Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as sayings: when one of you is invited for a wedding feast, he must attend it.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی دعوت میں مدعو کیا جائے تو اسے چاہیئے کہ اس میں آئے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar to the same effect through a different chain of narrators. This version has the additional words:
If he is not fasting, he should eat, and if he is fasting, he should leave it.
ہم سے مخلد بن خالد نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، وہ نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں,رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم کی حدیث بیان فرمائی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ
اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو ( کھانے اور کھلانے والوں کے لیے بخشش و برکت کی ) دعا کرے ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: if one of you invites his brother, he should accept (the invitation), whether it is a wedding feast or something of that nature.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے، ایوب کے واسطہ سے، نافع سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو ولیمے کی یا اسی طرح کی کوئی دعوت دے تو وہ اسے قبول کرے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Nafi to the same effect through the chain of narrators as mentioned in Ayyub.
ہم سے ابن المصفی نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیع نے بیان کیا، ہم سے الزبیدی نے بیان کیا, اس سند سے بھی نافع سے ایوب کی روایت جیسی حدیث مروی ہے۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as sayings: when one of you is invited to a meal, he must accept. If he wishes he may eat, but if he wishes (to leave), he may leave.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو دعوت دی جائے اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے پھر اگر چاہے تو کھائے اور چاہے تو نہ کھائے ۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who does not accept an invitation which he receives has disobeyed Allah and His Messenger of, and he who enters without invitation enters as a thief and goes out as a raider. Abu Dawud said: Aban bin Tariq is unknown.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے دورست بن زیاد نے بیان کیا، ان سے ابان بن طارق نے، طارق کی سند سے، نافع کی سند سے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہیں کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اور جو بغیر دعوت کے گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر نکلا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابان بن طارق مجہول راوی ہیں۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The worst kind of food is that at a wedding feast to which the rich are invited and from which the poor are left out. If anyone does not attend the feast to which he was invited, he has disobeyed Allah and His Messenger (ﷺ).
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، العرج کی سند سے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے
سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالدار بلائے جائیں اور غریب و مسکین چھوڑ دیئے جائیں، اور جو ( ولیمہ کی ) دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
Thabit said:
The marriage of Zainab daughter of Jahsh رضی اللہ عنہا was mentioned before Anas bin Malik. He said: I did not see that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم held such a wedding feast for any of his wives as he did for her. He held a wedding feast with a sheep.
ہم سے مسدد اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا, ثابت کہتے ہیں
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم held a wedding feast) for Safiyyah رضی اللہ عنہا with meal and dates.
ہم سے حامد بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ہم سے وائل بن داؤد نے بیان کیا، ان سے اپنے بیٹے بکر بن وائل نے زہری کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ستو اور کھجور کا ولیمہ کیا۔
Narrated Zubayr bin Uthman:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The wedding feast on the first day is a duty, that on the second is a good practice, but that on the third day is to make men hear of it and show it to them. Qatadah said: A man told me that Saeed ibn al-Musayyab was invited (to a wedding feast on the first day and he accepted it. He was again invited on the second day, and he accepted. When he was invited on the third day, he did not accept; he said: They are the people who make men hear of it and show it to them.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، حسن رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عثمان ثقفی بنو ثقیف کے ایک کانے شخص سے روایت کرتے ہیں,( جسے اس کی بھلائیوں کی وجہ سے معروف کہا جاتا تھا، یعنی خیر کے پیش نظر اس کی تعریف کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا نام تھا ) کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ پہلے روز حق ہے، دوسرے روز بہتر ہے، اور تیسرے روز شہرت و ریاکاری ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کو پہلے دن دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کیا اور دوسرے روز بھی دعوت دی گئی تو اسے بھی قبول کیا اور تیسرے روز دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور کہا: ( دعوت دینے والے ) نام و نمود والے اور ریا کار لوگ ہیں۔
Qatadah reported this story from Saeed bin al-Musayyab. This version adds:
When he was invited on the third day, he did not accept and threw pebbles at the one who brought the invitation
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، قتادہ کی سند سے, اس سند سے بھی سعید بن مسیب سے یہی واقعہ مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ
پھر جب تیسرے روز انہیں دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور قاصد کو کنکری ماری۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم returned to Madina, he would slaughter a camel or a cow.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، شعبہ نے محارب بن دثار کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی۔
Abu Shuraih al-Kaabi رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as sayings: He who believes in Allah and the Last Day should honour his guest provisions for the road are what will serve for a day and night: hospitality extends for three days; what goes after that is sadaqah (charity): and it is not allowable that a guest should stay till he makes himself an encumbrance. Abu Dawud said: Malik was asked about the saying of the Prophet: Provisions for the road what will serve for a day a night. He said: He should honor him, present him some gift, and protect him for a day and night, and hospitality for three days.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے اور سعید مقبوری کی سند سے بیان کیا, ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیئے، اس کا جائزہ ایک دن اور ایک رات ہے اور ضیافت تین دن تک ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «جائزته يوم وليلة» کے متعلق پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان ایک دن اور ایک رات تک اس کی عزت و اکرام کرے، تحفہ و تحائف سے نوازے، اور اس کی حفاظت کرے اور تین دن تک ضیافت کرے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Hospitality extend for three days, and what goes beyond that is sadaqah (charity).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل اور محمد بن محبوب نے بیان کیا: ہم سے حماد نے عاصم کی سند سے، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہمانداری تین روز تک ہے، اور جو اس کے علاوہ ہو وہ صدقہ ہے ۔
Narrated Abu Karimah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: It is a duty of every Muslim (to provide hospitality) to a guest for a night. If anyone comes in the morning to his house, it is a debt due to him. If he wishes, he may fulfil it, and if he wishes he may leave it.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل اور محمد بن محبوب نے بیان کیا: ہم سے حماد نے عاصم کی سند سے، ابو صالح کی سند سے, ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر مہمان کی ایک رات کی ضیافت حق ہے، جو کسی مسلمان کے گھر میں رات گزارے تو ایک دن کی مہمانی اس پر قرض ہے، چاہے تو اسے وصول کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے ۔
Narrated Al-Miqdam Abu Karimah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If any Muslim is a guest of people and is given nothing, it is the duty of every Muslim to help him to the extent of taking for him from their crop and property for the entertainment of one night.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، شعبہ کی سند سے، مجھ سے ابو الجودی نے بیان کیا، سعید بن ابی المہاجر نے مقدام ابو کریمہ رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی قوم کے پاس بطور مہمان آئے اور صبح تک ویسے ہی محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد لازم ہے یہاں تک کہ وہ ایک رات کی مہمانی اس کی زراعت اور مال سے لے لے ۔
Uqbah bin Amir رضی اللہ عنہ said:
We said: Messenger of Allah! You send us out and we come to people who do not give hospitality, so what is your opinion? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If you come to people who order for you what is fitting for a guest, accept it; but if they do not, take from them what is fitting for them to give to a guest. Abu Dawud said: And this is an authority for a man to take a thing if it is due to him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ابو الخیر کی سند سے, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں ( جہاد یا کسی دوسرے کام کے لیے ) بھیجتے ہیں تو ( بسا اوقات ) ہم کسی قوم میں اترتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اگر تم کسی قوم میں جاؤ اور وہ لوگ تمہارے لیے ان چیزوں کا انتظام کر دیں جو مہمان کے لیے چاہیئے تو اسے تم قبول کرو اور اگر وہ نہ کریں تو ان سے مہمانی کا حق جو ان کے حسب حال ہو لے لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے دلیل ہے جس کا حق کسی کے ذمہ ہو تو وہ اپنا حق لے سکتا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
When the verse: O ye who believe! eat not up your property among yourselves in vanities, but let there be amongst you traffic and trade by mutual good will was revealed, a man thought it a sin to eat in the house of another man after the revelation of this verse. Then this (injunction) was revealed by the verse in Surat an-Nur: No blame on you whether you eat in company or separately. When a rich man (after revelation) invited a man from his people to eat food in his house, he would say: I consider it a sin to eat from it, and he said: a poor man is more entitled to it than I. The Arabic word tajannah means sin or fault. It was then declared lawful to eat something on which the name of Allah was mentioned, and it was made lawful to eat the flesh of an animal slaughtered by the people of the Book.
ہم سے احمد بن محمد المروزی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حسین بن واقد نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ..... أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade that the food of two people who were rivalling on another should be eaten Abu Dawud said: Most of those who narrated it from Jarir did not mention the name of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما . Harun al-Nahwi mentioned Ibn Abbas رضی اللہ عنہما in it, and Hammad bin Zaid did not mention Ibn Abbas رضی اللہ عنہما .
ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے زبیر بن خریت نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باہم فخر کرنے والوں کی دعوت کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر سے روایت کرنے والوں میں سے اکثر لوگ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کرتے ہیں نیز ہارون نحوی نے بھی اس میں ابن عباس کا ذکر کیا ہے اور حماد بن زید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
Narrated Safinah Abu Abdur Rahman said:
A man prepared food for Ali رضی اللہ عنہ who was his guest, and Fatimah رضی اللہ عنہا said: I wish we had invited the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he had eaten with us. They invited him, and when he came he put his hands on the side-ports of the door, but when he saw the figured curtain which had been put at the end of the house, he went away. So Fatimah رضی اللہ عنہا said to Ali رضی اللہ عنہا : Follow him and see what turned him back. I (Ali رضی اللہ عنہ) followed him and asked: What turned you back, Messenger of Allah? He replied: It is not fitting for me or for any Prophet to enter a house which is decorated.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، سعید بن جمحان سے, سفینہ ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا بنایا ( اور بھیج دیا ) تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرما لیتے چنانچہ انہوں نے آپ کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کے دونوں پٹ پر رکھا، تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے ایک کونے میں ایک منقش پردہ لگا ہوا ہے، ( یہ دیکھ کر ) آپ لوٹ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جا کر ملئیے اور دیکھئیے آپ کیوں لوٹے جا رہے ہیں؟ ( علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا اور پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یا کسی نبی کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی آرائش و زیبائش والے گھر میں داخل ہو ۔