It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There will be a tribulation which will utterly destroy the Arabs, and those who are slain will be in Hell. At that time the tongue will be worse than a blow of the sword.”
ہم سے عبداللہ بن معاویہ الجمعی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن سلمہ نے لیث سے، طاؤس کی سند سے، زیاد سمین کو ش کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فتنہ ایسا ہو گا جو سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس میں قتل ہونے والے سب جہنمی ہوں گے، اس فتنہ میں زبان تلوار کی کاٹ سے زیادہ موثر ہو گی ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Beware of tribulations, for at that time the tongue will be like the blow of a sword.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حارث نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن البیلمانی نے اپنے والد سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فتنوں سے بچے رہنا کیونکہ اس میں زبان ہلانا تلوار چلانے کے برابر ہے ۔
It was narrated that ‘Alqamah bin Waqqas رضی اللہ عنہ said that:
A man passed by him, who held a prominent position, and ‘Alqamah said to him: “You have kinship and rights, and I see you entering upon these rulers and speaking to them as Allah wills you should speak. But i heard Bilal bin Harith Al-Muzani, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), say that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘One of you may speak a word that pleases Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record for him as pleasure, until the Day of Resurrection due to that word. And one of you may speak a word that angers Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record against him his anger, until the Day he meets Him due to that word.” 'Alqamah رضی اللہ عنہ said: So look, woe to you, at what you say and what you speak about, for there is something that I wanted to say but I refrained because of what I heard from Bilal bin Harith رضی اللہ عنہ .
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے اپنے والد علقمہ بن وقاص سے بیان کیا، انہوں نے کہا: علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ان کے سامنے سے ایک معزز شخص کا گزر ہوا، تو انہوں نے اس سے عرض کیا: آپ کا مجھ سے ( دہرا رشتہ ہے ) ایک تو قرابت کا، دوسرے مسلمان ہونے کا، میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان امراء کے پاس آتے جاتے اور ان سے حسب منشا باتیں کرتے ہیں، میں نے صحابی رسول بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کا اثر کیا ہو گا، لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے حق میں قیامت تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا اثر ہو گا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اپنی ناراضگی اس دن تک کے لیے لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا ۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو افسوس ہے تم پر! تم کیا کہتے اور کیا بولتے ہو، بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی حدیث نے بعض باتوں کے کہنے سے مجھے روک دیا ہے، خاموش ہو جاتا ہوں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A man may speak a word that angers Allah and not see anything wrong with it, but it will cause him to sink down in Hell the depth of seventy autumns.”
ہم سے ابو یوسف بن الصیدالانی محمد بن احمد الرقی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن اسحاق کی سند سے، وہ محمد بن ابراہیم کی سند سے، انہوں نے ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے، اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا، حالانکہ اس بات کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever believes in Allah and the Last Day, let him say something good, or else remain silent.”
ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحوص نے بیان کیا، ابو حصین سے، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ۔
Sufyan bin ‘Abdullah Thaqafi رضی اللہ عنہ said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, tell me of something that I can adhere to.’ He said: ‘Say: “Allah is my Lord,” then stand straight (adhere steadfastly to Islam).’ He said: ‘O Messenger of Allah, what is the thing that you fear most for me?’ The Messenger of Allah (ﷺ) took hold of his own tongue, then he said: ‘This.’”
ہم سے ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، وہ ابن شہاب کی سند سے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن ماعز العامری سے, سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: اللہ میرا رب ( معبود برحق ) ہے اور پھر اس پر قائم رہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس کا ۔
It was narrated that Mu’adh bin Jabal رضی اللہ عنہ said:
“I was with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. One morning I drew close to him when we were on the move and said: ‘O Messenger of Allah, tell me of an action that will gain me admittance to Paradise and keep me far away from Hell.’ He said: ‘You have asked for something great, but it is easy for the one for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything in worship with Him, establish prayer, pay charity, fast Ramadan, and perform Hajj to the House.’ Then he said: ‘Shall I not tell you of the means of goodness? Fasting is a shield, and charity extinguishes sin as water extinguishes fire, and a man’s prayer in the middle of the night.’ Then he recited: “Their sides forsake their beds” until he reached: “As a reward for what they used to do.”[32:16-17] Then he said: ‘Shall I not tell you of the head of the matter, and its pillar and pinnacle? (It is) Jihad.’ Then he said: ‘Shall I not tell you of the basis of all that?’ I said: ‘Yes.’ He took hold of his tongue then said: ‘Restrain this.’ I said: ‘O Prophet of Allah, will we be brought to account for what we say?’ He said: ‘May your mother not found you, O Mu’adh! Are people thrown onto their faces in Hell for anything other than the harvest of their tongues?’”
ہم سے محمد بن ابی عمر العدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن معاذ نے بیان کیا، انہوں نے معمر کی سند سے، عاصم بن ابی النجود نے ابو وائل کی سند سے, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن میں صبح کو آپ سے قریب ہوا، اور ہم چل رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، اور جہنم سے دور رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے، اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات میں آدمی کا نماز ( تہجد ) ادا کرنا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت:«تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ( سورة السجدة: 16 ) تلاوت فرمائی یہاں تک کہ «جزاء بما كانوا يعملون» تک پہنچے، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے ، پھر فرمایا: کیا ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ضرور بتائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا: اسے اپنے قابو میں رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو بولتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہو گی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! تیری ماں تجھ پر روئے! لوگ اپنی زبانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے ۔
It was narrated from Umm Habibah رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet (ﷺ), that:
The Prophet (ﷺ) said: “The words of the son of Adam count against him, not for him, except what is good and forbidding what is evil, and remembering Allah.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن یزید بن خنیس مکی نے بیان کیا، کہا: میں نے سعید بن حسن المخزومی کو کہتے سنا: مجھ سے ام صالح نے صفیہ بنت شیبہ کی روایت سے بیان کیا, ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی ہر بات کا اس پر وبال ہو گا، اور کسی بات سے فائدہ نہ ہو گا سوائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے ۔
It was narrated that Abu Sha’tha said:
“It was said to Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما : ‘We enter upon our rulers and say one thing, and when we leave we say something else.’ He said: ‘At the time of the Messenger of Allah (ﷺ), we used to regard that as hypocrisy.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے میرے ماموں یعلی نے بیان کیا، العمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے, ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء ( حکمرانوں ) کے پاس جاتے ہیں، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Part of a person’s goodness in Islam is his leaving alone that which does not concern him.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن شعیب بن شابور نے بیان کیا، کہا ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا، وہ قرہ بن عبدالرحمٰن بن حیویل نے، وہ الزہری کی سند سے، وہ ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جس بات کا تعلق اس سے نہ ہو اسے وہ چھوڑ دے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “The best lifestyle is that of a man who holds onto the reins of his horse for the sake of Allah, riding on its back. Every time he hears a commotion he rushes towards it, seeking death wherever he thinks he can find it; and a man who tends sheep at the top of one of these peaks, or in the bottom of one of these valleys, establishing the prayer, paying the charity, and worshipping his Lord until the inevitable (death) comes to him and there is nothing between him and the people except good.”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بعجہ بن عبداللہ بن بدر الجہنی کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فوراً مقابلہ کے لیے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتیٰ کہ اس حالت میں اسے موت آ جائے کہ وہ لوگوں کا خیرخواہ ہو ۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
A man came to the Prophet (ﷺ) and said: “Which of the people is best?” He said: “A man who strives in Jihad in the cause of Allah with himself and his wealth.” He said: “Then who?” He said: “A man in a mountain pass who worships Allah and leaves the people from his evil.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے الزبیدی نے بیان کیا، کہا: مجھ سے زہری نے عطاء بن یزید لیثی کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: لوگوں میں سب سے بہتر اور اچھا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو ، اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں تنہا اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو ۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There will be callers at the gates of Hell; whoever responds to them they throw them into it.” I said: “O Messenger of Allah, describe them to us.” He said: “They will be from our people, speaking our language.” I said: “What do you command me to do, if I live to see that?” He said: “Adhere to the main body of the Muslims and their leader. If there is no such body and no leader, then withdraw from all their groups, even if you bite onto the trunk of a tree until death finds you in that state.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے بیان کیا، کہا: مجھ سے بسر بن عبید اللہ نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابو ادریس خولانی نے بیان کیا, حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کے بلاوے پر ادھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے ان کے کچھ اوصاف بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے ، میں نے عرض کیا: اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو، اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کرو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتیٰ کہ تمہیں اسی حالت میں موت آ جائے ۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Soon the best wealth of a Muslim will be sheep which he follows in the mountain peaks and places where rainfall is to be found, fleeing for the sake of his religion from tribulations.”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن سعید کی سند سے، وہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن انصاری نے اپنے والد سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں یا بارش کے مقامات میں چلا جائے گا، وہ اپنا دین فتنوں سے بچاتا پھر رہا ہو گا ۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There will be tribulations at the gates of which will be callers (calling people) to Hell. Dying when you are biting onto the stump of a tree will be better for you than following anyone of them.”
ہم سے محمد بن عمر بن علی المقدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عامر خزاز نے بیان کیا، حمید بن ہلال کی سند سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن قرط کی سند سے, حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ ان کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے، لہٰذا اس وقت تمہارے لیے کسی درخت کی جڑ چبا کر جان دے دینا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ تم ان بلانے والوں میں سے کسی کی پیروی کرو ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The believer should not be stung from the same hole twice.”
ہم سے محمد بن حارث المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، وہ ابن شہاب کی سند سے، مجھے سعید بن المسیب نے خبر دی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The believer should not be stung from the same hole twice.’”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو احمد الزبیری نے بیان کیا، کہا: ہم سے زمعہ بن صالح نے زہری کی سند سے اور سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔
Shubah said:
While on the pulpit, pointing with this fingers towards his ears, Nu’man bin Bashir رضی اللہ عنہما said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘That which is lawful is plain and that which is unlawful is plain, and between them are matters that are not clear, about which not many people know. Thus he who guards against the unclear matters, he clears himself with regard to his religion and his honor. But he who falls into the unclear matters, he falls into that which is unlawful. Like the shepherd who pastures around a sanctuary, all but grazing therein. Every king has a sanctuary. And beware! Allah’s sanctuary is His prohibitions. Beware! In the body there is a piece of flesh which, if it is sound, the whole body will be sound, and if it is corrupt, the whole body will be corrupt. It is the heart.’”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، وہ زکریا بن ابی زایدہ سے, شعبی کہتے ہیں کہ
میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ کہتے سنا، اور انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام بھی، ان کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جان پاتے ( کہ حلال ہے یا حرام ) جو ان مشتبہ چیزوں سے بچے، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا، وہ ایک دن حرام میں بھی پڑ جائے گا، جیسا کہ چرا گاہ کے قریب جانور چرانے والا اس بات کے قریب ہوتا ہے کہ اس کا جانور اس چراگاہ میں بھی چرنے لگ جائے، خبردار!، ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، آگاہ رہو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب تک وہ صحیح رہتا ہے تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، آگاہ رہو!، وہ دل ہے ۔
It was narrated from Ma’qil bin Yasar رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Worship during the time of bloodshed is like emigrating to me.”
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن سلیمان نے معاویہ بن قرہ کی سند سے معاویہ بن زیاد کی سند سے بیان کیا, معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنوں ( کے ایام ) میں عبادت کرنا ایسے ہی ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Islam began as something strange and will go back to being strange, so glad tidings to the strangers.’”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم، یعقوب بن حمید بن کاسب اور سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مروان بن معاویہ الفزاری نے بیان کیا، ہم سے یزید بن کیسان نے ابوحازم کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے ۔