Narrated Khuzaymah Ibn Thabit رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was asked about cleansing (after relieving oneself). He said: (One should cleanse oneself) with three stones which should be free from dung. Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by Abu Usamah and Ibn Numair from Hisham.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، وہ عمرو بن خزیمہ کی سند سے، وہ عمرہ بن عمیرہ سے, خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم urinated and Umar رضی اللہ عنہ was standing behind him with a jug of water. He said: What is this, Umar رضی اللہ عنہ ? He replied: Water for you to perform ablution with. He said: I have not been commanded to perform ablution every time I urinate. If I were to do so, it would become a sunnah.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور خلف بن ہشام المقری نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن یحییٰ التو ام نے بیان کیا۔ اور ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا کہ ہمیں ابو یعقوب الطعم نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اپنی والدہ کی سند سے خبر دی , ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، عمر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک کوزہ ( کلھڑ ) لے کر آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر! یہ کیا چیز ہے؟ ، عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ کے وضو کا پانی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا حکم نہیں ہوا کہ جب بھی میں پیشاب کروں تو وضو کروں، اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت ( واجبہ ) بن جائے گی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered a park. He was accompanied by a boy who had a jug of water with him. He was the youngest of us. He placed it near the lote-tree. He ( the Prophet, صلی اللہ علیہ وسلم ) relieved himself. He came to us after he had cleansed himself with water.
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے بیان کیا، یعنی الواسطی نے، خالد کی سند سے، یعنی الحزہ نے، عطاء بن ابی میمونہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The following verse was revealed in connection with the people of Quba': In it are men who love to be purified (ix. 108). He (Abu Hurairah) said: They used to cleanse themselves with water after easing. So the verse was revealed in connection with them.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن ہشام نے بیان کیا، وہ یونس بن حارث کی سند سے، ابراہیم بن ابی میمونہ کی سند سے، انہوں نے ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا» ۱؎ اہل قباء کی شان میں نازل ہوئی ہے، وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے، انہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم went to the privy, I took to him water in a small vessel or a skin, and he cleansed himself. He then wiped his hand on the ground. I then took to him another vessel and he performed ablution. Abu Dawud said: The tradition is transmitted by al-Aswad bin Amir is more perfect.
ہم سے ابراہیم بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن عامر نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک نے بیان کیا اور یہ ان کا قول ہے۔ اور ہم سے محمد بن عبداللہ یعنی المخرمی نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے شرک کی سند سے، ابراہیم بن جریر کی سند سے، ابو زرعہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو میں پیالے یا چھاگل میں پانی لے کر آپ کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاکی حاصل کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کی روایت میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے، پھر میں پانی کا دوسرا برتن آپ کے پاس لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسود بن عامر کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
(The Prophet, صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Were it not that I might overburden the believers, I would order them to delay the night ('isha ) prayer and use the Siwak at the time of every prayer.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے سفیان کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں مومنوں پر دشوار نہ سمجھتا تو ان کو نماز عشاء کو دیر سے پڑھنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔
Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Were it not hard on my ummah, I would order them to use the tooth-stick at the time of every prayer. Abu Salamah said: Zayd ibn Khalid رضی اللہ عنہ used to attend the prayers in the mosque with his Siwak on his ear where a clerk carries a pen, and whenever he got up for prayer he used it.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، وہ محمد بن ابراہیم تیمی کی سند سے، وہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے, زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر میں اپنی امت پر دشواری محسوس نہ کرتا تو ہر نماز کے وقت انہیں مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ ابوسلمہ ( ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) کہتے ہیں: میں نے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز کے لیے مسجد میں بیٹھے رہتے اور مسواک ان کے کان پر ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم لگا رہتا ہے، جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کر لیتے ( پھر کان کے اوپر رکھ لیتے ) ۔
Narrated Abdullah bin Abdullah bin Umar:
Muhammad Ibn Yahya Ibn Habban asked Abdullah Ibn Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما about the reason for Ibn Umar's performing ablution for every prayer, whether he was with or without ablution. He replied: Asma, daughter of Zayd Ibn al-Khattab, reported to me that Abdullah Ibn Hanzalah Ibn Abu Amir رضی اللہ عنہ narrated to her that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was earlier commanded to perform ablution for every prayer whether or not he was with ablution. When it became a burden for him, he was ordered to use tooth-stick for every prayer. As Ibn Umar رضی اللہ عنہ thought that he had the strength (to perform the ablution for every prayer), he did not give up performing ablution for every prayer. Abu Dawud said: Ibrahim bin Saad narrated this tradition on the authority of Muhammad bin Ishaq, and there he mentions the name of Ubaid Allah bin Abdullah (instead of Ubaidullah bin Abdullah bin Umar)
ہم سے محمد بن عوف طائی نے بیان کیا، ہم سے احمد بن خالد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، محمد بن یحییٰ بن حبان نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا: آپ بتائیں کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا سبب ( خواہ وہ باوضو ہوں یا بے وضو ) کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسماء بنت زید بن خطاب نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے ہوں یا بے وضو، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم دشوار ہوا، تو آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا خیال تھا کہ ان کے پاس ( ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی ) قوت ہے، اس لیے وہ کسی بھی نماز کے لیے اسے چھوڑتے نہیں تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن سعد نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا، انہوں نے کہا: عبید اللہ بن عبداللہ۔
Narrated Abu Burdah:
On the authority of his father ( Abu Musa al-Ashari), reported (according to the version of Musaddad): We came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to provide us with a mount, and found him using the tooth-stick, its one end being at his tongue (i. e. he wsa rinsing his mouth). According to the version of Sulaiman it goes: I entered upon the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم who was using the tooth-stick, and had it placed at one side of his tongue, producing a gurgling sound. Abu Dawud said: Musaddad said that the tradition was a lengthy but he shortened it.
ہم سے مسدد اور سلیمان بن داؤد العتکی نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، غیلان بن جریر نے، ابو بردہ سے اپنے والد سے
( مسدد کی روایت میں ہے کہ ) ہم سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور سلیمان کی روایت میں ہے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے اخ اخ جیسے آپ قے کر رہے ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کر دیا ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was using the tooth-stick, when two men, one older than the other, were with him. A revelation came to him about the merit of using the tooth-stick. He was asked to show proper respect and give it to the elder of the two.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے عنبسہ بن عبد الواحد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی تھے، ان میں ایک دوسرے سے عمر میں بڑا تھا، اسی وقت اللہ نے مسواک کی فضیلت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے۔
Shuraih asked Aishah رضی اللہ عنہا :
What would the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم do as soon as he entered the house? She replied: (He would use) the siwak.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے اور مقدام بن شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز سے ابتداء فرماتے؟ فرمایا: مسواک سے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would clean his teeth with the Siwak, then he would give me the Siwak in order to wash it. So I would first use it myself, then wash it and return it.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبداللہ الانصاری نے بیان کیا، ہم سے عنبسہ بن سعید کوفی الحاسب نے بیان کیا، ہم سے کثیر نے بیان کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کر دیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Ten are the acts according to fitrah (nature): clipping the moustache, letting the beard grow, using the tooth-stick, cutting the nails, washing the finger joints, plucking the hair under the arm-pits, shaving the pubes, and cleansing one's private parts (after easing or urinating) with water. The narrator said: I have forgotten the tenth, but it may have been rinsing the mouth.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے زکریا بن ابی زیدہ نے، مصعب بن شیبہ کی سند سے، طلق بن حبیب سے، ابن الزبیر کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں دین فطرت ہیں ۱؎: ۱- مونچھیں کاٹنا، ۲- داڑھی بڑھانا، ۳- مسواک کرنا، ۴- ناک میں پانی ڈالنا، ۵- ناخن کاٹنا، ۶- انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، ۷- بغل کے بال اکھیڑنا، ۸- ناف کے نیچے کے بال مونڈنا ۲؎، ۹ - پانی سے استنجاء کرنا ۔ زکریا کہتے ہیں: مصعب نے کہا: میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔
Narrated Ammar bin Yasir رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The rinsing of mouth and snuffing up water in the nose are acts that bear the characteristics of fitrah (nature). He then narrated a similar tradition (as reported by Aishah), but he did not mention the words letting the beard grow . He added the words circumcision and sprinkling water on the private part of the body . He did not mention the words cleansing oneself after easing . Abu Dawud said: A similar tradition has been reported on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما. He mentioned only five sunnahs all relating to the head, one of them being parting of the hair; it did not include wearing the beard. Abu Dawud said: The tradition as reported by Hammad has also been transmitted by Talq bin Habib, Mujahid, and Bakr bin Abdullah bin al-Muzani as their own statement ( not as a tradition from the Prophet, صلی اللہ علیہ وسلم ). They did not mention the words letting the beard grow . The version transmitted by Muhammad bin Abdullah bin Abi Maryam, Abu Salamah, and Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم mentions the words letting the beard grow . A similar tradition has been reported by Ibrahim al-Nakha'i. He mentioned the words wearing the beard and circumcision.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل اور داؤد بن شبیب نے بیان کیا: ہم سے حماد نے علی بن زید سے اور سلمہ بن محمد بن عمار بن یاسر کی سند سے بیان کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے والد کے حکم پر داؤد علیہ السلام نے کہا, عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فطرت میں سے ہے ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا، اس میں ختنہ کا اضافہ کیا ہے، نیز اس میں استنجاء کے بعد لنگی پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور پانی سے استنجاء کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح کی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، جس میں پانچ چیزیں ہیں ان میں سب کا تعلق سر سے ہے، اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سر میں مانگ نکالنے کا ذکر کیا ہے، اور داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث کی طرح طلق بن حبیب، مجاہد اور بکر بن عبداللہ المزنی سے ان سب کا اپنا قول مروی ہے، اس میں ان لوگوں نے بھی داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور محمد بن عبداللہ بن مریم کی روایت جسے انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں داڑھی چھوڑنے کا ذکر ہے۔ ابراہیم نخعی سے بھی اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں انہوں نے داڑھی چھوڑنے اور ختنہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔
Narrated Hudhaifah:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم got up during the night (to pray), he cleansed his mouth with the tooth-stick.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، منصور و حسین سے اور ابو وائل کی سند سے, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
Ablution water and Siwak were placed by the side of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. When he got up during the night (for prayer), he relieved himself, then he used the Siwak.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں بہز بن حکیم نے خبر دی، انہیں زرارہ بن عوفہ نے، وہ سعد بن ہشام سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے تو قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کرتے پھر مسواک کرتے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم did not get up after sleeping by night or by day without using the Siwak before performing ablution.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے علی بن زید سے، انہوں نے ام محمد رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رات کو یا دن کو سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے تھے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
I spent a night with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. When he woke up from his sleep (in the latter part of the night for prayer) he came to his ablution water. He took the tooth-stick and used it. He then recited the verse: Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are tokens (of His Sovereignty) for men of understanding (iii-190). He recited these verses up to the end of the chapter or he finished the whole chapter. He then performed ablution and came to the place of prayer. He then said two rak'ahs of prayer. He then lay down on the bed and slept as much as Allah wished. He then got up and did the same. He then lay down and slept. He then got up and did the same. Every time he used the tooth-stick and offered two rak'ah of prayer. He then offered the prayer known as witr. Abu Dawud said: Fudail on the authority if Husain reported the wording: He then used the tooth-stick and performed ablution while he was reciting the verses: Verily in the creation of the heaves and the earth. . . until he finished the chapter.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو حسین نے خبر دی، وہ حبیب بن ابی ثابت سے، محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی، یا ختم ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا ( یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی ) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی۔
Narrated Abul Malih:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah does not accept charity from goods acquired by embezzlement as He does not accept prayer without purification.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے, ابوالملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی بغیر وضو کے کوئی نماز ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah, the Exalted, does not accept the prayer of any of you when you are defiled until you performed ablution.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ہمام بن منبہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص بے وضو ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے.