Narrated Abdallah bin Umar:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying A tenth is payable on what is watered by rain or rivers or brooks or from underground moisture and a twentieth on what is watered by draught camels or other animals.
اعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کھیت کو آسمان یا دریا یا چشمے کا پانی سینچے یا زمین کی تری پہنچے، اس میں سے پیداوار کا دسواں حصہ لیا جائے گا اور جس کھیتی کی سینچائی رہٹ اور جانوروں کے ذریعہ کی گئی ہو اس کی پیداوار کا بیسواں حصہ لیا جائے گا ۔
Narrated Jabir bin Abdallah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying A tenth is payable on what is watered by rivers and brooks or from underground moisture and a twentieth on what is watered by draught camels.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے دریا یا چشمے کے پانی نے سینچا ہو، اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے رہٹ کے پانی سے سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے ۔
Waki said
Ba’l means the agricultural crop which grows by the rain water. Ibn Al Aswad said and Yahya, that is, Ibn Adam said I asked Abu Iyas al Asadi (about this word ba’l). He replied What is watered by rain.
ہم سے الہیثم بن خالد الجہنی اور حسین بن اسود عجلی نے بیان کیا, وکیع کہتے ہیں
«بعل» سے مراد وہ کھیتی ہے جو آسمان کے پانی سے ( بارش ) اگتی ہو، ابن اسود کہتے ہیں: یحییٰ ( یعنی ابن آدم ) کہتے ہیں: میں نے ابو ایاس اسدی سے «بعل» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: «بعل» وہ زمین ہے جو آسمان کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو، نضر بن شمیل کہتے ہیں: «بعل» بارش کے پانی کو کہتے ہیں۔
Narrated Muadh Ibn Jabal رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent him to the Yemen, he said (to him): Collect corn from the corn, sheep from the sheep, camel from the camels, and cow from the cows. Abu Dawud said: In Egypt I saw a cucumber thirteen spans in length and a citron cut into two pieces loaded on a camel like two loads.
ہم سے ربیع بن سلیمان نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے سلیمان کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن بلال نے، شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کی سند سے، وہ عطاء بن یسار کی سند سے, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو فرمایا: غلہ میں سے غلہ لو، بکریوں میں سے بکری، اونٹوں میں سے اونٹ اور گایوں میں سے گائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے مصر میں ایک ککڑی کو بالشت سے ناپا تو وہ تیرہ بالشت کی تھی اور ایک سنترہ دیکھا جو ایک اونٹ پر لدا ہوا تھا، اس کے دو ٹکڑے کاٹ کر دو بوجھ کے مثل کر دیئے گئے تھے ۔
Amr bin Shuaib, on his father's authority, said that his grandfather reported:
Hilal, a man from the tribe of Banu Mat'an brought a tenth of honey which he possessed in beehives to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He asked him (the Messenger of Allah) to give the wood known as Salabah as a protected (or restricted) land. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave him that wood as a protected land. When Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ succeeded, Sufyan Ibn Wahb wrote to Umar رضی اللہ عنہ asking him about this wood. Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ wrote to him: If he (Hilal) pays you the tithe on honey what he used to pay to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, leave the protected land of Salabah in his possession; otherwise those bees are like those of any wood; anyone can take the honey as he likes.
ہم سے احمد بن ابی شعیب حرانی نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن اعیان نے بیان کیا، وہ عمرو بن حارث المصری سے، عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
بنی متعان کے ایک فرد متعان اپنے شہد کا عشر ( دسواں حصہ ) لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کے ایک سلبہ نامی جنگل کا ٹھیکا طلب کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگل کو ٹھیکے پردے دیا، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وہب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، وہ ان سے اس کے متعلق پوچھ رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ( جواب میں ) لکھا اگر ہلال تم کو اسی قدر دیتے ہیں، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے یعنی اپنے شہد کا دسواں حصہ، تو سلبہ کا ان کا ٹھیکا قائم رکھو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو مکھیاں بھی جنگل کی دوسری مکھیوں کی طرح ہیں، جو چاہے ان کا شہد کھا سکتا ہے۔
Amr bin Shuaib, on his father's authority, said that his grandfather reported:
That was Banu Shababah, a sub-clan of the tribe Fahm. The narrator then transmitted the tradition something similar. He added: (They used to pay) one bag (of honey) out of ten bags. Sufyan Ibn Abdullah Ath-Thaqafi gave them two woods as protected lands. They used to give as much honey (as zakat) as they gave to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He (Sufyan) used to protect their woods.
ہم سے احمد بن عبدہ الضبی نے بیان کیا، ہم سے المغیرہ نے بیان کیا اور انہوں نے اسے عبدالرحمٰن بن حارث المخزومی کی طرف منسوب کیا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے عمرو بن شعیب کی روایت سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا کی روایت سے بیان کیا
قبیلہ شبابہ جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ ہے، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا اور کہا: ہر دس مشک میں سے ایک مشک زکاۃ ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں: وہ ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیئے ہوئے تھے، اور مزید کہتے ہیں: تو وہ لوگ انہیں اسی قدر شہد دیتے تھے جتنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اور آپ نے ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیا تھا۔
Amr bin Shuaib said on the authority of his father that his grandfather reported:
A sub clan of Fahm. He then narrated the tradition like that of the narrator Al Mughirah. This version has “ (They used to give) sadaqah out of ten bags (of honey). ” He also added “Two woods of theirs”.
ہم سے ربیع بن سلیمان المحدثین نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے اسامہ بن زید نے بیان کیا، انہیں عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے کہ
ایک قبیلہ فہم نے ایک ہی معنی کے ساتھ کہا: الغبیر کے معنی ہیں: قرب، اور فرمایا: ان کی دو وادیاں۔
Narrated Attab Ibn Usayd رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded to estimate vines (for collecting zakat) as palm-trees are estimated. The zakat is to be paid in raisins as the zakat on palm trees is paid in dried dates.
ہم سے عبدالعزیز بن سری الناقط نے بیان کیا، ہم سے بشر بن منصور نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے، زہری کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے, عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا جیسے درخت پر کھجور کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور ان کی زکوۃ اس وقت لی جائے جب وہ خشک ہو جائیں جیسے کھجور کی زکوۃ سوکھنے پر لی جاتی ہے۔
The Above-mentioned tradition has also been narrated by Ibn Shihab through a different chain of narrators to the same effects.
ہم سے محمد بن اسحاق المسیبی نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نافع نے بیان کیا، وہ محمد بن صالح التمار کی سند سے,ابن شہاب سے اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے, ابوداؤد کہتے ہیں: سعید نے عتاب سے کچھ نہیں سنا ہے ۔
Abdur Rahman Ibn Masud رضی اللہ عنہ said:
Sahl Ibn Abu Hathmah رضی اللہ عنہ came to our gathering. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanding us said: When you estimate take them leaving a third, and if you do not leave or find a third, leave a quarter.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ خبیب بن عبدالرحمٰن سے, عبدالرحمٰن بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں تشریف لائے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تم پھلوں کا تخمینہ کر لو تب انہیں کاٹو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی ہی چھوڑ دیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اندازہ لگانے والا ایک تہائی بیج بونے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے چھوڑ دے گا، اس کی زکاۃ نہیں لے گا۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
While Aishah رضی اللہ عنہا was recollected the incident of Khaibar: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to send Abdullah Ibn Rawahah رضی اللہ عنہ to the Jews of Khaybar, and he would make an estimate of the palm trees when the fruit was in good condition before any of it was eaten.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ابن شہاب کی سند سے، عروہ کی سند سے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے کہا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کے پاس بھیجتے تو وہ کھجور کو اس وقت اندازہ لگاتے جب وہ پکنے کے قریب ہو جاتی قبل اس کے کہ وہ کھائی جا سکے۔
Abu Umamah bin Sahl رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited to accept ja'rur and habiq dates as zakat. Az-Zuhri said: These are two kinds of the dates of Madina. Abu Dawud said: This has also been transmited by Abu al-Walid from Sulaiman bin Kathir from Az-Zuhri.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد نے بیان کیا، ان سے سفیان بن حسین نے بیان کیا، وہ زہری سے، وہ ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جعرور» اور «لون الحبیق» کو زکاۃ میں لینے سے منع فرمایا، زہری کہتے ہیں: یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید نے بھی سلیمان بن کثیر سے انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے۔
Narrated Awf Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon us in the mosque, and he had a stick in his hand. A man hung there a bunch of hashaf. He struck the bunch with the stick, and said: If the owner of this sadaqah (alms) wishes to give a better one than it, he would give. The owner of this sadaqah will eat hashaf on the Day of Judgment.
ہم سے نصر بن عاصم الانطاکی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ یعنی القطان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالحمید بن جعفر نے بیان کیا، مجھ سے صالح بن ابی عرب نے کثیر بن مرہ کی سند سے بیان کیا, عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا: اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا ، پھر فرمایا: یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز «حشف» ( خراب قسم کی کھجور ) کھائے گا ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prescribed the sadaqah (alms) relating to the breaking of the fast as a purification of the fasting from empty and obscene talk and as food for the poor. If anyone pays it before the prayer (of Eidd), it will be accepted as zakat. If anyone pays it after the prayer, that will be a sadaqah like other sadaqahs (alms).
ہم سے محمود بن خالد الدمشقی اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن السمرقندی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ نے کہا: ہم سے ابو یزید الخولانی نے بیان کیا، وہ ثقہ شیخ تھے اور ان سے ابن وہب روایت کرتے تھے,ہم سے سیار بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، محمود الصدفی نے عکرمہ کی سند سے کہا,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے، لہٰذا جو اسے ( عید کی ) نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded us that the end of Ramadan when the fasting is closed sadaqah (alms) should be paid before the people went to prayer. Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما used to pay it one or two days before.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prescribed as zakat payable by slave and freeman, male and female, among the muslims on closing the fast of Ramadan one sa of dried dates or one sa’ of barley. (This tradition was read out by Abdullah bin Maslamah to Malik)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا اور مالک نے بھی نافع کی سند سے مجھ سے پڑھ کر سنایا,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع فرض کیا ہے، جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام پر، مرد اور عورت پر ( فرض ) ہے۔ (یہ روایت عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کو پڑھ کر سنائی)
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prescribed the sadaqah at the end of Ramadan one sa’. The narrator then transmitted the tradition like the one narrated by Malik. This version adds: “Young and old. He gave command that this should be paid before the people went out to prayers. ” Abu Dawud said: Abdullah al-Umari narrated it from Nafi through his chain: “on every Muslim. ” The version of Saeed al-Jumahi has: “Among the Muslims. ” The well-known version transmitted by Ubaid Allah does not mention the words “among the Muslims”
ہم سے یحییٰ بن محمد بن سکن نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جحضم نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، وہ عمر بن نافع سے اپنے والد سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا، پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اس میں «والصغير والكبير وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة» ہر چھوٹے اور بڑے پر ( صدقہ فطر واجب ہے ) اور آپ نے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے اس کے ادا کر دینے کا حکم دیا ) کا اضافہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ عمری نے اسے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں «على كل مسلم» کے الفاظ ہیں ( یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے ) ۱؎اور اسے سعید جمحی نے عبیداللہ ( عمری ) سے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ ہے حالانکہ عبیداللہ سے جو مشہور ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ نہیں ہے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prescribed sadaqah at the end of Ramadan one sa’ of barley and dried dates, payable by young and old freeman and slave. The version of Musa adds: “ male and female”. Abu Dawud said: the words “male and female” narrated, by Ayyub and Abdullah al Umari were narrated in their version on the authority of Nafi.
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ ان سے یحییٰ بن سعید اور بشر بن المفضل نے عبید اللہ کی سند سے بیان کیا, ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے۔ موسیٰ کی روایت میں «والذكر والأنثى» بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے «ذكر أو أنثى» کے الفاظ ( نکرہ کے ساتھ ) ذکر کئے ہیں۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The people during the lifetime of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to bring forth the sadaqah at the end of Ramadan when closing the fast one sa' of barley whose straw is removed, or of raisins. Abdullah said: When Umar (رضی اللہ عنہ) succeeded, and the wheat became abundant, Umar رضی اللہ عنہ prescribed half a sa' of wheat instead of all these things.
ہم سے الہیثم بن خالد جہنی نے بیان کیا، ہم سے حسین بن علی الجعفی نے بیان کیا، ان سے زاید کی سند سے، ہم سے عبد العزیز بن ابی رواد نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ صدقہ فطر میں ایک صاع جو یا کھجور یا بغیر چھلکے کا جو، یا انگور نکالتے تھے، جب عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور گیہوں بہت زیادہ آنے لگا تو انہوں نے ان تمام چیزوں کے بدلے گیہوں کا آدھا صاع ( صدقہ فطر ) مقرر کیا۔
Abdullah (bin Umar) said:
“The people then began to pay half a sa’ of wheat later on. The narrator said: Abdullah (bin Umar) use to pay dried dates as sadaqah one year the people of Madina lacked dried dates, hence he paid barley.
ہم سے مسدد اور سلیمان بن داؤد العاتکی نے بیان کیا: ہم سے حماد نے ایوب سے اور نافع کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا
اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کر لیا، عبداللہ ( ایک صاع ) کھجور ہی دیا کرتے تھے، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہو گیا تواس لیے انہوں نے جو دیا۔