It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver a sermon, and one of the things he said was: “Indeed, fear of people should not prevent a man from speaking the truth, if he knows it.” Then Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ wept and said: By Allah, we have seen things that made us scared (and we did not speak up).
ہم سے عمران بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو حماد بن زید نے خبر دی، کہا کہ ہم سے علی بن زید بن جدعان نے بیان کیا، وہ ابو نادرہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو جو باتیں کہیں، ان میں یہ بات بھی تھی: آگاہ رہو! کسی شخص کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے، جب وہ حق کو جانتا ہو ، یہ حدیث بیان کر کے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت سی باتیں ( خلاف شرع ) دیکھیں، لیکن ہم ڈر اور ہیبت کا شکار ہو گئے۔
It was narrated from Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No one of you should belittle himself.” They said: “O Messenger of Allah, how could anyone of us belittle himself?” He said: “If he sees something concerning which he should speak out for the sake of Allah but does not say anything. Allah will say to him on the Day of Resurrection: “What prevented you from speaking concerning such and such?” He will say: “Fear of the people.” (Allah) will say: “Rather you should have feared Me.”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نمیر اور ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، وہ عمرو بن مرہ سے اور ابو البختری کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر نہ جانے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو کیسے حقیر جانتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کوئی بات ہوتے دیکھے اور اس کے بارے میں اسے اللہ کا حکم معلوم ہو لیکن نہ کہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے فرمائے گا: تجھے فلاں بات کہنے سے کس نے منع کیا تھا؟ وہ جواب دے گا: لوگوں کے خوف نے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے لیے زیادہ درست بات یہ تھی کہ تو مجھ سے ڈرتا ۔
It was narrated from ‘Ubaidullah bin Jarir رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no people among whom sins are committed when they are stronger and of a higher status (i.e. they have the power and ability to stop the sinners) and they do not change them, but Allah will send His punishment upon them all.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، اسرائیل سے، ابواسحاق سے، عبید اللہ بن جریر رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قوم میں گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے، اور ان میں ایسے زور آور لوگ ہوں جو انہیں روک سکتے ہوں لیکن وہ نہ روکیں، تو اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب میں گرفتار کر لیتا ہے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“When the emigrants who had crossed the sea came back to the Messenger of Allah (ﷺ), he said: ‘Why don’t you tell me of the strange things that you saw in the land of Abyssinia?’ Some young men among them said: ‘Yes, O Messenger of Allah. While we were sitting, one of their elderly nuns came past, carrying a vessel of water on her head. She passed by some of their youth, one of whom placed his hand between her shoulders and pushed her. She fell on her knees and her vessel broke. When she stood up, she turned to him and said: “You will come to know, O traitor, that when Allah sets up the Footstool and gathers the first and the last, and hands and feet speak of what they used to earn, you will come to know your case and my case in His presence soon.’” The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘She spoke the truth, she spoke the truth. How can Allah purify any people (of sin) when they do not support their weak from their strong?’”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی سند سے، وہ ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب سمندر کے مہاجرین ( یعنی مہاجرین حبشہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے وہ عجیب باتیں کیوں نہیں بیان کرتے جو تم نے ملک حبشہ میں دیکھی ہیں؟ ، ان میں سے ایک نوجوان نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! اسی دوران کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، ان راہباؤں میں سے ایک بوڑھی راہبہ ہمارے سامنے سر پر پانی کا مٹکا لیے ہوئے ایک حبشی نوجوان کے قریب سے ہو کر گزری، تو اس حبشی نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس بڑھیا کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ کر اس کو دھکا دیا جس کے باعث وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑی، اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، جب وہ اٹھی تو اس حبشی نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی: غدار! ( دھوکا باز ) عنقریب تجھے پتہ چل جائے گا جب اللہ تعالیٰ کرسی رکھے ہو گا، اور اگلے پچھلے سارے لوگوں کو جمع کرے گا، اور ہاتھ پاؤں ہر اس کام کی گواہی دیں گے جو انہوں نے کیے ہیں، تو کل اس کے پاس تجھے اپنا اور میرا فیصلہ معلوم ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ سنتے جاتے اور فرماتے جاتے: اس بڑھیا نے سچ کہا، اس بڑھیا نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ اس امت کو گناہوں سے کیسے پاک فرمائے گا، جس میں کمزور کا بدلہ طاقتور سے نہ لیا جا سکے ۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The best of jihad is a just word spoken to an unjust ruler.”
ہم سے القاسم بن زکریا بن دینار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مصعب نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن عبادہ الواسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ہمیں محمد بن جحادہ نے عطیہ عوفی کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر جہاد، ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے ۔
It was narrated that Abu Umamah رضی اللہ عنہ said:
“A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) at the first pillar and said: ‘O Messenger of Allah, which Jihad is best?’ but he kept quiet. When he saw the second Pillar, he asked again, and he kept quiet. When he stoned ‘Aqabah Pillar, he placed his foot in the stirrup, to ride, and said: ‘Where is the one who was asking?’ (The man) said: ‘Here I am, O Messenger of Allah.’ He said: ‘A word of truth spoken to an unjust ruler.’”
ہم سے راشد بن سعید رملی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے ابو غالب کی سند سے بیان کیا, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جمرہ اولیٰ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے جمرہ کی رمی کی تو اس نے پھر آپ سے یہی سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر جب آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، تو سوار ہونے کے لیے آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا اور فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے ؟، اس نے عرض کیا: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( سب سے بہتر جہاد ) ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“Marwan brought out the pulpit on the day of ‘Eid, and he started with the sermon before the prayer. A man said: ‘O Marwan, you have gone against the Sunnah. You have brought out the pulpit on this day, and it was not brought out before, and you have started with the sermon before the prayer, and this was not done before.’ Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ said: ‘As for this man, he has done his duty. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever among you sees an evil action and can change it with his hand (by taking action), let him change it with his hand. If he cannot do that, then with his tongue (by speaking out); and if he cannot do that, then with his heart (by hating it and feeling that it is wrong), and that is the weakest of faith.’”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، اسمٰعیل بن راجہ سے، اپنے والد سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: مروان! آپ نے سنت کے خلاف کیا، ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالانکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا، پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم میں سے جو شخص کوئی بات خلاف شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے معمولی درجہ ہے ۔
It was narrated that Abu Umayyah Sha’bani said:
“I came to Abu Tha’labah Al-Khushani رضی اللہ عنہ and said: ‘How do you understand this Verse?’ He said: ‘Which verse?’ I said: “O you who believe! Take care of your own selves. If you follow the (right) guidance, no hurt can come to you from those who are in error.”?[5:105] He said: ‘You have asked one who knows about it. I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about it and he said: “Enjoin good upon one another and forbid one another to do evil, but if you see overwhelming stinginess, desires being followed, this world being preferred (to the Hereafter), every person with an opinion feeling proud of it, and you realize that you have no power to deal with it, then you have to mind your own business and leave the common folk to their own devices. After you will come days of patience, during which patience will be like grasping a burning ember, and one who does good deeds will have a reward like that of fifty men doing the same deed.”
اہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عتبہ بن ابی حکیم نے اپنے چچا عمرو بن جریہ کی سند سے بیان کیا, بوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ
میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، جب تم ہدایت یاب ہو گے تو دوسروں کی گمراہی تمہیں ضرر نہیں پہنچائے گی ( سورة المائدة: 105 ) انہوں نے کہا: تم نے ایک جان کار شخص سے اس کے متعلق سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم دو، اور بری باتوں سے روکو یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخیل کی اطاعت کی جاتی ہے، خواہشات کے پیچھے چلا جاتا ہے، اور دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، ہر صاحب رائے اپنی رائے اور عقل پر نازاں ہے اور تمہیں ایسے کام ہوتے نظر آئیں جنہیں روکنے کی تم میں طاقت نہ ہو تو ایسے وقت میں تم خاص اپنے آپ سے کام رکھو۔ تمہارے پیچھے ایسے دن بھی آئیں گے کہ ان میں صبر کرنا مشکل ہو جائے گا، اور اس وقت دین پر صبر کرنا اتنا مشکل ہو جائے گا جتنا کہ انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا، اس زمانہ میں عمل کرنے والے کو اتنا ثواب ملے گا، جتنا اس جیسا عمل کرنے والے پچاس لوگوں کو ملے گا ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“It was said: ‘O Messenger of Allah, when should we stop enjoining what is good and forbidding what is evil?’ He said: ‘When there appears among you that which appeared among those who came before you.’ We said: ‘O Messenger of Allah, what appeared among those that came before us?’ He said: ‘Kingship given to your youth, immorality even among the old, and knowledge among the base and vile.’”
ہم سے عباس بن ولید الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن یحییٰ بن عبید الخزاعی نے بیان کیا، ہم سے الہیثم بن حمید نے بیان کیا، ہم سے ابو معید حفص بن غیلان الرعینی نے بیان کیا، مکول کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کس وقت ترک کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہو جائیں جو گذشتہ امتوں میں ظاہر ہوئی تھیں ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے گذشتہ امتوں میں کون سی باتیں ظاہر ہوئی تھیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکومت تمہارے کم عمروں میں چلی جائے گی، اور تمہارے بڑے آدمیوں میں فحش کاری آ جائے گی، اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں چلا جائے ۔ زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: «والعلم في رذالتكم» کا مطلب یہ ہے کہ علم ( دین ) فاسقوں میں چلا جائے گا۔
It was narrated from Hudhaifah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The believer should not humiliate himself.” They said: “How could he humiliate himself?” He said: “By taking on a trial that he cannot deal with.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے علی بن زید نے، ان سے حسن رضی اللہ عنہ نے جندب کی سند سے, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسوا و ذلیل کرے ، لوگوں نے عرض کیا: اپنے آپ کو کیسے رسوا و ذلیل کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی مصیبت کا سامنا کرے گا، جس کی اس میں طاقت نہ ہو گی ۔
Abu Sa’eed Al-Khudri said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Allah will question His slave on the Day of Resurrection, until He says: “What kept you from denouncing evil when you saw it?” When Allah grants His slave a response, he will say: “O Lord, I hoped for Your mercy but I feared the people.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ابو طوالہ نے بیان کیا، ہم سے نہار العبدی نے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا یہاں تک کہ وہ پو چھے گا کہ تم نے جب خلاف شرع کام ہوتے دیکھا تو اسے منع کیوں نہ کیا؟ تو جب اس سے کوئی جواب نہ بن سکے گا تو اللہ تعالیٰ خود اس کو جواب سکھائے گا اور وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیرے رحم کی امید رکھی، اور لوگوں کا خوف کیا ۔
It was narrated from Abu Musa رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah gives respite to the wrongdoer, then when He seizes him, He does not let him go.” Then he recited: “Such is the Seizure of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong.”[11:102]
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے ابو معاویہ نے بریدہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے اور ابی بردہ کی سند سے بیان کیا, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے ( سورة الهود: 102 ) ، کی تلاوت کی۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) turned to us and said: ‘O Muhajirun, there are five things with which you will be tested, and I seek refuge with Allah lest you live to see them: Immorality never appears among a people to such an extent that they commit it openly, but plagues and diseases that were never known among the predecessors will spread among them. They do not cheat in weights and measures but they will be stricken with famine, severe calamity and the oppression of their rulers. They do not withhold the Zakah of their wealth, but rain will be withheld from the sky, and were it not for the animals, no rain would fall on them. They do not break their covenant with Allah and His Messenger, but Allah will enable their enemies to overpower them and take some of what is in their hands. Unless their leaders rule according to the Book of Allah and seek all good from that which Allah has revealed, Allah will cause them to fight one another.’”
ہم سے محمود بن خالد الدمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن ابو ایوب نے، ابن ابی مالک نے اپنے والد سے اور عطاء بن ابی رباح سے روایت کی ہے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ گے، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تم اس میں مبتلا ہو، ( وہ پانچ باتیں یہ ہیں ) پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں علانیہ فحش ( فسق و فجور اور زناکاری ) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں، دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں، تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا، چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد و پیمان کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کر دیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے چھین لیتا ہے، پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمراں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے.
It was narrated from Abu Malik Ash’ari رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “People among my nation will drink wine, calling it by another name, and musical instruments will be played for them and singing girls (will sing for them). Allah will cause the earth to swallow them up, and will turn them into monkeys and pigs.”
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معن بن عیسیٰ نے معاویہ بن صالح کی سند سے، حاتم بن حریث سے، مالک بن ابی مریم کی سند سے، عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کی سند سے, ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ شراب پئیں گے، اور اس کا نام کچھ اور رکھیں گے، ان کے سروں پر باجے بجائے جائیں گے، اور گانے والی عورتیں گائیں گی، تو اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا، اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دے گا ۔
It was narrated from Bara’ bin ‘Azib رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah will curse them and those who curse will curse them.” He said: “The inhabitants of the earth.”
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، ہم سے عمار بن محمد نے، لیث کی سند سے، المنہال کی سند سے، زاذان کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ: «يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون» یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں ( سورة البقرة: 159 ) ، کی تفسیر میں فرمایا: «اللاعنون» سے زمین کے چوپائے مراد ہیں ۔
It was narrated from Thawban رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Nothing increases one’s life span except righteousness and nothing repels the Divine decree except supplication, and a man may be deprived of provision by a sin that he commits.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، عبداللہ بن عیسیٰ سے، عبداللہ بن ابی الجعد کی سند سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی ہی عمر کو بڑھاتی ہے، اور تقدیر کو دعا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی، اور کبھی آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے ملنے والے رزق سے محروم ہو جاتا ہے ۔
It was narrated from Mus’ab bin Sa’d that his father, Sa’d bin Abu Waqqas رضی اللہ عنہ , said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, which people are most severely tested?’ He said: ‘The Prophets, then the next best and the next best. A person is tested according to his religious commitment. If he is steadfast in his religious commitment, he will be tested more severely, and if he is frail in his religious commitment, his test will be according to his commitment. Trials will continue to afflict a person until they leave him walking on the earth with no sin on him.’”
ہم سے یوسف بن حماد المعنی اور یحییٰ بن دورست نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے عاصم کی سند سے، مصعب بن سعد سے اور اپنے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔
Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“I entered upon the Prophet (ﷺ) when he was suffering from a fever, I placed my hand on him and felt heat with my hand from above the blanket. I said: ‘O Messenger of Allah, how hard it is for you!’ He said: ‘We (Prophets) are like that. The trial is multiplied for us and so is the reward.’ I said: ‘O Messenger of Allah, which people are most severely tested?’ He said: ‘The Prophets.’ I said: ‘O Messenger of Allah, then who?’ He said: ‘Then the righteous, some of whom were tested with poverty until they could not find anything except a cloak to put around themselves. One of them will rejoice at calamity as one of you would rejoice at ease.’”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ہشام بن سعد نے بیان کیا، وہ زید بن اسلم کی سند سے، وہ عطاء بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بخار آ رہا تھا، میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو آپ کے بخار کی گرمی مجھے اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اوپر سے محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بہت ہی سخت بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا یہی حال ہے ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی ( سخت ) آتی ہے، اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن لوگوں پر زیادہ سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء پر ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کن پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نیک لوگوں پر، بعض نیک لوگ ایسی تنگ دستی میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چوغہ کے سوا جسے وہ اپنے اوپر لپیٹتے رہتے ہیں کچھ نہیں ہوتا، اور بعض آزمائش سے اس قدر خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی مال و دولت ملنے پر خوش ہوتا ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“It is as if I can see the Messenger of Allah (ﷺ), telling us the story of one of the Prophets: ‘His people beat him, and he was wiping the blood from his face and saying: “O Lord forgive my people, for they do not know.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے الاعمش نے شقیق کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کرام ( علیہم السلام ) میں سے ایک نبی کی حکایت بیان کر رہے تھے جن کو ان کی قوم نے مارا پیٹا تھا، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے، اور یہ کہتے جاتے تھے: اے میرے رب! میری قوم کی مغفرت فرما، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “We are more likely to express doubt than Ibrahim when he said: “My Lord! Show me how You give life to the dead.’ He (Allah) said: ‘Do you not believe?’ He (Ibrahim) said: ‘Yes (I believe), but to be stronger in Faith.’[2:260] And may Allah have mercy on Lut. He wished to have a powerful support. And if i were to stay in prison as long as Yusuf stayed, I would have accepted the offer.’”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ اور یونس بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب کی سند سے اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہما سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ( لیکن یہ سوال اس لیے ہے ) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ۔