Narrated Muadh رضی اللہ عنہ :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent him to the Yemen, he ordered him to take a male or a female calf a year old for every thirty cattle and a cow in its third year for every forty, and one dinar for every adult (unbeliever as a poll-tax) or cloths of equivalent value manufactured in the Yemen.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے العمش نے، ابو وائل کی سند سے,معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ وہ گائے بیلوں میں ہر تیس ( ۳۰ ) پر ایک سالہ بیل یا گائے لیں، اور چالیس ( ۴۰ ) پر دو سالہ گائے، اور ہر بالغ مرد سے ( جو کافر ہو ) ایک دینار یا ایک دینار کے بدلے اسی قیمت کے کپڑے جو یمن کے معافر نامی مقام میں تیار کئے جاتے ہیں ( بطور جزیہ ) لیں۔
This tradition has also been transmitted by Muadh رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators to the same effect.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ، النفیلی اور ابن المثنی نے بیان کیا: ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے ا عمش نے بیان کیا، انہیں ابراہیم کی سند سے اور مسروق کی سند سے, اس سند سے بھی معاذ رضی اللہ عنہ سےاسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent him to Yemen. He then narrated the tradition something similar. He did not mention in this version cloths made in the Yemen nor did he refer to adult (unbelievers). Abu Dawud said This tradition has been transmitted by Jarir, Yala, Mamar, Abu ‘Awanahand Yahya bin Saeed from Al Amash, from Abu Wail, on the authority of Masruq, and from Yala and Mamar on the authority of Muadh to the same effect.
ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے سفیان سے، اعمش سے، ابو وائل سے، مسروق کی سند سے, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا، لیکن اس میں یہ کپڑے یمن میں بنتے تھے کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ راوی کی تشریح یعنی «محتلمًا» کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے جریر، یعلیٰ، معمر، شعبہ، ابو عوانہ اور یحییٰ بن سعید نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کیا ہے، یعلیٰ اور معمر نے اسی کے مثل اسے معاذ سے روایت کیا ہے۔
Suwayd Ibn Ghaflah رضی اللہ عنہ said:
I went myself or someone who accompanied the collector of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم told me: It was recorded in the document written by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم not to accept a milking goat or she-camel or a (suckling) baby (as zakat on animals); and those which are in separate flocks are not to be brought together, and those which are in one flock are not to be separated. The collector used to visit the water-hole when the sheep went there and say: Pay the sadaqah (zakat) on your property. The narrator said: A man wanted to give him his high-humped camel (kawma'). The narrator (Hilal) asked: What is kawma', Abu Salih? He said: A camel a high hump. The narrator continued: He (the collector) refused to accept it. He said: I wish you could take the best of my camels. He refused to accept it. He then brought another camel lower in quality than the previous one. He refused to accept it too. He then brought another camel lower in quality than the previous one. He accepted it, saying: I shall take it, but I am afraid the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم might be angry with me, saying to me: You have purposely taken from a man a camel of your choice. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Hushaim from Hilal bin Khabbab to the same effect. But he said: Those which are in one flock are not to be separated.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، ان سے ہلال بن خباب نے، میسرہ ابو صالح کی سند سے, سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں خود گیا، یا یوں کہتے ہیں: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محصل کے ساتھ گیا تھا اس نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ کی کتاب میں لکھا تھا: ہم زکاۃ میں دودھ والی بکری یا دودھ پیتا بچہ نہ لیں، نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق اس وقت آتا جب بکریاں پانی پر جاتیں اور وہ کہتا: اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو، ایک شخص نے اپنا کوبڑے کوہان والا اونٹ کو دینا چاہا تو مصدق نے اسے لینے سے انکار کر دیا، اس شخص نے کہا: نہیں، میری خوشی یہی ہے کہ تو میرا بہتر سے بہتر اونٹ لے، مصدق نے پھر لینے سے انکار کر دیا، اب اس نے تھوڑے کم درجے کا اونٹ کھینچا، مصدق نے اس کے لینے سے بھی انکار کر دیا، اس نے اور کم درجے کا اونٹ کھینچا تو مصدق نے اسے لے لیا اور کہا: میں لے لیتا ہوں لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر غصہ نہ ہوں اور آپ مجھ سے کہیں: تو نے ایک شخص کا بہترین اونٹ لے لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشیم نے ہلال بن خباب سے اسی طرح روایت کیا ہے، مگر اس میں «لا تفرق» کی بجائے «لا يفرق» ہے۔
Suwaid bin Ghaflah رضی اللہ عنہ reported:
The collector of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to us. I caught hold of his hand and read in the document that the goods were not to be combined nor were they to be separated for fear of zakat. There is no mention of milch animals in this tradition.
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے شارق نے بیان کیا، عثمان بن ابی زرعہ نے ابو لیلیٰ کندی کی سند سے, سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محصل آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی کتاب میں پڑھا: زکوۃ کے خوف سے جدا مال اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھا مال جدا کیا جائے ، اس روایت میں دودھ والے جانور کا ذکر نہیں ہے۔
Muslim Ibn Shubah said:
Nafi Ibn Alqamah appointed my father as charge d'affaires of his tribe, and commanded him to collect sadaqah (zakat) from them. My father sent me to a group of them; so I came to an aged man called Sa'r ibn Disam I said: My father has sent me to you to collect zakat from you. He asked: What kind of animals will you take, my nephew? I replied: We shall select the sheep and examine their udders. He said: My nephew, I shall narrate a tradition to you. I lived on one of these steppes during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم along with my sheep. Two people riding a camel came to me. They said to me: We are messengers of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, sent to you so that you may pay the sadaqah (zakat) on your sheep. I asked: What is due from me for them? They said: One goat. I went to a goat which I knew was full of milk and fat, and I brought it to them. They said: This is a pregnant goat. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited us to accept a pregnant goat. I asked: What will you take then? They said: A goat in its second year or a goat in its third year. I then went to a goat which had not given birth to any kid, but it was going to do so. I brought it to them. They said: Give it to us. They took it on the camel and went away. Abu Dawud said: Abu Asim transmitted this tradition from Zakariyya. He said: Muslim bin Shubah is a narrator in the chain of this tradition as reported by the narrator Rawh.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے زکریا بن اسحاق المکی نے، عمرو بن ابی سفیان الجمعی کی سند سے, مسلم بن ثفنہ یشکری کہتے ہیں
نافع بن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کے کاموں پر عامل مقرر کیا اور انہیں ان سے زکاۃ وصول کرنے کا حکم دیا، میرے والد نے مجھے ان کی ایک جماعت کی طرف بھیجا، چنانچہ میں ایک بوڑھے آدمی کے پاس آیا، جس کا نام سعر بن دیسم تھا، میں نے کہا: مجھے میرے والد نے آپ کے پاس زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ہے، وہ بولے: بھتیجے! تم کس قسم کے جانور لو گے؟ میں نے کہا: ہم تھنوں کو دیکھ کر عمدہ جانور چنیں گے، انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں: میں اپنی بکریوں کے ساتھ یہیں گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رہا کرتا تھا، ایک بار دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہو کر آئے اور مجھ سے کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں، تاکہ تم اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کرو، میں نے کہا: مجھے کیا دینا ہو گا؟ انہوں نے کہا: ایک بکری، میں نے ایک بکری کی طرف قصد کیا، جس کی جگہ مجھے معلوم تھی، وہ بکری دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی، میں اسے نکال کر ان کے پاس لایا، انہوں نے کہا: یہ بکری پیٹ والی ( حاملہ ) ہے، ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بکری لینے سے منع کیا ہے، پھر میں نے کہا: تم کیا لو گے؟ انہوں نے کہا: ایک برس کی بکری جو دوسرے برس میں داخل ہو گئی ہو یا دو برس کی جو تیسرے میں داخل ہو گئی ہو، میں نے ایک موٹی بکری جس نے بچہ نہیں دیا تھا مگر بچہ دینے کے لائق ہونے والی تھی کا قصد کیا، اسے نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: اسے ہم نے لے لیا، پھر وہ دونوں اسے اپنے اونٹ پر لاد کر لیے چلے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے زکریا سے روایت کیا ہے، انہوں نے بھی مسلم بن شعبہ کہا ہے جیسا کہ روح نے کہا۔
This tradition has also been narrated by Zakariyya bin Ishaq through his chain of narrators. In this version Mulsim bin Shubah said:
Shafi' means a goat which has a baby in its womb. Abu Dawud said: I read in a document possessed by Abdullah ibn Salim at Hims: Abdullah Ibn Muawiyah al-Ghadiri reported the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: He who performs three things will have the taste of the faith. (They are: ) One who worships Allah alone and one believes that there is no god but Allah; and one who pays the zakat on his property agreeably every year. One should not give an aged animal, nor one suffering from itch or ailing, and one most condemned, but one should give animals of medium quality, for Allah did not demand from you the best of your animals, nor did He command you to give the animals of worst quality.
ہم سے محمد بن یونس نسائی نے بیان کیا، ہم سے راح نے بیان کیا، اس طریق سے بھی زکریا بن اسحاق سے یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے,اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ
«شافع» وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ ۱۵۸۲/م- ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں، روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا: جو صرف اللہ کی عبادت کرے، «لا إله إلا الله» کا اقرار کرے، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے، اور زکاۃ میں بوڑھا، خارشتی، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے ۔
Narrated Ubayy Ibn Kab رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commissioned me as a collector of zakat. I visited a man. When he had collected his property of camels, I found that a she-camel in her second year was due from him. I said to him: Pay a she-camel in her second year, for she is to be paid as sadaqah (zakat) by you. He said: That one is not worthy of milking and riding. Here is another she-camel which is young, grand and fat. So take it. I said to him: I shall not take an animal for which I have not been commanded. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم is here near to you. If you like, go to him, and present to him what you presented to me. Do that; if he accepts it from you, I shall accept it; if he rejects it, I shall reject it. He said: I shall do it. He accompanied me and took with him the she-camel which he had presented to me. We came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said to him: Prophet of Allah, your messenger came to me to collect zakat on my property. By Allah, neither the Messenger of Allah nor his messenger has ever seen my property before. I gathered my property (camels), and he estimated that a she-camel in her second year would be payable by me. But that has neither milk nor is it worth riding. So I presented to him a grand young she-camel for acceptance as zakat. But he has refused to take her. Look, she is here; I have brought her to you, Messenger of Allah. Take her. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: That is what is due from you. If you give voluntarily a better (animal) Allah will give a reward to you for it. We accept her from you. She is here, Messenger of Allah; I have brought her to you. So take her. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then ordered me to take possession of it, and he prayed for a blessing on his property.
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے ابن اسحاق کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زراربن نے بیان کیا, عمارہ بن عمرو بن حزم کی سند سے،ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، میں ایک شخص کے پاس سے گزرا، جب اس نے اپنا مال اکٹھا کیا تو میں نے اس پر صرف ایک بنت مخاض کی زکاۃ واجب پائی، میں نے اس سے کہا: ایک بنت مخاض دو، یہی تمہاری زکاۃ ہے، وہ بولا: بنت مخاض میں نہ تو دودھ ہے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ ( اس پر ) سواری کی جا سکے، یہ لو ایک اونٹنی جوان، بڑی اور موٹی، میں نے اس سے کہا: میں ایسی چیز کبھی نہیں لے سکتا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم سے قریب ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس جا کر وہی بات پیش کرو جو تم نے مجھ سے کہی ہے، اب اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے ہیں تو میں بھی اسے لے لوں گا اور اگر آپ واپس کر دیتے ہیں تو میں بھی واپس کر دوں گا، اس نے کہا: ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور وہ اس اونٹنی کو جو اس نے میرے سامنے پیش کی تھی، لے کر میرے ساتھ چلا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے نبی! آپ کا قاصد میرے پاس مال کی زکاۃ لینے آیا، قسم اللہ کی! اس سے پہلے کبھی نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کو دیکھا اور نہ آپ کے قاصد نے، میں نے اپنا مال اکٹھا کیا تو اس نے کہا: تجھ پر ایک بنت مخاض لازم ہے اور بنت مخاض نہ دودھ دیتی ہے اور نہ ہی وہ سواری کے لائق ہوتی ہے، لہٰذا میں نے اسے ایک بڑی موٹی اور جوان اونٹنی پیش کی، لیکن اسے لینے سے اس نے انکار کر دیا اور وہ اونٹنی یہ ہے جسے لے کر میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں، اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر واجب تو بنت مخاض ہی ہے، لیکن اگر تم خوشی سے اسے دے رہے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر عطا کرے گا اور ہم اسے قبول کر لیں گے ، وہ شخص بولا: اے اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، یہ وہی اونٹنی ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے لیے اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent Muadh رضی اللہ عنہ to Yemen, he said to him You are going to a people who are people of the book. So call them to bear witness that there is no diety but Allah, and that I am the Messenger of Allah. If they obey you in this respect, tell them that Allah has prescribed five prayers on them every day and night. If they obey you in this regard tell them that Allah has prescribed sadaqah (zakat) on their property and returned it to their poor. If they obey you in this respect, do not take the best of their property. Beware of the curse of the oppressed, for there is no curtain between it and Allah.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے زکریا بن اسحاق مکی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن سیفی نے ابومعبد کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا: تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو، ان کو اس بات کی طرف بلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ یہ مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے گی، پھر اگر وہ یہ بھی مان لیں تو تم ان کے عمدہ مالوں کو نہ لینا اور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who collects more sadaqah than is due is like him who refuses to pay it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، وہ سعد بن سنان کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکوۃ لینے میں زیادتی کرنے والا، زکوۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۔
Narrated Bashir Ibn al-Khasasiyyah رضی اللہ عنہ :
Ibn Ubayd said in the version of his tradition that his name was not Bashir, but (it was) the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم (who had) named him Bashir) We said: (to the Messenger of Allah): The collectors of sadaqah collect more than is due; can we hide our property to that proportion? He replied: No.
ہم سے مہدی بن حفص اور محمد بن عبید نے بیان کیا، یعنی ہم سے حماد نے، ایوب کے واسطہ سے، دیسم نامی ایک شخص سے اور ابن عبید نے بنو سدوس سے بیان کیا, بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
( ابن عبید اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ان کا نام بشیر نہیں تھا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھ دیا تھا ) وہ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: زکاۃ لینے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں، کیا جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اتنا مال ہم چھپا لیا کریں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔
The aforesaid tradition has also been narrated by Ayyub through a different chain of narrators to the same effect. This version adds:
We said Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم the collectors of sadaqah collect more than is due from us. Abu Dawud said Abd Al Razzaq narrated this tradition from Mamar attributing it to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے حسن بن علی اور یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا: ہم سے عبدالرزاق نے معمر کی سند سے بیان کیا, اس سند سے بھی ایوب سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
مگر اس میں ہے ہم نے کہا: اللہ کے رسول! زکاۃ لینے والے زیادتی کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے معمر سے اسے مرفوعاً نقل کیا ہے۔
Narrated Jabir Ibn Atik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Riders who are objects of dislike to you will come to you, but you must welcome them when they come to you, and give them a free hand regarding what they desire. If they are just, they will receive credit for it, but if they are unjust, they will be held responsible. Please them, for the perfection of your zakat consists in their good pleasure, and let them ask a blessing for you. Abu Dawud said: The name of the narrator Abu al-Ghusn is Thabit bin Qais bin Ghusn.
ہم سے عباس بن عبد العظیم اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے ابو الغصن کی سند سے، صخر بن اسحاق سے، عبدالرحمٰن بن جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ تم سے زکوۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے، جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں، اسے لینے دو، اگر انصاف کریں گے تو فائدہ انہیں کو ہو گا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہو گا، لہٰذا تم ان کو خوش رکھو، اس لیے کہ تمہاری زکوۃ اس وقت پوری ہو گی جب وہ خوش ہوں اور انہیں چاہیئے کہ تمہارے حق میں دعا کریں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو الغسن ثابت بن قیس بن غسن ہیں۔
Jarir bin Abdallah رضی اللہ عنہ :
He told of some people, meaning nomadic Arabs, who came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said Collectors of zakat come to us and act unjustly. He said please those who collect the sadaqah from you. They asked Even if they wrong us, Messenger of Allah? He replied Please those who collect sadaqah from you. The version of Uthman adds “Even if you are wronged”. Abu Kamil said in this version “Jarir رضی اللہ عنہ said No collector of zakat returned from me since I heard this from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, but he was pleased with me. ”
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا، یعنی ابن زیاد نے, ہم سےعثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے بیان کیا، اور یہ ابو کامل کی حدیث ہے، وہ محمد بن ابی اسماعیل کی سند سے، ہم سے عبدالرحمٰن بن ہلال العبسی نے بیان کیا، جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، انہوں نے پوچھا: اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں ۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں: جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا۔
Narrated Abdallah bin Abi Awfa رضی اللہ عنہ :
My father was one of those Companions who took the oath of allegiance at the hand of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم beneath the tree. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said when the people brought him their sadaqah: O Allah, bless the family of so and so. When my father brought him his sadaqah he said O Allah bless the family of Abu Awfa.
ہم سے حفص بن عمر النمری اور ابو الولید طیالسی نے بیان کیا, ہم سے شعبہ نے عمرو بن مرہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میرے والد ( ابواوفی ) اصحاب شجرہ میں سے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قوم اپنے مال کی زکوۃ لے کر آتی تو آپ فرماتے: اے اللہ! آل فلاں پر رحمت نازل فرما، میرے والد اپنی زکوۃ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر رحمت نازل فرما ۔
'Amr bin Shu'aib, on his father's authority, said that his grandfather reported:
The Prophet (ﷺ) as saying: There is to be no collecting of sadaqah (zakat) from a distance, nor must people who own property remove it far away, and their sadaqahs are to be received in their dwelling.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن اسحاق نے، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہیں کرتا۔ اور ان کی زکوٰۃ ان کے گھروں کے علاوہ نہیں لی جائے گی۔
It was reported from Muhammad bin Ishaq said:
The meaning of jalab said is that the zakat of animals should be collected at their places (dwellings), and they (animals) should not be pulled to the collector of zakat. The meaning of janab is that the animals are removed at a distance (from the collector). The owners of the animals should do so. The collector of zakat should not stay at a distance from the places of the people who bring their animals to him. The zakat should be collected in its place.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو محمد بن اسحاق سے ان کے اس قول کے بارے میں کہتے سنا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «لا جلب ولا جنب» کی تفسیر میں مروی ہے کہ «لا جلب» کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کر لی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں، اور «جنب» فریضہ زکوۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے: وہ کہتے ہیں: «جنب» یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکوۃ لی جائے گی ۔
Narrated Abdallah bin Umar رضی اللہ عنہ :
Umar bin Al Khattab رضی اللہ عنہ gave a horse as alms in the way of Allah. He then found it being sold, and intended to buy it. So he asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about this. He said Do not buy it, and do not take back your sadaqah.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر اسے بکتا ہوا پایا تو خریدنا چاہا تو اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو، اپنے صدقے کو مت لوٹاؤ ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: No sadaqah is due on a horse or a slave except that given at the breaking of the fast (at the end of Ramadan).
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور محمد بن یحییٰ بن فیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے ایک شخص کے واسطہ سے، مکول کے واسطہ سے، عرک بن مالک سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے اور غلام یا لونڈی میں زکوۃ نہیں، البتہ غلام یا لونڈی میں صدقہ فطر ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah(ﷺ) as saying No sadaqah is due from a Muslim on his slave or his horse.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے سلیمان بن یسار سے، ان سے عر اک بن مالک نے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اپنے غلام یا گھوڑے کی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔