It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The believer is more precious to Allah, the Mighty and Sublime, than some of His angels.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو المحزم یزید بن سفیان نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن اللہ عزوجل کے نزدیک اس کے بعض فرشتوں سے زیادہ معزز و محترم ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever fights under a banner of folly, supporting tribalism, or getting angry for the sake of tribalism, he dies in a state of ignorance.”
ہم سے بشر بن ہلال الصواف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، وہ غیلان بن جریر سے، وہ زیاد بن ریا ح سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے لڑے، عصبیت کی دعوت دے، اور عصبیت کے سبب غضب ناک ہو، اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی ۔
‘Abbad bin Kathir Ash-Shami narrated from a woman among them, called Fasilah, that she heard her father say:
“I asked the Prophet (ﷺ): ‘O Messenger of Allah, is it tribalism if a man loves his people?’ He said: ‘No, rather tribalism is when a man helps his people to do wrong.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زیاد بن الربیع الہمیدی نے بیان کیا، انہوں نے عباد بن کثیر الشامی کی سند سے، ان میں سے فسیلہ نامی ایک عورت نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا
میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اپنی قوم سے محبت رکھنا عصبیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ ظلم پر قوم کی مدد کرنا عصبیت ہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘My nation will not unite on misguidance, so if you see them differing, follow the great majority.’”
ہم سے عباس بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معن بن رفاعہ السلمی نے بیان کیا، مجھ سے ابو خلف الاعمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا:انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت گمراہی پر کبھی جمع نہ ہو گی، لہٰذا جب تم اختلاف دیکھو تو سواد اعظم ( یعنی بڑی جماعت ) کو لازم پکڑو ۔
It was narrated that Mu’adh bin Jabal رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) prayed one day, and made the prayer lengthy. When he finished we said (or they said): ‘O Messenger of Allah, you made the prayer lengthy today.’ He said: ‘I offered a prayer of hope and fear. I asked Allah for three things for my nation, and He granted me two and refused one. I asked Him not to let my nation be destroyed by enemies from without, and He granted me that. And I asked Him not to let them be destroyed by drowning, and He granted me that. And I asked Him not to let them be destroyed by fighting among themselves, but He refused that.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے، راجہ انصاری کی سند سے، عبداللہ بن شداد بن الحاد سے, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن بہت لمبی نماز پڑھائی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ( یا لوگوں نے ) عرض کیا: اللہ کے رسول! آج تو آپ نے نماز بہت لمبی پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، آج میں نے رغبت اور خوف والی نماز ادا کی، میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تین باتیں طلب کیں جن میں سے اللہ تعالیٰ نے دو عطا فرما دیں اور ایک قبول نہ فرمائی، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کیا تھا کہ میری امت پر اغیار میں سے کوئی دشمن مسلط نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اسے دیا، دوسری چیز میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کی تھی کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی مجھے دیا، تیسری یہ دعا کی تھی کہ میری امت آپس میں جنگ و جدال نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہ فرمائی ۔
It was narrated from Thawban رضی اللہ عنہ , the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The earth was brought together for me so that I could see the east and the west, and I was given two treasures, the yellow (or the red) and the white – meaning gold and silver. And it was said to me: ‘Your dominion will extend as far as has been shown to you.’ I asked Allah for three things: That my nation would not be overwhelmed by famine that would destroy them all, and that they would not be rent by schism and fight one another, but it was said to me: ‘When I (Allah) issue My decree it cannot be revoked. But I will never cause your nation to be overwhelmed by famine that would destroy them all, and I will not gather their enemies against them (and destroy them) until they annihilate one another and kill one another.’ Once they start to fight amongst themselves, that will continue until the Day of Resurrection. What I fear most for my nation is misguiding leaders. Some tribes among my nation will worship idols and some tribes among my nation will join the idolaters. Before the Hour comes there will be nearly thirty Dajjals (great liars), each of them claiming to be a Prophet. But a group among my nation will continue to adhere to the truth and be victorious, and those who oppose them will not harm them, until the command of Allah comes to pass.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن شعیب بن شابور نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن بشیر نے قتادہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے ان سے ابوقلابہ الجرمی، عبداللہ بن زید نے ابو اسماء الرحبی کی سند سے, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین سمیٹ دی گئی حتیٰ کہ میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا، پھر اس کے دونوں خزانے زرد یا سرخ اور سفید ( یعنی سونا اور چاندی بھی ) مجھے دئیے گئے ۱؎ اور مجھ سے کہا گیا کہ تمہاری ( امت کی ) حکومت وہاں تک ہو گی جہاں تک زمین تمہارے لیے سمیٹی گئی ہے، اور میں نے اللہ تعالیٰ سے تین باتوں کا سوال کیا: پہلی یہ کہ میری امت قحط ( سوکھے ) میں مبتلا ہو کر پوری کی پوری ہلاک نہ ہو، دوسری یہ کہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے نہ کر، تیسری یہ کہ آپس میں ایک کو دوسرے سے نہ لڑا، تو مجھ سے کہا گیا کہ میں جب کوئی حکم نافذ کر دیتا ہوں تو وہ واپس نہیں ہو سکتا، بیشک میں تمہاری امت کو قحط سے ہلاک نہ کروں گا، اور میں زمین کے تمام کناروں سے سارے مخالفین کو ( ایک وقت میں ) ان پر جمع نہ کروں گا جب تک کہ وہ خود آپس میں اختلاف و لڑائی اور ایک دوسرے کو مٹانے اور قتل نہ کرنے لگیں، لیکن جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف گمراہ سربراہوں کا ہے، عنقریب میری امت کے بعض قبائل بتوں کی پرستش کریں گے، اور عنقریب میری امت کے بعض قبیلے مشرکوں سے مل جائیں گے، اور قیامت کے قریب تقریباً تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے، اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اور ہمیشہ ان کی مدد ہوتی رہے گی، اور جو کوئی ان کا مخالف ہو گا وہ ان کو کوئی ضرور نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے ۲؎۔ ابوالحسن ابن القطان کہتے ہیں: جب ابوعبداللہ ( یعنی امام ابن ماجہ ) اس حدیث کو بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ حدیث کتنی ہولناک ہے۔
It was narrated that Zainab bint Jahsh رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) woke up red in the face and said: ‘La ilaha illallah, woe to the Arabs from an evil that has drawn nigh. Today a hole has been opened in the barrier of Gog and Magog.’ And he gestured to indicate the size of the hole.” Zainab رضی اللہ عنہا said: “I said: ‘O Messenger of Allah! Will we be destroyed when there are righteous people among us?’ He said: ‘If sin and evil deeds increase.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے، زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، حبیبہ رضی اللہ عنہا سے، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا مبارک چہرہ سرخ تھا، اور آپ فرما رہے تھے: «لا إله إلا الله» عرب کے لیے تباہی ہے اس فتنے سے جو قریب آ گیا ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں سے دس کی گرہ بنائی ، زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ حالانکہ ہم میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب معصیت ( برائی ) عام ہو جائے گی ۔
It was narrated from Abu Umamah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There will be tribulation in which a man will be a believer in the morning and a disbeliever by evening, except the one to whom Allah grants knowledge.”
ہم سے راشد بن سعید رملی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ان سے ولید بن سلیمان بن ابی السائب نے، علی بن یزید کی سند سے، وہ القاسم ابو عبدالرحمٰن کی سند سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کئی فتنے ظاہر ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا مگر جسے اللہ تعالیٰ علم کے ذریعہ زندہ رکھے ۔
It was narrated that Hudhaifah رضی اللہ عنہ said:
“We were sitting with ‘Umar رضی اللہ عنہ and he said: ‘Which of you has remembered a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ) concerning Fitnah?’” Hudhaifah رضی اللہ عنہ said: “I said: ‘I have.’ He said: ‘You are very bold.’ He said: ‘How?’ He said: ‘I heard him say: “The fitnah of a man with regard to his family, his children and his neigbours are expiated by his prayers, fasts, charity and enjoining what is good and forbidding what is evil.” ‘Umar رضی اللہ عنہ said: ‘This is not what I meant, rather I meant that which moves like the waves of the sea.’” Hudhaifah رضی اللہ عنہ said: “Don’t worry about it, O Commander of the Believers! For there is a closed door between you and them.” ‘Umar رضی اللہ عنہ said: “Will that door be broken or opened?” I said: “No, it will be broken.” ‘Umar رضی اللہ عنہ said: “Then it will never be closed.’” We asked Hudhaifah رضی اللہ عنہ: “Did ‘Umar رضی اللہ عنہ know what that door meant?” He said: Yes, just as he knows that there will be night before morning, because I narrated to him a Hadith in which there are no errors.” We were afraid to ask him who the door was, so we said to Masruq: “Ask him. He said: “‘Umar رضی اللہ عنہ.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے الاعمش نے، انہوں نے شقیق کی سند سے, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آپ نے کہا کہ تم میں سے کس کو فتنہ کے باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: مجھ کو یاد ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم بڑے جری اور نڈر ہو، پھر بولے: وہ ( حدیث ) کیسے ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: آدمی کے لیے جو فتنہ اس کے اہل و عیال، اولاد اور پڑوسی میں ہوتا ہے اسے نماز، روزہ، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں، ( یہ سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری یہ مراد نہیں ہے، بلکہ میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح امنڈ آئے گا، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کو اس فتنے سے کیا سروکار، آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان تو ایک بند دروازہ ہے، تو انہوں نے پوچھا: کیا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ؛ بلکہ وہ توڑ دیا جائے گا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر وہ کبھی بند ہونے کے قابل نہ رہے گا ۱؎۔ ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ وہ دروازہ کون ہے؟ جواب دیا: ہاں، وہ ایسے ہی جانتے تھے جیسے یہ جانتے ہیں کہ کل سے پہلے رات ہے، میں نے ان سے ایک ایسی حدیث بیان کی تھی جس میں کوئی دھوکا جھوٹ اور مغالطہٰ نہ تھا، پھر ہمیں خوف محسوس ہوا کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کریں کہ اس دروازے سے کون شخص مراد ہے؟ پھر ہم نے مسروق سے کہا: تم ان سے پوچھو، انہوں نے پوچھا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ دروازہ خود عمر رضی اللہ عنہ ہیں ( جن کی ذات تمام بلاؤں اور فتنوں کی روک تھی ) ۔
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin ‘Abd Rabbil-Ka’bah said:
“I came to ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘As رضی اللہ عنہما when he was sitting in the shade of the Ka’bah, and the people were gathered around him, and I heard him say: ‘While we were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, he stopped to camp and some of us were pitching tents, some were competing in shooting arrows and some were taking the animals out to graze them. Then his caller called out: “As-Salatu Jami’ah (prayer is about to begin).” So we gathered, and the Messenger of Allah (ﷺ) stood up and addressed us. He said: “There has never been a Prophet before me who was not obliged to tell his nation of what he knew was good for them, and to warn against what he knew was bad for them. With regard to this nation of yours, soundness (of religious commitment) and well-being has been placed in its earlier generations and the last of them will be afflicted with calamities and things that you dislike. Then there will come tribulations which will make the earlier ones pale into significance, and the believer will say: ‘This will be the end of me,’ then relief will come. Then (more) tribulations will come and the believer will say: ‘This will be the end of me,’ then relief will come. Whoever would like to be taken far away from Hell and admitted to Paradise, let him die believing in Allah and the Last Day, and let him treat people as he would like to be treated. Whoever gives his oath of allegiance to a ruler and gives a sincere promise, let him obey him as much as he can, and if another comes and challenges him, let them strike the neck (i.e., kill) the second one.’” He the narrator said: “I raised my head among the people and said: 'I adjure you by Allah, did you hear that from the Messenger of Allah (ﷺ)?' He ('Abdullah bin 'Amr bin Al-'As) pointed with his hand to his ears and said: I heard it directly from him and memorized it.'”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ان سے ابو معاویہ، عبدالرحمٰن المحربی نے اور ہم سے وکیع نے، العمش کی سند سے، انہوں نے زید بن وہب کی سند سے بیان کیا, عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ کہتے ہیں کہ
میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، وہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے، اور لوگ ان کے پاس جمع تھے، تو میں نے ان کو کہتے سنا: اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ نے ایک جگہ قیام کیا، تو ہم میں سے کوئی خیمہ لگا رہا تھا، کوئی تیر چلا رہا تھا، اور کوئی اپنے جانور چرانے لے گیا، اتنے میں ایک منادی نے آواز لگائی کہ لوگو! نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو ہم نماز کے لیے جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ دیا، اور فرمایا: مجھ سے پہلے جتنے بھی نبی گزرے ہیں ان پر ضروری تھا کہ وہ اپنی امت کی ان باتوں کی طرف رہنمائی کریں جن کو وہ ان کے لیے بہتر جانتے ہوں، اور انہیں ان چیزوں سے ڈرائیں جن کو وہ ان کے لیے بری جانتے ہوں، اور تمہاری اس امت کی سلامتی اس کے شروع حصے میں ہے، اور اس کے اخیر حصے کو بلا و مصیبت لاحق ہو گی، اور ایسے امور ہوں گے جن کو تم برا جانو گے، پھر ایسے فتنے آئیں گے کہ ایک کے سامنے دوسرا ہلکا محسوس ہو گا، مومن کہے گا: اس فتنے میں میری تباہی ہے، پھر وہ فتنہ ختم ہو جائے گا، اور دوسرا فتنہ آئے گا، مومن کہے گا: اس میں میری تباہی ہے پھر وہ بھی ختم ہو جائے گا، تو جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ جہنم سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے تو وہ کوشش کرے کہ اس کی موت اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو کہ لوگ اس کے ساتھ کریں، اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے، اور اس کو اپنی قسم کا ہاتھ دے کر دل سے سچا عہد کرے تو اب جہاں تک ہو سکے اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا امام آ کر اس سے لڑنے جھگڑنے لگے ( اور اپنے سے بیعت کرنے کو کہے ) تو اس دوسرے امام کی گردن مار دے ۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ( یہ سن کر ) اپنا سر لوگوں میں سے نکال کر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے کانوں کی جانب اشارہ کر کے کہا: میرے کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “How will you be at a time that will soon come, when the good people will pass away and only the worst ones will be left, who will break their promises and betray their trusts, and they will differ while they were previously together like this,” – and he interlaced his fingers. They said: “What should we do, O Messenger of Allah, when that comes to pass?” He said: “Follow that which you know is true, and leave that which you dislike. Take care of your own affairs and turn away from the common folk.”
ہم سے ہشام بن عمار اور محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے عمرہ بن حزم کی روایت سے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا جو عنقریب آنے والا ہے؟ جس میں لوگ چھانے جائیں گے ( اچھے لوگ سب مر جائیں گے ) اور خراب لوگ باقی رہ جائیں گے ( جیسے چھلنی میں آٹا چھاننے سے بھوسی باقی رہ جاتی ہے ) ، ان کے عہد و پیمان اور امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا، اور لوگ آپس میں الجھ کر اور اختلاف کر کے اس طرح ہو جائیں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھائیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تمہیں معروف ( اچھی ) معلوم ہو اسے اپنا لینا، اور جو منکر ( بری ) معلوم ہو اسے چھوڑ دینا، اور تم اپنے خصوصی معاملات و مسائل کی فکر کرنا، اور عام لوگوں کے مائل کی فکر چھوڑ دینا ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “What will you do, O Abu Dharr, when death overwhelms the people to such an extent that a grave will be equal in value to a slave?” I said: “Whatever Allah and His Messenger choose for me, or Allah and His Messenger know best.” He said “Be patient.” He said: ‘What will you do when famine strikes the people so that you will go to the place where you pray and will not be able to return to your bed, or you will not be able to get up from your bed to go to the place where you pray?” He said: “I said: ‘Allah and His Messenger know best, or whatever Allah and His Messenger choose for me.” He said: “You must refrain from forbidden things.” He said: “What will you do when killing befalls the people so that Hijaratuz-Zait*is covered with blood?” I said: “Whatever Allah and His Messenger choose for me.” He said: “Stay with those whom you belong to.” He said: “I said: ‘O Messenger of Allah, should I not take my sword and strike those who do that?’” He said: “Then you will be just like the people. Rather enter your house.” I said: “O Messenger of Allah, what if they enter my house?” He said: “If you are afraid that the flashing of the sword will dazzle you, then put the edge of your garment over your face, and let him carry his own sin and your sin, and he will be one of the people of the Hellfire.
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوعمران الجونی نے، ان سے مشعث بن طریف نے، وہ عبداللہ بن صامت کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی جس وقت لوگوں پر موت کی وبا آئے گی یہاں تک کہ ایک گھر یعنی قبر کی قیمت ایک غلام کے برابر ہو گی ، میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں ( یا یوں کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تم صبر سے کام لینا ، پھر فرمایا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ قحط اور بھوک کی مصیبت سے دو چار ہوں گے، حتیٰ کہ تم اپنی مسجد میں آؤ گے، پھر تم میں اپنے بستر تک جانے کی قوت نہ ہو گی اور نہ ہی بستر سے اٹھ کر مسجد تک آنے کی قوت ہو گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، یا کہا ( اللہ اور اس کا رسول جو میرے لیے پسند کرے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اس وقت ) تم اپنے اوپر پاک دامنی کو لازم کر لینا ، پھر فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب ( مدینہ میں ) لوگوں کا قتل عام ہو گا، حتیٰ کہ مدینہ میں ایک پتھریلا مقام «حجارة الزيت» خون میں ڈوب جائے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول جو میرے لیے پسند فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں سے مل جانا جن سے تم ہو ( یعنی اپنے اہل خاندان کے ساتھ ہو جانا ) ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر ان لوگوں کو نہ ماروں جو ایسا کریں؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کرو گے تب تو تم بھی انہیں لوگوں میں شریک ہو جاؤ گے، تمہیں چاہیئے کہ ( چپ چاپ ہو کر ) اپنے گھر ہی میں پڑے رہو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ میرے گھر میں گھس آئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ڈر ہو کہ تلوار کی چمک تم پر غالب آ جائے گی، تو اپنی چادر کا کنارا منہ پر ڈال لینا، ( قتل ہو جانا ) وہ قتل کرنے والا اپنا اور تمہارا دونوں کا گناہ اپنے سر لے گا، اور وہ جہنمی ہو گا ۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Before the Hour comes there will be Harj.” I said: “O Messenger of Allah, what is Harj?” He said: “Killing.” Some of the Muslims said: “O Messenger of Allah, now we kill such and such a number of idolaters in one year.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “That will not be like killing the idolaters, rather you will kill one another, until a man will kill his neighbor and son of the cousin and a relative.” Some of the people said: “O Messenger of Allah, will we be in our right minds that day?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No, reason will be taken away from most of the people at that time, and there will be left the insignificant people who have no reason.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عوف نے بیان کیا، حسن کی سند سے اسید بن معتصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا: قیامت سے پہلے «ہرج» ہو گا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول!«ہرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل ، کچھ مسلمانوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تو اب بھی سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کا قتل مراد نہیں بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، اپنے چچا زاد بھائی اور قرابت داروں کو بھی قتل کرے گا ، تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس وقت ہم لوگ عقل و ہوش میں ہوں گے کہ نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی، اور ان کی جگہ ایسے کم تر لوگ لے لیں گے جن کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی ۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ زمانہ مجھے اور تم کو پا لے، اللہ کی قسم! اگر ایسا زمانہ مجھ پر اور تم پر آ گیا تو ہمارے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کی ہے، سوائے اس کے کہ ہم اس سے ویسے ہی نکلیں جیسے داخل ہوئے.
‘Udaisah bint Uhban said:
“When ‘Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ came to Basrah, he entered upon my father and said: ‘O Abu Muslim, will you not help me against these people?’ He said: ‘Of course.’ So he called a slave woman of his and said: ‘O slave woman, bring me my sword.’ So she brought it, and he unsheathed it a span, and (I saw that) it was made of wood. He said: ‘My close friend and your cousin (ﷺ) advised me, if tribulation (Fitnah) arose among the Muslims, that I should take a sword of wood. If you wish I will go out with you.’ He said: ‘I have no need of you or of your sword.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسجد حردان کے مؤذن عبداللہ بن عبید نے بیان کیا, عدیسہ بنت اہبان کہتی ہیں کہ
جب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہاں بصرہ میں آئے، تو میرے والد ( اہبان بن صیفی غفاری رضی اللہ عنہ ) کے پاس تشریف لائے، اور کہا: ابو مسلم! ان لوگوں ( شامیوں ) کے مقابلہ میں تم میری مدد نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور مدد کروں گا، پھر اس کے بعد اپنی باندی کو بلایا، اور اسے تلوار لانے کو کہا: وہ تلوار لے کر آئی، ابو مسلم نے اس کو ایک بالشت برابر ( نیام سے ) نکالا، دیکھا تو وہ تلوار لکڑی کی تھی، پھر ابو مسلم نے کہا: میرے خلیل اور تمہارے چچا زاد بھائی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے کہ جب مسلمانوں میں جنگ اور فتنہ برپا ہو جائے تو میں ایک لکڑی کی تلوار بنا لوں ، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ہمراہ نکلوں، انہوں نے کہا: مجھے نہ تمہاری ضرورت ہے اور نہ تمہاری تلوار کی ۔
It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Before the Hour comes, there will be tribulation like pieces of black night, when a man will wake up as a believer but be a disbeliever by evening, or he will be a believer in the evening but will be a disbeliever by morning. And the one who is sitting will be better than the one who is standing, and the one who is standing will be better than the one who is walking, and the one who is walking will be better than the one who is running. So break your bows, cut their strings and strike your swords against rocks, and if anyone enters upon anyone of you, let him be like the better of the two sons of Adam. (i.e. the one killed, not the killer).”
ہم سے عمران بن موسیٰ لیثی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جہادہ نے بیان کیا، وہ عبدالرحمٰن بن ثروان کی سند سے، وہ حزیل بن شرحبیل کی سند سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب ایسے فتنے ہوں گے جیسے اندھیری رات کے حصے، ان میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، تو شام کو کافر ہو گا اور شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر ہو گا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، اور ان فتنوں میں تم اپنی کمانوں کو توڑ ڈالنا، کمان کے تانت کاٹ ڈالنا، اپنی تلواریں پتھر پر مار کر کند کر لینا، اور اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی گھس جائے تو آدم کے دونوں بیٹوں میں سے نیک بیٹے کی طرح ہو جا نا ۔
It was narrated that Abu Burdah رضی اللہ عنہ said:
“I entered upon Muhammad bin Maslamah رضی اللہ عنہ and he said that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There will be tribulation, division and dissension. When that comes, take your sword to Uhud and strike it until it breaks, then sit in your house until there comes to you the hand of the evildoer (to kill you) or a predestined (natural) death.’” And that came to pass, and I did as the Messenger of Allah (ﷺ) said.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، ثابت سے یا علی بن زید بن جدعان سے، ابوبکر غیر یقینی تھے, ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت جلد ایک فتنہ ہو گا، فرقہ بندی ہو گی اور اختلاف ہو گا، جب یہ زمانہ آئے تو تم اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر آنا، اور اس پر اسے مارنا کہ وہ ٹوٹ جائے، اور پھر اپنے گھر بیٹھ جانا یہاں تک کہ کوئی خطاکار ہاتھ تمہیں قتل کر دے، یا موت آ جائے جو تمہارا کام تمام کر دے ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ فتنہ آ گیا ہے، اور میں نے وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “There are no two Muslims who confront one another with their swords, but both the killer and the slain will be in Hell.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے مبارک بن سہیم نے، عبدالعزیز بن صہیب کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔
It was narrated from Abu Musa رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When two Muslims confront one another with their swords, both the killer and the slain will be in Hell.” They said: “O Messenger of Allah, (we understand about) this killer, but what is wrong with the one who is slain?” He said: “He wanted to kill his companion.’”
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے اور ان سے سعید بن ابی عروبہ نے، انہوں نے قتادہ کی سند سے، انہوں نے حسن کی سند سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں، تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے ( قتل کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا ) مگر مقتول کا کیا گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا ۔
It was narrated from Abu Bakrah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “When one Muslim wields his weapon against his brother, both of them are at the edge of Hell, and if one of them kills the other, they will both enter it.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے، منصور سے اور ربیع بن حراش کی سند سے, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، پھر جب ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں ایک ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے ۔
It was narrated from Abu Umamah that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Among the worst people in status before Allah on the Day of Resurrection will be a person who loses his Hereafter for the sake of this world.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے عبد الحکم السدوسی نے بیان کیا، ہم سے شہر بن حوشب نے بیان کیا، ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برباد اور خراب مقام اس شخص کا ہو گا جس نے اپنی آخرت دوسرے کی دنیا کے لیے برباد کی ۔