Back to Mishkat Al-Masabih

Marriage

كتاب النكاح

Chapter 13

Hadith 3219
sahih
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ كَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَصَنَعَ لَهُ طعيما ثمَّ أتها فَدَعَاهُ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا شُعَيْبٍ إِنَّ رَجُلًا تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تركته» . قَالَ: لَا بل أَذِنت لَهُ
Urdu

ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، انصار کا ایک آدمی تھا جس کی کنیت ابوشعیب تھی ، اس کا ایک غلام قصاب تھا ، اس نے کہا : میرے لیے کھانا تیار کرو جو کہ پانچ افراد کے لیے کافی ہو ، تاکہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دوں کہ آپ ان میں سے پانچویں ہوں ، اس نے اس کے لیے مختصر سا کھانا تیار کیا ، پھر وہ (ابوشعیب) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو دعوت دی ، تو ایک اور (چھٹا) آدمی ان کے ساتھ آنے لگا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابوشعیب ! ایک اور آدمی ہمارے ساتھ آ رہا ہے ، اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اور اگر چاہو تو اسے چھوڑ دو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : کوئی نہیں ! اسے بھی اجازت ہے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 3220
sahih
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أولم على صَفِيَّة بسويق وتمر. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفیہ ؓ کا ستو اور کھجور سے ولیمہ کیا ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 3221
sahih
وَعَنْ سَفِينَةَ: أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ. قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَدَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتا مزوقا» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
Urdu

سفینہ (ام سلمہ ؓ کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ ایک آدمی علی بن ابی طالب ؓ کے ہاں مہمان ٹھہرا تو انہوں نے اس کے لیے کھانا تیار کیا ، فاطمہ ؓ نے فرمایا : اگر ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی مدعو کر لیں تاکہ وہ ہمارے ساتھ تناول فرما لیں ؟ انہوں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دی تو آپ تشریف لائے اور آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر رکھے تھے کہ گھر کی ایک جانب لگے ہوئے منقش پردے کو دیکھا تو آپ واپس تشریف لے گئے ۔ فاطمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں آپ کے پیچھے گئی اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کس چیز نے آپ کو واپس کر دیا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میرے یا کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی مزین گھر میں داخل ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔

Hadith 3222
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمن دخل على غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو دعوت دی جائے اور وہ قبول نہ کرے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور جو شخص بن بلائے چلا آئے تو وہ چور کی حیثیت سے داخل ہوا اور ڈاکو کی حیثیت سے خارج ہوا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3223
sahih
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ
Urdu

رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب دعوت دینے والے دو افراد اکٹھے ہو جائیں تو پھر ان میں سے جو ہمسائیگی کے لحاظ سے زیادہ قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو ، اور اگر ان میں سے کوئی ایک سبقت لے جائے تو پھر اس سبقت لے جانے والے کی دعوت قبول کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

Hadith 3224
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَعَامُ أَوَّلِ يَوْمٍ حق وَطَعَام يَوْم الثَّانِي سنة وَطَعَام يَوْم الثَّالِثِ سُمْعَةٌ وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پہلے روز (ولیمہ) کا کھانا حق (واجب) ہے ، دوسرے روز دعوت کرنا سنت ہے جبکہ تیسرے روز دعوت کرنا شہرت و ریا کاری ہے اور جو کوئی دکھلاوا کرتا ہے تو اللہ (قیامت کے دن) اسے رسوا کر دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 3225
sahih
وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا
Urdu

عکرمہ ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے باہم فخر کرنے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ ابوداؤد ، اور محی السنہ نے فرمایا : صحیح یہ ہے کہ عکرمہ کی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ مرسل روایت ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3226
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَبَارِيَانِ لَا يُجَابَانِ وَلَا يُؤْكَلُ طَعَامُهُمَا» . قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: يَعْنِي المتعارضين بالضيافة فخراً ورياء
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دو باہم فخر کرنے والوں کی دعوت قبول نہ کی جائے اور نہ ان دونوں کا کھانا کھایا جائے ۔‘‘ امام احمد نے فرمایا : یعنی وہ دو آدمی جو فخر و ریا کی خاطر ضیافت کرتے ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 3227
sahih
وَعَن عمرَان ين حُصَيْنٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِجَابَة طَعَام الْفَاسِقين
Urdu

عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فاسق لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 3228
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَا يَسْأَلْ وَيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلَا يَسْأَلْ» رَوَى الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَة الْبَيْهَقِيّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ: هَذَا إِنْ صَحَّ فَلِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يُطْعِمُهُ وَلَا يسْقِيه إِلَّا مَا هُوَ حَلَال عِنْده
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی ایک اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے تو وہ اس کے کھانے سے کھائے اور سوال نہ کرے (کہ یہ کہاں سے آیا ہے) اور وہ اس کے مشروب سے پیئے اور کچھ دریافت نہ کرے ۔‘‘ امام بیہقی نے یہ تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ، اور فرمایا : اگر یہ صحیح ہے ، تو ظاہر ہے کہ مسلمان اسے صرف وہی چیز کھلاتا پلاتا ہے جو اس کے نزدیک حلال ہوتی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 3229
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ وَكَانَ يقسم مِنْهُنَّ لثمان
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو اس وقت آپ کی نو ازواج مطہرات تھیں ، اور آپ نے ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کی تھی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 3230
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ فَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَسَّمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا وَيَوْم سَوْدَة
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب سودہ ؓ عمر رسیدہ ہو گئیں تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کی طرف سے جو میری باری کا دن تھا وہ میں نے عائشہ ؓ کو ہبہ کر دیا ، لہذا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عائشہ ؓ کے لیے دو دن تقسیم فرمایا کرتے تھے ، ایک ان کا اپنا اور دوسرا سودہ ؓ کا دن تھا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 3231
sahih
وَعَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «أَيْنَ أَنَا غَدًا؟» يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے مرض وفات میں دریافت کیا کرتے تھے ، میں کل کہاں ہوں گا ؟ میں کل کہاں ہوں گا ؟ آپ (اس سوال سے) عائشہ ؓ کی باری کا دن پوچھنا چاہتے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات نے آپ کو اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں رہیں ، آپ ، عائشہ ؓ کے گھر تھے حتی کہ آپ نے ان کے ہاں ہی وفات پائی ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 3232
sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فأيهن خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کا ارادہ فرمایا کرتے تھے تو آپ اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کیا کرتے تھے ، جس کے نام قرعہ نکلتا تو وہ آپ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوتی تھیں ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 3233
sahih
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدهَا سبعا وَقسم إِذا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَسَمَ. قَالَ أَبُو قلَابَة: وَلَو شِئْت لَقلت: إِن أَنَسًا رَفْعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Urdu

ابوقلابہ ، انس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا :’’ مسنون طریقہ یہ ہے کہ جب آدمی مطلقہ / بیوہ کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو وہ اس (کنواری) کے ہاں سات راتیں قیام کرے اور پھر باری تقسیم کرے ، اور جب بیوہ / مطلقہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین راتیں قیام کرے اور پھر باری تقسیم کرے ۔ ابوقلابہ نے کہا : اگر میں چاہوں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ انس ؓ نے اسے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرفوع روایت کیا ہے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 3234
sahih
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِين تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا: «لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ» . قَالَتْ: ثَلِّثْ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهُ قَالَ لَهَا: «لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام سلمہ ؓ سے شادی کی اور وہ آپ کے ہاں اقامت گزیں ہوئیں تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ ایسی بات نہیں ہے کہ تیری میرے ہاں عزت نہیں ہے بلکہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات راتیں قیام کرتا ہوں اور پھر میں ان کے ہاں بھی سات راتیں قیام کروں گا ، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں تین راتیں قیام کرتا ہوں اور پھر باقیوں کے پاس جاتا ہوں ۔‘‘ انہوں (ام سلمہ ؓ) نے عرض کیا ، آپ تین راتیں قیام کریں ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ کنواری کے لیے سات راتیں ہیں اور بیوہ / مطلقہ کے لیے تین راتیں ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 3235
sahih
عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ازواج مطہرات کے درمیان باری تقسیم فرمایا کرتے تھے اور آپ عدل کیا کرتے تھے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے :’’ اے اللہ ! میں نے اپنی بساط کے مطابق باری تقسیم کر رکھی ہیں ، آپ مجھے اس چیز (یعنی دلی محبت) کے بارے میں ملامت نہ کرنا جس کا تجھے اختیار ہے اور مجھے کوئی اختیار نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 3236
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَتْ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس آدمی کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے مابین عدل نہ کرے تو وہ روز قیامت اس حال میں ہو گا کہ اس کا ایک پہلو (نصف دھڑ) مفلوج ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 3237
sahih
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ فَقَالَ: هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا بِهَا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ كَانَ يَقْسِمُ مِنْهُنَّ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْسِمُ لَهَا بَلَغَنَا أَنَّهَا صَفِيَّةُ وَكَانَتْ آخِرهنَّ موتا مَاتَت بِالْمَدِينَةِ وَقَالَ رَزِينٌ: قَالَ غَيْرُ عَطَاءٍ: هِيَ سَوْدَةُ وَهُوَ أصح وهبت يَوْمهَا لِعَائِشَةَ حِينَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ لَهُ: أَمْسِكْنِي قَدْ وهبت يومي لعَائِشَة لعَلي أكون من نِسَائِك فِي الْجنَّة
Urdu

عطاء ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مقام سرف پر ابن عباس ؓ کے ساتھ میمونہ ؓ کے جنازے میں شریک تھے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، انہیں جھٹکے سے نہیں اٹھانا اور نہ چلتے وقت جھٹکے دینا اور بلکہ اسے آرام سے لے کر چلنا ، کیونکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نو بیویاں تھیں ، آپ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر کرتے تھے اور ایک کے لیے باری مقرر نہیں فرماتے تھے ، عطاء بیان کرتے ہیں ، ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس زوجہ محترمہ کے لیے باری مقرر نہیں فرمایا کرتے تھے وہ صفیہ ؓ تھیں ، اور انہوں نے ان میں سے سب سے آخر میں مدینہ میں وفات پائی ۔ متفق علیہ ۔ رزین نے فرمایا : عطاء کے علاوہ دیگر محدثین نے فرمایا : وہ (جن کی باری مقرر نہیں تھی) سودہ ؓ تھیں ، اور یہی بات زیادہ صحیح ہے ، کیونکہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے اپنی باری عائشہ ؓ کو ہبہ کر دی تھی ، اور انہوں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا : میں نے اپنی باری عائشہ ؓ کو ہبہ کر دی ، تاکہ میں جنت میں آپ کی ازواج مطہرات میں سے ہوں ۔

Hadith 3238
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسْرَتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عورتوں کے ساتھ خیر و بھلائی سے پیش آؤ ، کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں ، اور پسلی کا اوپر والا حصہ سب سے زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے ، اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ بیٹھو گے ، اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھا رہے گا ، تم عورتوں کے ساتھ خیر و بھلائی کا خیال رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔