It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا :
The Prophet entered upon her and there was a man with her. He said: “Who is this? She said: “This is my brother.” He said: “Look at whom you allow to enter upon you, because the breastfeeding (that makes a person Mahram) is that which satisfies hunger.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے سفیان کی سند سے، اشعث بن ابی الشیعثا سے، اپنے والد سے، مسروق کی سند سے، ان سےام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اور اس وقت ایک شخص ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا: یہ میرے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جن لوگوں کو تم اپنے پاس آنے دیتی ہو انہیں اچھی طرح دیکھ لو ( کہ ان سے واقعی تمہارا رضاعی رشتہ ہے یا نہیں ) حرمت تو اسی رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن کی ہو جس وقت دودھ ہی غذا ہوتا ہے ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah said: “There is no breastfeeding except that which fills the stomach.”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھے ابن لہیہ نے ابو الاسود سے، عروہ کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رضاعت معتبر نہیں ہے مگر وہ جو آنتوں کو پھاڑ دے ۔
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah رضی اللہ عنہا :
The wives of the Prophet all differed with 'Aishah رضی اللہ عنہا and refused to allow anyone with ties of breastfeeding like Salim, the freed salve of Abu Hudhaifah رضی اللہ عنہ , to enter upon them. They said: “How do we know? That may be a concession granted only to Salim.”
ہم سے محمد بن روم المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن لہیہ نے بیان کیا، انہیں یزید بن ابی حبیب اور عقیل نے ابن شہاب کی سند سے، مجھے ابو عبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے خبر دی, زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیویوں نے اس مسئلہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی مخالفت کی، اور انہوں نے انکار کیا کہ سالم مولی ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ جیسی رضاعت کوئی کر کے ان کے پاس آئے جائے، اور انہوں نے کہا: ہمیں کیا معلوم شاید یہ صرف سالم کے لیے رخصت ہو۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
“My paternal uncle through breastfeeding, Aflah bin Abu Qu'ais, came and asked permission to visit me, after the ruling on veiling had been enjoined, and I refused to let him in, until the Prophet came in and said: 'He is your paternal uncle; let him in.' I said: 'But it is the woman who breastfed me; the man did not breastfeed me.' He said: 'May your hands be rubbed with dust', or: 'May your right hand be rubbed with dust!”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قیس میرے پاس آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حجاب ( پردے ) کا حکم اتر چکا تھا، میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، اور فرمایا: یہ تمہارے چچا ہیں ان کو اجازت دو ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دونوں ہاتھ یا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
“My paternal uncle through breastfeeding came to visit me and I refused to let him in. The Messenger of Allah said: 'Let your paternal uncle visit you.' I said: 'But it is the woman who breastfed me; the man did not breastfeed me.' He said: 'He is your paternal uncle; let him visit you.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، تو میں نے ان کو اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے چچا کو اپنے پاس آنے دو ، میں نے کہا: مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں!، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے چچا ہیں انہیں اپنے پاس آنے دو ۔
It was narrated that Dailami رضی اللہ عنہ said:
“I came to the Messenger of Allah, and I was married to two sisters whom I had married during the Ignorance period. He said: 'When you go back, divorce one of them.' ”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے، وہ ابو وہب الجیشانی کی سند سے، انہوں نے ابو خراش الروعینی سے, دیلمی (فیروز دیلمی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں جن سے میں نے زمانہ جاہلیت میں شادی کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم گھر واپس جاؤ تو ان میں سے ایک کو طلاق دے دو ۔
Dahhak bin Fairuz Dailami رضی اللہ عنہ narrated that his father said:
'I came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah! I have become Muslim and I am married to two sisters.' The Messenger of Allah said: 'Divorce whichever of them you want.' ”
ہم سے یونس بن عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن لحیہ نے ابو وہب الجیشانی کی سند سے خبر دی، انہوں نے انہیں ضحاک بن فیروز الدیلمی رضی اللہ عنہ کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو سگی بہنیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ۔
It was narrated that Qais bin Harith رضی اللہ عنہ said:
“I became Muslim and I had eight wives. I went to the Prophet and told him about that. He said: 'Choose four of them.' ”
ہم سے احمد بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور حمیدہ بنت شمردل کی سند سے, قیس بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے اسلام قبول کیا، اور میرے پاس آٹھ عورتیں تھیں، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کا انتخاب کر لو ۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ said:
“Ghailan bin Salamah رضی اللہ عنہ became Muslim and he had ten wives. The Prophet said to him: 'Choose four of them.' ”
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے، زہری کی سند سے، سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کو رکھو ۔
It was narrated from 'Uqbah bin 'Amir رضی اللہ عنہ :
The Prophet said: “The conditions most deserving to be fulfilled are those by means of which the private parts become permissible for you.”
ہم سے عمرو بن عبداللہ اور محمد بن اسماعیل نے بیان کیا: ہم سے ابو اسامہ نے عبد الحمید بن جعفر سے، یزید بن ابی حبیب سے مرثد بن عبداللہ نے بیان کیا, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:
“The Messenger of Allah said: “Whatever is given as a dowry or gift before the marriage, it belongs to her. Whatever is given after the marriage belongs to the one to whom it was given. And the most deserving matter for which a man is honored is (the marriage of) his daughter or sister.”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج سے، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہر یا عطیہ یا ہبہ میں سے جو نکاح ہونے سے پہلے ہو وہ عورت کا حق ہے، اور جو نکاح کے بعد ہو تو وہ اس کا حق ہے، جس کو دیا جائے یا عطا کیا جائے، اور مرد سب سے زیادہ جس چیز کی وجہ سے اپنے اعزاز و اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے ۔
It was narrated from Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah said: 'Whoever has a slave woman and teaches her good manners and educates her, then sets her free and marries her, will have two rewards. Any man from among the People of the Book who believed in his Prophet and believed in Muhammad will have two rewards. Any slave who does his duty towards Allah and towards his masters will have two rewards.” (Sahih)(one of the narrators) Salih said: “Sha'bi said: 'I have given this (Hadith) to you for little effort on your part. A rider would travel to Al-Madinah for less than this.' ”
ہم سے عبداللہ بن سعید ابو سعید الاشج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدا بن سلیمان نے، صالح بن صالح بن حیا سے، شعبی نے ابو بردہ کی سند سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس لونڈی ہو وہ اس کو اچھی طرح ادب سکھائے، اور اچھی طرح تعلیم دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے، اور اہل کتاب میں سے جو شخص اپنے نبی پر ایمان لایا، پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا، تو اسے دوہرا اجر ملے گا، اور جو غلام اللہ کا حق ادا کرے، اور اپنے مالک کا حق بھی ادا کرے، تو اس کو دوہرا اجر ہے ۔ شعبی نے صالح سے کہا: ہم نے یہ حدیث تم کو مفت سنا دی، اس سے معمولی حدیث کے لیے آدمی مدینہ تک سوار ہو کر جایا کرتا تھا۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
“Safiyyah رضی اللہ عنہا was given to Dihyah Al-Kalbi رضی اللہ عنہ (as his share of the war booty), then she was given to the Messenger of Allah after that. He married her, and made her ransom (i.e., freedom from slavery) her dowry.” (Sahih)Hammad said: “Abdul-'Aziz said to Thabit: 'O Abu Muhammad! Did you ask Anas رضی اللہ عنہ what her bridal-money was?' He said: 'Her bridal-money was her freedom.' ”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت اور عبدالعزیز نے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
پہلے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئیں، تو آپ نے ان سے شادی کی، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا ۔ حماد کہتے ہیں کہ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا: اے ابومحمد! کیا آپ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( صفیہ ) کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا تھا۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah (ﷺ) set Safiyyah رضی اللہ عنہا free, and made her ransom her dowry, and he married her.
ہم سے حبیش بن مبشر نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، وہ ایوب سے اور عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر مقرر کر کے ان سے شادی کر لی.
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah said : If a slave gets married without his master's permission, he is a fornicator.
ہم سے ازہر بن مروان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے قاسم بن عبد الواحد نے بیان کیا، عبداللہ بن محمد بن عقیل کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو وہ زانی ہے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah said : Any slave who gets married without his master's permission, is a fornicator.
ہم سے محمد بن یحییٰ اور صالح بن محمد بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو غسان مالک بن اسماعیل نے بیان کیا: ہم سے مندل نے ابن جریج سے، موسیٰ بن عقبہ سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، تو وہ زانی ہے ۔
It was narrated from 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah forbade on the Day of Khaibar, the temporary marriage of women and (he forbade) the flesh of domestic donkeys.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب کی سند سے، وہ محمد بن علی کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور حسن نے اپنے والد سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے، اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ۔
It was narrated from Rabi'bin Sabrah رضی اللہ عنہ that his father said:
We went out with the Messenger of Allah on the Farewell pilgrimage, and they said : 'O Messenger of Allah, (ﷺ) celibacy has become too difficult for us'. He said : 'Then make temporary marriages with these women'. So we went to them, but they insisted on setting a fixed time between us and them. They mentioned that to the Prophet and he said : 'Set a fixed time between you and them.' So I went out with a cousin of mine. He had a cloak and I had a cloak, but his cloak was finer than mine, and I was younger than him. We came to a women and she said: 'One cloak is like another.' So I married her and stayed with her that night. Then the next day I saw the Messenger of Allah standing between the Rukn (corner) and the door (of the Ka'bah), saying : 'O people, I had permitted temporary marriage for you, but Allah has forbidden it until the Day of Resurrection. however had any temporary wives, he should let them go, and do not take back anything that you had given to them.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، وہ عبد العزیز بن عمر سے، انہوں نے ربیع بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! عورت کے بغیر رہنا ہمیں گراں گزر رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے متعہ کر لو ، ہم ان عورتوں کے پاس گئے وہ نہیں مانیں، اور کہنے لگیں کہ ہم سے ایک معین مدت تک کے لیے نکاح کرو، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اور ان کے درمیان ایک مدت مقرر کر لو چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد بھائی دونوں چلے، اس کے پاس ایک چادر تھی، اور میرے پاس بھی ایک چادر تھی، لیکن اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، اور میں اس کی نسبت زیادہ جوان تھا، پھر ہم دونوں ایک عورت کے پاس آئے تو اس نے کہا: چادر تو چادر کی ہی طرح ہے ( پھر وہ میری طرف مائل ہو گئی ) چنانچہ میں نے اس سے نکاح ( متعہ ) کر لیا، اور اس رات اسی کے پاس رہا، صبح کو میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن ( حجر اسود ) اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے فرما رہے تھے: اے لوگو! میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی لیکن سن لو! اللہ نے اس کو قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے، اب جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اس کو چھوڑ دے، اور جو کچھ اس کو دے چکا ہے اسے واپس نہ لے ۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما said:
When 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہما was appointed caliph, he addressed the people and said: 'The Messenger of Allah permitted temporary marriage for us three times, then he forbade it. By Allah, If I hear of any married person entering a temporary marriage, I will stone him to death, unless he can bring me four witnesses who will testify that the Messenger of Allah, allowed it after he forbade it'.
ہم سے محمد بن خلف عسقلانی نے بیان کیا، کہا: ہم سے الفریابی نے، ابان بن ابی حازم نے، ابوبکر بن حفص سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو تین بار متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیا، قسم ہے اللہ کی اگر میں کسی کے بارے میں جانوں گا کہ وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے متعہ کرتا ہے تو میں اسے پتھروں سے رجم کر دوں گا، مگر یہ کہ وہ چار گواہ لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دینے کے بعد حلال کیا تھا۔
Maimunah bint Harith رضی اللہ عنہا narrated:
The Messenger of Allah married her when he was Halal (not in Ihram). (Sahih).He (one of the narrators-Yazid) said: And she was my maternal aunt and the maternal aunt of Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما also.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو فزارہ نے بیان کیا، وہ یزید بن عصام کی سند سے, ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور آپ اس وقت حلال تھے۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی۔