state of sexual defilement ; I also want to keep fast. I take a bath and I keep fast. The man said: Messenger of Allah, you are not like us ; Allah has forgiven you your past and future sins. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم became angry and said: I swear by Allah, I hope I shall be the most fearful of you of Allah, and most familiar of you with what I follow.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ یعنی قعنبی نے، مالک کی سند سے، عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری کی سند سے، عائشہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس کی سند سے بیان کیا,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں پھر غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں ، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو ہماری طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر رکھے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اور مجھے کیا کرنا ہے اس بات کو بھی تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔
Narrated Abu Hurairah:
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: I am undone. He asked him: What has happened to you ? He said: I had intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting). He asked: Can you set a slave free ? He said: No. He again asked: Can you fast for two consecutive months ? He said: No. He asked: Can you provide food for sixty poor people ? He said: No. He said: Sit down. Then a huge basket containing dates ('araq) was brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He then said to him: Give it as sadaqah (i. e. alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer family than mine between the two lave plains of it (Madina). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم laughed so that his eye-teeth became visible, and said: Give it to your family to eat. Musaddad said in another place: his canine teeth .
ہم سے مسدد اور محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، یعنی ہم سے سفیان نے بیان کیا، مسدد نے کہا, ہم سے الزہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ ، کہا: نہیں، فرمایا: بیٹھو ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، کہنے لگا: اللہ کے رسول! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں، اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے اور فرمایا: اچھا تو انہیں ہی کھلا دو ۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ «ثناياه» کی جگہ «أنيابه» ہے۔
This tradition has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. Al-Zuhri added in his version:
This was a special concession for him. If a man commits this act today, the expiation is necessary for him. Abu Dawud said: Al-Laith bin Saad, al-Awzai, Mansur bin al-Mu'tamir and 'Irak bin Malik have narrated this tradition like the one narrated by Ibn Uyainah. Al-Awzai narrated in his version the words: Beg pardon of Allah.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے زہری کی سند سے اس حدیث کو معنی کے ساتھ بیان کیا, اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ ( کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم ) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، اوزاعی، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں «واستغفر الله» اور اللہ سے بخشش طلب کر کا اضافہ کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
(A man broke his fast intentionally) during Ramadan. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded him to emancipate a slave, or fast for two months, or feed sixty poor men. He said: I cannot provide. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Sit down. Thereafter a huge basket of dates ('araq) was brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Take this and give it as sadaqah (alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer than I. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم thereupon laughed so that his canine teeth became visible and said: Eat it yourself. Abu Dawud said: Ibn Juraij narrated it from al-Zuhri in the wordings of the narrator Malik that a man broke his fast. This version says: You should either free a slave, or fast for two months, or provide food for sixty poor men.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، حمید بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے، یا دو مہینے کا مسلسل روزے رکھنے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا، وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو ( ان میں سے ) کچھ نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو اور صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ ضرورت مند تو کوئی ہے ہی نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا: تم ہی اسے کھا جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے زہری سے مالک کی روایت کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا، اس میں ہے «أو تعتق رقبة أو تصوم شهرين أو تطعم ستين مسكينا» ۔