Narrated Al-Mughirah Ibn Shubah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wiped over the socks. Another version adds: On the back (upper part) of the socks.
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے بیان کیا، کہا: میرے والد نے عروہ بن زبیر سے اس کا ذکر کیا ہے, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔ اور محمد بن صباح کے علاوہ دوسرے لوگوں سے «على ظهر الخفين.» ( موزوں کی پشت پر ) مروی ہے۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
If the religion were based on opinion, it would be more important to wipe the under part of the shoe than the upper but I have seen the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wiping over the upper part of his shoes.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے حفص نے بیان کیا، یعنی ابن غیاث نے العمش کی سند سے، ابواسحاق کی سند سے، عبد الخیر کی سند سے،علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
اگر دین ( کا معاملہ ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
This tradition has been transmitted through a different chain of narrators. This version adds:
“I always preferred to wash the under part of the feet until I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wiping the upper part of them.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یزید بن عبد العزیز نے بیان کیا، اعمش سے یہی حدیث اس سند سے مروی ہے , انہوں نے کہا
میں دونوں پیروں کے تلوؤں کو دھونا ہی زیادہ مناسب سمجھتا رہا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
A ‘mash transmitted this tradition saying:
I did not think except that the lower side of the feet had more right to be washed (than the upper side) until I saw the Messenger of Allah ﷺ wipe over the top of his Khuffs." Waki reported it from Al-Amash with this chain and he said (in it): "I used to think that the bottom of the feet had more right to be wiped than the top part, until I saw the Messenger of Allah ﷺ wipe over the top of them." Waki said: "Meanin the Khuffs. 'Eisa bin Yousus reported from Al-Amash, just as Waki' reported it from Ibn 'Abd Khair from his father, he said: "I saw 'Ali perform Wudu, and he washed the top of his feet, He than said: 'Had I not seen the Messenger of Allah ﷺ do this (I would not have done it).....'" And he completed the Hadith.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے حفص بن غیاث نے عماش کی سند سے اس حدیث کو بیان کیا۔ فرمایا
اگر دین ( کا معاملہ ) قیاس پر ہوتا تو دونوں قدموں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے زیادہ بہتر ہوتا، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ہے۔ اور اسے وکیع نے بھی اعمش سے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دونوں پیروں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے بہتر جانتا تھا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا۔ وکیع کا بیان ہے کہ لفظ «قدمين» سے مراد «خفين» ہے، وکیع ہی کی طرح اسے عیسیٰ بن یونس نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے، نیز اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے علی کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پاؤں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ۱؎ اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا، پھر انہوں نے پوری روایت آخر تک بیان کی۔
Narrated Al-Mughirah Ibn Shubah رضی اللہ عنہ :
I poured water while the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم performed ablution in the battle of Tabuk. He wiped over the upper part of the socks and their lower part. Abu Dawud said: I have been told that Thawr did not hear this tradition from Raja'.
ہم سے موسیٰ بن مروان اور محمود بن خالد الدمشقی المعنی نے بیان کیا: ہم سے الولید نے بیان کیا، محمود نے کہا: ہمیں ثور بن یزید نے راجہ بن حیوۃ کی سند سے کاتب کی سند سے خبر دی, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے۔
Narrated Hakam Ibn Sufyan ath-Thaqafi رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم urinated, he performed ablution and sprinkled water on private parts of the body. Abu Dawud said: A group of scholars agreed with Sufyan upon this chain of narrators. Some have mentioned the name of Sufyan bin al-Hakam, and others al-Hakam bin Sufyan.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے منصور سے، وہ مجاہد سے، انہوں نے سفیان بن الحکم ثقفی یا حاکم بنسفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے، اور ( وضو کے بعد ) شرمگاہ پر ( تھوڑا ) پانی چھڑک لیتے۔ ابوداؤد نے کہا:سفیان اور ایک گروہ نے اس سلسلہ روایت پر اتفاق کیا اور ان میں سے بعض نے کہا: الحکم، یا ابن الحکم۔
(There is another chain) from Mujahid, from a man from (the tribe of) Thaqif, from his father:
A man from Thaqif on the authority of his father reported: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم urinate, and he sprinkled water on the private parts of his body.
ہم سے اسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے سفیان، وہ ابن عیینہ ہیں، انہوں نے ہم سے ابن ابی نجیح نے، انہوں نے مجاہد کی سند سے، وہ ثقیف کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔
Hakam or Ibn al-Hakam on the authority of his father reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم urinated; then he performed ablution and sprinkled water on the private parts of his body.
ہم سے نصر بن المہاجر نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ہم سے زیدہ نے بیان کیا، منصور کی سند سے، مجاہد کی سند سے, حکم یا ابن حکم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۱؎۔
Uqbah bin Amir رضی اللہ عنہ said:
We served ourselves in the company of Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. We tended our camels by turn. One day I had my turn to tend the camels, and I drove them in the afternoon. I found the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم addressing the people. I heard him say: Anyone amongst you who performs ablution, and does it well, then he stands and offers two rak’ahs of prayer, concentrating on it with his heart and body, Paradise will be his lot by all means. I said: Ha-ha! How fine it is! A man in front of me said: The action (mentioned by the Prophet) earlier, O Uqbah, is finer that this one. I looked at him and found him to be Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ . I asked him: What is that, O Abu Hafs? He replied: He (the Prophet) had said before you came: If any one of you performs ablution, and does it well, and when he finishes the ablution, he utters the words: I bear witness that there is no deity except Allah, He has o associate, and I bear witness that Muhammad is His Servant and His Messenger, all the eight doors of Paradise will be opened for him; he may enter (through) any of them. Muawiyah said: Rabiah bin Yazid narrated this tradition to me from Abu Idris and the authority of Uqbah bin ’Amir رضی اللہ عنہ .
ہم سے احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے معاویہ کو یعنی ابن صالح کو ابو عثمان کی سند سے، وہ عنجبیر بن نفیر کی سند سے بیان کرتے ہوئے سنا, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا کام خود کرتے تھے، باری باری اپنے اونٹوں کو چراتے تھے، ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی، میں انہیں شام کے وقت لے کر چلا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پوری توجہ اور حضور قلب ( دل جمعی ) کے ساتھ ادا کرے تو اس نے ( اپنے اوپر جنت ) واجب کر لی ، میں نے کہا: واہ واہ یہ کیا ہی اچھی ( بشارت ) ہے، اس پر میرے سامنے موجود شخص نے عرض کیا: عقبہ! جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے فرمائی، وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، عرض کیا: ابوحفص! وہ کیا تھی؟ آپ نے کہا: تمہارے آنے سے پہلے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله» میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو ۔ معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا ہے، انہوں نے ابوادریس سے اور ابوادریس نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
Uqbah bin Amir al-JuhanI narrated this tradition from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in a similar way. He did not mention about tending the camels. After the words “and he performed ablution well” he added the words:
“He then raises his eyes towards the sky”. He transmitted the tradition conveying the same meaning as that of Muawiyah.
ہم سے حسین بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن یزید المقری نے بیان کیا، وہ حیوۃ کی سند سے، جو ابن شریح ہیں، انہوں نے ابو عقیل سے، وہ اپنے چچا زاد بھائی کی سند سے, اس سند سے بھی عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے, ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «فأحسن الوضوء» کے بعد یہ جملہ کہا ہے
پھر اس نے ( یعنی وضو کرنے والے نے ) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی ۱؎۔ پھر ابوعقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Abu Asad bin Amr said:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ about ablution. He replied: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم performed ablution for each prayer and we offered (many) prayers with the same ablution.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے شارق نے بیان کیا, عمرو بن عامر بجلی (محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں, عمرو بن عامر بجلی ابواسد بن عمرو ہیں ) کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔
Buraidah رضی اللہ عنہ on the authority of his father reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed five prayers with the same ablution of the occasion of the capture of Makkah, and he wiped over his socks. Umar رضی اللہ عنہ said to him (the Prophet): I saw you doing a thing today that you never did. He said: I did it deliberately.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، وہ سفیان کی سند سے، مجھ سے علقمہ بن مرثد نے، سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
A person came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He performed ablution and left a small part equal to the space of a nail upon his foot. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to him: Go back and perform ablution well. Abu Dawud said: This tradition is not known through Jarir bin Hazim. It was transmitted only by Ibn Wahab. Another version adds the wording: “ Go back and perform the ablution well. ”
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، انہیں ابن وہب نے جریر بن حازم کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ بن دعامہ رضی اللہ عنہ سے سنا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کر کے آیا، اس نے اپنے پاؤں میں ناخن کے برابر جگہ ( خشک ) چھوڑ دی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر بن حازم سے مروی یہ حدیث معروف نہیں ہے، اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے، اس جیسی حدیث معقل بن عبیداللہ جزری سے بھی مروی ہے، معقل ابوزبیر سے، ابوزبیر جابر سے، جابر عمر سے، اور عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو ۔
Hasan narrated from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم a tradition conveying the same meaning as that of Qatadah رضی اللہ عنہ .
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں یونس اور حمید نے خبر دی، انہیں حسن رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کے ساتھ جو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔
Narrated Khalid رضی اللہ عنہ :
Some Companions of the Prophet: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم saw a person offering prayer, and on the back of his foot a small part equal to the space of a dirham remained unwashed; the water did not reach it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded him to repeat the ablution and prayer.
ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیع نے بیان کیا، انہوں نے بجیر کی سند سے جو ابن سعد ہیں، انہوں نے خالد رضی اللہ عنہ سے
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ۱؎۔
Abbad bin Tamim reported from his uncle:
A person made a complaint to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم that he entertained (doubt) as if something had happened to him which had rendered his ablution invalid. He (the Prophet) said: He should not cease (to pray) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind).
ہم سے قتیبہ بن سعید اور محمد بن احمد بن ابی خلف نے بیان کیا : ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا , عباد بن تمیم کے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی گئی کہ آدمی کو کبھی نماز میں شبہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے خیال ہونے لگتا ہے ( کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If any one of you offers prayer and feels a movement between his paddocks, but is doubtful whether or not his ablution broke, he should not cease praying unless he hears a sound or perceives a smell.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے خبر دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو پھر وہ اپنی سرین میں کچھ حرکت محسوس کرے، اور اسے شبہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، تو جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے ۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم kissed me and did not perform ablution. Abu Dawud said: This tradition is Mursal (i.e. where the link of the Companions is missing and the Successor reports from the Prophet directly). Abu Dawud said: This Hadith is Mursal, since Ibrahim at-Taimi did not hear anything from Aishah رضی اللہ عنہا . Abu Dawud said: Ibrahim at-Taimi died before the age of forty and Kunya was Abu Asma.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ اور عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے ابو رؤق سے اور ابراہیم تیمی کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے فریابی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ابراہیم تیمی کا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم تیمی ابھی چالیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا تھا، ان کی کنیت ابواسماء تھی۔
Aishah رضی اللہ عنہا reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم kissed one of his wives and went out for saying prayer. He did not perform ablution. Urwah said: I said to her: Who is she except you! Thereupon she laughed. Abu Dawud said: The same version has been reported through a different chain of narrators.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے الاعمش نے بیان کیا، وہ حبیب کی سند سے، عروہ رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں۔ابوداؤد کہتے ہیں: زیدہ اور عبد الحامد الحمانی نے اسے سلیمان العمش کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Dawud said:
Yahya bin Sa'id al-Qattan said to a person: Narrate these two tradition from me, that is to say, one tradition on the authority of al-A'mash from Habib (about kissing); another through the same chain about a woman who has prolonged flow of bloos and she is asked to perform ablution for every prayer. Yahya said: Narrate from me that both these traditions are weak in respect of their chains. Abu Dawud said: Al-Thawri is reported to have said: Habib narrated this tradition to us only on the authority of 'Urwat al-Muzani, that is, he did not narrated any tradition on the authority of 'Urwah bin al-Zubair. Abu Dawud said: Hamzah al-Zayyat reported a sound tradition on the authority of Habib, from 'Urwah bin al-Zubair from 'Aishah رضی اللہ عنہا .
ہم سے ابراہیم بن مخلد الطالقانی نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہم سے ابن مغیرہ نے بیان کیا، ہم سے اعمش نے بیان کیا، ہمیں ہمارے اصحاب نے عروہ المزنی کی سند سے خبر دی، اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں
یحییٰ بن سعید قطان نے ایک شخص سے کہا: میرے حوالہ سے بیان کرو کہ یہ دونوں حدیثیں یعنی ایک تو یہی اعمش کی حدیث جو حبیب سے مروی ہے، دوسری وہ جو اسی سند سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی «لا شىء» کے مشابہ ہے ( یعنی یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم سے حبیب نے صرف عروہ مزنی کے طریق سے بیان کیا، یعنی ان لوگوں سے حبیب نے عروہ بن زبیر کے واسطہ سے کچھ نہیں بیان کیا ہے ( یعنی: عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت ثابت نہیں ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن حمزہ زیات نے حبیب سے، حبیب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک صحیح حدیث روایت کی ہے ( یعنی: عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت صحیح ہے ) ۔