It was narrated from 'Umar رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah ruled that the child belonged to the bed.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن ابی یزید سے اپنے والد سے, عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے صاحب فراش کے لیے بچے کا فیصلہ کیا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet said: The child is for the bed (i.e., belongs to the husband) and the fornicator gets nothing!'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے اور سعید بن مسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے ۔
Shurahbil bin Muslim رضی اللہ عنہ said:
I heard Abu Um Amah Al-Bahili say: 'I heard the Messenger of Allah say: The child is for the bed and the fornicator gets nothing.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شربیل بن مسلم نے بیان کیا، کہا:ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابو امامہ باہلی کو کہتے سنا:میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
A woman came to the Prophet and became Muslim, and a man married her. Then her first husband came and said: O Messenger of Allah, I became Muslim with her, and she knew that I was Muslim. So the Messenger of Allah took her away from her second husband and returned her to her first husband.
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن جمیع نے بیان کیا، کہا ہم سے سماک نے بیان کیا، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کر دیا۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah returned his daughter to Abul-'As bin Rabi' رضی اللہ عنہ after two years, on the basis of the first marriage contract.
ہم سے ابوبکر بن خلاد اور یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہمیں محمد بن اسحاق نے داؤد بن حصین کی سند سے اور عکرمہ کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس دو سال کے بعد اسی پہلے نکاح پر بھیج دیا ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grand father, that:
The Messenger of Allah, returned his daughter Zainab رضی اللہ عنہا to Abul-As bin Rabi' رضی اللہ عنہ , with a new marriage contract.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو معاویہ نے حجاج کی سند سے، عمرو بن شعیب کی سند سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس نئے نکاح پر بھیج دیا۔
It was narrated that Judamah bint Wahb Al-Asadiyyah رضی اللہ عنہا said:
I heard the Messenger of Allah say: 'I wanted to forbid intercourse with a nursing mother, but then (I saw that) the Persians and the Romans do this, and it does not kill their children.' And I heard him say/when he was asked about coitus interruptus: 'It is the disguised form of b.rryirg children alive.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل قرشی نے، عروہ کی سند سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے, جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میں نے ارادہ کیا کہ بچہ کو دودھ پلانے والی بیوی سے جماع کرنے کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کر رہے ہیں، اور ان کی اولاد نہیں مرتی اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «عزل»کے متعلق پوچھا گیا تھا، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: وہ تو «وأدخفی» ( خفیہ طور زندہ گاڑ دینا ) ہے ۔
It was narrated from Muhajir bin Abu Muslim, from Asma' bint Yazid bin Sakan رضی اللہ عنہا who was his freed slave woman that:
She heard the Messenger of Allah say: Do not kill your children secretly, for by the One in Whose Hand is my soul, intercourse with a breastfeeding woman catches up with people when they are riding their horses (in battle) and wrestles them to the ground.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے عمرو بن مہاجر کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے والد مہاجر بن ابی مسلم کو اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا جو ان کی آزاد کردہ لونڈی تھیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے «غیل» سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے ۔
It was narrated that Abu Umamah رضی اللہ عنہ said:
A woman came to the Prophet with two of her children, carrying one and leading the other. The Messenger of Allah said: 'They carry children and give birth to them and are compassionate. If they do not annoy their husbands, those among them who perform prayer will enter Paradise. '
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے مومل نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے العمش نے، وہ سالم بن ابی الجعد کی سند سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ دو بچے تھے، ایک کو وہ گود میں اٹھائے ہوئی تھی اور دوسرے کو کھینچ رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچوں کو اٹھانے والی، انہیں جننے والی، اور ان پر شفقت کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہروں کو تکلیف نہ دیتیں تو جو ان میں سے نماز کی پابند ہیں جنت میں جاتیں ۔
It was narrated from Mu'adh bin Jabal رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah said: No woman annoys her husband but his wife among houris (of Paradise) safs: 'Do not annoy him, may Allah destroy you, for he is just a temporary guest with you and soon he will leave you and join us. '
ہم سے عبد الوہاب بن ضحاک نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، وہ بحیر بن سعد نے، وہ خالد بن معدان نے، وہ کثیر بن مرہ کی سند سے, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet, said: What is Haram does not make what is Halal into what is Haram.”
ہم سے یحییٰ بن معاذ بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن محمد الفروی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا ۔