Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah said: The key to prayer is purification i; its beginning s takbir and its end is taslim.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ابن عقیل سے اور محمد بن حنفیہ کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے ۔
Abu Ghutayf al-Hudhali reported:
I was in the company of Ibn Umar رضی اللہ عنہما . When the call was made for the noon (zuhr) prayer, he performed ablution and said the prayer. When the call for the afternoon (Asr) prayer was made, he again performed ablution. Thus I asked him (about the reason of performing ablution). He replied: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: For a man who performs ablution in a state of purity, ten virtuous deeds will be recorded (in his favour). Abu Dawud said: This is the tradition narrated by Musaddad, and it is more perfect.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن یزید مقری نے بیان کیا اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن زیاد نے بیان کیا، ابوداؤد نے کہا, میں ابن یحییٰ کی حدیث میں زیادہ صحیح ہوں, ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ
میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، جب ظہر کی اذان ہوئی تو آپ نے وضو کر کے نماز پڑھی، پھر عصر کی اذان ہوئی تو دوبارہ وضو کیا، میں نے ان سے پوچھا ( اب نیا وضو کرنے کا کیا سبب ہے؟ ) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جو شخص وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسدد کی روایت ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم , was asked about water (in desert country) and what is frequented by animals and wild beasts. He replied: When there is enough water to fill two pitchers, it bears no impurity. Abu Dawood said: This is the wording of Al-Ala. 'Uthman and Al-Hasan bin Ali said: "From Muhammad bin Abbad bin Ja'far." Abu Dawood said: And this is what is correct.
ہم سے محمد بن العلاء، عثمان بن ابی شیبہ، حسن بن علی اور دیگر نے بیان کیا: ہم سے ابو اسامہ نے ولید بن کثیر سے، محمد بن جعفر بن الزبیر کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے آتے جاتے ہوں ( اس میں سے پیتے اور اس میں پیشاب کرتے ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کو دفع کر دے گا ( یعنی نجاست اس پر غالب نہیں آئے گی ) ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں، عثمان اور حسن بن علی نے محمد بن جعفر کی جگہ محمد بن عباد بن جعفر کا ذکر کیا ہے، اور یہی درست ہے۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When there is enough water to fill two pitchers, it does not become impure. Abu Dawud said: Hammad bin Zaid has narrated this tradition on the authority of Asim (without any reference to the Prophet)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم کو عاصم بن المنذر نے خبر دی، وہ عبید اللہ بن عزیر رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی جب دو قلہ کے برابر ہو جائے تو وہ ناپاک نہیں ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے عاصم سے اس روایت کو موقوفاً بیان کیا ہے ( اوپر سند میں حماد بن سلمہ ہیں ) ۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When there is enough water to fill two pitchers, it does not become impure. Abu Dawud said: Hammad bin Zaid has narrated this tradition on the authority of Asim ( without any reference to the Prophet)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم کو عاصم بن المنذر نے خبر دی، وہ عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی جب دو قلہ کے برابر ہو جائے تو وہ ناپاک نہیں ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے عاصم سے اس روایت کو موقوفاً بیان کیا ہے ( اوپر سند میں حماد بن سلمہ ہیں ) ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The people asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم : Can we perform ablution out of the well of Budaah, which is a well into which menstrual clothes, dead dogs and stinking things were thrown? He replied: Water is pure and is not defiled by anything. Abu Dawud says: Some people said Abdur Rahman bin Rafi' instead of Abdullah bin Rafi'.
ہم سے محمد بن العلاء، حسن بن علی اور محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا: ہم سے ابو اسامہ نے ولید بن کثیر سے، محمد بن کعب کی سند سے، عبید اللہ بن عبداللہ بن خدیج رضی اللہ عنہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
I heard that the people asked the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم : Water is brought for you from the well of Budaah. It is a well in which dead dogs, menstrual clothes and excrement of people are thrown. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم replied: Verily water is pure and is not defiled by anything. Abu Dawud said I heard Qutaibah bin Saeed say: I asked the person in charge of the well of Bud'ah about the depth of the well. He replied: At most the water reaches pubes. Then I asked: Where does it reach when its level goes down ? He replied: Below the private part of the body. Abu Dawud said: I measured the breadth of the well of Budaah with my sheet which I stretched over it. I them measured it with the hand. It measured six cubits in breadth. I then asked the man who opened the door of garden for me and admitted me to it: Has the condition of this well changed from what it had originally been in the past ? He replied: No. I saw the color of water in this well had changed.
ہم سے احمد بن ابی شعیب اور عبد العزیز بن یحییٰ حرانیا ن نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے، محمد بن اسحاق سے، سلط بن ایوب سے، عبید اللہ بن عبدالرحمٰن بن عافی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یہ فرماتے سنا جب کہ آپ سے پوچھا جا رہا تھا کہ بئر بضاعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا جاتا ہے، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور لوگوں کے پاخانے ڈالے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے بئر بضاعہ کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیا: پانی جب زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک رہتا ہے، میں نے پوچھا: اور جب کم ہوتا ہے؟ تو انہوں نے جواباً کہا: تو ستر یعنی گھٹنے سے نیچے رہتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے بئر بضاعہ کو اپنی چادر سے ناپا، چادر کو اس پر پھیلا دیا، پھر اسے اپنے ہاتھ سے ناپا، تو اس کا عرض ( ۶ ) ہاتھ نکلا، میں نے باغ والے سے پوچھا، جس نے باغ کا دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کیا: کیا بئر بضاعہ کی بناوٹ و شکل میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلی ہوئی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
One of the wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم took a bath from a large bowl. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم wanted to perform ablution or take from the water left over. She said to him: O Prophet of Allah, verily I was sexually defiled. The Prophet said: Water not defiled.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، کہا ہم سے سماک نے بیان کیا، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک لگن سے ( چلو سے پانی لے لے کر ) غسل جنابت کیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنے کے لیے تشریف لائے تو ام المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی ( اور یہ غسل جنابت کا بچا ہوا پانی ہے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: None amongst you should urinate in stagnant water, and then wash in it.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ز ایدہ نے ہشام کی حدیث میں محمد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس سے غسل کرے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: None amongst you should urinate in standing water, then wash in it after sexual defilement.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، وہ محمد بن عجلان سے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی اس میں جنابت کا غسل کرے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The purification of the utensil belonging to any one of you, after it has been licked by a dog, consists of washing it seven times, using sand in the first instance. Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by Abu Ayyub and Habib bin al-Shahid on the authority of Muhammad.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زیدہ نے بیان کیا، ہشام کی حدیث میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکی یہ ہے کہ اس کو سات بار دھویا جائے، پہلی بار مٹی سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب اور حبیب بن شہید نے بھی اسی طرح محمد سے روایت کی ہے۔
A similar tradition has been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. But this version has been narrated as a statement of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ himself and not attributed to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم . The version has the addition of the words:
If the cat licks (a utensil), it should be washed once.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے المتمیر نے بیان کیا، یعنی ابن سلیمان نے اور ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، یہ سب ایوب کی سند سے, محمد (ابن سیرین) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں, لیکن ان دونوں ( حماد بن زید اور معتمر ) نے اس حدیث کو مرفوعاً نقل نہیں کیا ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ
جب بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے تو ایک بار دھویا جائے گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When a dog licks a (thing contained in a) utensil you must wash it seven times, using earth (sand) for the seventh time. Abu Dawood said (that some narrators) narrated it from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ without mention the earth.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ، ساتویں بار مٹی سے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوصالح، ابورزین، اعرج، ثابت احنف، ہمام بن منبہ اور ابوسدی عبدالرحمٰن نے بھی اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے لیکن ان لوگوں نے مٹی کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Ibn Mughaffal رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ordered the killing of the dogs, and then said: Why are they (people) after them (dogs)? and then granted permission (to keep) for hunting and for (the security) of the herd, and said: When the dog licks the utensil wash it seven times, and rub it with earth the eighth time. Abu Dawud said: Ibn Mughaffal narrated in a similar way.
ہم سے احمد بن محمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، شعبہ کی سند سے، ہم سے ابو الطیہ نے مطرف کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا: لوگوں کو ان سے کیا سروکار؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کے نگراں کتوں کے پالنے کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے مانجھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مغفل نے ایسا ہی کہا ہے۔
Kabshah, daughter of Kab Ibn Malik and wife of Ibn Abu Qatadah رضی اللہ عنہ , reported:
Abu Qatadah رضی اللہ عنہ visited (me) and I poured out water for him for ablution. A cat came and drank some of it and he tilted the vessel for it until it drank some of it. Kabshah said: He saw me looking at him; he asked me: Are you surprised, my niece? I said: Yes. He then reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: It is not unclean; it is one of those (males or females) who go round among you.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے مالک کی سند سے، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، حمیدہ بنت عبید بن رفاعہ کی سند سے, کبشۃ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے -وہ ابن ابی قتادہ کے عقد میں تھیں- وہ کہتی ہیں
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، اتنے میں بلی آ کر اس میں سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے پانی کا برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشۃ کہتی ہیں: پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو دیکھا کہ میں ان کی طرف ( حیرت سے ) دیکھ رہی ہوں تو آپ نے کہا: میری بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے ۔
Dawud Ibn Salih Ibn Dinar at-Tammar quoted his mother as saying:
Her mistress sent her with some pudding (harisah) to Aishah رضی اللہ عنہا who was offering prayer. She made a sign to me to place it down. A cat came and ate some of it, but when Aishah رضی اللہ عنہا finished her prayer, she ate from the place where the cat had eaten. She stated: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: It is not unclean: it is one of those who go round among you. She added: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performing ablution from the water left over by the cat.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا, داود بن صالح بن دینار تمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ
ان کی مالکن نے انہیں ہریسہ ( ایک قسم کا کھانا ) دے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے عائشہ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے کھانا رکھ دینے کا اشارہ کیا ( میں نے کھانا رکھ دیا ) ، اتنے میں ایک بلی آ کر اس میں سے کچھ کھا گئی، جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو بلی نے جہاں سے کھایا تھا وہیں سے کھانے لگیں اور بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ ناپاک نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے ، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلی کے جھوٹے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
I and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took a bath from one vessel while we were sexually defiled.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کے واسطہ سے، منصور نے ابراہیم کے واسطہ سے، اسود سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے اور ہم دونوں جنبی ہوتے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
My hands and the hands of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم alternated into one vessel while we performed ablution.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسامہ بن زید نے، وہ ابن خربوذ کی سند سے, ام صبیہ جہنیہ (خولہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں باری باری پڑتے۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The males and females during the time of the Messenger of Allah ( sal Allahu alayhi wa sallam ) used to perform the ablution from one vessel together. The wordings from one vessel occur in the version of Musaddad.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب سے، نافع کی سند سے۔ اور ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں وضو کیا کرتے تھے۔ مصدّد نے کہا: سب ایک ہی برتن سے۔
Narrated Abdullah bin Umar:
We (men) and women during the life-time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to perform ablution from one vessel. We all put our hands in it.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، عبید اللہ کی سند سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم اور عورتیں مل کر ایک برتن سے وضو کرتے، اور ہم اپنے ہاتھ اس میں ( باری باری ) ڈالتے تھے۔