حکیم بن معاویہ قشیری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بیوی کا خاوند پر کیا حق ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ ، اس کے چہرے پر مارو نہ اسے بُرا بھلا کہو اور (ناراضی پر) صرف گھر میں اس سے علیحدگی اختیار کرو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
لقیط بن صبرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میری ایک بیوی ہے اس کی زبان میں کچھ (نقص) ہے یعنی وہ فحش گو ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے طلاق دے دو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میری اس سے اولاد ہے اور اس کے ساتھ ایک تعلق ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے وعظ و نصیحت کرو ، اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ نصیحت قبول کر لے گی ، اور اپنی اہلیہ کو لونڈی کی طرح نہ مارو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ایاس بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی لونڈیوں (اپنی بیویوں) کو نہ مارو ۔‘‘ عمر ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : عورتیں اپنے خاوندوں پر جرأت کرنے لگی ہیں ، تب آپ نے انہیں مارنے کے متعلق رخصت عطا فرمائی تو بہت سی عورتیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے پاس آئیں ہیں ، ایسے لوگ (جو اپنی ازواج کو مارتے ہیں) تم میں سے بہتر نہیں ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف یا غلام کو اس کے آقا کے خلاف بھڑکائے وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومنوں میں سے کامل ایمان والا شخص وہ ہے جو ان میں سے اچھے اخلاق والا اور اپنے گھر والوں کے ساتھ زیادہ مہربان ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومنوں میں سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اِن میں سے اچھے اخلاق والا ہے ، اور تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اور امام ابوداؤد نے اسے ((خُلُقًا)) تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک یا غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے ، اور ان (عائشہ ؓ) کی الماری پر پردہ تھا ، ہوا چلی تو اس نے عائشہ ؓ کی گڑیوں اور کھلونوں سے پردہ ہٹا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میری گڑیاں ہیں ، آپ نے ان میں ایک گھوڑا دیکھا جس کے کپڑے سے بنے ہوئے دو پَر تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں ان کے درمیان میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : گھوڑا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اور جو اِس کے اُوپر ہے ، وہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : دو پَر ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گھوڑا اور اس کے دو پَر !‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان ؑ کا ایک گھوڑا تھا جس کے پر تھے ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، یہ سن کر آپ مسکرا دیے حتی کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں دیکھیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
قیس بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں حیرہ پہنچا تو میں نے وہاں کے باشندوں کو اپنے سپہ سالار کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زیادہ حق ہے کہ انہیں سجدہ کیا جائے ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا : میں حیرہ گیا تھا میں نے وہاں کے باشندوں کو اپنے سپہ سالار کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ، آپ زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے بتاؤ اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا تم اسے سجدہ کرو گے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مت کرو ، اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں اس لیے کہ اللہ نے انہیں ان پر حق عطا کیا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
امام احمد نے اسے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد ۔
عمر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خاوند سے دریافت نہ کیا جائے کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے ؟‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی تو اس نے عرض کیا : میرا خاوند صفوان بن معطل ، جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے ، جب میں (نفلی) روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرنے کا حکم دیتا ہے ، اور وہ سورج طلوع ہونے پر نماز فجر پڑھتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، صفوان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی تھا ، راوی نے کہا : آپ نے اس چیز کے متعلق جو اس (عورت) نے کہا تھا صفوان سے دریافت کیا ، تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو سورتیں پڑھتی ہے ۔ حالانکہ میں نے اسے منع کیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفوان سے فرمایا :’’ اگر ایک ہی سورت ہوتی وہ لوگوں کے لیے کافی ہوتی ۔ صفوان نے کہا : رہا اس کا یہ کہنا کہ جب میں روزہ رکھتی ہوں تو وہ مجھے افطار کرا دیتا ہے ۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ روزے رکھتی چلی جاتی ہے جبکہ میں نوجوان آدمی ہوں ، میں (جماع سے) رُک نہیں سکتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزے نہ رکھے ۔‘‘ اور اس کا یہ کہنا کہ میں سورج طلوع ہونے پر نماز پڑھتا ہوں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے گھرانے کے متعلق مشہور ہے کہ ہم سورج طلوع ہونے پر ہی بیدار ہوتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صفوان ! جب تم بیدار ہو تب نماز پڑھ لیا کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین و انصار کی جماعت میں تھے کہ اتنے میں ایک اونٹ آیا اور اس نے آپ کو سجدہ کیا ۔ آپ کے صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! چوپائے اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں ، جبکہ ہم تو زیادہ حق دار میں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کی عزت کرو ، اگر میں کسی کو حکم کرتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ، اور اگر وہ اسے حکم دے کہ وہ جبلِ اصفر (زرد پہاڑ) سے جبلِ اسود (کالے پہاڑ) کی طرف اور جبلِ اسود کو جبلِ ابیض کی طرف پتھر منتقل کر دے تو اسے چاہیے کہ وہ ایسا ہی کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی نہ نماز قبول ہوتی ہے اور نہ کوئی نیکی اوپر چڑھتی ہے : مفرور غلام حتی کہ وہ اپنے مالکوں کے پاس واپس آ جائے اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دے ، وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو ، اور نشے والا حتی کہ وہ ہوش میں آ جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا : کون سی عورت بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ جو اپنے خاوند کو خوش کر دے جب وہ اسے دیکھے ، اور جب اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنے مال و جان میں خاوند کی مرضی کے خلاف ایسا کام نہ کرے جو اسے ناپسند ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چار چیزیں ایسی ہیں جسے مل جائیں تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائی مل گئی ، شکر گزار دل ، ذکر کرنے والی زبان ، تکلیفوں میں صبر کرنے والا بدن اور ایسی عورت جو اپنے خاوند سے اپنی ذات کے بارے میں اور اس کے مال کے بارے میں خیانت کی طالب نہ ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس ؓ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے ثابت بن قیس کی عادات اور دینداری پر کوئی اعتراض نہیں لیکن میں اسلام میں (خاوند کی) نافرمانی کو ناپسند کرتی ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم اس کا باغ واپس کر دو گی ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثابت کو کہا :’’ باغ قبول کرو اور اسے ایک طلاق دے دو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام حیض میں طلاق دی ۔ عمر ؓ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر ناراض ہوئے ، اور فرمایا :’’ اسے چاہیے کہ وہ رجوع کرے ، پھر انتظار کرے حتی کہ وہ (ایام حیض گزرنے کے بعد) پاک ہو جائے ، پھر حیض آئے ، پھر پاک ہو ، پھر اگر اسے طلاق دینا چاہے تو اسے حالت طہر میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے ، یہی وہ عدت ہے جس کے مطابق اللہ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم فرمایا ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے ، پھر اسے حالت طہر یا حمل میں طلاق دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو منتخب کیا ، آپ نے اسے ہمارے متعلق کچھ بھی شمار نہ کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ نے کسی چیز کو حرام قرار دینے پر کفارہ ادا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :’’ تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زینب بن جحش ؓ کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے اور وہاں شہد پیا کرتے تھے ، پس میں اور حفصہ ؓ نے طے کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کے پاس بھی تشریف لائیں تو وہ کہے : مجھے آپ سے مغافیر (کھانے کا گوند جو عرفط پودے سے نکلتا ہے) کی بُو آ رہی ہے ، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ چنانچہ آپ ان دونوں میں سے کسی ایک کے ہاں تشریف لے گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایسی کوئی بات نہیں ، میں نے تو زینب کے ہاں شہد پیا ہے ، میں دوبارہ اسے نہیں پیوں گا ، اور میں نے حلف اٹھا لیا ، تم کسی کو اس کے متعلق نہ بتانا ۔‘‘ آپ اپنی ازواج کی رضامندی چاہتے تھے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی :’’ اے نبی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو کیوں حرام قرار دیا جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا ہے ، آپ اپنی ازواج کی رضامندی چاہتے ہیں ؟‘‘ متفق علیہ ۔