Buraidah رضی اللہ عنہ said:
A woman came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said I gave a slave girl as sadaqah to my mother who has now died and has left that slave girl. He said your reward is sure and the inheritance has given her back to you.
ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن عطاء نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن بریدہ سے اپنے والد سے, بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی، اب وہ مر گئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کر گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اجر پورا ہو گیا، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی ۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
During the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم we used to consider ma'un (this of daily use) lending a bucket and cooking-pot.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے، عاصم بن ابی النجود کی سند سے، انہوں نے شقیق کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم ڈول اور دیگچی عاریۃً دینے کو «ماعون» میں شمار کرتے تھے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying If any owner of treasure (gold and silver) does not pay what is due on it, Allah will make it heated in the Hell fire on the Day of Judgment, and his side, forehead and back will be cauterized with it until Allah gives His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years of your count and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. If any owner does not pay zakat on them, the sheep wilkl appear on the Day or Judgment most strong and in great number, a soft sandy plain will be spread out for them ; they will gore him with their horns and trample him with their hoofs; there will be none of them with twisted horns or without horns. As often as the last of them passes him, the first of them will be brought back to him, until Allah pronounces His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years that you count, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell. If any owner of camels does not pay what is due on them, they will appear in on the Day or Judgment most strong and in great number, a soft sandy plain will be spread out for them ; they will gore him with their horns and trample him with their hoofs; there will be none of them with twisted horns or without horns. As often as the last of them passes him, the first of them will be brought back to him, until Allah pronounces His Judgment among mankind during a day whose extent will be fifty thousand years that you count, and he sees whether his path is to take him to Paradise or to Hell.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، سہیل بن ابی صالح سے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس مال ہو وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز اللہ اسے اس طرح کر دے گا کہ اس کا مال جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس سے اس کی پیشانی، پسلی اور پیٹھ کو داغا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ایک ایسے دن میں فیصلہ فرما دے گا جس کی مقدار تمہارے ( دنیاوی ) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہو گی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھے گا وہ راہ یا تو جنت کی طرف جا رہی ہو گی یا جہنم کی طرف۔ ( اسی طرح ) جو بکریوں والا ہو اور ان کا حق ( زکاۃ ) ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز وہ بکریاں اس سے زیادہ موٹی ہو کر آئیں گی، جتنی وہ تھیں، پھر اسے ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے کچلیں گی، ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ کی نہ ہو گی اور نہ ایسی ہو گی جسے سینگ ہی نہ ہو، جب ان کی آخری بکری مار کر گزر چکے گی تو پھر پہلی بکری ( مارنے کے لیے ) لوٹائی جائے گی ( یعنی باربار یہ عمل ہوتا رہے گا ) ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن میں جس کی مقدار تمہارے ( دنیاوی ) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہو گی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ ( اسی طرح ) جو بھی اونٹ والا ہے اگر وہ ان کا حق ( زکاۃ ) ادا نہیں کرتا تو یہ اونٹ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ طاقتور اور موٹے ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ بھی روند چکے گا تو پہلے اونٹ کو ( روندنے کے لیے ) پھر لوٹایا جائے گا، ( یہ عمل چلتا رہے گا ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اس دن میں جس کی مقدار تمہارے ( دنیاوی ) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہو گی، پھر وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف ۔
It was narrrated from Zaid bin Aslam, Abu Salih from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم :
This version adds after the words “does not pay what is due on them” in the description of the camels the words “ One thing which is due being to milk them when they come down to drink water. ”
ہم سے جعفر بن مسافر نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن سعد نے بیان کیا، زید بن اسلم نے ابوصالح کی سند سے, اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے
البتہ اس میں اونٹ کے قصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «لا يؤدي حقها . قال ومن حقها حلبها يوم وردها» کا جملہ بھی ہے ( یعنی ان کے حق میں سے یہ ہے کہ جب وہ پانی پینے ( گھاٹ پر ) آئیں تو ان کو دوہے ) ، ( اور دوہ کر مسافروں نیز دیگر محتاجوں کو پلائے ) ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying something similar to this tradition. He (the narrator) said to Abu Hurairah رضی اللہ عنہ : What is due on camels? He replied: That you should give the best of your camels (in the path of Allah), that you lend a milch she-camel, you lend your mount for riding, that you lend the stallion for covering, and that you give the milk (to the people) for drinking.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ کی سند سے، وہ ابو عمر غدانی سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کا قصہ سنا تو راوی نے ان سے یعنی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تم اچھا اونٹ اللہ کی راہ میں دو، زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی عطیہ دو، سواری کے لیے جانور دو، جفتی کے لیے نر کو مفت دو اور لوگوں کو دودھ پلاؤ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ubaid bin Umair through a different chain of narrators. This version goes:
A man asked: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, what is due on camels? He replied in a similar way. This version adds and to lend its udders. ”
ہم سے یحییٰ بن خلف نے بیان کیا، ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج کی سند سے، انہوں نے کہا: ابو الزبیر نے کہا, عبید بن عمر کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے «وإعارة دلوها» ( اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا ) ۔
Jabir bin Abdallah رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded that he who plucks ten wasqs of dates from date palms should hang a bunch of dates in the mosque for the poor
ہم سے عبدالعزیز بن یحییٰ حرانی نے بیان کیا، مجھ سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، محمد بن یحییٰ بن حبان سے، اپنے چچا و سع بن حبان کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو دس وسق کھجور توڑے تو ایک خوشہ مسکینوں کے واسطے مسجد میں لٹکا دے۔
Abu Saeed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
While we were traveling along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم a man came to him on his she camel, and began to drive her right and left. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said he who has a spare riding beast should give it to him who has no riding beast; and he who has surplus equipment should give it to who has no equipment. We thought that none of us had a right in surplus property.
ہم سے محمد بن عبداللہ الخزاعی اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو الاشہب نے ابو نادرہ کی سند سے بیان کیا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور دائیں بائیں اسے پھیرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کوئی فاضل ( ضرورت سے زائد ) سواری ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو، جس کے پاس فاضل توشہ ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم میں سے فاضل چیز کا کسی کو کوئی حق نہیں ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
When this verse was revealed: And those who hoard gold and silver, the Muslims were grieved about it. Umar رضی اللہ عنہ said: I shall dispel your care. He, therefore, went and said: Prophet of Allah, your Companions were grieved by this verse. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah has made zakat obligatory simply to purify your remaining property, and He made inheritances obligatory that they might come to those who survive you. Umar رضی اللہ عنہ then said: Allah is most great. He then said to him: Let me inform you about the best a man hoards; it is a virtuous woman who pleases him when he looks at her, obeys him when he gives her a command, and guards his interests when he is away from her.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن یعلٰی المحاربی نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے غیلان نے بیان کیا، جعفر بن ایاس سے مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب آیت کریمہ «والذين يكنزون الذهب والفضة» نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہاری اس مشکل کو میں رفع کرتا ہوں، چنانچہ وہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) گئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے زکاۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال پاک ہو جائیں ( جس مال کی زکاۃ نکل جائے وہ کنز نہیں ہے ) اور اللہ نے میراث کو اسی لیے مقرر کیا تاکہ بعد والوں کو ملے ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو مسلمان کا سب سے بہتر خزانہ ہے؟ وہ نیک عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب وہ حکم دے تو اسے مانے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے ۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A beggar has the right though he may be riding (a horse).
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ہم سے مصعب بن محمد بن شر حبیل نے بیان کیا، ان سے یعلیٰ بن ابی یحییٰ نے بیان کیا، ان سے فاطمہ بنت حسین نے بیان کیا، وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سائل کا حق ہے خواہ وہ گھوڑے پر ہی کیوں نہ آئے۔
The above mentioned tradition has also been transmitted by Ali رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators in a similar manner from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے ایک شیخ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ان کے ساتھ سفیان کو دیکھا، فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہا سے، ان کے والد سے، علی رضی اللہ عنہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے، اللہ تعالیٰ ان کو بھی اسی طرح کی کوئی چیز عطا فرمائے۔
Narrated Umm Bujayd رضی اللہ عنہا :
She took the oath of allegiance to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said to him: Messenger of Allah, a poor man stands at my door, but I find nothing to give him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to her: If you do not find anything to give him, put something in his hand, even though it should be a burnt hoof.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بجید کی سند سے، وہ اپنی دادی ام المومنین سے,ام بجید رضی اللہ عنہا
یہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دروازے پر مسکین کھڑا ہوتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو میں اسے دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو سوائے ایک جلے ہوئے کھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ۔
Asma رضی اللہ عنہا said:
My mother came to me seeking some act of kindness from me during the treaty of the Quraish (at Hudaibiyyah). While she hated Islam and she was a polytheist. I said Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, my mother has come to me while she hates Islam and she is a disbeliever. May I do an act of kindness to her? He replied Yes, do an act of kindness to her.
ہم سے احمد بن ابی شعیب حرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو ۔
Buhaysah reported on the authority of his father:
My father sought permission from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. (When permission was granted and he came near him) he lifted his shirt, and began to kiss him and embrace him (out of love for him). He asked: Messenger of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He replied: Water. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing which it is unlawful to refuse? He said: To do good is better for you.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے کہمس نے بیان کیا، ان سے بنو فزارہ کے ایک شخص سیار بن منظور نے، اپنے والد سے، ایک عورت کے واسطہ سے, بہیسہ اپنے والد (عمیر) کہتی ہیں کہ
میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( آپ کے پاس آنے کی ) اجازت طلب کی، ( اجازت دے دی تو وہ آئے ) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہو گئے ( یعنی آپ کی قمیص اٹھا لی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک کو چومنے اور آپ سے لپٹنے لگے، پھر انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمک ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لیے بہتر ہے ( یعنی پانی نمک تو مت روکو اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو دوسری چیزیں بھی نہ روکو ) ۔
Abdur-Rahman bin Abu Bakr (رضی اللہ عنہما) said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked Is there anyone of you who provided food to a poor man today? Abu Bakr رضی اللہ عنہ said I entered the mosque where a beggar was begging; I found a piece of bread in the hand of Abdal-Rahman which I took and gave it to him
ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن بکر سہمی نے بیان کیا، ہم سے مبارک بن فضالہ نے بیان کیا، وہ ثابت البنانی کی سند سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے, عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو؟ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے، میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Nothing but Paradise must be begged for Allah's sake.
ہم سے ابو العباس القلوری نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن اسحاق الحضرمی نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن معاذ تمیمی نے بیان کیا، ہم سے ابن المنکدر نے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone seeks protection in Allah's name, grant him protection; if anyone begs in Allah's name, give him something; if anyone gives you an invitation, accept it; and if anyone does you a kindness, recompense him; but if you have not the means to do so, pray for him until you feel that you have compensated him.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے ۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah Al-Ansari رضی اللہ عنہما :
While we were sitting with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم a man brought him some gold equal in weight to an egg, and said: Messenger of Allah, I have got this from a mine; take it; it is sadaqah. I have no more than this. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم turned his attention from him. Then he came to him from his right side and repeated the same words. But he (the Prophet) turned his attention from him. He then came to him from his left side and repeated the same words. But he (again) turned his attention from him. He then came to him from behind. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم took it and threw it away. Had it hit him, it would have hurt him or wounded him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: One of you brings all that he possesses and says: This is sadaqah. Then he sits down and spreads his hand before the people. The best sadaqah is that which leaves a competence.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، عاصم بن عمر بن قتادہ کی سند سے، محمود بن لبید کی سند سے, جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈہ کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے، آپ اسے لے لیجئے، یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کر دیتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے: یہ صدقہ ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مالدار رہے ۔
The above mentioned tradition has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators to the same effect:
This version adds have your property with you from us. We have no need of it.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا, اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے
البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: «خذ عنا مالك لا حاجة لنا به» اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
A man entered the mosque. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded the people to throw their clothes as sadaqah. Thereupon they threw their clothes (as sadaqah). He then asked him to take two clothes from them. He reprimanded him and said: Take your clothe.
ہم سے اسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن عجلان نے، وہ عیاض بن عبداللہ بن سعد کی سند سے, ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے ( بطور صدقہ ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں ( کے دیئے جانے ) کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنے کپڑے لے لو ۔