It was narrated from Muhammad bin Munkadir:
He heard Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما say: “The Jews used to say that if a man has intercourse with a woman in her vagina from the back, the child would have a squint. Then Allah, Glorious is He, revealed: 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth, when or how you will.' ”
ہم سے سہل بن ابی سہل اور جمیل بن الحسن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر کی سند سے بیان کیا
انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: یہود کہتے تھے کہ جس نے بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کیا تو لڑکا بھینگا ہو گا، چنانچہ اللہ سبحانہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ( سورة البقرة: 223 ) تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہٰذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Kudri رضی اللہ عنہ said:
“A man asked the Messenger of about coitus interruptus. He said: 'Do you do that? If you do not do so, it will not harm; for there is no soul that (SWT) has decreed will exist but it will come into being.'
ہم سے ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، وہ ابن شہاب کی سند سے، مجھ سے عبید اللہ بن عبد اللہ نے بیان کیا, ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
'We used to practice coitus interruptus during the time of the Messenger of Allah when the Qur'an was being revealed.”
ہم سے ہارون بن اسحاق ہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمرو کی سند سے اور عطاء کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے، اور قرآن اترا کرتا تھا ۔
It was narrated that 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah forbade practicing coitus interruptus with a free woman except with her consent.”
ہم سے حسن بن علی الخلال نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن لہیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ محرر بن ابی ہریرہ نے اپنے والد سے,عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل کرنے سے منع فرمایا۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet said: “A woman should not be married to a man who is married to her paternal aunt of maternal aunt (at the same time).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے، وہ محمد بن سیرین کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد اس عورت سے نکاح نہ کرے جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah forbid two types of marriage: For a man to be married to a woman and her paternal aunt (at the same time), and to a woman and her maternal aunt( at the same time).”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق نے، وہ یعقوب بن عتبہ سے، وہ سلیمان بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا، ایک یہ کہ کوئی شخص بھتیجی اور پھوپھی دونوں کو نکاح میں جمع کرے، دوسرے یہ کہ خالہ اور بھانجی کو جمع کرے۔
Abu Bakr bin Abu Musa narrated that his father said:
“The Messenger of Allah said: “A man should not be married to a woman and her paternal aunt or maternal aunt at the same time.”
ہم سے جبارہ بن المغلس نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوبکر النہشلی نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابوبکر بن ابی موسیٰ نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے، اور نہ ہی اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح کیا جائے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا :
The wife of Rifa'ah Al-Qurazi came to the Messenger of Allah and said: “I was married to Rifa'ah, and he divorced me and made it irrevocable. Then I married ' Abdur-Rahman bin Zubair, and what he has is like the fringe of a garment.” The Prophet smiled and said: “Do you want to go back to Rifa'ah? No, not until you taste his ('Abdur-Rahman's) sweetness and he tastes your sweetness.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، زہری کی سند سے مجھے عروہ نے خبر دی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رفاعہ قرظی کی بیوی ( رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی، تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور فرمایا: کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھو، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما :
From the Prophet, concerning a man who had a wife then divorced her, then another man married her but divorced her before consummating the marriage. Could she go back to the first man? He said: “No, not until he tastes her sweetness.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے علقمہ بن مرثد کی سند سے، انہوں نے کہا: میں نے سلیم بن رزین کو سالم بن عبداللہ کی سند سے، وہ سعید بن مسیب کی سند سے بیان کرتے ہوئے سنا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے
ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah cursed the Muhallil and the Muhallal lahu.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے زمعہ بن صالح نے، ان سے سلمہ بن وہرام سے، وہ عکرمہ رضی اللہ عنہ سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah cursed the Muhallil and the Muhallal lahu.”
ہم سے محمد بن اسماعیل بن البختری الواسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن عون اور مجالد کی سند سے، شعبی کی سند سے اور حارث کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے ۔
Uqbah bin 'Amir رضی اللہ عنہ narrated:
The Messenger of said: 'Shall I not tell you of a borrowed billy goat.” They said: “Yes, O Messenger of!” He said: “He is Muhallil. May curse the Muhallil and the Muhallal lahu.”
ہم سے یحییٰ بن عثمان بن صالح المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے لیث بن سعد کو کہتے سنا: مجھ سے ابو مصعب مشرح بن حاعان نے بیان کیا, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو «مستعار» ( مانگے ہوئے ) بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah said: 'Breast-feeding makes unlawful (for marriages) the same things that blood tie make unlawful.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے حجاج کی سند سے، الحکم کی سند سے، عرق بن مالک کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of was offered the daughter of Hamzah bin 'Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہ in marriage, and he said: “She is the daughter of my brother through breastfeeding, and breastfeeding makes unlawful (for marriage) the same things that blood ties make unlawful.”
ہم سے حمید بن مسعود اور ابوبکر بن خلاد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے اور جابر بن زید سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔
It was narrated from 'Urwah bin Zubair that Zainab bint Abi Salmah رضی اللہ عنہا told him that Umm Habibah رضی اللہ عنہا told her that:
She said to Messenger of Allah: “Marry my sister 'Azzah.” The Messenger of Allah said: 'Would you like that? “She said: “Yes, O Messenger of Allah. I am not the only one living with you and the one who most deserves to share good thingswith me is my sister.” The Messenger of Allah said: “But that is not permissible for me.” She said: “But we throught that you wanted to marry Durrah bint Abi Salmah.” The Messenger of Allah said: The daughter of Umm Salamah?” She said: “Yes” The Messenger of Allah said: “Even if she were not my step-daughter who is under my care, she would not be permissible for me, because she is the daughter of my brother through breastfeeding. Tuwaibah breastfed both her father and I. So do not offer your sisters and daughters to me for marriage.”
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ یزید بن ابی حبیب کی سند سے، وہ ابن شہاب کی سند سے، وہ عروہ بن زبیر سے کہ انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا, ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیجئیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو پسند کرتی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں آپ کے پاس اکیلی نہیں ہوں ( کہ سوکن کا ہونا پسند نہ کروں ) خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے لیے حلال نہیں ہے انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں باتیں ہو رہی تھیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام سلمہ کی بیٹی سے ؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میری ربیبہ بھی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے اس سے نکاح درست نہ ہوتا، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھ کو اور اس کے والد ( ابوسلمہ ) کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، لہٰذا تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر نکاح کے لیے نہ پیش کیا کرو ۔
It was narrated that Umm Fadl رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah said: “Breastfeeding once or twice, or suckling once or twice, does not make (marriage) unlawful.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ابو الخلیل کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث کی سند سے,ام الفضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ پینے یا چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet Allah said: “Suckling once or twice does not make (marriage) unlawful.”
ہم سے محمد بن خالد بن خداش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن الیاس نے بیان کیا، وہ ایوب کی سند سے، ابن ابی ملیکہ نے عبداللہ بن زبیر کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
“Once of the things that Allah revealed in the the Qur'an and then abrogated was that nothing makes marriage prohibited except ten breastfeedings or five well-known (breastfeedings).”
ہم سے عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے حماد بن سلمہ نے، عبدالرحمٰن بن القاسم سے، اپنے والد سے، عمرہ رضی اللہ عنہ سےام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
پہلے قرآن میں یہ آیت تھی، پھر وہ ساقط و منسوخ ہو گئی، وہ آیت یہ ہے «لا يحرم إلا عشر رضعات أو خمس معلومات» دس یا پانچ مقرر رضاعتوں کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت ہوتی ہے ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
“Sahlah bint Suhail رضی اللہ عنہا came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah, I see signs of displeasure on the face of Abu Hudhaifah رضی اللہ عنہ when Salim enters upon me.” The Prophet said: “Breastfeed him.” She said: “How can I breastfeed him when he is a grown man? The Messenger of Allah smiled and said: “I know that he is a grown man.” So she did that, then she came to the Prophet and said: “I have never seen any signs of displeasure on the face of Abu Hudhayfah رضی اللہ عنہ after that.” And he was present at (the battle of) Badr.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ عبدالرحمٰن بن القاسم نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! سالم کے ہمارے پاس آنے جانے کی وجہ سے میں ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرہ پر ناگواری محسوس کرتی ہوں، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سالم کو دودھ پلا دو ، انہوں نے کہا: میں انہیں دودھ کیسے پلاؤں گی وہ بڑی عمر کے ہیں؟! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں ، آخر سہلہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: میں نے ابوحذیفہ کے چہرے پر اس کے بعد کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی جسے میں ناپسند کروں، اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Verse of stoning and of breastfeeding an adult ten times was revealed1, and the paper was with me under my pillow. When the Messenger of Allah died, we were preoccupied with his death, and a tame sheep came in and ate it.” 1: These verses were abrogated in recitation but not ruling. Other a hadith establish the number for fosterage to be 5.
ہم سے ابوسلمہ یحییٰ بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر سے، وہ عمرہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رجم کی آیت اور بڑی عمر کے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی آیت اتری، اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پہ لکھی ہوئی میرے تخت کے نیچے تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور ہم آپ کی وفات میں مشغول تھے ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی۔