Muadhah said:
I asked Aishah رضی اللہ عنہا : Would the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم fast three days every month ? She replied: Yes. I asked: Which days in the month he used to fast ? She replied: He did not care which days of the month he fasted.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، یزید الرشک کی سند سے، معاذہ کہتی ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔
Narrated Hafsah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He who does not determine to fast before dawn does not fast.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ہم سے ابن لحیعہ نے اور ان سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بیان کیا، وہ ابن شہاب کے واسطہ سے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اپنے والد کی سند سے, ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فجر ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہو گا ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered upon me, he would ask: Do you have food ? When we said: No, he would say: I am fasting. Waki added in his version: Another day when he entered upon us, we said: Messenger of Allah, some pudding (hair) has been presented to us and we have retained it for you. He said: Bring it to me. Talha said: He fasted in the morning, but broke his fast (that day).
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا,ہم سےعثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ سب طلحہ بن یحییٰ سے اور عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ جب میں کہتی: نہیں، تو فرماتے: میں روزے سے ہوں ، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیے میں ( کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا ) ملیدہ آیا ہے، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاؤ اسے حاضر کرو ۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے سے ہو کر صبح کی تھی لیکن روزہ توڑ دیا۔
Narrated Umm Hani رضی اللہ عنہا :
On the days of the conquest of Makkah, when Makkah was captured, Fatimah رضی اللہ عنہا came and sat on the left side of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and Umm Hani was on his right side. A slave-girl brought a vessel which contained some drink; she gave it to him and he drank of it. He then gave it to Umm Hani who drank of it. She said: Messenger of Allah, I have broken my fast; I was fasting. He said to her: Were you making atonement for something? She replied: No. He said: Then it does not harm you if it was voluntary (fast).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر بن عبد الحمید نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی زیاد نے، وہ عبداللہ بن حارث کی سند سے, ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
فتح مکہ کا دن تھا، فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں دائیں جانب بیٹھی، اس کے بعد لونڈی برتن میں کوئی پینے کی چیز لائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا، پھر مجھے دے دیا، میں نے بھی پیا، پھر میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے روزہ توڑ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کسی روزے کی قضاء کر رہی تھیں؟ جواب دیا نہیں، فرمایا: اگر نفلی روزہ تھا تو تجھے کوئی نقصان نہیں ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
Some food was presented to me and Hafsah رضی اللہ عنہا . We were fasting, but broke our fast. Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon us. We said to him: A gift was presented to us; we coveted it and we broke our fast. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There is no harm to you; keep a fast another day in lieu of it.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حیوہ بن شریح نے خبر دی، انہیں ابن الحاد نے خبر دی، ان سے عروہ کے آزاد کردہ غلام زمیل کی سند سے، وہ عروہ بن زبیر سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں روزے سے تھیں، ہم نے روزہ توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: It is not allowable for a woman to keep (voluntary) fast when her husband is present without his permission, and she may not allow anyone to enter his house without his permission.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا، ہمام بن منبہ سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
A woman came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم while we were with him. She said: Messenger of Allah, my husband, Safwan Ibn al-Mu'attal رضی اللہ عنہ , beats me when I pray, and makes me break my fast when I keep a fast, and he does not offer the dawn prayer until the sun rises. He asked Safwan, who was present, about what she had said. He replied: Messenger of Allah, as for her statement he beats me when I pray , she recites two surahs (during prayer) and I have prohibited her (to do so). He (the Prophet) said: If one surah is recited (during prayer), that is sufficient for the people. (Safwan continued: ) As regards her saying he makes me break my fast, she dotes on fasting; I am a young man, I cannot restrain myself. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said on that day: A woman should not fast except with the permission of her husband. (Safwan said: ) As for her statement that I do not pray until the sun rises, we are a people belonging to a class, and that (our profession of supplying water) is already known about us. We do not awake until the sun rises. He said: When you awake, offer your prayer.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، وہ ابوصالح کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔ صفوان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ نماز پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے ( دو دو سورتیں پڑھنے سے ) منع کر رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے ۔ صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے روزہ افطار کرا دیتا ہوں تو یہ روزہ رکھتی چلی جاتی ہے، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ( نفل روزہ ) نہ رکھے ۔ رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے نماز نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی جاگو نماز پڑھ لیا کرو ۔
Abu Hurairah reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you receives an invitation (for a meal), he should accept it. If he isn to fasting, he should eat, and if he is fasten, he should pray. Hisham said: The word salat means to pray (for him to Allah). Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Hafs bin Ghiyath from Hisham.
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابوخالد نے بیان کیا، ان سے ہشام نے ابن سیرین کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے ۔ ہشام کہتے ہیں: «صلاۃ» سے مراد دعا ہے۔ ابوداؤد نے کہا: اس روایت کو حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
"The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: 'If one of you is fasting, and is inviting to meal, then let him say: I am fasting.'"
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابو الزناد نے، العرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہنا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں ۔
'Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Prophet (ﷺ) used to observe retirement (i'tikaf) to the mosque during the last ten days of Ramadan till Allah took him, and then his wives observed retirement to the mosque after his death.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے عقیل کی سند سے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول وفات تک رہا ، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا ۔
Narrated Ubayy Ibn Ka'b رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) used to observe i'tikaf during the last ten days of Ramadan. One year he did not observe i'tikaf. When the next year came, he observed i'tikaf for twenty nights (i.e. days).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، ابو رافع کی سند سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ، ایک سال ( کسی وجہ سے ) اعتکاف نہیں کر سکے تو اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رات کا اعتکاف کیا ۔
'Aishah رضی اللہ عنہا said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to observe I'tikaf, he prayed the fajr prayer and then entered his place of seclusion. Once he intended to observe I'tikaf during the last ten days of Ramadan. She said: He ordered to pitch a tent for him, and it was pitched. She said: The other wives of the Prophet (ﷺ) also ordered to pitch tents for them and they were pitched. When he offered the fajr prayer, he saw the tents, and said: What is this ? Did you intend to do an act of virtue ? She said: He then ordered to demolish his tent, and it was demolished. Then his wives also ordered to demolish their tents and they were demolished. He then postponed I'tikaf till the first ten days, that is of Shawwal. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Ibn Ishaq and al-Auza'i from Yahya bin Sa'id in a similar manner, and Malik narrated it from Yahya b. Sa'id, saying: He observed I'tikaf during twenty in Shawwal.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے اور ان سے یعلیٰ بن عبید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے عمرہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے ، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا ، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا ، خیمہ لگا دیا گیا ، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا ، اسے بھی لگایا گیا ، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا : یہ کیا ہیں ؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے ؟ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا ، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کر دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہا said:
The Prophet (ﷺ) used to observe I'tikaf during the last ten days of Ramadan. Nafi' said: 'Abdullah (bin 'Umar) showed me the place in the mosque where Messenger of Allah (ﷺ) used to observe I'tikaf.
ہم سے سلیمان بن داؤد المہری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے یونس کی سند سے بیان کیا کہ نافع نے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet (ﷺ) used to observe I'tikaf during ten days of Ramadan every year. But when the year in which he died, he observed I'tikaf for twenty days.
ہم سے ہناد نے ابو بکر سے، ابو حصین کی سند سے، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے ، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔
'Aishah رضی اللہ عنہا said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) observed I'tikaf, he would put his head near me, and I would comb it. and he entered the house only to fulfill human needs (i.e. to urinate or to relieve himself).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب سے، عروہ بن زبیر سے، عمرہ بنت عبدالرحمٰن کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو ( مسجد ہی سے ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے ۔
Abu Dawud said:
And Yunus also narrated in a similar way from al-Zuhri, and no one supported Malik in his narration from 'Urwah from 'Umrah; and Ma'mar, Ziyad bin Sad and others have also narrated it from al-Zuhri from 'Urwah on the authority of 'Aishah رضی اللہ عنہا .
ہم سے قتیبہ بن سعید اور عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا: ہم سے لیث نے ابن شہاب کی سند سے، عروہ کی سند سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی,ابوداؤد کہتے ہیں
یونس نے اسے زہری کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور عروہ کی سند پر عمرہ کی سند پر کسی نے مالک کی پیروی نہیں کی۔ معمر، زیاد بن سعد اور دیگر نے اسے زہری کی سند سے عروہ کی سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے ۔
'Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe I'tikaf in the mosque and put his head near me through the opening of the apartment, and I would wash his head. Musaddad said: "And I would comb it while I was menstruating."
ہم سے سلیمان بن حرب اور مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ہشام بن عروہ سے، اپنے والد سے, اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی ، کنگھی کر دیتی ، اور میں حیض سے ہوتی تھی ۔
Safiyyah رضی اللہ عنہا said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) was observing I'tikaf (in the mosque), I would come to him to visit him. I had a talk with him and then stood up. I then returned and he (the Prophet) also stood up to accompany me (to my house). Her dwelling place was in the house of Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما . Two men from the Ansar (helpers) passed (by him at the moment). When they saw the Prophet (ﷺ), they walked quickly. The Prophet (ﷺ) said: Be at ease, she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Be glory to Allah, Messenger of Allah! He said: Satan runs in man like blood. I feared he might inspire something in your mind, or he said: evil (the narrator doubted).
ہم سے احمد بن محمد بن شبویہ المروازی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی ، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے ، ( اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی ) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے ، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہرو ، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے ) “ ، وہ بولے : سبحان اللہ ! اللہ کے رسول ! ( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ ( یا کہا : کوئی شر ) نہ ڈال دے “ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. In this version she said:
“When he was at the gate of the mosque which was near the gate of Umm Salamah رضی اللہ عنہا , two men passed them. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہیں شعیب نے زہری کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ
جب وہ مسجد کے دروازے پر تھے جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر تھی، دو آدمی ان کے پاس سے گزرے۔ اور اس کا مطلب بیان کیا۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to pass by a patient while he was observing I’tikaf (in the mosque) but he passed as usual and did not stay asking about him. ” According to the version of Ibn Isa she said “The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم would visit a patient while he was observing I’tikaf. ”
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی اور محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن ابی سلیم نے عبدالرحمٰن بن القاسم سے اپنے والد کی سند سے خبر دی, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے لیکن آپ ہمیشہ کی طرح گزرتے تھے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے ۔ ابن عیسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں ہوتے ہوئے ایک بیمار کی عیادت کرتے۔