Abdullah Ibn Abu Bakr reported:
He heard Urwah say: I entered upon Marwan ibn al-Hakam. We mentioned things that render the ablution void. Marwan said: Does it become void by touching the penis? Urwah replied: This I do not know. Marwan said: Busrah رضی اللہ عنہا daughter of Safwan reported to me that she heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He who touches his penis should perform ablution.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ
انہوں نے عروہ کو کہتے سنا: میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو مروان نے کہا: اور عضو تناسل چھونے سے بھی ( وضو ہے ) ، اس پر عروہ نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے“۔
Narrated Talq رضی اللہ عنہ :
We came upon the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. A man came to him: he seemed to be a bedouin. He said: Prophet of Allah, what do you think about a man who touches his penis after performing ablution? He صلی اللہ علیہ وسلم replied: That is only a part of his body. Abu Dawud said: The tradition has been transmitted through a different chain of narrators.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ملازم بن عمرو حنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بدر نے بیان کیا، قیس بن طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے ، یا کہا: ٹکڑا ہے ۔ابوداؤد نے کہا:اسے ہشام بن حسن، سفیان الثوری، شعبہ، ابن عیینہ اور جریر رازی نے محمد بن جبیر سے اور قیس بن طلق کی سند سے روایت کیا ہے۔
The tradition has also been reported by Qais bin Talq through a different chain of narrators. This version adds the wording: during the prayer
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اس میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے۔
Narrated Al-Bara Ibn Azib رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was asked about performing ablution after eating the flesh of the camel. He replied: Perform ablution, after eating it. He was asked about performing ablution after eating meat. He replied: Do not perform ablution after eating it. He was asked about saying prayer in places where the camels lie down. He replied: Do not offer prayer in places where the camels lie down. These are the places of Satan. He was asked about saying prayer in the sheepfolds. He replied: You may offer prayer in such places; these are the places of blessing.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبداللہ الرازی نے، وہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کرو ، اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو نہ کرو ، آپ سے اونٹ کے باڑے ( بیٹھنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے ، اور آپ سے بکریوں کے باڑے ( رہنے کی جگہ ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم passed by a boy who was skinning a goat. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Give it up until I show you. He (the Prophet) inserted his hand between the skin and the flesh until it reached the armpit. He then went away and led the people in prayer and he did not perform ablution. The version of Amr added that he did not touch water. Abu Dawud said: This tradition has been narrated though another chain of transmitters, making no mention of Abu Saeed.
ہم سے محمد بن علاء، عمرو بن عثمان الحمصی المعنا اور ایوب بن محمد الرقی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، ہم سے ہلال بن میمون جہنی نے عطاء بن یزید کی روایت سے بیان کیا۔ ہلال نے کہا: میں اسے ابو سعید کی سند کے علاوہ نہیں جانتا,ایوب اور عمرو نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ, ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم ہٹ جاؤ، میں تمہیں ( عملی طور پر کھال اتار کر ) دکھاتا ہوں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا، اور اسے دبایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور ( پھر سے ) وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی چھوا تک نہیں، نیز عمرو نے اپنی روایت میں «أخبرنا هلال بن ميمون الجهني» کے بجائے«عن هلال بن ميمون الرملي» ( بصیغہ عنعنہ ) کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالواحد بن زیاد اور ابومعاویہ نے ہلال سے، ہلال نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور ابوسعید ( صحابی ) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Jabir رضی اللہ عنہ narrated:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم passed by the market when on his return from one of the villages of Aliyah. People accompanied him from both sides. One the way he found a dead kid with both its ears joined together. He caught hold of it by its ear. He then said: Which of you likes to take it ? The narrator transmitted the tradition in full.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے، یعنی ابن بلال نے، جعفر کی سند سے، اپنے والد کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے دائیں بائیں جانب ہو کر چل رہے تھے، آپ چھوٹے کان والی بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کان پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: تم میں سے کون شخص اس کو لینا چاہے گا؟ ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took (the meat of) a (goat's) shoulder and offered prayer and did not perform ablution.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، انہوں نے زید بن اسلم کی سند سے، وہ عطاء بن یسار سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔
Narrated Al-Mughirah Ibn Shubah رضی اللہ عنہ :
One night I became the guest of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He ordered that a piece of mutton be roasted, and it was roasted. He then took a knife and began to cut the meat with it for me. In the meantime Bilal رضی اللہ عنہ came and called him for prayer. He threw the knife and said: What happened! may his hands be smeared with earth! He then stood for offering prayer. Al-Anbari added: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a Siwak; or he said: I shall trim your moustaches by placing the Siwak there. Al-Anbari said: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a Siwak; or he said: I shall trim your moustaches by placing the Siwak there.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن سلیمان الانباری المعنی نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، مسعر کی سند سے، ابو صخرہ جامی بن شداد سے، انہوں نے المغیرہ بن عبداللہ کی سند سے, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا ، وہ بھونی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے ، اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی ، تو آپ نے چھری رکھ دی ، اور فرمایا : ” اسے کیا ہو گیا ؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ “ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے ۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : ” میری موچھیں بڑھ گئی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا “ ، یا فرمایا : ” میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا “ ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took a shoulder (of goat's meat) and after wiping his hand with a cloth on which he was sitting, he got up and prayed.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواس نے بیان کیا، کہا ہم سے سماک نے بیان کیا، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔
Narrator Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ate a little meat from a (goat's) shoulder. He then offered prayer and did not perform ablution.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے، قتادہ کی سند سے، یحییٰ بن یعمر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت نوچ کر کھایا پھر نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔
Muhammad bin al-Munkadir said:
I heard Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما say: I presented bread and meat to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم . He ate them and called for ablution water. he performed ablution and offered the noon (Dhuhr) prayer. He then called for the remaining food and ate it. He then got up and prayed and did not perform ablution.
ہم سے ابراہیم بن الحسن الخثمی نے بیان کیا، ہم سے حجاج نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہا: مجھے محمد بن المنکدر نے خبر دی، انہوں نے کہا
میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت پیش کیا، تو آپ نے کھایا، پھر وضو کے لیے پانی منگایا، اور اس سے وضو کیا، پھر ظہر کی نماز ادا کی، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
The last practice of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was that he did not perform ablution after taking anything that was cooked with the help of fire. Abu Dawud said: This Hadith is a summerized version of the first one.
ہم سے موسیٰ بن سہل ابوعمران رملی نے بیان کیا، ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، ہم سے شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کیا، وہ محمد بن منکدر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے۔
Narrated 'Ubaid bin Thumamah Al- Muradi:
Abdullah Ibn Harith Ibn Jaz رضی اللہ عنہ the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, came upon us in Egypt. When he was narrating traditions in the Mosque of Egypt, I heard him say: I was the seventh or the sixth person in the company of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in the house of a person. In the meantime Bilal came and called him for prayer. He came out and passed by a person who had his fire-pan on the fire. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to him: Has the food in the fire-pan been cooked? He replied: Yes, my parents be sacrificed upon you. He then took a piece out of it and continued to chew it until he uttered the first takbir (Allah O Akbar) of the prayer. All this time I was looking at him.
ہم سے احمد بن عمرو بن الصرح نے بیان کیا، ہم سے عبد الملک بن ابی کریمہ نے بیان کیا، ان سے ابن السرح نے کہا: ابن ابی کریمہ مسلمانوں میں سے بہترین لوگوں میں سے ہیں۔ فرمایا: عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ
صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ مصر میں ہمارے پاس آئے، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا: کیا تمہاری ہانڈی پک گئی؟ ، اس نے جواب دیا: ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر ( تحریمہ ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Perform ablution after eating anything which has been cooked by fire.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، مجھ سے ابوبکر بن حفص نے الاثر کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے ۱؎۔
Abu Sufyan Ibn Saeed Ibn al-Mughirah reported:
He entered upon Umm Habibah رضی اللہ عنہا who presented him a glass of sawiq (a drink prepared with flour and water) to drink. He called for water and rinsed his mouth. She said: O son of my sister! Why do you not perform ablution? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Perform ablution after eating anything cooked with fire, or he said: anything touched by fire. Abu Dawud said: The version of al-Zuhri has: O my paternal cousin.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ کی سند سے، یعنی ابن ابی کثیر نے، ابو سلمہ کی سند سے, ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ
وہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا، پھر ( ابوسفیان ) نے پانی منگا کر کلی کی، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جنہیں آگ نے بدل ڈالا ہو ، یا فرمایا: جنہیں آگ نے چھوا ہو، ان چیزوں سے وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی حدیث میں لفظ: «يا ابن أخي» اے میرے بھتیجے ہے۔
Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم drank some milk and then rinsed his mouth saying: it contains greasiness.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے عقیل کی سند سے، وہ زہری کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی منگا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے ۱؎۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم drank some milk and he did not rinse his mouth nor did he perform ablution, and he offered the prayer.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے زید بن حباب کی سند سے، مطیع بن راشد کی سند سے، توبہ العنبری کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر نہ کلی کی اور نہ ( دوبارہ ) وضو کیا اور نماز پڑھی۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
We proceeded in the company of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم for the battle of Dhat ar-Riqa. One of the Muslims killed the wife of one of the unbelievers. He (the husband of the woman killed) took an oath saying: I shall not rest until I kill one of the companions of Muhammad. He went out following the footsteps of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم encamped at a certain place. He said: Who will keep a watch on us? A person from the Muhajirun (Emigrants) and another from the Ansar (Helpers) responded. He said: Go to the mouth of the mountain-pass. When they went to the mouth of the mountain-pass the man from the Muhajirun lay down while the man from the Ansar stood praying. The man (enemy) came to them. When he saw the person he realised that he was the watchman of the Muslims. He shot him with an arrow and hit the target. But he (took the arrow out and) threw it away. He (the enemy) then shot three arrows. Then he (the Muslim) bowed and prostrated and awoke his companion. When he (the enemy) perceived that they (the Muslims) had become aware of his presence, he ran away. When the man from the Muhajirun saw the (man from the Ansar) bleeding, he asked him: Glory be to Allah! Why did you not wake me up the first time when he shot at you. He replied: I was busy reciting a chapter of the Quran. I did not like to leave it.
ہم سے ابو توبہ الربیع بن نافع نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، مجھ سے صدقہ بن یسار نے عقیل بن جبیر کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نکلے، تو ایک مسلمان نے کسی مشرک کی عورت کو قتل کر دیا، اس مشرک نے قسم کھائی کہ جب تک میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کا خون نہ بہا دوں باز نہیں آ سکتا، چنانچہ وہ ( اسی تلاش میں ) نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم ڈھونڈتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چلا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، اور فرمایا: ہماری حفاظت کون کرے گا؟ ، تو ایک مہاجر اور ایک انصاری اس مہم کے لیے مستعد ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دونوں گھاٹی کے سرے پر رہو ، جب دونوں گھاٹی کے سرے کی طرف چلے ( اور وہاں پہنچے ) تو مہاجر ( صحابی ) لیٹ گئے، اور انصاری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، وہ مشرک آیا، جب اس نے ( دور سے ) اس انصاری کے جسم کو دیکھا تو پہچان لیا کہ یہی قوم کا محافظ و نگہبان ہے، اس کافر نے آپ پر تیر چلایا، جو آپ کو لگا، تو آپ نے اسے نکالا، یہاں تک کہ اس نے آپ کو تین تیر مارے، پھر آپ نے رکوع اور سجدہ کیا، پھر اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا، جب اسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ہوشیار اور چوکنا ہو گئے ہیں، تو بھاگ گیا، جب مہاجر نے انصاری کا خون دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! آپ نے پہلے ہی تیر میں مجھے کیوں نہیں بیدار کیا؟ تو انصاری نے کہا: میں ( نماز میں قرآن کی ) ایک سورۃ پڑھ رہا تھا، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے بند کروں۱؎۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
One night the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was busy and he delayed the night (isha) prayer so much so that we dosed in the mosque. We awoke, then dozed, and again awoke and again dozed. He (the prophet) then came upon us and said: There is none except you who is waiting for prayer.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، مجھ سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری میں مصروفیت کی بناء پر عشاء کی نماز میں دیر کر دی، یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا: ( اس وقت ) تمہارے علاوہ کوئی اور نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Companions during the lifetime of the messenger of Allah used to wait for the night prayer so much so that their heads were lowered down (by dozing). Then they offered prayer and did not perform ablution. Abu Dawud said: Shubah on the authority of Qatadah added: We would nod off during the time of the Messenger of Allah ﷺ . Abu Dawud said; This tradition has been transmitted through a different chain of narrators.
ہم سے شاذ بن فیاض نے بیان کیا، ہم سے ہشام الدستوی نے قتادہ کی سند سے بیان کیا، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے سر ( نیند کے غلبہ سے ) جھک جھک جاتے تھے، پھر وہ نماز ادا کرتے اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے۔