Narrated Ibn Abbas:
A tradition from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم conveying similar meaning. The version of Jarir has the wording: he did not cover himself while urinating. The version of Abu Muawiyah has the wording: he did not safeguard himself (from urine).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کی سند سے اور مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں جریر نے «كان لا يستتر من بوله» کہا ہے، اور ابومعاویہ نے «يستتر» کی جگہ «يستنزه» وہ پاکی حاصل نہیں کرتا تھا کا لفظ ذکر کیا ہے۔
Abdur Rahman Ibn Hasanah reported:
I and Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہما went to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم . He came out with a leather shield (in his hand). He covered himself with it and urinated. Then we said: Look at him. He is urinating as a woman does. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, heard this and said: Do you not know what befell a person from amongst Banu Isra'il (the children of Israel)? When urine fell on them, they would cut off the place where the urine fell; but he (that person) forbade them (to do so), and was punished in his grave. Abu Dawud said: One version of Abu Musa has the wording: he cut off his skin . Another version of Abu Musa goes: he cut off (part of) his body.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے اعمش نے بیان کیا، زید بن وہب سے, عبدالرحمٰن بن حسنہ کہتے ہیں
میں اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے تو ( دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( باہر ) نکلے اور آپ کے ساتھ ایک ڈھال ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آڑ کی پھر پیشاب کیا، ہم نے کہا: آپ کو دیکھو عورتوں کی طرح ( چھپ کر ) پیشاب کر رہے ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جس سے بنی اسرائیل کا ایک شخص دوچار ہوا؟ ان میں سے جب کسی شخص کو ( اس کے جسم کے کسی حصہ میں ) پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو کاٹ ڈالتا جہاں پیشاب لگ جاتا، اس شخص نے انہیں اس سے روکا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: منصور نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے، ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں پیشاب لگ جانے پر اپنی کھال کاٹ ڈالنے کی روایت کی ہے، اور عاصم نے ابووائل سے، انہوں نے ابوموسیٰ سے، اور ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا جسم کاٹ ڈالنے کا ذکر کیا ہے۔
Narrated Hudhaifah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to a midden of some people and urinated while standing. He then asked for water and wiped his shoes. Abu Dawud said: Musaddad, a narrator reported: I went far away from him. He then called me and I reached just near his heals.
ہم سے حفص بن عمر اور مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ ہم سے مصدّد نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، اور یہ حفص کا قول ہے، سلیمان سے اور ابو وائل سے, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے خانہ ( گھور ) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎ پھر پانی منگوایا ( اور وضو کیا ) اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کا بیان ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پیچھے ہٹنے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( قریب ) بلایا ( میں آیا ) یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس ( کھڑا ) تھا۔
Narrated Umaymah daughter of Ruqayqah رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had a wooden vessel under his bed in which he would urinate at night.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، ابن جریج نے حکیمہ بنت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کے تخت کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ ( رہتا ) تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو پیشاب کرتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Be on your guard against two things which provoke cursing. They (the hearers) said: Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, what are these things which provoke cursing: easing in the watering places and on the thoroughfares, and in the shade (of the tree) (where they take shelter and rest).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لعنت کے دو کاموں سے بچو ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لعنت کے وہ دو کام کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ ہیں کہ آدمی لوگوں کے راستے یا ان کے سائے کی جگہ میں پاخانہ کرے ۔
Narrated Muadh Ibn Jabal رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Be on your guard against three things which provoke cursing: easing in the watering places and on the thoroughfares, and in the shade (of the tree).
ہم سے اسحاق بن سوید رملی اور عمر بن الخطاب ابو حفص نے بیان کیا اور ان کی حدیث زیادہ مکمل ہے -ان سے سعید بن الحکم نے بیان کیا۔ ہمیں نافع بن یزید نے خبر دی۔ مجھ سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا کہ ان سے ابو سعید الحمیری نے بیان کیا, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لعنت کی تین چیزوں سے بچو: مسافروں کے اترنے کی جگہ میں، عام راستے میں، اور سائے میں پاخانہ پیشاب کرنے سے ۔
Narrated Abdullah Ibn Mughaffal رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: No one of you should make water in his bath and then wash himself there (after urination). The version of Ahmad has: Then performs ablution there, for evil thoughts come from it.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل اور حسن بن علی نے بیان کیا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، احمد نے کہا: ہم سے معمر نے بیان کیا، مجھے اشعث نے خبر دی اور حسن نے کہا: اشعث بن عبداللہ سے، حسن بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے ( حمام ) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے ۔ احمد کی روایت میں ہے: پھر اسی میں وضو کرے، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔
Narrated A Man from the Companions: Humayd al-Himyari said:
I met a man (Companion of the Prophet) who remained in the company of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم just as Abu Hurairah رضی اللہ عنہ remained in his company. He then added: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade that anyone amongst us should comb (his hair) every day or urinate in the place where he takes a bath.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، وہ داؤد بن عبداللہ کی سند سے, حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ
میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسی طرح رہا جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے یا غسل خانہ میں پیشاب کرے۔
Narrated Abdullah Ibn Sarjis رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prohibited to urinate in a hole. Qatadah (a narrator) was asked about the reason for the disapproval of urinating in a hole. He replied: It is said that these (hoes) are the habitats of the jinn.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے بیان کیا،عبدللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوراخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ لوگوں نے قتادہ سے پوچھا: کس وجہ سے سوراخ میں پیشاب کرنا ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ وہ جنوں کی جائے سکونت ( گھر ) ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came out of the privy, he used to say: Grant me Thy forgiveness.
ہم سے عمرو بن محمد ناقد نے بیان کیا، ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے یوسف کی سند سے بیان کیا, ابوبردہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء ( پاخانہ ) سے نکلتے تو فرماتے تھے: «غفرانك» اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔
Narrated Abu Qatadah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When any one of you urinates, he must not touch his penis with his right hand, and when he goes to relieve himself he must not wipe himself with his right hand (in the privy), and when he drinks, he must not drink in one breath.
ہم سے مسلم بن ابراہیم اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے عبداللہ بن عبداللہ کی سند سے بیان کیا, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور جب کوئی بیت الخلاء جائے تو داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے، اور جب پانی پیئے تو ایک سانس میں نہ پیئے ۔
Narrated Hafsah رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used his right hand for taking his food and drink and used his left hand for other purposes.
ہم سے محمد بن آدم بن سلیمان المیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی زیدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو ایوب نے بیان کیا، جس کا مطلب ہے افریقی، نے عاصم کی سند سے، مسیب بن رافع اور معبد کی سند سے, حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ کو کھانے، پینے اور کپڑا پہننے کے لیے استعمال کرتے تھے، اور اپنے بائیں ہاتھ کو ان کے علاوہ دوسرے کاموں کے لیے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used his right hand for getting water for ablution and taking food, and his left hand for his evacuation and for anything repugnant.
ہم سے ابو توبہ الربیع بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے ابن ابی عروبہ نے، ابو معشر کی سند سے، انہوں نے ابراہیم کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ وضو اور کھانے کے لیے، اور بایاں ہاتھ پاخانہ اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔
Aishah رضی اللہ عنہا , also reported a tradition bearing similar meaning through another chain of transmitters
ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب بن عطا نے بیان کیا، وہ سعید کی سند سے، ابو معشر کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود کی سند سے، عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے، ان سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی ہی کوئی برکت نازل فرما۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone applies collyrium, he should do it an odd number of times. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm. If anyone cleanses himself with pebbles, he should use an odd number. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm. If anyone eats, he should throw away what he removes with a toothpick and swallow what sticks to his tongue. If he does so, he has done well; if not, there is no harm. If anyone goes to relieve himself, he should conceal himself, and if all he can do is to collect a heap of send, he should sit with his back to it, for the devil makes sport with the posteriors of the children of Adam. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے ثور کی سند سے، وہ حصین حبرانی کی سند سے، وہ ابو سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں، جو شخص ( استنجاء کے لیے ) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، جو شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ۱؎، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے ثور سے روایت کی ہے، اس میں ( حصین حبرانی کی جگہ ) حصین حمیری ہے، اور عبدالملک بن صباح نے بھی اسے ثور سے روایت کیا ہے، اس میں ( ابوسعید کی جگہ ) ابوسعید الخیر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید الخیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔
Shayban al-Qatbani reported:
Maslamah Ibn Mukhallad made Ruwayfi ibn Thabit رضی اللہ عنہ the governor of the lower parts (of Egypt). He added: We travelled with him from Kum Sharik to Alqamah or from Alqamah to Kum Sharik (the narrator doubts) for Alqam. Ruwayfi said: Any one of us would borrow a camel during the lifetime of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم from the other, on condition that he would give him half the booty, and the other half he would retain himself. Further, one of us received an arrowhead and a feather, and the other an arrow-shaft as a share from the booty. He then reported: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: You may live for a long time after I am gone, Ruwayfi, so, tell people that if anyone ties his beard or wears round his neck a string to ward off the evil eye, or cleanses himself with animal dung or bone, Muhammad has nothing to do with him.
ہم سے یزید بن خالد بن عبداللہ بن موہب الہمدانی نے بیان کیا، ان سے المفضل یعنی ابن فضلہ المصری نے، ہم سے عیاش بن عباس الکتبانی نے بیان کیا کہ انہیں شیام بن بیطان نے خبر دی، شیبان قتبانی کہتے ہیں کہ
مسلمہ بن مخلد نے ( جو امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے بلاد مصر کے گورنر تھے ) رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ( مصر کے ) نشیبی علاقے کا عامل مقرر کیا، شیبان کہتے ہیں: تو ہم ان کے ساتھ کوم شریک ۱؎ سے علقماء ۱؎ کے لیے یا علقما ء سے کوم شریک کے لیے روانہ ہوئے، علقماء سے ان کی مراد علقام ہی ہے، رویفع بن ثابت نے ( راستے میں مجھ سے ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا اونٹ اس شرط پر لیتا کہ اس سے جو فائدہ حاصل ہو گا اس کا نصف ( آدھا ) تجھے دوں گا اور نصف ( آدھا ) میں لوں گا، تو ہم میں سے ایک کے حصہ میں پیکان اور پر ہوتا تو دوسرے کے حصہ میں تیر کی لکڑی۔ پھر رویفع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: رویفع! شاید کہ میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو تو تم لوگوں کو خبر کر دینا کہ جس شخص نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی ۲؎ یا جانور کے گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر، لید یا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
This tradition has also been narrated by Abu Salim al-Jaishahni on the authority of Abd Allah bin Amr رضی اللہ عنہما . He narrated this tradition at the time when he besieged the fort at the gate of Alyun. Abu Dawud said: The fort of Alyun lies at the mountain in Fustat. Abu Dawud said: The kunyah (surname) of Shaiban bin Umayyah is Abu Hudhaifah.
ہم سے یزید بن خالد نے بیان کیا، ہم سے مفضل نے بیان کیا، عیاش کی سند سے کہ ان سے شیام بن بیطان نے بھی یہ حدیث بیان کی ,ابوسالم جیشانی نے
اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ ( مصر میں ) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: الیون کا قلعہ فسطاط ( مصر ) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے۔ابوداؤد نے کہا: وہ شیبان بن امیہ ہیں جن کی کنیت ابو حذیفہ ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade us to use a bone or dung for wiping.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، ابو الزبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی یا مینگنی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
A deputation of the jinn came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: O Muhammad, forbid your community to cleans themselves with a bone or dung or charcoal, for in them Allah has provided sustenance for us. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade them to do so.
ہم سے حیوہ بن شریح الحمصی نے بیان کیا، ہم سے ابن عیاش نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی عمرو السیبانی نے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: آپ اپنی امت کو ہڈی، لید ( گوبر، مینگنی ) ، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When any of you goes to relieve himself, he should take with him three stones to cleans himself, for they will be enough for him.
ہم سے سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا: ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ابوحازم کی سند سے، مسلم بن قرط نے عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں ۔