The aforesaid tradition has also been transmitted by abu-Said al-Khudri to the same effect to a different chain of narrators, attributing it to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Abu-Dawud said:
Ibn ‘Uyainah reported from Zaid, from whom Malik narrated and Thwari narrated from Zaid that an authentic narrator reported from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ زید بن اسلم سے، وہ عطاء بن یسار سے,اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے,ابوداؤد کہتے ہیں
نیز اسے ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے مالک نے کہا ہے اور ثوری نے اسے زید سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک ثقہ راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
Abu-Said رضی اللہ عنہ reported:
Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Sadaqah is not lawful for a rich person except what comes as a result of Jihad or what a poor neighbor gifts you out of the sadaqah given to him, or he entertains you in a feast. Abu-Dawud said: This has been transmitted by Abu- Said رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators in a similar way.
ہم سے محمد بن عوف الطائی نے بیان کیا، ہم سے فریابی نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، عمران بارقی نے عطیہ کی سند سے, ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں ہو یا مسافر ہو یا اس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ کیا گیا ہو پھر وہ تمہیں ہدیہ دیدے یا تمہاری دعوت کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے، عطیہ نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Basheer bin Yasar said:
A man from the Ansar called Sahi bin abu-Hatmah told him that Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave one Hundred camels to him a blood-wit from among the camels of sadaqah, i.e a blood-wit for the Ansari who was killed at Khaibar.
ہم سے حسن بن محمد بن الصباح نے بیان کیا، ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، مجھ سے سعید بن عبید طائی نے بیان کیا، بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ
انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ۔
Narrated Samurah Ibn Jundub رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Acts of begging are lacerations with which a man disfigures his face, so he who wishes may preserve his self-respect, and he who wishes may abandon it; but this does not apply to one who begs from a ruler, or in a situation which makes it necessary.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے عبد الملک بن عمیر کی سند سے، وہ زید بن عقبہ الفزاری کی سند سے, سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر ( نشان زخم ) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے ( مانگنا ) ترک کر دے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو ۔
Qabisah bin Mukhiriq al-Hilali رضی اللہ عنہ said:
I became a guarantor for a payment, and I came to Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Wait till I receive the sadaqah and I shall order it to be given to you. He then said: Begging, Qabisah, is allowable only to one of three classes: a man who has become a guarantor for a payment to whom begging is allowed till he gets it, after which he must stop (begging); a man who has been stricken by a calamity and it destroys his property to whom begging is allowed till he gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence); and a man who has been smitten by poverty, about whom three intelligent members of his people confirm by saying: So and so has been smitten by poverty, to such a person begging is allowed till be gets what will support life (or he said, what will provide a reasonable subsistence), after which he must stop (begging). Any other reason for begging, Qabisah, is forbidden, and one who engages in such consumes it as a thing which is forbidden.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے، ہارون بن ریاب سے، انہوں نے کہا: مجھ سے کنانہ بن نعیم العدوی نے بیان کیا، قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک قرضے کا ضامن ہو گیا، چنانچہ ( مانگنے کے لے ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: قبیصہ! رکے رہو یہاں تک کہ ہمارے پاس کہیں سے صدقے کا مال آ جائے تو ہم تمہیں اس میں سے دیں ، پھر فرمایا: قبیصہ! سوائے تین آدمیوں کے کسی کے لیے مانگنا درست نہیں: ایک اس شخص کے لیے جس پر ضمانت کا بوجھ پڑ گیا ہو، اس کے لیے مانگنا درست ہے اس وقت تک جب تک وہ اسے پا نہ لے، اس کے بعد اس سے باز رہے، دوسرے وہ شخص ہے جسے کوئی آفت پہنچی ہو، جس نے اس کا مال تباہ کر دیا ہو، اس کے لیے بھی مانگتا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا سرمایہ پا جائے کہ گزارہ کر سکے، تیسرے وہ شخص ہے جو فاقے سے ہو اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہنے لگیں کہ فلاں کو فاقہ ہو رہا ہے، اس کے لیے بھی مانگنا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا مال پا جائے جس سے وہ گزارہ کر سکے، اس کے بعد اس سے باز آ جائے، اے قبیصہ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جو مانگ کر کھاتا ہے گویا وہ حرام کھا رہا ہے ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
A man of the Ansar came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and begged from him. He (the Prophet) asked: Have you nothing in your house? He replied: Yes, a piece of cloth, a part of which we wear and a part of which we spread (on the ground), and a wooden bowl from which we drink water. He said: Bring them to me. He then brought these articles to him and he (the Prophet) took them in his hands and asked: Who will buy these? A man said: I shall buy them for one dirham. He said twice or thrice: Who will offer more than one dirham? A man said: I shall buy them for two dirhams. He gave these to him and took the two dirhams and, giving them to the Ansari, he said: Buy food with one of them and hand it to your family, and buy an axe and bring it to me. He then brought it to him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم fixed a handle on it with his own hands and said: Go, gather firewood and sell it, and do not let me see you for a fortnight. The man went away and gathered firewood and sold it. When he had earned ten dirhams, he came to him and bought a garment with some of them and food with the others. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: This is better for you than that begging should come as a spot on your face on the Day of Judgment. Begging is right only for three people: one who is in grinding poverty, one who is seriously in debt, or one who is responsible for compensation and finds it difficult to pay.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے اخدر بن عجلان کی سند سے، وہ ابوبکر الحنفی کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
کہ ایک انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لیے آیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟ ، بولا: کیوں نہیں، ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں میرے پاس لے آؤ ، چنانچہ وہ انہیں آپ کے پاس لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: یہ دونوں کون خریدے گا؟ ، ایک آدمی بولا: انہیں میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے؟ ، دو بار یا تین بار، تو ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا: ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ ، وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی ٹھونک دی اور فرمایا: جاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں ، چنانچہ وہ شخص گیا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا، پھر آیا اور دس درہم کما چکا تھا، اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو، مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے: ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو، خاک میں لوٹتا ہو، دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کر سکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے ۔
Awf bin Malik رضی اللہ عنہ said:
We were with Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, seven or eight or nine. He said: Do you take the oath of allegiance to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and we shortly took the oath of allegiance. We said: we have already taken the oath of allegiance to you. He repeated the same words three times. We then stretched our hands and took the oath of allegiance to him. A man (or us) said: We took the oath of allegiance to you; now on what should we take the oath of allegiance, Messenger of Allah ? He replied: That you should worship Allah, do not associate anything with Him, offer five times prayer, listen and obey. He uttered a word quietly: And do not beg from the people. When the whip fell on the ground, none of that group asked anyone to pick up the whip for him. Abu Dawud said: The version of Hisham was not narrated by anyone except Saeed.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے الولید نے بیان کیا، ہم سے سعید بن عبد العزیز نے بیان کیا، وہ ربیعہ کی سند سے یعنی ابن یزید نے ابو ادریس الخولانی کی سند سے, ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے پیارے اور امانت دار دوست عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا
ہم سات، آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ ، جب کہ ہم ابھی بیعت کر چکے تھے، ہم نے کہا: ہم تو آپ سے بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تین بار دہرایا چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئیے اور آپ سے بیعت کی، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! ہم ابھی بیعت کر چکے ہیں؟ اب کس بات کی آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں پڑھو گے اور ( حکم ) سنو گے اور اطاعت کرو گے ، ایک بات آپ نے آہستہ سے فرمائی، فرمایا: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے ، چنانچہ ان لوگوں میں سے بعض کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا کوڑا زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے اتنا بھی سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دیدے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی حدیث سعید کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی۔
Thawban رضی اللہ عنہ the feed slave of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, reported him as saying:
the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone guarantees me that he will not beg from people, I will guarantee him Paradise. Thawban said: I (will not beg). He never asked anyone for anything.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، عاصم کی سند سے اور ابو العالیہ رضی اللہ عنہ سے, ثوبان رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟ ، ثوبان نے کہا: میں ( ضمانت دیتا ہوں ) ، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔
Abu Said al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
Some of the Ansar begged from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he gave them something. They later begged from him again and he gave them something so that what he had was exhausted. He then said: What I have I shall never store away from you but Allah will strengthen the abstinence of him who abstains, will give a satisfaction to him who wants to be satisfied, and will strengthen the endurance of him who shows endurance. No one has been given a more ample gift than endurance.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دیا، یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا، ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جو بھی مال ہو گا میں اسے تم سے بچا کے رکھ نہ چھوڑوں گا، لیکن جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، جو بے نیازی چاہتا ہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، جو صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے، اور اللہ نے صبر سے زیادہ وسعت والی کوئی نعمت کسی کو نہیں دی ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If one who is afflicted with poverty refers it to me, his poverty will not be brought to an end; but if one refers it to Allah, He will soon give him sufficiency, either by a speedy death or by a sufficiency which comes later.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا,ہم سے عبدالملک بن حبیب ابو مروان نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا - اور یہ ان کی حدیث ہے - بشیر بن سلمان کی سند سے، سیار ابو حمزہ سے، طارق کی سند سے, ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے ( یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے ) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بے پروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے ۔
Narrated Ibn al-Firasi:
Al-Firasi asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم : May I beg, Messenger of Allah? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: No, but if there is no escape from it, beg from the upright.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، بکر بن سوادہ سے، مسلم بن مخشی کی سند سے, ابن الفراسی سے روایت ہے کہ
فراسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا! اللہ کے رسول! کیا میں سوال کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو ۔
Ibn al-Saidi said:
Umar رضی اللہ عنہ employed me to collect the sadaqah. When I finished doing so and gave it to him, he ordered payment to be given to me. I said: I did only for Allah’s sake, and my reward will come from Allah. He said: Take what you are given, for I acted (as a collector) during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he assigned me a payment. Thereupon, I said the same kind of thing as you have said, to which Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When you are given something without asking for it, you should use it for your own purpose and as sadaqah.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے بکر بن عبداللہ بن اشج نے، بسر بن سعید کی سند سے, ابن ساعدی کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقے پر عامل مقرر کیا تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا تو انہوں نے میرے لیے محنتانے ( اجرت ) کا حکم دیا، میں نے عرض کیا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا اور میرا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے لے لو، میں نے بھی یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دینا چاہا تو میں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو اس میں سے کھاؤ اور صدقہ کرو ۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said when he was on the pulpit speaking of sadaqah and abstention from it and begging: the upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower which begs. Abu Dawud said: The version of this tradition narrated by Ayyub from Nafi is disputed. The narrator Abd al-Warith said in his version: `The upper hand is the one which abstains from begging;” but most of the narrators have narrated from Hammad bin Zaid from Ayyub the words “ The upper hand is the one which bestows. ” A narrator from Hammad said in his version “the one which abstains from begging. ”
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ، عبدالوارث نے کہا: «اليد العليا المتعففة» ( اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے ) ، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں:«اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے ( یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے ) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۔
Narrated Malik Ibn Nadlah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Hands are of three types: Allah's hand is the upper one; the bestower's hand is the one near it; the beggar's hand is the lower one. So bestow what is surplus, and do not submit yourself to the demand of your soul.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبیدہ بن حمید التیمی نے بیان کیا، مجھ سے ابو الزعراء نے بیان کیا، ابو الاحواص کی سند سے, مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین طرح کے ہیں: اللہ کا ہاتھ جو سب سے اوپر ہے، دینے والے کا ہاتھ جو اس کے بعد ہے اور لینے والے کا ہاتھ جو سب سے نیچے ہے، لہٰذا جو ضرورت سے زائد ہو اسے دے دو اور اپنے نفس کی بات مت مانو ۔
Narrated Abu Rafi رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent a man of the Banu Makhzum to collect sadaqah. He said to Abu Rafi: Accompany me so that you may get some of it. He said: (I cannot take it) until I go to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and ask him. Then he went to him and asked him. He said: The sadaqah is not lawful for us, and the client of a people is treated as one of them.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے حاکم کی سند سے اور ابن ابی رافع کی سند سے, ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، اس نے ابورافع سے کہا: میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھ لوں، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا غلام انہیں میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came upon a date on the road; he would not take it for fear of being a part of the sadaqah.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل اور مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا - مطلب - انہوں نے کہا: ہم سے حماد نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم found a date and said: Were it not that I fear it may be part of the sadaqah, I would eat it. Abu Dawood said: Hisham reported it from Qatadah like that.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے، خالد بن قیس سے، قتادہ کی سند سے، انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور ( پڑی ) پائی تو فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
My father sent me to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to take the camels which he had given him from among those of sadaqah.
ہم سے محمد بن عبید المحاربی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، انہوں نے العمش سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، وہ کری بن مولا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مجھے میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Abbas through a different chain of narrators in a similar manner:
This version adds : “My father exchanged them for him”.
ہم سے محمد بن العلا اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا: محمد وہ ابن ابی عبیدہ ہیں، انہوں نے ہم سے اپنے والد کی سند سے، العمش کی سند سے، سالم کی سند سے، کریب کی سند سے، عباس کے آزاد کردہ غلام ابن عباس سے، اسی طرح کی سند سے
میرے والد نے اس میں اضافہ کیا اور اس کے لیے اسے تبدیل کر دیا۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
When some meat was brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, he asked What is this? He was told this is a thing (meat), which was given as sadaqah to Barirah رضی اللہ عنہا . Thereupon, he said it is sadaqah for her and a gift to us.
ہم سے عمرو بن مرزوق نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے قتادہ کی روایت سے خبر دی , انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے پوچھا: یہ گوشت کیسا ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس ( بریرہ ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ( بریرہ کی طرف سے ) ہدیہ ہے ۔