It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “If there is any good in any of the remedies you use, it is in cupping.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن عامر نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو کی سند سے، وہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ہے تو پچھنے میں ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra’), I did not pass by any group of angels but all of them said to me: ‘O Muhammad, you should use cupping.’”
نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے زیاد بن ربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عباد بن منصور نے عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ پچھنے کو لازم کر لیں ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘What a good slave is the cupper. He takes away the blood, reduces pressure on the spine, and improves the eyesight.’”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن منصور نے عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والا بہت بہتر شخص ہے کہ وہ خون نکال دیتا ہے، کمر کو ہلکا اور نگاہ کو تیز کرتا ہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘On the night on which I was taken on the Night Journey (Isra’), I did not pass by any group (of angels) but they said to me: “O Muhammad, tell your nation to use cupping.”
ہم سے جبارہ بن المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے کثیر بن سلیم نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات معراج ہوئی میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر ہوا اس نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اپنی امت کو پچھنا لگانے کا حکم دیں ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
Umm Salamah رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet (ﷺ), asked the Messenger of Allah (ﷺ) for permission to be cupped, and the Prophet (ﷺ) told Abu Taibah to cup her. He said: I think that he was her brother through breastfeeding, or a boy who had not yet reached puberty.
ہم سے محمد بن رومح المصری نے لیث بن سعد کی سند سے اور ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں پچھنا لگائے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابوطیبہ یا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا پھر نابالغ لڑکے ۔
‘Abdur-Rahman Al-A’raj said:
“I heard ‘Abdullah bin Buhainah رضی اللہ عنہ say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) was cupped in Lahyi Jamal,* in the middle of his head, while he was a Muhrim.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے علقمہ بن ابی علقمہ نے بیان کیا، کہا: میں نے عبدالرحمٰن الاعرج کو کہتے سنا
میں نے عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں مقام لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا۔
It was narrated that ‘Ali said: It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“Jibra’il came down to the Prophet (ﷺ) with (the recommendation of) cupping in the two veins at the side of the neck and the base of the neck.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے سعد الاسکاف نے، وہ اصبغ بن نباتہ کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جبرائیل علیہ السلام گردن کی دونوں رگوں اور دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ پر پچھنا لگانے کا حکم لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) was cupped in the two veins at the side of the neck and the base of the neck.
ہم سے علی بن ابی الخصیب نے بیان کیا، وکیع نے، جریر بن حازم نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا۔
It was narrated from Abu Kabshah Al-Anmari رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) used to be cupped on his head and between his shoulders, and he said: “Whoever lets blood from these places, it does not matter if he does not seek treatment for anything else.”
ہم سے محمد بن المصفی حمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ثوبان نے اپنے والد سے بیان کیا, ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگواتے اور فرماتے تھے: جو ان مقامات سے خون بہا دے، تو اگر وہ کسی بیماری کا کسی چیز سے علاج نہ کرے تو اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) fell from his horse onto the truck of a palm tree and dislocated his foot. (One of the narrators) Waki’ said: “Meaning that the Prophet (ﷺ) was cupped because of that for bruising.”
ہم سے محمد بن طریف نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، العمش کی سند سے، ابو سفیان کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گر پڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آ گئی۔ وکیع کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wants to be cupped, let him seek out the seventeenth, nineteenth or twenty-first (of the month); and let none of you allow his blood to rage so that it kills him.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن مطر نے بیان کیا، انہوں نے زکریا بن میسرہ کی سند سے، وہ النحاس بن قہم کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پچھنا لگوانا چاہے تو ( ہجری ) مہینے کی سترہویں، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو لگوائے، اور ( کسی ایسے دن نہ لگوائے ) جب اس کا خون جوش میں ہو کہ یہ اس کے لیے موجب ہلاکت بن جائے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“O Nafi’! The blood is boiling in me, find me a cupper, but let it be someone gentle if you can, not an old man or a young boy. For I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Cupping on an empty stomach is better, and in it there is healing and blessing, and it increases one’s intellect and memory. So have yourselves cupped for the blessing of Allah on Thursdays, and avoid cupping on Wednesdays, Fridays, Saturdays and Sundays. Have yourselves cupped on Mondays and Tuesdays, for that is the day on which Allah relieved Ayyub of Calamity, and He inflicted calamity upon him on a Wednesday, and leprosy and leucoderma only appear on Wednesdays, or on the night of Wednesday.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، ہم سے عثمان بن مطر نے بیان کیا، ان سے حسن بن ابی جعفر نے، ان سے محمد بن جہادہ نے نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے ( اپنے غلام ) نافع سے کہا: نافع! میرے خون میں جوش ہے، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ، اللہ برکت دے گا، البتہ بدھ، جمعہ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو، پھر سوموار ( دوشنبہ ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے نجات دی، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا، چنانچہ جذام ( کوڑھ ) اور برص ( سفید داغ ) کی بیماریاں ( عام طور سے ) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں ۔
It was narrated that Nafi’ said:
“Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said: ‘O Nafi’! The blood is boiling in me. Bring me a cupper and let him be a young man, not an old man or a boy.’ Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said: ‘I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Cupping on an empty stomach is better, and it increases one’s intellect and memory. And it increases the memory of one who has a good memory so whoever wants to be cupped, (let him do it) on a Thursday, in the Name of Allah. Avoid cupping on Fridays, Saturdays and Sundays. Have yourselves cupped on Mondays and Tuesdays, and avoid cupping on Wednesdays, for that is the day on which the calamity befell Ayyub, and leprosy and leucoderma only appear on Wednesday or the night of Wednesday.”
ہم سے محمد بن المصفی حمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن اسماء نے سعید بن میمون کی سند سے بیان کیا, نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نافع! میرا خون جوش میں ہے، لہٰذا کوئی پچھنا لگانے والا لاؤ، جو جوان ہو، ناکہ بوڑھا یا بچہ، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نہار منہ پچھنا لگانا بہتر ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے، حافظہ تیز ہوتا ہے، اور یہ حافظ کے حافظے کو بڑھاتی ہے، لہٰذا جو شخص پچھنا لگائے تو اللہ کا نام لے کر جمعرات کے دن لگائے، جمعہ، ہفتہ ( سنیچر ) اور اتوار کو پچھنا لگانے سے بچو، پیر ( دوشنبہ ) اور منگل کو لگاؤ پھر چہار شنبہ ( بدھ ) سے بھی بچو، اس لیے کہ یہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بیماری سے دوچار ہوئے، اور جذام و برص کی بیماریاں بھی بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی کو نمودار ہوتی ہیں۔
It was narrated from ‘Aqqar bin Al-Mughirah رضی اللہ عنہ from his father that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever seeks treatment by cauterization, or with Ruqyah, then he had absolved himself of reliance upon Allah.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن الیہ نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے عقر بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ( آگ یا لوہا سے بدن ) داغنے یا منتر ( جھاڑ پھونک ) سے علاج کیا، وہ توکل سے بری ہو گیا ۔
It was narrated that ‘Imran bin Husain رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade cauterization. I had myself cauterized and I have not prospered or succeeded.”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، منصور اور یونس نے حسن کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آگ یا لوہے سے جسم ) داغنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے داغ لگایا، تو نہ میں کامیاب ہوا، اور نہ ہی میری بیماری دور ہوئی ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“Healing is in three things: A drink of honey, the glass of the cupper, and cauterizing with fire, but I forbid my nation to use cauterization.” And he attributed it to the Prophet (ﷺ).
ہم سے احمد بن منیع نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن شجاع نے بیان کیا، کہا ہم سے سالم الافطس نے بیان کیا، سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
شفاء تین چیزوں میں ہے: گھونٹ بھر شہد پینے میں، پچھنا لگانے میں اور انگار سے ہلکا سا داغ دینے میں، اور میں اپنی امت کو داغ دینے سے منع کرتا ہوں۔
Muhammad bin ‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin Zurarah Al-Ansari said:
“I heard my paternal uncle Yahya – and I have not seen a man among us like him – tell the people that Sa'd bin Zurarah, who was the grandfather of Muhammad through his mother, was suffering from pain in his throat, known as croup. The Prophet (ﷺ) said: ‘I shall do my best for Abu Umamah.’ Such that I will be excused (i.e., free of blame if he is not healed). And he cauterized him with his own hand, but he died. The Prophet (ﷺ) said: ‘May the Jews be doomed! They will say: “Why could he not avert death from his Companions?” But I have no power to do anything for him or for my own self.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر غندر نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ہم سے احمد بن سعید الدارمی نے بیان کیا، کہا: ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا, محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ انصاری سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنے چچا یحییٰ بن اسعد بن زرارہ سے سنا، اور ان کا کہنا ہے کہ اپنوں میں ان جیسا متقی و پرہیزگار مجھے کوئی نہیں ملا لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ سعد بن زرارہ ( جو محمد بن عبدالرحمٰن کے نانا تھے ) کو ایک بار حلق کا درد ہوا، اس درد کو «ذُبحہ» کہا جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ابوامامہ ( یعنی! اسعد رضی اللہ عنہ ) کے علاج میں اخیر تک کوشش کرتا رہوں گا تاکہ کوئی عذر نہ رہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغ دیا، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود بری موت مریں، اب ان کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے ساتھی کو موت سے کیوں نہ بچا لیا، حالانکہ نہ میں اس کی جان کا مالک تھا، اور نہ اپنی جان کا ذرا بھی مالک ہوں۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“Ubayy bin Ka’b رضی اللہ عنہ fell sick, and the Prophet (ﷺ) sent a doctor to him who cauterized him on his medical arm vein.”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبید الطنافسی نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور ابو سفیان کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایک بار بیمار پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کے ہاتھ کی رگ پر داغ دیا۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) cauterized Sa’d bin Mu’adh رضی اللہ عنہ on his medial arm vein, twice.
ہم سے علی بن ابی الخصیب نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، ابو الزبیر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ والی رگ میں دو مرتبہ داغا ۔
Salim bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما narrated that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘You should use antimony, for it improves the eyesight and makes the hair (eyelashes) grow.’”
ہم سے ابوسلمہ یحییٰ بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عثمان بن عبد الملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سالم بن عبداللہ کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے اوپر «اثمد» کو لازم کر لو، اس لیے کہ وہ بینائی تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے ۔