Narrated Jumay Ibn Umayr ضی اللہ عنہا :
One of the sons of Banu Taym Allah Ibn Thalabah, said: Accompanied by my mother and aunt I entered upon Aishah رضی اللہ عنہا . One of them asked her: How did you do while taking a bath? Aishah رضی اللہ عنہا replied: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed ablution (in the beginning) as he did for prayer. He then poured (water) upon his head three times. But we poured water upon our heads five times due to plaits.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے، یعنی ابن مہدی نے، ہم سے زایدہ بن قدامہ نے، صدقہ کی سند سے,جمیع بن عمیر کہتے ہیں
وہ قبیلہ بنو تیم اللہ بن ثعلبہ کے خانوادے سے ہیں میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو ان میں سے ایک نے آپ سے پوچھا: آپ لوگ غسل جنابت کس طرح کرتی تھیں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے ) وضو کرتے تھے جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے اور ہم اپنے سروں پر چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار پانی ڈالتے تھے۔
Aishah رضی اللہ عنہا reported:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would take a bath because of sexual defilement, according to the version of Sulaiman, in the beginning he would pour water with his right hand (upon his left hand); and according to the version of Musaddad, he would wash both (hands) pouring water from the vessel upon his right hand. According to the agreed version, he then would wash the private part. He would then perform ablution as he did for prayer, then put his hands in the vessel and made the water go through his hair. When he knew that water had reached the entire surface of the body and cleaned it well, he would pour water upon his head three times. If some water was left, he would pour it also upon himself.
ہم سے سلیمان بن حرب الواشیحی نے بیان کیا۔ ہم سے ہا اور مسدد نے بیان کیا : ہم سے حماد نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا ,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے ( سلیمان کی روایت میں ہے: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور مسدد کی روایت میں ہے: برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیل کر دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دونوں سیاق حدیث کے ذکر میں متفق ہیں کہ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس کے بعد ) اپنی شرمگاہ دھوتے ( اور مسدد کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے، کبھی ام المؤمنین عائشہ نے فرج ( شرمگاہ ) کو کنایۃً بیان کیا ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرتے اور ( پانی لے کر ) اپنے بالوں کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جان لیتے کہ پانی پوری کھال کو پہنچ گیا ہے یا کھال کو صاف کر لیا ہے، تو اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر جو پانی بچ جاتا اسے اپنے اوپر بہا لیتے۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to take a bath because of sexual defilement, he would begin with his hands and wash them. Then he would wash the joints of his limbs and pour water upon him when he cleansed both his (hands), he would rub them on the wall (to make them perfectly clean with the dust). Then he would perform ablution and pour water over his head.
ہم سے عمرو بن علی الباہلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، مجھ سے سعید نے، ابو معشر کی سند سے، نخعی کی سند سے، اسود سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو پہلے اپنے دونوں پہونچوں کو، پھر اپنے جوڑوں کو دھوتے ( مثلاً کہنی بغل وغیرہ جہاں میل جم جاتا ہے ) اور ان پر پانی بہاتے، جب دونوں ہاتھ صاف ہو جاتے تو انہیں ( مٹی سے ) دیوار پر ملتے، ( تاکہ مکمل صاف ہو جائے ) پھر وضو شروع کرتے اور اپنے سر پر پانی ڈالتے۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
If you want, I can certainly show you the marks of the hand of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on the wall where he took a bath because of sexual defilement.
ہم سے حسن بن شوکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، عروہ ہمدانی سے,شعبی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
اگر تم چاہو تو میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کا نشان دیوار پر دکھاؤں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کیا کرتے تھے ( اور دیوار پر اپنا ہاتھ ملتے تھے ) ۔
Maimunah رضی اللہ عنہا reported:
I placed (the vessel of) water for the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to wash himself because of sexual intercourse. He lowered down the vessel and poured water on his right hand. He then washed it twice or thrice. He then poured water over his private parts and washed them with his left hand. Then he put it on the ground and wiped it. He then rinsed his mouth and snuffed up water, and washed his face and hands. He then poured water over his head and body. Then he moved aside and washed his feet. I handed him a garment, but he began to shake he moved aside and washed his feet. I handed him a garment, but he began to shake off water from his body. I mentioned it to Ibrahim. He said that they (companions) did not think there was any harm in using the garment (to wipe the water), but they disliked its use as a habit. Abu Dawud said: Musaddad said: I asked Abdullah bin Dawud whether they (the companions) disliked to make it a habit. He replied: it (the tradition) goes in a similar way and I found it in a similar way in this book of mine.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، اعمش کی سند سے، سلیم کی سند سے، کریب کی سند سے، ہم سے ابن عباس نے اپنی خالہ سے بیان کیا, ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا، تاکہ آپ غسل کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر جھکایا اور اسے دوبار یا تین بار دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، اور بائیں ہاتھ سے اسے دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی ڈالا، پھر کچھ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، میں نے بدن پونچھنے کے لیے رومال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا، اور پانی اپنے بدن سے جھاڑنے لگے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا: رومال سے بدن پونچھنے میں لوگ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، لیکن اسے عادت بنا لینا برا جانتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: اس پر عبداللہ بن داود سے میں نے پوچھا «العادة» یا «للعادة» ؟ تو انہوں نے جواب دیا «للعادة» ہی صحیح ہے، لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے۔
Shubah reported:
When Ibn Abbas رضی اللہ عنہما took a bath because of sexual defilement, he poured (water) over his left hand with his right hand seven times. Once he forgot how many times he had poured (water). Therefore he asked me: how many times did I pour (water)? I do not know. He said: may you miss your mother! What prevented you from remembering it? He then performed ablution as he did for prayer and poured water over his skin (body). He then said: this is how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم purified (himself).
ہم سے حسین بن عیسیٰ خراسانی نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے ابن ابی ذہب کی سند سے بیان کیا, شعبہ کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما جب غسل جنابت کرتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر سات مرتبہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، ایک بار وہ بھول گئے کہ کتنی بار پانی ڈالا، تو آپ نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے کتنی بار پانی ڈالا؟ میں نے جواب دیا: مجھے یاد نہیں ہے، آپ نے کہا: تیری ماں نہ ہو ۱؎ تمہیں یہ یاد رکھنے میں کون سی چیز مانع ہوئی؟ پھر آپ وضو کرتے جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے، پھر کہتے: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طہارت حاصل کرتے تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
There were fifty prayers (obligatory in the beginning); and (in the beginning of Islam) washing seven times because of sexual defilement (was obligatory); and washing the urine from the cloth seven times (was obligatory). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم kept on praying to Allah until the number of prayers was reduced to five and washing because of sexual defilement was allowed only once and washing the urine from the clothe was also permitted only once.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ایوب بن جبیر نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن اسام رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
پہلے پچاس ( وقت کی ) نماز ( فرض ہوئی ) تھیں، اور غسل جنابت سات بار کرنے کا حکم تھا، اسی طرح پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو سات بار دھونے کا حکم تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی امت پر برابر اللہ تعالیٰ سے تخفیف کا ) سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ نماز پانچ کر دی گئیں، جنابت کا غسل ایک بار رہ گیا، اور پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو اسے بھی ایک بار دھونا رہ گیا۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There is sexual defilement under every hair; so wash the hair and cleanse the skin. Abu Dawud said: The tradition narrated by Harith bin Wajih is rejected (Munkar). He is weak (in transmission).
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے حارث بن وجیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن دینار نے بیان کیا، وہ محمد بن سیرین کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم ( غسل کرتے وقت ) بالوں کو اچھی طرح دھوو، اور کھال کو خوب صاف کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن وجیہ کی حدیث منکر ہے، اور وہ ضعیف ہیں ۱؎۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone who is sexual defiled leaves a spot equal to the breadth of a hair without washing, such and such an amount of Hell-fire will have to be suffered for it. Ali رضی اللہ عنہ said: On that account I treated my head (hair) as an enemy, meaning I cut my hair. He used to cut the hair (of his head).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم کو عطاء بن السائب نے زادان سے خبر دی، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے غسل جنابت میں ایک بال برابر جگہ دھوئے بغیر چھوڑ دی، تو اسے آگ کا ایسا ایسا عذاب ہو گا ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے میں نے اپنے سر ( کے بالوں ) سے دشمنی کر رکھی ہے، اس جملے کو انہوں نے تین مرتبہ کہا، وہ اپنے بال کاٹ ڈالتے تھے۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took a bath and offered two rak'ahs of prayer and said the dawn prayer. I do not think he performed ablution afresh after taking a bath.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابواسحاق نے اسود کی سند سے بیان کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل ( جنابت ) کرتے تھے، اور دو رکعتیں اور فجر کی نماز ادا کرتے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل جنابت کے بعد تازہ وضو کرتے نہ دیکھتی ۱؎۔
Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
One of the Muslims asked, and Zubair reported: Umm Salamah (herself) asked: Messenger of Allah. I am a women who keeps her hair closely plaited; should I undo it when I wash after sexual defilement? He replied (no), it is enough for you to throw three handfuls over it. Then pour water over all your body and will be purified.
ہم سے زہیر بن حرب اور ابن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ایوب بن موسیٰ سے، وہ سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع کی سند سے بیان کیا, ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ایک مسلمان عورت نے کہا ( اور زہیر کی روایت میں ہے خود ام سلمہ نے ہی کہا ) : اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوطی سے باندھتی ہوں، کیا غسل جنابت کے وقت اسے کھولوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے تین لپ پانی اپنے سر پر ڈال لینا کافی ہے ، اور زہیر کی روایت میں ہے: تم اس پر تین لپ پانی ڈال لو، پھر سارے بدن پر پانی بہا لو اس طرح تم نے پاکی حاصل کر لی ۔
Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
A women came to her, this is according to the version of the former tradition. I asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم a similar question (as in the former tradition). But this version adds: “And wring out your locks after every handful of water”.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، انہیں ابن نافع نے، یعنی سنار نے، ہم سے اسامہ کی سند سے، مقبری کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ان کے پاس ایک عورت آئی، پھر آگے یہی حدیث بیان ہوئی، ام سلمہ کہتی ہیں: تو میں نے اس کے لیے اسی طرح کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی، اس روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے میں فرمایا: ہر لپ کے وقت تم اپنی لٹیں نچوڑ لو ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
When any of us was sexually defiled, she took three handfuls (of water) in this way, that is to say, with both hands together and poured (water) over her head. She took one handful (of water) and threw it on one side and the other on the other side.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ابی بکر نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، ان سے حسن بن مسلمہ نے، وہ صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے جب کسی کو غسل جنابت کی ضرورت ہوتی تو وہ تین لپ پانی اس طرح لیتی یعنی اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ایک ساتھ کر کے، پھر اسے اپنے سر پر ڈالتی اور ایک ہاتھ سے پانی لیتی تو ایک جانب ڈالتی اور دوسرے سے لے کر دوسری جانب ڈالتی۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
We took a bath while having an adhesive substance over us (our head) in both states, namely, when wearing a robe for Hajj (ihram) and when wearing ordinary clothes (not meant for Hajj).
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، عمرو بن سوید نے عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
ہم غسل کرتے تھے اور ہمارے سروں پر لیپ لگا ہوتا تھا خواہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں ہوتے یا حلال ( احرام سے باہر ) ۔
Narrated Thawban رضی اللہ عنہ :
They asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about it. He (the Prophet) replied: As regards man, he should undo the hair of his head and wash it until the water should reach the roots of the hair. But there is no harm if the woman does not undo it (her hair) and pour three handfuls of water over her head.
ہم سے محمد بن عوف نے بیان کیا کہ میں نے اسماعیل بن عیاش کی اصل عبارت میں پڑھا, ابن عوف نے کہا: ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، اپنے والد سے، ددم بن زرعہ نے مجھ سے بیان کیا, شریح بن عبید کہتے ہیں:جبیر بن نفیر نے مجھے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ بتایا کہ ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد تو اپنا سر بالوں کو کھول کر دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، اور عورت اگر اپنے بال نہ کھولے تو کوئی مضائقہ نہیں، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈال لے ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to wash his head with marsh-mallow while he was sexually defiled. It was sufficient for him and he did not pour water upon it.
ہم سے محمد بن جعفر بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے شریک نے بیان کیا، ان سے قیس بن وہب نے، وہ بنو سواعہ بن عامر کے ایک شخص سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں اپنا سر خطمی سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے، اور اس پر ( دوسرا ) پانی نہیں ڈالتے تھے۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
On being asked about (washing) the fluid that flows between man and woman. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to take a handful of water and pour it on the fluid. Again, he would take a handful of water and pour it over the fluid.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے شریک نے بیان کیا، ان سے قیس بن وہب نے، وہ بنو سواعہ بن عامر کے ایک شخص کی سند سے,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے نکلنے والی منی کے متعلق کہتی ہیں: ( اگر وہ کپڑے یا جسم پر لگ جاتی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چلو پانی لے کر لگی ہوئی منی پر ڈالتے، پھر ایک اور چلو پانی لیتے، اور اسے بھی اس پر ڈال لیتے۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
Among the jews, when a women menstruated, they ejected her from the house, and they did not eat with her, nor did they drink with her, nor did they associate with her in (their houses) so the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was questioned about that. Thereupon Allah revealed: “They question thee concerning menstruation. Say: I: is an illness, so let woman alone at such times” (ii 222). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: Associate with them in the houses and do everything except sexual intercourse. Thereupon the Jews said: This man does not want to leave anything we do without opposing us in it. Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr رضی اللہ عنہما came and said: Messenger of Allah, the jews are saying such and such a thing. Shall we not then have intercourse with women during mensuration? The face of the Messenger Allah صلی اللہ علیہ وسلم underwent such a change that we thought he was angry with them; but when they went out they received a gift of milk which was being brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and he sent after them and gave them a drink, whereupon we thought that he was not angry with them.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
یہود کی عورتوں میں جب کسی کو حیض آتا تو وہ اسے گھر سے نکال دیتے تھے، نہ اس کو ساتھ کھلاتے پلاتے، نہ اس کے ساتھ ایک گھر میں رہتے تھے، اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» اے محمد! لوگ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے، لہٰذا حالت حیض میں تم عورتوں سے الگ رہو ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے ساتھ گھروں میں رہو اور سارے کام کرو سوائے جماع کے ، یہ سن کر یہودیوں نے کہا: یہ شخص کوئی بھی ایسی چیز نہیں چھوڑنا چاہتا ہے جس میں وہ ہماری مخالفت نہ کرے، چنانچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہود ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، پھر ہم کیوں نہ ان سے حالت حیض میں جماع کریں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر خفا ہو گئے ہیں، وہ دونوں ابھی نکلے ہی تھے کہ اتنے میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلا بھیجا اور ( جب وہ آئے تو ) انہیں دودھ پلایا، تب جا کر ہم کو یہ پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
I would eat flesh from a bone when I was menstruating, then hand it over to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and he would put his mouth where I had put my mouth: I would drink, then hand it over to him, and he would put his mouth ( at the place) where I drank.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے، ان سے مقدام بن شریح نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں حالت حیض میں ہڈی سے گوشت نوچتی، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ پر رکھتے جہاں میں رکھتی تھی اور میں پانی پی کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی تو آپ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھ کر پیتے جہاں سے میں پیتی تھی۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would recline on my lap when I was menstruating, then recite the Quran.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، منصور بن عبدالرحمٰن نے صفیہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ کر قرآن پڑھتے اور میں حائضہ ہوتی۔