‘Abdullah bin Buraidah رضی اللہ عنہ narrated that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) took me to a place in the desert, near Makkah, where there was arid land surrounded by sand. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Beast will emerge from this spot – span by a span. (i.e, the size of that spot).’” Ibn Buraidah ( رضی اللہ عنہ) said: “I performed Hajj after many years, and Buraidah ( رضی اللہ عنہ) (i.e. my father) showed us the stick of the “Dabat al-Arz” which was as long and thick as my stick.
ابو غسان محمد بن عمرو الزنج کی حدیث، ابو تمیلہ کی حدیث، خالد بن عبید کی حدیث، عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث، اپنے والد کی سند سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مکہ کے قریب ایک جگہ صحراء میں لے گئے، تو وہ ایک خشک زمین تھی جس کے اردگرد ریت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور ( «دابۃ الارض» ) یہاں سے نکلے گا، میں نے وہ جگہ دیکھی، وہ ایک بالشت میں سے انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان کی دوری کے برابر تھی ۔ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی سال کے بعد حج کیا تو بریدہ رضی اللہ عنہ ( یعنی میرے والد ) نے ہمیں «دابۃ الارض» کا عصا دکھایا جو میرے عصا کے بقدر لمبا اور موٹا تھا۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘The Hour will not begin until the sun rises from the west (i.e. the place of its setting). When it rises, the people will see it, and everyone on (earth) will believe, but that will be at a time when faith will not benefit anyone who did not believe before.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، انہوں نے عمرہ بن قعقاع سے اور ابو زرعہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکلے گا، جب سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں گے تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایسا وقت ہو گا کہ اس وقت جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتے تھے، ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The first signs to appear will be at the rising of the sun from the west and the emergence of the Beast to the people, at forenoon.’” 'Abdullah said: Whichever of them appears first, the other will come soon after. 'Abdullah رضی اللہ عنہما said: I do not think it will be anything other than the sun rising from the west.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابو حیان تیمی نے، ابو زرعہ بن عمرو بن جریر کی سند سے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی پہلی نشانی سورج کا پچھم سے نکلنا، اور چاشت کے وقت لوگوں پر «دابہ» ( چوپایہ ) کا ظاہر ہونا ہے ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے جو بھی پہلے نکلے، تو دوسرا اس سے قریب ہو گا، میرا یہی خیال ہے کہ پہلے سورج پچھم سے نکلے گا ۔
It was narrated from Safwan bin ‘Assal رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Towards the west (i.e., the place of the setting of the sun) there is an open door, seventy years wide. That door will remain open for repentance until the sun rises from this direction. When it rises from this direction, faith will not benefit any soul that did not believe before or earn anything good through its faith.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، بنی اسرائیل سے، عاصم کی سند سے، انہوں نے زر کی سند سے, صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب ( یعنی سورج کے ڈوبنے کی سمت ) میں ایک کھلا دروازہ ہے، اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، یہ دروازہ توبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا، جب تک سورج ادھر سے نہ نکلے، اور جب سورج ادھر سے نکلے گا تو اس وقت کسی شخص کا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان لا کر کوئی نیکی نہ کما لی ہو، اس کا ایمان لانا کسی کام نہ آئے گا ۔
It was narrated that Hudhaifah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Dajjal (False Christ) is blind in his left eye and has abundant hair. With him will be a Paradise and a Hell, but his Hell is Paradise and his Paradise is Hell.'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا: ہم سے عماش نے، شقیق کی سند سے بیان کیا, حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ کا کانا، اور بہت بالوں والا ہو گا، اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی، لیکن اس کی جہنم جنت اور اس کی جنت جہنم ہو گی ۔
It was narrated that Abu Bakr Siddiq رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) told us: 'Dajjal will emerge in a land in the east called Khorasan, and will be followed by people with faces like hammered shields.'
ہم سے نصر بن علی الجہضمی، محمد بن بشار اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو التیاح کی سند سے، وہ سبیع رضی اللہ عنہ کی سند سے,عمرو بن حریث, ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان کی: دجال مشرق ( پورب ) کے ایک ملک سے ظاہر ہو گا، جس کو«خراسان» کہا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں ۱؎۔
It was narrated that Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ said:
No one asked the Prophet (ﷺ) about Dajjal more than I did. (One of the narrators) Ibn Numair said (in his version): (No one asked) more difficult questions than I did. - He said to me: 'What are you asking about him?' I said: 'They say he will have food and drink with him.' He said: 'He is too insignificant before Allah for that.'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، قیس بن ابی حازم کی سند سے, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنے سوالات میں نے کئے ہیں، اتنے کسی اور نے نہیں کئے، ( ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں «أشد سؤالا مني» یعنی مجھ سے زیادہ سوال اور کسی نے نہیں کئے ، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر وہ اس سے بھی زیادہ آسان ہے ۔
It was narrated that Fatimah bint Qais رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed one day, and ascended the pulpit, and he never used to ascend it, before that, except on Fridays. The people were alarmed by that, and some were standing and some were sitting. He gestured to them with his hand, telling them to sit. (Then he said:) 'By Allah, I am not standing here for something that will benefit you, an exhortation or warning. Rather Tamim Dari has come to me and told me something that prevented me from taking a rest because of the joy and delight (I felt), and I wanted to spread that joy among you. A cousin of Tamim Dari told me that the wind drove them to an island that they did not know, so they sat in the rowing boats of the ship and set out. There they saw something black, with long eyelashes. They said to it: What are you? It said: I am Jassasah, They said: Tell us. It said: I will not tell you anything or ask you anything. Rather there is this monastery that you have looked at. Go to it, for there is a man there who is longing to hear your news and tell you news. So they went there and entered upon him, and they saw an old man firmly shackled, with a sorrowful appearance and complaining a great deal. He said to them: Where have you come from? They said: From Sham. He said: How are the Arabs faring? They said: We are from among the Arabs. What do you want to ask about? He said: What has this man done who has appeared among you? They said: (He has done) well. He made enemies of some people, but Allah supported him against them and now they have become one, with one God and one religion. He said: What happened to the spring of Zughar? They said: It is good; we irrigate out crops from it and drink from it. He said: What happened to the date-palms between 'Amman and Baisan? They said: They bear fruit every year. He said: What happened to the Lake of Tiberias? They said: It overflows because of the abundance of water. He gave three deep sighs, then he said: If I were to free myself from these chains, I would not leave any land without entering it on these two feet of mine, except for Taibah, for I have no way to enter it. The Prophet (ﷺ) said: 'My joy is so great. This (Al-Madinah) is Taibah, and by the One in Whose Hand is my soul, there is no narrow or broad road in it, or any plain or mountain, but there is an angel (standing) over it with his sword unsheathed, until the Day of Resurrection.'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے مجالد کی سند سے اور شعبی کی سند سے, فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور منبر پر تشریف لے گئے، اور اس سے پہلے جمعہ کے علاوہ آپ منبر پر تشریف نہ لے جاتے تھے، لوگوں کو اس سے پریشانی ہوئی، کچھ لوگ آپ کے سامنے کھڑے تھے کچھ بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں منبر پر اس لیے نہیں چڑھا ہوں کہ کوئی ایسی بات کہوں جو تمہیں کسی رغبت یا دہشت والے کام کا فائدہ دے، بلکہ بات یہ ہے کہ میرے پاس تمیم داری آئے، اور انہوں نے مجھے ایک خبر سنائی ( جس سے مجھے اتنی مسرت ہوئی کہ خوشی کی وجہ سے میں قیلولہ نہ کر سکا، میں نے چاہا کہ تمہارے نبی کی خوشی کو تم پر بھی ظاہر کر دوں ) ، سنو! تمیم داری کے ایک چچا زاد بھائی نے مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا کہ ( ایک سمندری سفر میں ) ہوا ان کو ایک جزیرے کی طرف لے گئی جس کو وہ پہچانتے نہ تھے، یہ لوگ چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر سوار ہو کر اس جزیرے میں گئے، انہیں وہاں ایک کالے رنگ کی چیز نظر آئی، جس کے جسم پر کثرت سے بال تھے، انہوں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ( دجال کی جاسوس ) ہوں، ان لوگوں نے کہا: تو ہمیں کچھ بتا، اس نے کہا: ( نہ میں تمہیں کچھ بتاؤں گی، نہ کچھ تم سے پوچھوں گی ) ، لیکن تم اس دیر ( راہبوں کے مسکن ) میں جسے تم دیکھ رہے ہو جاؤ، وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا خواہشمند ہے کہ تم اسے خبر بتاؤ اور وہ تمہیں بتائے، کہا: ٹھیک ہے، یہ سن کر وہ لوگ اس کے پاس آئے، اس گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں ایک بوڑھا شخص زنجیروں میں سخت جکڑا ہوا ( رنج و غم کا اظہار کر رہا ہے، اور اپنا دکھ درد سنانے کے لیے بے چین ہے ) تو اس نے ان لوگوں سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: شام سے، اس نے پوچھا: عرب کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہم عرب لوگ ہیں، تم کس کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے پوچھا: اس شخص کا کیا حال ہے ( یعنی محمد کا ) جو تم لوگوں میں ظاہر ہوا؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اس نے قوم سے دشمنی کی، پھر اللہ نے اسے ان پر غلبہ عطا کیا، تو آج ان میں اجتماعیت ہے، ان کا معبود ایک ہے، ان کا دین ایک ہے، پھر اس نے پوچھا: زغر ( شام میں ایک گاؤں ) کے چشمے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لوگ اس سے اپنے کھیتوں کو پانی دیتے ہیں، اور پینے کے لیے بھی اس میں سے پانی لیتے ہیں، پھر اس نے پوچھا: ( عمان اور بیسان ( ملک شام کے دو شہر کے درمیان ) کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہر سال وہ اپنا پھل کھلا رہے ہیں، اس نے پوچھا: طبریہ کے نالے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: اس کے دونوں کناروں پر پانی خوب زور و شور سے بہ رہا ہے، یہ سن کر اس شخص نے تین آہیں بھریں ) پھر کہا: اگر میں اس قید سے چھوٹا تو میں اپنے پاؤں سے چل کر زمین کے چپہ چپہ کا گشت لگاؤں گا، کوئی گوشہ مجھ سے باقی نہ رہے گا سوائے طیبہ ( مدینہ ) کے، وہاں میرے جانے کی کوئی سبیل نہ ہو گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سن کر مجھے بےحد خوشی ہوئی، طیبہ یہی شہر ( مدینہ ) ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مدینہ کے ہر تنگ و کشادہ اور نیچے اونچے راستوں پر ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ متعین ہے جو قیامت تک پہرہ دیتا رہے گا ۔
Nawwas bin Sam'an Al-Kilabi رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned Dajjal, one morning, as something despised but also alarming, until we thought that he was in the stand of date-palm trees. When we came to the Messenger of Allah (ﷺ) in the evening, he saw that (fear) in us, and said: 'What is the matter with you?' We said: 'O Messenger of Allah, you mentioned Dajjal this morning, and you spoke of him as something despised but also alarming, until we thought that he was in the stand of date-palm trees.' He said: 'There are things that I fear more for you than the Dajjal. If he appears while I am among you, I will contend with him on your behalf, and if he appears when I am not among you, then each man must fend for himself, and Allah will take care of every Muslim on my behalf. He (Dajjal) will be a young man with curly hair and a protuberant eye; I liken him to 'Abdul-'Uzza bin Qatan. Whoever among you sees him, let him recite the first Verses of Surat Al-Kahf over him. He will emerge from Khallah, between Sham and Iraq, and will wreak havoc right and left. O slaves of Allah, remain steadfast.' We said: 'O Messenger of Allah, how long will he stay on earth?' He said: 'Forty days, one day like a year, one day like a month, one day like a week, and the rest of his days like your days.' We said: 'O Messenger of Allah, on that day which is like a year, will the prayers of one day suffice us?' He said: 'Make an estimate of time (and then observe prayer).' We said: 'How fast will he move through the earth?' He said: 'Like a rain cloud driving by the wind.' He said: 'He will come to some people and call them, and they will respond and believe in him. Then he will command the sky to rain and it will rain, and he will command the earth to produce vegetation and it will do so, and their flocks will come back in the evening with their humps taller, their udders fuller and their flanks fatter than they have ever been. Then he will come to some (other) people and call them, and they will reject him, so he will turn away from them and they will suffer drought and be left with nothing. Then he will pass through the wasteland and will say: Bring forth your treasures, then go away, and its treasures will follow him like a swarm of bees. Then he will call a man brimming with youth and will strike him with a sword and cut him in two. He will put the two pieces as far apart as the distance between an archer and his target. Then he will call him and he will come with his face shining, laughing. While they are like that, Allah will send 'Eisa bin Maryam, who will come down at the white minaret in the east of Damascus, wearing two Mahrud[garment dyed with Wars and then Saffron], resting his hands on the wings of two angels. When he lowers his head, beads of perspiration will fall from it. Every disbeliever who smells the fragrance of his breath will die, and his breath will reach as far as his eye can see. Then he will set out and catch up with him (the Dajjal) at the gate of Ludd, and will kill him. Then the Prophet of Allah 'Eisa will come to some people whom Allah has protected, and he will wipe their faces and tell them of their status in Paradise. While they are like that, Allah will reveal to him: O 'Eisa, I have brought forth some of My slaves whom no one will be able to kill, so take My slaves to Tur in safety. Then Gog and Magog will emerge and they will, as Allah describes, swoop down from every mound. [21:96] The first of them will pass by lake Tiberias and drink from it, then the last of them will pass by it and will say: There was water here once. The Prophet of Allah, 'Eisa and his companions will be besieged there until the head of an ox would be dearer to any one of them than one hundred Dinar are to any one of you today. Then, the Prophet of Allah, 'Eisa and his companions will supplicate Allah. Then Allah will send a worm in their necks and the next morning they will all die as one. The Prophet of Allah 'Eisa and his companions will come down and they will not find even the space of a hand span that is free of their stink, stench and blood. They will pray to Allah, and He will send birds with necks like the necks of Bactrian camels, which will pick them up and throw them wherever Allah wills. Then Allah will send rain which will not leave any house of clay or hair, and it will wash the earth until it leaves it like a mirror (or a smooth rock). Then it will be said to the earth: Bring forth your fruits and bring back your blessing. On that day a group of people will eat from a (single) pomegranate and it will suffice them, and they will seek shelter beneath its skin. Allah will bless a milch- camel so that it will be sufficient for a large number of people, and a milch-cow will be sufficient for a whole tribe and a milch-ewe will be sufficient for a whole clan. While they are like that, Allah will send a pleasant wind which will seize them beneath their armpits and will take the soul of every Muslim, leaving the rest of the people fornicating like donkeys, and upon them will come the Hour.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
( ایک دن ) صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو اس میں آپ نے کبھی بہت دھیما لہجہ استعمال کیا اور کبھی روز سے کہا، آپ کے اس بیان سے ہم یہ محسوس کرنے لگے کہ جیسے وہ انہی کھجوروں میں چھپا ہوا ہے، پھر جب ہم شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر خوف کے آثار کو دیکھ کر فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہے ؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے جو صبح کے وقت دجال کا ذکر فرمایا تھا اور جس میں آپ نے پہلے دھیما پھر تیز لہجہ استعمال کیا تو اس سے ہمیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ انہی کھجوروں کے درختوں میں چھپا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم لوگوں پر دجال کے علاوہ اوروں کا زیادہ ڈر ہے، اگر دجال میری زندگی میں ظاہر ہوا تو میں تم سب کی جانب سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر انسان اس کا مقابلہ خود کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے ( یعنی ہر مسلمان کا میرے بعد ذمہ دار ہے ) دیکھو دجال جوان ہو گا، اس کے بال بہت گھنگریالے ہوں گے، اس کی ایک آنکھ اٹھی ہوئی اونچی ہو گی گویا کہ میں اسے عبدالعزی بن قطن کے مشابہ سمجھتا ہوں، لہٰذا تم میں سے جو کوئی اسے دیکھے اسے چاہیئے کہ اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے، دیکھو! دجال کا ظہور عراق اور شام کے درمیانی راستے سے ہو گا، وہ روئے زمین پر دائیں بائیں فساد پھیلاتا پھرے گا، اللہ کے بندو! ایمان پر ثابت قدم رہنا ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن تک، ایک دن ایک سال کے برابر، دوسرا دن ایک مہینہ کے اور تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر ہو گا، اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس دن میں جو ایک سال کا ہو گا ہمارے لیے ایک دن کی نماز کافی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نہیں بلکہ ) تم اسی ایک دن کا اندازہ کر کے نماز پڑھ لینا ۔ ہم نے عرض کیا: زمین میں اس کے چلنے کی رفتار آخر کتنی تیز ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہو، وہ ایک قوم کے پاس آ کر انہیں اپنی الوہیت کی طرف بلائے گا، تو وہ قبول کر لیں گے، اور اس پر ایمان لے آئیں گے، پھر وہ آسمان کو بارش کا حکم دے گا، تو وہ برسے گا، پھر زمین کو سبزہ اگانے کا حکم دے گا تو زمین سبزہ اگائے گی، اور جب اس قوم کے جانور شام کو چر کر واپس آیا کریں گے تو ان کے کوہان پہلے سے اونچے، تھن زیادہ دودھ والے، اور کوکھیں بھری ہوں گی، پہلو بھرے بھرے ہوں گے، پھر وہ ایک دوسری قوم کے پاس جائے گا، اور ان کو اپنی طرف دعوت دے گا، تو وہ اس کی بات نہ مانیں گے، آخر یہ دجال وہاں سے واپس ہو گا، تو صبح کو وہ قوم قحط میں مبتلا ہو گی، اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا، پھر دجال ایک ویران جگہ سے گزرے گا، اور اس سے کہے گا: تو اپنے خزانے نکال، وہاں کے خزانے نکل کر اس طرح اس کے ساتھ ہو جائیں گے جیسے شہد کی مکھیاں «یعسوب» ( مکھیوں کے بادشاہ ) کے پیچھے چلتی ہیں، پھر وہ ایک ہٹے کٹے نوجوان کو بلائے گا، اور تلوار کے ذریعہ اسے ایک ہی وار میں قتل کر کے اس کے دو ٹکڑے کر دے گا، ان دونوں ٹکڑوں میں اتنی دوری کر دے گا جتنی دوری پر تیر جاتا ہے، پھر اس کو بلائے گا تو وہ شخص زندہ ہو کر روشن چہرہ لیے ہنستا ہوا چلا آئے گا، الغرض دجال اور دنیا والے اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ الصلاۃ والسلام کو بھیجے گا، وہ دمشق کے سفید مشرقی مینار کے پاس دو زرد ہلکے کپڑے پہنے ہوئے اتریں گے، جو زعفران اور ورس سے رنگے ہوئے ہوں گے، اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے پانی کے قطرے موتی کی طرح گریں گے، ان کی سانس میں یہ اثر ہو گا کہ جس کافر کو لگ جائے گی وہ مر جائے گا، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر کام کرے گی۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام چلیں گے یہاں تک کہ اس ( دجال ) کو باب لد کے پاس پکڑ لیں گے، وہاں اسے قتل کریں گے، پھر دجال کے قتل کے بعد اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے پاس آئیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال کے شر سے بچا رکھا ہو گا، ان کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر انہیں تسلی دیں گے، اور ان سے جنت میں ان کے درجات بیان کریں گے، یہ لوگ ابھی اسی کیفیت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی نازل کرے گا: اے عیسیٰ! میں نے اپنے کچھ ایسے بندے پیدا کئے ہیں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں، تو میرے بندوں کو طور پہاڑ پر لے جا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا، اور وہ لوگ ویسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «من كل حدب ينسلون» یہ لوگ ہر ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) ان میں کے آگے والے طبریہ کے چشمے پر گزریں گے، تو اس کا سارا پانی پی لیں گے، پھر جب ان کے پچھلے لوگ گزریں گے تو وہ کہیں گے: کسی زمانہ میں اس تالاب کے اندر پانی تھا، اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی طور پہاڑ پر حاضر رہیں گے ، ان مسلمانوں کے لیے اس وقت بیل کا سر تمہارے آج کے سو دینار سے بہتر ہو گا، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے، چنانچہ اللہ یاجوج و ماجوج کی گردن میں ایک ایسا پھوڑا نکالے گا، جس میں کیڑے ہوں گے، اس کی وجہ سے ( دوسرے دن ) صبح کو سب ایسے مرے ہوئے ہوں گے جیسے ایک آدمی مرتا ہے، اور اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی طور پہاڑ سے نیچے اتریں گے اور ایک بالشت کے برابر جگہ نہ پائیں گے، جو ان کی بدبو، خون اور پیپ سے خالی ہو، عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹ کی گردن کی مانند پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو گا وہاں پھینک دیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ( سخت ) بارش نازل کرے گا جس سے کوئی پختہ یا غیر پختہ مکان چھوٹنے نہیں پائے گا، یہ بارش ان سب کو دھو ڈالے گی، اور زمین کو آئینہ کی طرح بالکل صاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا کہ تو اپنے پھل اگا، اور اپنی برکت ظاہر کر، تو اس وقت ایک انار کو ایک جماعت کھا کر آسودہ ہو گی، اور اس انار کے چھلکوں سے سایہ حاصل کریں گے اور دودھ میں اللہ تعالیٰ اتنی برکت دے گا کہ ایک اونٹنی کا دودھ کئی جماعتوں کو کافی ہو گا، اور ایک دودھ دینے والی گائے ایک قبیلہ کے لوگوں کو کافی ہو گی، اور ایک دودھ دینے والی بکری ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہو گی، لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں کے تلے اثر کرے گی اور ہر مسلمان کی روح قبض کرے گی، اور ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جو جھگڑالو ہوں گے، اور گدھوں کی طرح لڑتے جھگڑتے یا اعلانیہ جماع کرتے رہیں گے، تو انہی ( شریر ) لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ۔
It was narrated from Nawwas bin Sam'an رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: The Muslims will use the bows, arrows and shields of Gog and Magog as firewood, for seven years.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جبیر نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن جابر طائی کی سند سے، مجھ سے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر نے اپنے والد سے نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان یاجوج و ماجوج کے تیر، کمان، اور ڈھال کو سات سال تک جلائیں گے ۔
It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us, and most of his speech had to do with telling us about Dajjal. He warned about him, and among the things he said was: 'There will not be any tribulation on earth, since the time Allah created the offspring of Adam, that will be greater than the tribulation of Dajjal. Allah has not sent any Prophet but he warned his nation about Dajjal. I am the last of the Prophets, and you are the last of the nations. He will undoubtedly appear among you. If he appears while I am among you, I will contend with him on behalf of every Muslim, and if he appears while I am not among you, then each man must fend for himself and Allah will take care of every Muslim on my behalf. He will emerge from Al-Khallah, between Sham and Iraq, and will wreak havoc right and left. O slaves of Allah, remain steadfast. I will describe him to you in a manner in which none of the Prophets has described him before me. He will start by saying I am a Prophet, and there is no Prophet after me. Then a second time he will say: I am your Lord. But you will not see your Lord until you die. He is one-eyed, and your Lord is not one-eyed, and written between his eyes is Kafir. Every believer will read it, whether he is literate or illiterate. Part of his Fitnah will be that he will have with him Paradise and Hell, but his Hell will be a Paradise and his Paradise a Hell. Whoever is tested with his fire (hell), let him seek the help of Allah and recite the first Verses of Al-Kahf, then it will be cool and safe for him, as the fire was for Ibrahim. Part of his Fitnah will be that he will say to a Bedouin: What do you think, if I resurrect your father and mother for you, will you bear witness that I am your Lord? He will say: Yes. Then two devils will appear to him in the form of his father and mother and will say: O my son, follow him, for he is your Lord. And part of his Fitnah will be that he will overpower a single soul and kill him, then he will cut him with a saw until he falls in two pieces. Then he will say: Look at this slave of mine; I will resurrect him now, then he will claim that he has a Lord other than me. Then Allah will resurrect him and the evil one will say to him: Who is your Lord? and he will say: Allah is my Lord, and you are the enemy of Allah, you are Dajjal. By Allah, I have never had more insight about you than I have today. (An addition) Abul-Hasan Tanafisi said: Muharibi told us: 'Ubaidullah bin al-Walid Al-Wassafi told us, from 'Atiyyah, that Abu Sa'eed said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'That man will be the highest in status in my nation in Paradise' - He said: Abu Sa'eed said: 'By Allah, we did not think that man would be anyone other than 'Umar bin Khattab, until he passed away. - Muharibi said: Then we went back to the narration of Abu Rafi'. He said: - 'Part of his Fitnah will be that he will command the sky to rain, and it will rain, and he will command the earth to bring forth vegetation and it will do so. And part of his Fitnah will be that he will pass by a clan and they will disbelieve in him, so all their flocks will perish and none will be left. And part of his Fitnah will be that he will pass by a clan who will believe in him, so he will command the sky to rain, and it will rain, and he will command the earth to bring forth vegetation and it will do so, until their flocks will come back in the evening of that day, bigger and fatter than they have ever been, with their flanks stretched and their udders full of milk. There will be no part of the earth left that he does not enter and prevail over, except for Makkah and Al-Madinah, for he will not approach them on any of their mountain paths but he will be met by angels with unsheathed swords, until he will stop at the red hill at the end of the marsh. Then Al-Madinah will be shaken with its people three times, and no hypocrite, male or female, will be left, all will come out to him. Thus it will be cleansed of impurity just as the bellows cleanses the iron of dross. And that day will be called the Day of Deliverance.' Umm Sharik bint Abi 'akar said: 'O Messenger of Allah, where will the Arabs be that day?' He said: 'On that day they will be few, and most of them will be in Baitul-Maqdis (Jerusalem), and their leader will be a righteous man. When their leader has stepped forward to lead them in subh prayer, 'Eisa bin Maryam will come down to them. Their leader will step backwards so that 'Eisa can come forward and lead the people in prayer, but 'Eisa will place his hand between his shoulders and say to him: Go forward and pray, for the Iqamah was given for you. Then their leader will lead them in prayer. When he has finished, 'Eisa (as), will say: Open the gate. So they will open it and behind it will be Dajjal with seventy thousand Jews, each of them carrying an adorned sword and wearing a greenish cloak. When Dajjal looks at him, he will start to melt as salt melts in water. He will run away, and 'Eisa (as), will say: I have only one blow for you, which you will not be able to escape! He will catch up with him at the eastern gate of Ludd, and will kill him. Then Allah will defeat the Jews, and there will be nothing left that Allah has created which the Jews will be able to hide behind, except that Allah will cause it to speak - no stone, no tree, no wall, no animal - except for Al-Gharqad (the box-thorn), for it is one of their trees, and will not speak - except that it will say: O Muslim slave of Allah, here is a Jews, come and kill him! The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'His (Dajjal's) days will number forty years: a year like half a year, a year like a month, a month like a week, and the rest of his days will be like sparks from a fire (i.e., they will pass quickly). One of you will enter the gate of Al-Madinah in the morning and not reach its other gate until evening comes.' It was said: 'O Messenger of Allah, how should we pray on those short days?' He said: 'Estimate (the times of) the prayer, as you do on these long days, then pray.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: Eisa bin Maryam (as), will be a just judge and a just ruler among my nation. He will break the cross, slaughter the pigs, abolish the Jizyah and charity will be left. No one will be appointed to (collect the Zakah of) sheep and camels. Grudges and mutual hatred will disappear and the venom of every venomous creature will be removed, so that a baby boy will but his hand in a snake and it will not harm him, and a baby girl will make a lion run away, and it will not harm her; and the wolf will be among the sheep like their sheepdog. The earth will be filled with peace just as a vessel is filled with water. The people will be united and none will be worshipped except Allah. War will cease and Quraish will no longer be in power. The earth will be like a silver platter, with its vegetation growing as it did at the time of Adam, until a group of people will gather around one bunch of grapes and it will suffice them, and a group will gather around a single pomegranate and it will suffice them. An ox will be sold for such and such amount of money, and a horse will be sold for a few Dirham.' They said: 'O Messenger of Allah, why will horses be so cheap?' He said: 'They will never be ridden in war again.' It was said to him: 'Why will oxen be so expensive?' He said: 'Because all the land will be tilled. Before Dajjal appears there will be three difficult years in which the people will suffer severe famine. In the first year, Allah will command the sky to withhold one third of its rain and the earth to withhold one third of its produce. In the second year, He will command the sky to withhold two thirds of its rain and the earth to withhold two-thirds of its produce. In the third year, he will command the sky to withhold all of its rain, and not a single drop will fall, and the earth to withhold all of its produce, and nothing will grow. All cloven-hoofed animals will die, except those that Allah wills.' It was said: 'What will the people live on at that time?' He said: 'Tahlil, Takbir, Tasbih and Tahmid. That will take the place of food for them.' Abu 'Abdullah (Ibn Majah) said: I heard Abul-Hasan Tanafisi say: 'I heard 'Abdur-Rahman Al-Muharibi say: This Hadith should be sent to every teacher so that they can teach it to the children in the schools.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن المحاربی نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن رافع ابو رافع نے، ابو زرعہ السیبانی یحییٰ بن ابی عمرو کی سند سے، وہ عمرو بن عبد اللہ کی سند سے,ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، آپ کے خطبے کا اکثر حصہ دجال والی وہ حدیث تھی جو آپ نے ہم سے بیان کی، اور ہم کو اس سے ڈرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو پیدا کیا ہے اس وقت سے دجال کے فتنے سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو ( فتنہ ) دجال سے نہ ڈرایا ہو، میں چونکہ تمام انبیاء علیہم السلام کے اخیر میں ہوں، اور تم بھی آخری امت ہو اس لیے دجال یقینی طور پر تم ہی لوگوں میں ظاہر ہو گا، اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہو گیا تو میں ہر مسلمان کی جانب سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر وہ میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اپنا بچاؤ کرے گا، اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے، ( یعنی اللہ میرے بعد ہر مسلمان کا محافظ ہو گا ) ، سنو! دجال شام و عراق کے درمیانی راستے سے نکلے گا اور اپنے دائیں بائیں ہر طرف فساد پھیلائے گا، اے اللہ کے بندو! ( اس وقت ) ایمان پر ثابت قدم رہنا، میں تمہیں اس کی ایک ایسی صفت بتاتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں بتائی، پہلے تو وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا، اور کہے گا: میں نبی ہوں ، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، پھر دوسری بار کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں ، حالانکہ تم اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتے، وہ کانا ہو گا، اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے، اور دجال کی پیشانی پر لفظ کافر لکھا ہو گا، جسے ہر مومن خواہ پڑھا لکھا ہو یا جاہل پڑھ لے گا۔ اور اس کا ایک فتنہ یہ ہو گا کہ اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی، لیکن حقیقت میں اس کی جہنم جنت ہو گی، اور جنت جہنم ہو گی، تو جو اس کی جہنم میں ڈالا جائے، اسے چاہیئے کہ وہ اللہ سے فریاد کرے، اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے تو وہ جہنم اس پر ایسی ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی جیسے ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اور اس دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک گنوار دیہاتی سے کہے گا: اگر میں تیرے والدین کو زندہ کر دوں تو کیا تو مجھے رب تسلیم کرے گا؟ وہ کہے گا: ہاں، پھر دو شیطان اس کے باپ اور اس کی ماں کی شکل میں آئیں گے اور اس سے کہیں گے: اے میرے بیٹے! تو اس کی اطاعت کر، یہ تیرا رب ہے۔ ایک فتنہ اس کا یہ ہو گا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کر دیا جائے گا، پھر اسے قتل کر دے گا، اور اسے آرے سے چیر دے گا یہاں تک کہ اس کے دو ٹکڑے کر کے ڈال دے گا، پھر کہے گا: تم میرے اس بندے کو دیکھو، میں اس بندے کو اب زندہ کرتا ہوں، پھر وہ کہے گا: میرے علاوہ اس کا کوئی اور رب ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا، اور دجال خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: میرا رب تو اللہ ہے، اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے، اللہ کی قسم! اب تو مجھے تیرے دجال ہونے کا مزید یقین ہو گیا ۔ ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ ہم سے محاربی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبیداللہ بن ولید وصافی نے بیان کیا، انہوں نے عطیہ سے روایت کی، عطیہ نے ابو سعید خدری سے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے اس شخص کا درجہ جنت میں بہت اونچا ہو گا ۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمارا خیال تھا کہ یہ شخص سوائے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے کوئی نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ وہ اپنی راہ گزر گئے۔ محاربی کہتے ہیں کہ اب ہم پھر ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو ابورافع نے روایت کی ہے بیان کرتے ہیں کہ دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے اور زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا، چنانچہ بارش نازل ہو گی، اور غلہ اگے گا، اور اس کا فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس گزرے گا، وہ لوگ اس کو جھوٹا کہیں گے، تو ان کا کوئی چوپایہ باقی نہ رہے گا، بلکہ سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس گزرے گا، وہ لوگ اس کی تصدیق کریں گے، پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ برسے گا، اور زمین کو غلہ و اناج اگانے کا حکم دے گا تو وہ غلہ اگائے گی، یہاں تک کہ اس دن شام کو چرنے والے ان کے جانور پہلے سے خوب موٹے بھاری ہو کر لوٹیں گے، کوکھیں بھری ہوئی، اور تھن دودھ سے لبریز ہوں گے، مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر زمین کا کوئی خطہٰ ایسا نہ ہو گا جہاں دجال نہ جائے، اور اس پر غالب نہ آئے، مکہ اور مدینہ کا کوئی دروازہ ایسا نہ ہو گا جہاں فرشتے ننگی تلواروں کے ساتھ اس سے نہ ملیں، یہاں تک کہ دجال ایک چھوٹی سرخ پہاڑی کے پاس اترے گا، جہاں کھاری زمین ختم ہوئی ہے، اس وقت مدینہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا، جس کی وجہ سے مدینہ میں جتنے مرد اور عورتیں منافق ہوں گے وہ اس کے پاس چلے جائیں گے اور مدینہ میل کو ایسے نکال پھینکے گا جیسے بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے، اور اس دن کا نام یوم الخلاص ( چھٹکارے کا دن، یوم نجات ) ہو گا ۔ ام شریک بنت ابی العسکر نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس روز عرب بہت کم ہوں گے اور ان میں سے اکثر بیت المقدس میں ایک صالح امام کے ماتحت ہوں گے، ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہو گا، کہ اتنے میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام صبح کے وقت نازل ہوں گے، تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹ آنا چاہے گا تاکہ عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھا سکیں، لیکن عیسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ کر فرمائیں گے کہ تم ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھاؤ اس لیے کہ تمہارے ہی لیے تکبیر کہی گئی ہے، خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا، جب وہ نماز سے فارغ ہو گا تو عیسیٰ علیہ السلام ( قلعہ والوں سے ) فرمائیں گے کہ دروازہ کھولو، تو دروازہ کھول دیا جائے گا، اس ( دروازے ) کے پیچھے دجال ہو گا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، ہر یہودی کے پاس سونا چاندی سے مرصع و مزین تلوار اور سبز چادر ہو گی، جب یہ دجال عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا، تو اس طرح گھلے گا جس طرح پانی میں نمک گھل جاتا ہے، اور وہ انہیں دیکھ کر بھاگ کھڑا ہو گا، عیسیٰ علیہ السلام اس سے کہیں گے: تجھے میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھانی ہے تو اس سے بچ نہ سکے گا، آخر کار وہ اسے لد کے مشرقی دروازے کے پاس پکڑ لیں گے، اور اسے قتل کر دیں گے، پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا، اور یہودی اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے جس چیز کی بھی آڑ میں چھپے گا، خواہ وہ درخت ہو یا پتھر، دیوار ہو یا جانور، اس چیز کو اللہ تعالیٰ بولنے کی طاقت دے گا، اور ہر چیز کہے گی: اے اللہ کے مسلمان بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، اسے آ کر قتل کر دے، سوائے ایک درخت کے جس کو غرقد کہتے ہیں، یہ یہودیوں کے درختوں میں سے ایک درخت ہے یہ نہیں بولے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال چالیس سال تک رہے گا، جن میں سے ایک سال چھ مہینہ کے برابر ہو گا، اور ایک سال ایک مہینہ کے برابر ہو گا، اور ایک مہینہ جمعہ ( ایک ہفتہ ) کے برابر اور دجال کے باقی دن ایسے گزر جائیں گے جیسے چنگاری اڑ جاتی ہے، اگر تم میں سے کوئی مدینہ کے ایک دروازے پر صبح کے وقت ہو گا، تو اسے دوسرے دروازے پر پہنچتے پہنچتے شام ہو جائے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اتنے چھوٹے دنوں میں ہم نماز کس طرح پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح تم ان بڑے دنوں میں اندازہ کر کے پڑھتے ہو اسی طرح ان ( چھوٹے ) دنوں میں بھی اندازہ کر کے پڑھ لینا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام میری امت میں ایک عادل حاکم اور منصف امام ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ اٹھا دیں گے، اور صدقہ و زکاۃ لینا چھوڑ دیں گے، تو یہ بکریوں اور گھوڑوں پر وصول نہیں کیا جائے گا، لوگوں کے دلوں سے کینہ اور بغض اٹھ جائے گا، اور ہر قسم کے زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا، حتیٰ کہ اگر بچہ سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالے گا تو وہ اسے نقصان نہ پہنچائے گا، اور بچی شیر کو بھگائے گی تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، بھیڑیا بکریوں میں اس طرح رہے گا جس طرح محافظ کتا بکریوں میں رہتا ہے، زمین صلح اور انصاف سے ایسے بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جاتا ہے، اور ( سب لوگوں کا ) کلمہ ایک ہو جائے گا، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے گی، لڑائی اپنے سامان رکھ دے گی ( یعنی دنیا سے لڑائی اٹھ جائے گی ) قریش کی سلطنت جاتی رہے گی، اور زمین چاندی کی طشتری کی طرح ہو گی، اپنے پھل اور ہریالی ایسے اگائے گی جس طرح آدم کے عہد میں اگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ انگور کے ایک خوشے پر ایک جماعت جمع ہو جائے گی تو سب آسودہ ہو جائیں گے، اور ایک انار پر ایک جماعت جمع ہو جائے گی تو سب آسودہ ہو جائیں گے، اور بیل اتنے اتنے داموں میں ہوں گے، اور گھوڑے چند درہموں میں ملیں گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھوڑے کیوں سستے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑائی کے لیے گھوڑوں پر سواری نہیں ہو گی ، پھر آپ سے عرض کیا گیا: بیل کیوں مہنگا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساری زمین میں کھیتی ہو گی اور دجال کے ظہور سے پہلے تین سال تک سخت قحط ہو گا، ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے، پہلے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو تہائی بارش روکنے اور زمین کو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، پھر دوسرے سال آسمان کو دو تہائی بارش روکنے اور زمین کو دو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، اور تیسرے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم دے گا کہ بارش بالکل روک لے پس ایک قطرہ بھی بارش نہ ہو گی، اور زمین کو یہ حکم دے گا کہ وہ اپنے سارے پودے روک لے تو وہ اپنی تمام پیداوار روک لے گی، نہ کوئی گھاس اگے گی، نہ کوئی سبزی، بالآخر کھر والے جانور ( گائے بکری وغیرہ چوپائے ) سب ہلاک ہو جائیں گے، کوئی باقی نہ بچے گا مگر جسے اللہ بچا لے ، عرض کیا گیا: پھر اس وقت لوگ کس طرح زندہ رہیں گے؟ آپ نے فرمایا: تہلیل ( «لا إله إلا الله» ) تکبیر ( «الله أكبر» ) تسبیح ( «سبحان الله» ) اور تحمید ( «الحمد لله» ) کا کہنا، ان کے لیے غذا کا کام دے گا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن طنافسی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے عبدالرحمٰن محاربی سے سنا وہ کہتے تھے: یہ حدیث تو اس لائق ہے کہ مکتب کے استادوں کو دے دی جائے تاکہ وہ مکتب میں بچوں کو یہ حدیث پڑھائیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: The Hour will not begin until 'Eisa bin Maryam comes down as a just judge and a just ruler. He will break the cross, kill the pigs and abolish the Jizyah, and wealth will become so abundant that no one will accept it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ الزہری کی سند سے، وہ سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک عیسیٰ بن مریم عادل حاکم اور منصف امام بن کر نازل نہ ہوں، وہ آ کر صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، اور جزیہ کو معاف کر دیں گے، اور مال اس قدر زیادہ ہو گا کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Gog and Magog people will be set free and they will emerge as Allah says: swoop(ing) down from every mound. [21:96] They will spread throughout the earth, and the Muslims will flee from them until the remainder of the Muslims are in their cities and fortresses, taking their flocks with them. They will pass by a river and drink from it, until they leave nothing behind, and the last of them will follow in their footsteps and one of them will say: 'There was once water in this place.' They will prevail over the earth, then their leader will say: 'These are the people of the earth, and we have finished them off. Now let us fight the people of heaven!' Then one of them will throw his spear towards the sky, and it will come back down smeared with blood. And they will say: 'We have killed the people of heaven.' While they are like that, Allah will send a worm like the worm that is found in the noses of sheep, which will penetrate their necks and they will die like locusts, one on top of another. In the morning the Muslims will not hear any sound from them, and they will say: 'Who will sell his soul for the sake of Allah and see what they are doing?' A man will go down, having prepared himself to be killed by them, and he will find them dead, so he will call out to them: 'Be of good cheer, for your enemy is dead!' Then the people will come out and let their flocks loose, but they will not have anything to graze on except their flesh, and they will become very fat as if they were grazing on the best vegetation they ever found.'
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن بکر نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق سے، مجھ سے عاصم بن عمر بن قتادہ نے، محمود بن لبید کی سند سے,ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، پھر وہ باہر آئیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:«وهم من كل حدب ينسلون» یہ لوگ ہر اونچی زمین سے دوڑتے آئیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) پھر ساری زمین میں پھیل جائیں گے، اور مسلمان ان سے علاحدہ رہیں گے، یہاں تک کہ جو مسلمان باقی رہیں گے وہ اپنے شہروں اور قلعوں میں اپنے مویشیوں کو لے کر پناہ گزیں ہو جائیں گے، یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نہر سے گزریں گے، اس کا سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے، اس میں کچھ بھی نہ چھوڑیں گے، جب ان کے پیچھے آنے والوں کا وہاں پر گزر ہو گا تو ان میں کا کوئی یہ کہے گا کہ کسی زمانہ میں یہاں پانی تھا، اور وہ زمین پر غالب آ جائیں گے، تو ان میں سے کوئی یہ کہے گا: ان اہل زمین سے تو ہم فارغ ہو گئے، اب ہم آسمان والوں سے لڑیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک اپنا نیزہ آسمان کی طرف پھینکے گا، وہ خون میں رنگا ہوا لوٹ کر گرے گا، پس وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کر دیا، خیر یہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ چند جانور بھیجے گا، جو ٹڈی کے کیڑوں کی طرح ہوں گے، جو ان کی گردنوں میں گھس جائیں گے، یہ سب کے سب ٹڈیوں کی طرح مر جائیں گے، ان میں سے ایک پر ایک پڑا ہو گا، اور جب مسلمان اس دن صبح کو اٹھیں گے، اور ان کی آہٹ نہیں سنیں گے تو کہیں گے: کوئی ایسا ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کے انہیں دیکھ کر آئے کہ یاجوج ماجوج کیا ہوئے؟ چنانچہ مسلمانوں میں سے ایک شخص ( قلعہ سے ) ان کا حال جاننے کے لیے نیچے اترے گا، اور دل میں خیال کرے گا کہ وہ مجھ کو ضرور مار ڈالیں گے، خیر وہ انہیں مردہ پائے گا، تو مسلمانوں کو پکار کر کہے گا: سنو! خوش ہو جاؤ! تمہارا دشمن ہلاک ہو گیا، یہ سن کر لوگ نکلیں گے اور اپنے جانور چرنے کے لیے آزاد چھوڑیں گے، اور ان کے گوشت کے سوا کوئی چیز انہیں کھانے کے لیے نہ ملے گی، اس وجہ سے ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوں گے، جس طرح کبھی گھاس کھا کر موٹے ہوئے تھے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Gog and Magog people dig every day until, when they can almost see the rays of the sun, the one in charge of them says: Go back and we will dig it tomorrow. Then Allah puts it back, stronger than it was before. (This will continue) until, when their time has come, and Allah wants to send them against the people, they will dig until they can almost see the rays of the sun, then the one who is in charge of them will say: Go back, and we will dig it tomorrow if Allah wills.' So they will say: If Allah wills. Then they will come back to it and it will be as they left it. So they will dig and will come out to the people, and they will drink all the water. The people will fortify themselves against them in their fortresses. They will shoot their arrows towards the sky and they will come back with blood on them, and they will say: We have defeated the people of earth and dominated the people of heaven. Then Allah will send a worm in the napes of their necks and will kill them thereby.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: By the One in Whose Hand is my soul, the beasts of the earth will grow fat on their flesh.
ہم سے ازہر بن مروان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے کہا: ہم سے ابو رافع نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج ہر روز ( اپنی دیوار ) کھودتے ہیں یہاں تک کہ جب قریب ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی ان کو دکھائی دے تو جو شخص ان کا سردار ہوتا ہے وہ کہتا ہے: اب لوٹ چلو ( باقی ) کل کھودیں گے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ویسی ہی مضبوط کر دیتا ہے جیسی وہ پہلے تھی، یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی، اور اللہ تعالیٰ کو ان کا خروج منظور ہو گا، تو وہ ( عادت کے مطابق ) دیوار کھودیں گے جب کھودتے کھودتے قریب ہو گا کہ سورج کی روشنی دیکھیں تو اس وقت ان کا سردار کہے گا کہ اب لوٹ چلو، ان شاءاللہ کل کھودیں گے، اور ان شاءاللہ کا لفظ کہیں گے، چنانچہ ( اس دن ) وہ لوٹ جائیں گے، اور دیوار اسی حال پر رہے گی، جیسے وہ چھوڑ گئے تھے، پھر وہ صبح آ کر اسے کھودیں گے اور اسے کھود کر باہر نکلیں گے، اور سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے، اور لوگ ( اس وقت ) بھاگ کر اپنے قلعوں میں محصور ہو جائیں گے، یہ لوگ ( زمین پر پھیل کر ) آسمان کی جانب اپنے تیر ماریں گے، تو ان کے تیر خون میں لت پت ان کے پاس لوٹیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو مغلوب کیا، اور آسمان والوں پر بھی غالب ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں ( گردنوں ) میں کیڑے پیدا فرمائے گا جو انہیں مار ڈالیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین کے جانور ان کا گوشت اور چربی کھا کر خوب موٹے ہوں گے ۔
It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
On the night on which the Messenger of Allah (ﷺ) was taken on the Night Journey (Isra'), he met Ibrahim, Musa and 'Eisa, and they discussed the Hour. They started with Ibrahim, and asked him about it, but he did not have any knowledge of it. Then they asked Musa, and he did not have any knowledge of it. Then they asked 'Eisa bin Maryam, and he said: 'I have been assigned to some tasks before it happens.' As for as when it will take place, no one knows that except Allah. Then he mentioned Dajjal and said: 'I will descend and kill him, then the people will return to their own lands and will be confronted with Gog and Magog people, who will: swoop down from every mound. [21:96] They will not pass by any water but they will drink it, (and they will not pass) by anything but they will spoil it. They (the people) will beseech Allah, and I will pray to Allah to kill them. The earth will be filled with their stench and (the people) will beseech Allah and I will pray to Allah, then the sky will send down rain that will carry them and throw them in the sea. Then the mountains will turn to dust and the earth will be stretched out like a hide. I have been promised that when that happens, the Hour will come upon the people, like a pregnant woman whose family does not know when she will suddenly give birth.' (One of the narrators) 'Awwam said: Confirmation of that is found in the Book of Allah, where Allah says: Until, when Gog and Magog people are let loose (from their barrier), and they swoop down from every mound (21:96).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے العوام بن حوشب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جبلہ بن سہیم نے بیان کیا، وہ معطر بن عفازہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اسراء ( معراج ) کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی، تو سب نے آپس میں قیامت کا ذکر کیا، پھر سب نے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے قیامت کے متعلق پوچھا، لیکن انہیں قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، تو انہیں بھی قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: قیامت کے آ دھمکنے سے کچھ پہلے ( دنیا میں جانے کا ) مجھ سے وعدہ لیا گیا ہے، لیکن قیامت کے آنے کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے ( کہ وہ کب قائم ہو گی ) ، پھر عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے ظہور کا تذکرہ کیا، اور فرمایا: میں ( زمین پر ) اتر کر اسے قتل کروں گا، پھر لوگ اپنے اپنے شہروں ( ملکوں ) کو لوٹ جائیں گے، اتنے میں یاجوج و ماجوج ان کے سامنے آئیں گے، اور ہر بلندی سے وہ چڑھ دوڑیں گے، وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے، اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے، اسے تباہ و برباد کر دیں گے، پھر لوگ اللہ سے دعا کرنے کی درخواست کریں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا کہ انہیں مار ڈالے ( چنانچہ وہ سب مر جائیں گے ) ان کی لاشوں کی بو سے تمام زمین بدبودار ہو جائے گی، لوگ پھر مجھ سے دعا کے لیے کہیں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کروں گا، تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جو ان کی لاشیں اٹھا کر سمندر میں بہا لے جائے گی، اس کے بعد پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے، اور زمین چمڑے کی طرح کھینچ کر دراز کر دی جائے گی، پھر مجھے بتایا گیا ہے کہ جب یہ باتیں ظاہر ہوں تو قیامت لوگوں سے ایسی قریب ہو گی جس طرح حاملہ عورت کے حمل کا زمانہ پورا ہو گیا ہو، اور وہ اس انتظار میں ہو کہ کب ولادت کا وقت آئے گا، اور اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہ ہو۔ عوام ( عوام بن حوشب ) کہتے ہیں کہ اس واقعہ کی تصدیق اللہ کی کتاب میں موجود ہے: «حتى إذا فتحت يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون» یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، تو پھر وہ ہر ایک ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) ۔
It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
While we were with the Messenger of Allah (ﷺ), some youngsters from Banu Hashim came along. When the Prophet (ﷺ) saw them, his eyes filled with tears and his color changed. I said: 'We still see something in your face that we do not like (to see).' He said: 'We are members of a Household for whom Allah has chosen the Hereafter over this world. The people of my Household will face calamity, expulsion and exile after I am gone, until some people will come from the east carrying black banners. They will ask for something good but will not be given it. Then they will fight and will be victorious, then they will be given what they wanted, but they will not accept it and will give leadership to a man from my family. Then they will fill it with justice just as it was filled with injustice. Whoever among you lives to see that, let him go to them even if he has to crawl over snow.'
عثمان بن ابی شیبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: معاویہ بن ہشام سے روایت ہے، انہوں نے کہا: علی بن صالح نے یزید بن ابی زیاد کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں، اور آپ کا رنگ بدل گیا، میں نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے ( یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیت مصیبت، سختی، اخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے، وہ خیر ( خزانہ ) طلب کریں گے، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے، اور ( اللہ کی طرف سے ) ان کی مدد ہو گی، پھر وہ جو مانگتے تھے وہ انہیں دیا جائے گا، ( یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہو جائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے ) ، یہ لوگ اس وقت اپنے لیے حکومت قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر دیا تھا، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ( لشکر میں ) شریک ہو، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: The Mahdi will be among my nation. If he lives for a short period, it will be seven, and if he lives for a long period, it will be nine, during which my nation will enjoy a time of ease such as it has never enjoyed. The land will bring forth its yield and will not hold back anything, and wealth at that time will be piled up. A man will stand up and say: 'O Mahdi, give me!' He will say: 'Take.'
ہم سے نصر بن علی الجہدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن مروان عقیلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمرہ بن ابی حفصہ نے زید العمی سے، انہوں نے ابو صدیق الناجی کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے، ورنہ نو برس رہیں گے، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیں، وہ جواب دیں گے: لے لو ( اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے ) ۔
It was narrated from Thawban رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Three will fight one another for your treasure, each one of them the son of a caliph, but none of them will gain it. Then the black banners will come from the east, and they will kill you in an unprecedented manner. Then he mentioned something that I do not remember, then he said: When you see them, then pledge your allegiance to them even if you have to crawl over the snow, for that is the caliph of Allah, Mahdi.
ہم سے محمد بن یحییٰ اور احمد بن یوسف نے بیان کیا: ہم سے عبد الرزاق نے سفیان ثوری کی سند سے، خالد ہذا کی سند سے، ابو قلابہ نے ابو اسماء الرحبی کی سند سے بیان کیا, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ایک خزانے کے پاس تین آدمی باہم لڑائی کریں گے، ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہو گا، لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ خزانہ میسر نہ ہو گا، پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمودار ہوں گے، اور وہ تم کو ایسا قتل کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اور بھی بیان فرمایا جسے میں یاد نہ رکھ سکا، اس کے بعد آپ نے فرمایا: لہٰذا جب تم اسے ظاہر ہوتے دیکھو تو جا کر اس سے بیعت کرو اگرچہ گھٹنوں کے بل برف پر گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا ۔
It was narrated from 'Ali رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Mahdi is one of us, the people of the Household. Allah rectifying him in a single night.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد حفری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یٰسین نے بیان کیا، ابراہیم بن محمد بن الحنفیہ نے اپنے والد کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اور اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو صالح بنا دے گا ۔
It was narrated that Sa'eed bin Musayyab said:
We were with Umm Salamah رضی اللہ عنہا and we were discussing Mahdi. She said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Mahdi will be one of the descendents of Fatimah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن عبد الملک نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو ملیح الرقی نے بیان کیا، وہ زیاد بن بیان سے اور علی بن نفیل سے, سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ
ہم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، ہم نے مہدی کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ مہدی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے ۔