Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He broke his fast during Ramadan. He then narrated the rest of this tradition adding: Then a huge basket containing fifteen sa's of dates was brought to him. He said: Eat it yourself and your family and keep one fast and beg pardon of Allah.
ہم سے جعفر بن مسافر نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فودیک نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، وہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آگے اوپر والی حدیث کا ذکر ہے اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا تھیلا آیا جس میں پندرہ صاع کے بقدر کھجوریں تھیں، اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تم اور تمہارے گھر والے کھاؤ، اور ایک دن کا روزہ رکھ لو، اور اللہ سے بخشش طلب کرو ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , wife of Prophet صلی اللہ علیہ وسلم :
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم during Ramadan in the mosque. He said: Messenger of Allah, I am burnt. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم asked him what happened to him. He said: I had sexual intercourse with my wife. He said: Give sadaqah (alms). He said: I swear by Allah, I possess nothing with me, and I cannot do this. He said: Sit down. He sat down. While he was waiting, a man came forward driving his donkey loaded with food. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Where is the man who was burnt just now ? Thereupon the man stood up. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Give it as sadaqah (alms). He asked: Messenger of Allah, to others than us ? By Allah. we are hungry, we have nothing (to eat). He said: Eat it yourselves.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، انہیں ابن وہب نے خبر دی، انہیں عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن القاسم نے خبر دی، انہیں محمد بن جعفر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی, عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں تو بھسم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے، فرمایا: بیٹھ جاؤ ، وہ بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی بھسم ہونے والا کہاں ہے؟ وہ شخص کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے صدقہ کر دو ، بولا: اللہ کے رسول! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! ہم بھوکے ہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، فرمایا: اسے تم ہی کھا لو ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Aishah رضی اللہ عنہا through a different chain of narrators. This version adds:
A huge basket containing twenty sa's (of dates) was brought.
ہم سے محمد بن عوف نے بیان کیا، ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی الزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حارث نے، محمد بن جعفر بن الزبیر کی سند سے، انہوں نے عباد اللہ بن عباد رضی اللہ عنہ سے,اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی قصہ مروی ہے,لیکن اس میں ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone breaks his fast one day in Ramadan without a concession granted to him by Allah, a perpetual fast will not atone for it.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا: ہمیں شعبہ نے حبیب بن ابی ثابت کی سند سے، عمیرہ بن عمیر کی سند سے، ابن متواس نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا: ابن کثیر نے کہا,ابو المطواس کی سند سے، اپنے والد کی طرف سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کر سکیں گے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators similar to the tradition narrated by Ibn Kathir and Sulaiman. Abu Dawud said: Sufyan and Shubah differed among themselves on the name of the narrator Ibn al-Mutawwas and Abu al-Mutawwas.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، مجھ سے حبیب نے بیان کیا، وہ عمرہ کی سند سے، انہوں نے ابن المتوس سے، انہوں نے کہا: میں ابن المتوس سے ملا تو انہوں نے مجھ سے اپنے والد کی روایت بیان کی, اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن کثیر اور سلیمان کی حدیث کے مشابہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان اور شعبہ کے بارے میں اختلاف ہے جیسا کہ ابن المتوس اور ابو المتوس نے روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: 'O Messenger of Allah, I ate and drank in forgetfulness when I was fasting. He said: Allah had fed you and given you drink.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب، حبیب اور ہشام نے محمد بن سیرین کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھول کر کھا پی لیا، اور میں روزے سے تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
If I had some part of the fast of Ramadan to make up, I would not be able to atone for it except in Sha'ban.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے مالک کی سند سے، یحییٰ بن سعید سے، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا
مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone dies when some fast is due from him (i. e. which he could not keep) his heir must fast on his behalf. Abu Dawud said: This applies to the fast which a man vows; and this is the opinion of Ahmad bin Hanbal.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں عبید اللہ بن ابی جعفر نے خبر دی، وہ محمد بن جعفر بن الزبیر نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
If a man falls ill during Ramadan and he dies, while he could not keep the fast, food will be provided (for the poor men) on his behalf; there is no atonement (for his fasts) due from him. If there is some vow which he could not fulfill, his heir must atone on his behalf.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ ابو حصین سے اور سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اگر کوئی آدمی رمضان میں بیمار ہو جائے پھر مر جائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہو گی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
Hamzat al-Aslami رضی اللہ عنہ asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: Messenger of Allah, I am a man who keeps perpetual fast, may I fast while on a journey? He replied: Fast if you like, or break your fast if you like.
ہم سے سلیمان بن حرب اور مسدد نے بیان کیا: ہم سے حماد نے، ہشام بن عروہ سے، اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔
Narrated Hamzat al-Aslami رضی اللہ عنہ :
I said: 'O Messenger of Allah. I am a master of mounts and I use them! I myself travel on them and I rent them. This month, that is, Ramadan, happened to come to me (while I am on a journey), and I find myself strong enough (to fast) as I am young, and I find that it is easier for me to fast than to postpone it, and i becomes debt due from me. Does it bring me more reward, Messenger of Allah, if I fast, or if I break ? He replied: Whichever you like, Hamzah.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبدالمجید المدنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے حمزہ بن محمد بن حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں سواریوں والا ہوں، انہیں لے جایا کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے، اللہ کے رسول! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حمزہ! جیسا بھی تم چاہو ۔
Narrated Ibn Abbas:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم left Madina for Makkah till he reached 'Usfan, He then called for a vessel (of water). It was raised to his mouth to show it to the people, and that was in Ramadan. Ibn Abbas رضی اللہ عنہما used to say: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم fasted and he broke his fast. He who likes may fast and he who likes may break.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، منصور کی سند سے، مجاہد کی سند سے، طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پانی وغیرہ کا ) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں ( کہ میں روزے سے نہیں ہوں ) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
We travelled along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم during Ramadan. Some of us were fasting and other broke their fast. Those who fasted did not find fault with those who broke, and those who broke their fast did not find fault with those who fasted.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زیدہ نے حمید الطویل کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا۔
Narrated Qazaah:
I came to Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ while he was giving his legal opinion to the people who bent down on him. So I waited to see hi when he was alone. When he became alone, I asked him about keeping fast while travelling. He said: we went out along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in Ramadan in the year of conquest of Makkah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم fasted and we fasted until he reached a certain stage. He said: You have come near your enemy; the breaking of fast will bring you more strength. Then morning came when some of us fasted and other broke their fast. He (Abu Saeed al-Khudri) said: We then proceeded and alighted at a stage. He said: You are going to attack your enemy tomorrow morning ; breaking the fast will bring you more strength; so break your fast (i.e. do not keep fast). This resolution (of breaking the fast) took place (due to the announcement) from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Abu Saeed said: Then I found myself keeping fast along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم before and after that.
ہم سے احمد بن صالح اور وہب بن بیان نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے معاویہ نے ربیعہ بن یزید کی سند سے بیان کیا, قزعہ کہتے ہیں کہ
میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے، اور لوگ ان پر جھکے جا رہے تھے تو میں تنہائی میں ملاقات کی غرض سے انتظار کرتا رہا، جب وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے سفر میں رمضان کے مہینے کے روزے کا حکم دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم فتح مکہ کے سال رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر پر نکلے، سفر میں اللہ کے رسول بھی روزے رکھتے تھے اور ہم بھی، یہاں تک کہ جب منزلیں طے کرتے ہوئے ایک پڑاؤ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم دشمن کے بالکل قریب آ گئے ہو، روزہ چھوڑ دینا تمہیں زیادہ توانائی بخشے گا ، چنانچہ دوسرے دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا، پھر ہمارا سفر جاری رہا پھر ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح تم دشمن کے پاس ہو گے اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ قوت بخش ہے، لہٰذا روزہ چھوڑ دو ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تاکید تھی۔ ابوسعید کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سے پہلے بھی روزے رکھے اور اس کے بعد بھی۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم saw a man who had been put in the shade and saw a crowd of people around him (in the course of a journey). He said: Fasting while on journey is not part of righteousness.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن سے، یعنی ابن سعد بن زرارہ نے، محمد بن عمرو بن حسن کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
A man from Banu Abdullah Ibn Kab brethren of Banu Qushayr (not Anas ibn Malik, the well-known Companion), said: A contingent from the cavalry of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raided us. I reached (for he said went) to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم who was taking his meals. He said: Sit down, and take some from this meal of ours. I said: I am fasting, he said: Sit down, I shall tell you about prayer and fasting. Allah has remitted half the prayer to a traveler, and fasting to the traveler, the woman who is suckling an infant and the woman who is pregnant, I swear by Allah, he mentioned both (i.e. suckling and pregnant women) or one of them. I was grieved for not taking the food of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم .
ہم سے شیبان بن فرخ نے بیان کیا، ہم سے ابو ہلال الراسیبی نے بیان کیا، ہم سے ابن سویدہ القشیری نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
بنو عبداللہ بن کعب کے ایک شخص نے جو بنو قشیر کے بھائی تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھو، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ ، میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا بیٹھو، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے ( سفر میں ) نماز آدھی کر دی ہے، اور مسافر، دودھ پلانے والی، اور حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے ، قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا۔
Narrated Abu al-Darda رضی اللہ عنہ :
We went out along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم for some battle in intense heat, so much so that one of us placed his hand on his head, or placed his palm on his head, due to intense heat, No one of us fasted except the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and Abdullah bin Rawahah رضی اللہ عنہ .
ہم سے مومل بن الفضل نے بیان کیا، ہم سے ولید نے بیان کیا، ہم سے سعید بن عبدالعزیز نے بیان کیا، مجھ سے اسماعیل بن عبید اللہ نے بیان کیا, ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوے میں نکلے، گرمی اس قدر شدید تھی کہ شدت کی وجہ سے ہم میں سے ہر شخص اپنا ہاتھ یا اپنی ہتھیلی اپنے سر پر رکھ لیتا، اس موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔
Narrated Salamah Ibn al-Muhabbaq al-Hudhali:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone has a riding beast which carries him to where he can get sufficient food, he should keep the fast of Ramadan wherever he is when it comes.
ہم سے حمید بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا اور ہم سے عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، ہم سے ابو قتیبہ نے بیان کیا، مطلب یہ ہے, انہوں نے کہا: ہم سے عبد الصمد بن حبیب بن عبداللہ الازدی نے بیان کیا، مجھ سے حبیب بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا:سلمہ بن محبق ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس منزل پر ایسی سواری ہو جو اسے ایسی جگہ پہنچا سکے جہاں اسے راحت و آسودگی ملے تو وہ جہاں بھی رمضان کا مہینہ پا لے روزے رکھے ۔
Narrated Salamah bin al-Muhabbaq رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone is on a journey and Ramadan comes. . . He then narrated the rest of the tradition to the same effect.
ہم سے نصر بن المہاجر نے بیان کیا، ہم سے عبد الصمد بن عبد الوارث نے بیان کیا، ہم سے عبد الصمد بن حبیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے سنان بن سلمہ کی سند سے بیان کیا, سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حالت سفر میں رمضان جسے پا لے … ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Jafar Ibn Jubayr said:
I accompanied Abu Busrah al-Ghifari رضی اللہ عنہ , a Companion of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, in a boat proceeding from al-Fustat (Cairo) during Ramadan. He was lifted (to the boat), then his meal was brought to him. The narrator Jafar said in his version: He did not go beyond the houses (of the city) but he called for the dining sheet. He said (to me): Come near. I said: Do you not see the houses? Abu Busrah said: Do you detest the sunnah (practice) of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم? The narrator Jafar said in his version: He then ate (it).
ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا۔ ہم سے جعفر بن مسافر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن یحییٰ المعنا نے بیان کیا، مجھ سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، اور جعفر اور لیث نے مزید کہا، مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا،اسے کلیب بن ذہل الحدرمی نے عبید کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: جعفر بن جبر نے کہا
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رمضان میں ایک کشتی میں تھا جو فسطاط شہر کی تھی، کشتی پر بیٹھے ہی تھے کہ صبح کا کھانا آ گیا، ( جعفر کی روایت میں ہے کہ ) شہر کے گھروں سے ابھی آگے نہیں بڑھے تھے کہ انہوں نے دستر خوان منگوایا اور کہنے لگے: نزدیک آ جاؤ، میں نے کہا: کیا آپ ( شہر کے ) گھروں کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ ( ابھی تو شہر بھی نہیں نکلا اور آپ کھانا کھا رہے ہیں ) کہنے لگے: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ ( جعفر کی روایت میں ہے ) تو انہوں نے کھانا کھایا۔