It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) used to like good signs and hate bad omens.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدا بن سلیمان نے محمد بن عمرو سے اور ابو سلمہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک فال ( اچھے شگون ) اچھی لگتی تھی، اور فال بد ( برے شگون ) کو ناپسند فرماتے۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) said: ‘There is no ‘Adwa* and no omen, but I like Al-Fa’l As-Salih.”**
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعبہ نے قتادہ کی سند سے خبر دی ہے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں، اور میں فال نیک کو پسند کرتا ہوں ۔
It was narrated from ‘Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The omen is polytheistic deed and anyone of us may think he sees an omen but Allah will dispel it by means of relying upon Him.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، سلمہ سے، عیسیٰ بن عاصم کی سند سے، انہوں نے زر کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no ‘Adwa, no omen, no Hamah and no Safar.”*
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، ان سے سماک کی سند سے، انہوں نے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے، اسی طرح الو اور ماہ صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں ہے ۔
Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no ‘Adwa, no omen, and no Hamah.’ A man stood up and said: ‘O Messenger of Allah, what if a camel has mange and another camel gets mange from it?’ He said: ‘That is the Divine decree. Who causes the mange in the first one?’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، ابوجناب سے، اپنے والد سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات، بدشگونی اور الو دیکھنے کی کوئی حقیقت نہیں، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اٹھ کر بولا: اللہ کے رسول! ایک اونٹ کو جب کھجلی ہوتی ہے تو دوسرے اونٹ کو بھی اس کی وجہ سے کھجلی ہو جاتی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی تو تقدیر ہے، آخر پہلے اونٹ کو کس نے کھجلی والا بنایا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A man with sick camels should not let them graze or drink alongside healthy ones.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن عمرو کی سند سے اور ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ جانے دیا جائے ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) took the hand of a leper and made him eat with him, and said: “Eat, with trust in Allah and reliance upon Allah.”
ہم سے ابوبکر، مجاہد بن موسیٰ اور محمد بن خلف عسقلانی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا: ہم سے مفضل بن فضلہ نے بیان کیا، حبیب بن شاہد کی سند سے، انہوں نے محمد بن المنکدر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کر دیا، پھر اس سے کہا: کھاؤ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “Do not keep looking at those who have leprosy.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن نافع نے ابن ابی زیناد کی سند سے بیان کیا۔ اور ہم سے علی بن ابی الخصیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے وکیع نے عبداللہ بن سعید بن ابی ہند کی سند سے بیان کیا، ان سب نے محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی سند سے, اپنی والدہ فاطمہ بنت الحسین کے حکم سےعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جذامیوں ( کوڑھیوں ) کی طرف لگاتار مت دیکھو ۔
It was narrated from a man from the family of Sharid whose name was ‘Amr, that his father said:
“There was a leper among the delegation of Thaqif. The Prophet (ﷺ) sent word to him: ‘Go back, for we have accepted your oath of allegiance.’”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے یعلٰی بن عطاء سے بیان کیا، انہوں نے خاندان شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کے ایک شخص سے جس کا نام عمرو تھا، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا: تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی ۔
It was narrated that ‘Aishah said:
“A Jew from among the Jews of Bani Zuraiq, whose name was Labid bin A’sam, cast a spell on the Prophet (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) began to imagine that he had done something when he had not. One day, or one night, the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated, and then supplicated again. Then he said: ‘O ‘Aishah, do you know that Allah has instructed me concerning the matter I asked Him about? Two men came to me, and one of them sat at my head and the other at my feet. The one at my head said to the one at my feet, or the one at my feet said to the one at my head what is ailing this man ? He said: “He has been affected by a spell.” He said: “Who cast the spell on him?” He said: “Labid bin A’sam.” He said: “With what?” He said: “With a comb and the hairs stuck to it, and the spathe of a male date palm.” He said: “Where is that?” He said: “In the well of Dhu Arwan.” She said: “So the Prophet (ﷺ) went to it, with a group of his Companions, then he came and said: ‘By Allah. O ‘Aishah. It was as if its water was infused with henna and its date palms were like the heads of devils.’” She said: “I said: ‘O Messenger of Allah, why don’t you burn them?’ He said: ‘As for me, Allah has healed me, and I do not like to let evil spread among the people.’ Then he issued orders that the well be filled up with earth.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی زریق کے یہودیوں میں سے لبید بن اعصم نامی ایک یہودی نے جادو کر دیا، تو آپ کو ایسا لگتا کہ آپ کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے تھے، یہی صورت حال تھی کہ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، پھر دعا فرمائی اور پھر دعا فرمائی، پھر کہا: عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتا دی جو میں نے اس سے پوچھی تھی، میرے پاس دو شخص آئے، ایک میرے سرہانے اور دوسرا پائتانے بیٹھ گیا، سرہانے والے نے پائتانے والے سے کہا، یا پائتانے والے نے سرہانے والے سے کہا: اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے، اس نے سوال کیا: کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا: کس چیز میں جادو کیا ہے؟ جواب دیا: کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی کرتے وقت گرتے ہیں، اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں، پہلے نے پوچھا: یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا: ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر تشریف لائے، پھر واپس آئے تو فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کی قسم! اس کا پانی مہندی کے پانی کی طرح ( رنگین ) تھا، اور وہاں کے کھجور کے درخت گویا شیطانوں کے سر تھے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اسے جلایا نہیں؟ فرمایا: نہیں، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تندرست کر دیا ہے، اب میں نے ناپسند کیا کہ میں لوگوں پر اس کے شر کو پھیلاؤں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ سب چیزیں دفن کر دی گئیں۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
Umm Salamah رضی اللہ عنہا said: “O Messenger of Allah, every year you are still suffering pain because of the poisoned meat that you ate.” He said: “Nothing that happens to me, but it was decreed for me when Adam was still at the stage of being clay.’”
ہم سے یحییٰ بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار الحمصی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بقیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوبکر العنسی نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب اور محمد بن یزید المصری نے بیان کیا، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ نے کھائی تھی، تکلیف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی وجہ سے کچھ بھی ہوا وہ میرے مقدر میں اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جب آدم مٹی کے پتلے تھے ۔
It was narrated from Khawlah bint Hakim رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) said: “If anyone of you, when he stops to camp (while on a journey), says A’udhu bi kalimatil-lahit-tammati min sharri ma khalaq (I seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created), then nothing will harm him in that place until he moves on.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا: ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن عجلان نے بیان کیا، ان سے یعقوب بن عبداللہ بن اشج نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن مسیّب کی سند سے، انہوں نے مالک بن سعد کی سند سے, خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق- لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه» میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے ۔
It was narrated that ‘Uthman bin Abul-‘As رضی اللہ عنہ said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) appointed me as governor of Ta’if, I began to get confused during my prayer, until I no longer knew what I was doing. When I noticed that, I travelled to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said: ‘The son of Abul-‘As?’ I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘What brings you here?’ He said: ‘O Messenger of Allah, I get confused during my prayer, until I do not know what I am doing.’ He said: ‘That is Satan. Come here.’ So I came close to him, and sat upon the front part of my feet then he struck my chest with his hand and put some spittle in my mouth and said: ‘Get out, O enemy of Allah!’ He did that three times, then he said: ‘Get on with your work.’” ‘Uthman said: “Indeed, I never felt confused (during my prayer) after that.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ الانصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عیینہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: کیا ابن ابی العاص ہو ؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور ( شیطان کو مخاطب کر کے ) فرمایا: «اخرج عدو الله» اللہ کے دشمن! نکل جا ؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: اپنے کام پر جاؤ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Abi Laila that his father Abu Laila رضی اللہ عنہ said:
“I was sitting with the Prophet (ﷺ) when a Bedouin came to him and said: ‘I have a brother who is sick.’ He said: ‘What is the matter with your brother?’ He said: ‘He suffers from a slight mental derangement.’ He said: ‘Go and bring him.’” He said: “(So he went) and he brought him. He made him sit down in front of him and I heard him seeking refuge for him with Fatihatil-Kitab; four Verses from the beginning of Al-Baqarah, two Verses from its middle: ‘And your Ilah (God) is One Ilah (God – Allah),’ [2:163] and Ayat Al-Kursi; and three Verses from its end; a Verse from Al ‘Imran, I think it was: ‘Allah bears witness that La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He),’ [3:18] a Verse from Al-A’raf: ‘Indeed, your Lord is Allah,’ [7:54] a Verse from Al-Mu’minun: ‘And whoever invokes (or worships), besides Allah, any other ilah (god), of whom he has no proof,’[23:117] a Verse from Al-Jinn: ‘And He, exalted is the Majesty of our Lord,’ [72:3] ten Verses from the beginning of As-Saffat; three Verses from the end of Al-Hashr; (then) ‘Say: He is Allah, (the) One,’ [112:1] and Al-Mu’awwidhatain. Then the Bedouin stood up, healed, and there was nothing wrong with him.”
ہم سے ہارون بن حیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، کہا کہ ہم کو ابوجناب نے، وہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے، وہ اپنے والد ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہوسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا: میرا ایک بیمار بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: تمہارے بھائی کو کیا بیماری ہے ؟ وہ بولا: اسے آسیب ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے لے کر آؤ ، ابولیلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ( اعرابی ) گیا اور اسے لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سامنے بیٹھایا، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نے اسے دم کیا، سورۃ فاتحہ، سورۃ البقرہ کی ابتدائی چار آیات اور درمیان کی دو آیتیں، اور «وإلهكم إله واحد» والی آیت، آیت الکرسی، پھر سورۃ البقرہ کی آخری تین آیات، آل عمران کی آیت ( جو میرے خیال میں ) «شهد الله أنه لا إله إلا هو» ہے، سورۃ الاعراف کی آیت «إن ربكم الله الذي خلق»، سورۃ مومنون کی آیت «ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به»، سورۃ الجن کی آیت «وأنه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا» اور سورۃ الصافات کے شروع کی دس آیات، اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات، سورۃ «قل هو الله أحد» اور معوذتین کے ذریعے، تو اعرابی شفایاب ہو کر کھڑا ہو گیا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہے۔