Back to Mishkat Al-Masabih

Marriage

كتاب النكاح

Chapter 13

Hadith 3299
sahih
وَعَن أبي سلمةَ: أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ وَيُقَالُ لَهُ: سَلَمَةُ بْنُ صَخْرٍ الْبَيَاضِيُّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ فَلَمَّا مَضَى نِصْفٌ مِنْ رَمَضَانَ وَقَعَ عَلَيْهَا لَيْلًا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْ رَقَبَةً» قَالَ: لَا أَجِدُهَا قَالَ: «فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: «أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قَالَ: لَا أَجِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَرْوَةَ بْنِ عَمْرٍو: «أَعْطِهِ ذَلِكَ الْعَرَقَ» وَهُوَ مِكْتَلٌ يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعا «ليُطعِمَ سِتِّينَ مِسْكينا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ سلمان بن صخر ، انہیں سلمہ بن صخر بیاضی بھی کہا جاتا ہے ، نے اپنی بیوی کو پورا رمضان اپنے اوپر اپنی ماں کی پشت کی طرح قرار دے لیا ، جب نصف رمضان گزر گیا تو ایک رات اس نے اس سے جماع کر لیا ، پھر وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ ایک غلام آزاد کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے پاس کوئی غلام نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں استطاعت نہیں رکھتا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں طاقت نہیں رکھتا ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فروہ بن عمرو سے فرمایا :’’ اسے پندرہ صاع یا سولہ (تقریباً چالیس کلو) والا کھجوروں کا ٹوکرا دے دو تاکہ وہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 3300
sahih
وروى أَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه والدارمي عَن سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ نحوَه قَالَ: كنتُ امْرأ أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي وَفِي روايتهِما أَعنِي أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيَّ: «فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّينَ مِسْكينا»
Urdu

ابوداؤد ، ابن ماجہ اور دارمی نے سلیمان بن یسار کے طریق سے سلمہ بن صخر سے اسی طرح روایت کیا ہے ، انہوں نے کہا : مجھے جس قدر عورتوں سے لگاؤ تھا اتنا لگاؤ میرے سوا کسی کو نہ تھا ۔ اور ان دونوں یعنی ابوداؤد اور دارمی کی روایت میں ہے :’’ ایک وسق (ساٹھ صاع) کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 3301
sahih
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ: «كَفَّارَة وَاحِدَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
Urdu

سلیمان بن یسار ، سلمہ بن صخر کی سند سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ، ظہار کرنے والے کے متعلق جو کفارہ دینے سے پہلے جماع کر لے ، روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک ہی کفارہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 3302
sahih
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَكَفِّرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعَتُ عَلَيْهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ مُسْنَدًا وَمُرْسَلًا وَقَالَ النَّسَائِيُّ: المُرسل أوْلى بالصَّوابِ من المسْندِ
Urdu

عکرمہ ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تو اس نے کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے جماع کر لیا ، پھر وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اس کے متعلق آپ کو بتایا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہیں کس چیز نے اس پر آمادہ کیا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے چاندنی رات میں اس کی پازیب کی سفیدی دیکھی تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے ہم بستر ہو گیا ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا دیے اور اسے حکم فرمایا کہ وہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے ۔ ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اور امام ابوداؤد اور امام نسائی نے اسی مثل مسند اور مرسل روایت کیا ہے ، اور امام نسائی نے فرمایا : مرسل درست ہونے میں ، مسند سے اولیٰ ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 3303
sahih
عَن مُعَاوِيَة بنِ الحكمِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ جَارِيَةً كَانَتْ لِي تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فَقَدَتْ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ مَنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ اللَّهُ؟» فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ فَقَالَ: «مَنْ أَنَا؟» فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْهَا» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنْ صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أفَلا أُعتِقُها؟ قَالَ: «ائتِني بهَا؟» فأتيتُه بِهَا فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ اللَّهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ الله قَالَ: «أعتِقْها فإنَّها مؤْمنةٌ»
Urdu

معاویہ بن حکم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میری ایک لونڈی میری بکریاں چراتی تھی ، میں اس کے پاس آیا تو میں نے ایک بکری نہ پائی ، میں نے اس کے متعلق اس سے پوچھا تو اس نے کہا : اسے بھیڑیے نے کھا لیا ہے ، میں اس سے ناراض ہوا ، چونکہ میں اولاد آدم سے ہوں ، میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا ، (اور کسی وجہ سے) غلام آزاد کرنا مجھ پر واجب ہے ، کیا میں اسے آزاد کر دوں ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا :’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘ اس نے کہا : آسمان میں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، آپ اللہ کے رسول ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے آزاد کر دو ۔‘‘ یہ مالک کی روایت ہے ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے : انہوں (معاویہ بن حکم ؓ) نے کہا : میری ایک لونڈی تھی جو اُحد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چرایا کرتی تھی ، ایک روز میں نے دیکھا کہ بھیڑیا ہماری بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا ، چونکہ میں آدم کی اولاد سے ہوں ، میں بھی ناراض ہوتا ہوں جیسے وہ ناراض ہوتے ہیں ، اس لیے میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اور سارا واقعہ سنایا) آپ نے میری اس حرکت کو بڑا جرم قرار دیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے میرے پاس لاؤ ۔‘‘ میں اسے آپ کے پاس لے آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا :’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : آسمان میں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ مسلمان ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و مسلم ۔

Hadith 3304
sahih
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ قَالَ: إِن عُوَيْمِر الْعَجْلَانِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وجدَ معَ امرأتِهِ رجُلاً أيقْتُلُه فيَقْتُلُونه؟ أمْ كَيفَ أفعل؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قدْ أُنْزِلُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا» قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رسولَ اللَّهِ إِن أَمْسكْتُها فطلقتها ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَلَا أَحسب عُوَيْمِر إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ فَكَانَ بَعْدُ يُنْسَبُ إِلَى أمه
Urdu

سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عجلانی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس شخص کے بارے میں بتائیں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ، کیا وہ اسے قتل کر دے ، اس صورت میں وہ (مقتول کے ورثاء) اس کو قتل کر دیں گے یا اسے کیا کرنا چاہیے ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہو چکا ہے ، تم اسے لے کر آؤ ۔‘‘ سہل بیان کرتے ہیں ، ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا ، اور میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھا ، جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر میں اسے رکھ لوں تو اس کا مطلب ہو گا میں نے اس پر جھوٹ باندھا ، اس نے اسے تین طلاقیں دے دیں ، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انتظار کرو اور دیکھو اگر وہ سیاہ رنگ ، موٹی موٹی اور خوب سیاہ آنکھوں والے ، سرین بڑے بڑے اور موٹی موٹی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دے تو پھر میں سمجھوں گا کہ عویمر نے اس کے متعلق سچ کہا ہے ، اور اگر وہ سرخ رنگ کا ہوا ، گویا کہ وہ زہریلی چھپکلی ہے تو میں سمجھوں گا کہ عویمر نے اس عورت پر جھوٹ باندھا ہے ۔‘‘ اس عورت نے اس طرح کے بچے کو جنم دیا جس طرح کی صفات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عویمر کی تصدیق کے متعلق بیان فرمائی تھیں ، اس کے بعد اس بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 3305
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعن بَين رجل وَامْرَأَته فانتقى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي حَدِيثِهِ لَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَاب الدُّنْيَا أَهْون من عَذَاب الْآخِرَة
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا ، اس (آدمی) نے اس کے بچے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور بچے کو عورت کے حوالے کر دیا ۔ اور ابن عمر ؓ کی صحیحین کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے شوہر کو وعظ و نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت کو بلایا اور اسے بھی وعظ و نصیحت کی اور اسے بھی بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3306
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ: «لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ وَأبْعد لَك مِنْهَا»
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعان کرنے والوں سے فرمایا :’’ تمہارا حساب اللہ کے ذمہ ہے ، تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے ، اب تمہارا اس (عورت) پر کوئی حق نہیں ۔‘‘ اس (آدمی) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرا مال (جو مہر میں دیا تھا) ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہیں مال کا کوئی حق نہیں ، اگر تم نے اس کے متعلق سچی بات کی ہے تو وہ (مال) اس کا بدل ہے جو تم نے اس سے ہمبستری کی ہے ، اور اگر تم نے اس کے متعلق جھوٹی بات کی ہے تو پھر اس (مہر) کا لوٹنا تمہارے لیے بعید ہے اور تیرا اس سے مطالبہ کرنا بھی بعید ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3307
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدًّا فِي ظَهْرِكَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ؟ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ» فَقَالَ هِلَالٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ فَلْيُنْزِلَنَّ اللَّهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ وَأنزل عَلَيْهِ: (وَالَّذين يرْمونَ أَزوَاجهم) فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ (إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ) فَجَاءَ هِلَالٌ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟» ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَتْ عِنْدَ الْخَامِسَةِ وَقَفُوهَا وَقَالُوا: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا تَرْجِعُ ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ فَمَضَتْ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقِينَ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ» فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْن» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ہلال بن امیہ نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ثبوت پیش کرو ، ورنہ تیری پشت پر حد قائم ہو گی ۔‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو حالت زنا میں دیکھے تو کیا وہ گواہ تلاش کرنے چلا جائے ؟ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پشت پر حد قائم کی جائے گی ۔‘‘ ہلال ؓ نے عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! میں یقیناً سچا ہوں اللہ ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو مجھے حد سے بچا لے گا ۔ پس جبریل ؑ تشریف لائے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر یہ آیات نازل فرمائیں :’’ جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں ......... اگر وہ سچوں میں سے ہے ۔‘‘ ہلال آئے تو انہوں نے گواہی دی (یعنی لعان کیا) جبکہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ یقیناً تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا وہ توبہ کرنے کے لیے تیار ہے ؟‘‘ پھر عورت کھڑی ہوئی تو اس نے گواہی دی (لعان کیا) جب وہ پانچویں گواہی پر پہنچی تو انہوں نے اسے روکا اور انہوں نے کہا کہ یہ (پانچویں گواہی) واجب کرنے والی ہے ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس نے توقف کیا اور خاموشی اختیار کی حتی کہ ہم نے سمجھا کہ وہ (اپنے مؤقف سے) رجوع کر لے گی ، پھر اس نے کہا : میں ہمیشہ کے لیے اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی ۔ چنانچہ اس نے پانچویں گواہی بھی دے دی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے دیکھو اگر یہ سرمئی آنکھوں والے ، بڑے سرین والے اور موٹی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دے تو پھر وہ شریک بن سحماء کا ہے ۔‘‘ اس نے اسی طرح کے بچے کو جنم دیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر اللہ کا حکم (کہ لعان کے بعد حد جاری نہیں کی جائے گی) پہلے سے نہ آیا ہوتا تو میں اسے ضرور سزا دیتا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 3308
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَالله أغير مني» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، سعد بن عبادہ ؓ نے عرض کیا اگر میں کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں پاؤں تو کیا میں اس (آدمی) کو ہاتھ نہ لگاؤں حتی کہ میں چار گواہ لاؤں ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں !‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! اگر میرے ساتھ ایسا ہوا تو میں اس (گواہی) سے پہلے ہی تلوار کے ذریعے اس کا کام تمام کر دوں گا ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنے سردار کی بات غور سے سنو ، کیونکہ وہ غیور شخص ہے ، اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں جبکہ اللہ مجھ سے زیادہ غیور ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 3309
sahih
وَعَنِ الْمُغِيرَةَ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفِحٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ؟ وَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ الْمُنْذِرِينَ وَالْمُبَشِّرِينَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ»
Urdu

مغیرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، سعد بن عبادہ ؓ نے کہا : اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو (حالتِ زنا میں) دیکھ لوں تو میں تلوار کی دھار کے ساتھ اسے قتل کر دوں ۔ یہ بات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے ، اور اللہ نے اپنی غیرت ہی کے باعث ظاہری اور باطنی بے حیائی کو حرام قرار دیا ہے ، اور اللہ سے زیادہ کوئی شخص عذر پسند نہیں کرتا اسی لیے تو اس نے آگاہ کرنے والے اور خوشخبری سنانے والے (انبیاء ؑ) مبعوث فرمائے ، اور اللہ سے بڑھ کر کوئی شخص مدح کو پسند نہیں کرتا ، اسی لیے تو اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3310
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ تَعَالَى يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ لَا يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ الله»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ غیرت مند ہے اور بے شک مومن بھی غیرت مند ہے ، اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن اللہ کی حرام کردہ چیز کا ارتکاب نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3311
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إنَّ امْرَأَتي ولدَتْ غُلَاما أسودَ وَإِنِّي نكرته فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَمَا أَلْوَانُهَا؟» قَالَ: حُمْرٌ قَالَ: «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟» قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا قَالَ: «فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا؟» قَالَ: عِرْقٌ نَزَعَهَا. قَالَ: «فَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ» وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : میری بیوی نے ایک سیاہ بچے کو جنم دیا ہے ، میں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا : ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان کے رنگ کیسے ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا : سرخ ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اِن میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے خیال میں یہ کہاں سے آ گیا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : (پرانی) رگ اسے لے آئی ہو گی ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ممکن ہے یہ بھی رگ ہو جو اسے لے آئی ہو ۔‘‘ اور آپ نے اسے اس بچے سے انکار کی اجازت نہیں دی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 3312
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ: إِنَّهُ ابْنُ أَخِي وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي فَتَسَاوَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْن وليدة أبي وُلِدَ على فرَاشه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: «احْتَجِبِي مِنْهُ» لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمَعَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِيهِ»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص ؓ کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرا ہے ۔ تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا ۔ چنانچہ جب فتح مکہ کا سال ہوا تو سعد ؓ نے اسے لے لیا اور کہا : یہ میرا بھتیجا ہے ۔ اور عبد بن زمعہ نے کہا : یہ میرا بھائی ہے ، وہ دونوں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ سعد ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے بھائی نے اس (بچے) کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی ، اور عبد بن زمعہ نے عرض کیا ، یہ میرا بھائی ہے اور میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عبد بن زمعہ بچہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو ، جبکہ زانی کے لیے پتھر (یعنی رجم) ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سودہ بنت زمعہ ؓ سے فرمایا :’’ اس سے پردہ کیا کرو ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ تب فرمایا جب آپ نے اس لڑکے کی عتبہ سے مشابہت دیکھی ۔ اس کے بعد اس نے سودہ ؓ کو تا دم زیست نہیں دیکھا ۔ اور ایک روایت میں ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عبد بن زمعہ ! وہ تمہارا بھائی ہے ، اس لیے کہ وہ اس کے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 3313
sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ فَقَالَ: أَيْ عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ فَلَمَّا رَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قطيفةٌ قد غطيَّا رؤوسَهُما وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا من بعضٍ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑے خوش خوش میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا :’’ عائشہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ مجز زمدلجی آیا ہوا ہے جب اس نے اسامہ اور زید ؓ کو اس حال میں دیکھا کہ ان دونوں پر ایک چادر تھی اور انہوں نے اپنے سروں کو اس سے ڈھانپ رکھا تھا اور ان کے پاؤں ننگے تھے ، اس نے کہا : یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3314
sahih
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَأَبِي بَكْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حرَام»
Urdu

سعد بن ابی وقاص ؓ اور ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے جانتے بوجھتے اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3315
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فقد كفر» وَذُكِرَ حَدِيثُ عَائِشَةَ «مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ من الله» فِي «بَاب صَلَاة الخسوف»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنے اباء سے بے رغبتی و اعراض نہ کرو ، کیونکہ جس شخص نے اپنے باپ سے اعراض کیا (اور اپنے آپ کو کسی اور کی طرف منسوب کیا) اس نے کفر کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔ وَقَدْ ذُکِرَ حَدِیْثُ عَائِشَۃَ ؓ ((مَا مِنْ اَحَدِِ اَغْیَرُ مِنَ اللہِ)) فِیْ بَابِ صَلْوۃِ الْخُسُوْفِ ۔ عائشہ ؓ سے مروی حدیث :’’ اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ۔‘‘ صلاۃ الخسوف کے باب میں ذکر کی گئی ہے

Hadith 3316
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وفضَحَهُ على رؤوسِ الْخَلَائِقِ فِي الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ والدارمي
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب لعان کے متعلق آیت نازل ہوئی تو انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو عورت بچے کو ایسی قوم میں داخل کر دے جس سے ان کا ناطہ نہیں اللہ کے نزدیک اس عورت کی کوئی عزت نہیں اور وہ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا ، اور جو شخص اپنے بچے کا انکار کر دے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ یہ بچہ اسی کا ہے ، اللہ اس سے حجاب فرما لے گا اور اس کو تمام اول و آخر پوری مخلوق کے سامنے رسوا کر دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔

Hadith 3317
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِن لِي امْرَأَةً لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلِّقْهَا» قَالَ: إِنِّي أُحِبُّها قَالَ: «فأمسِكْهَا إِذا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ النَّسَائِيُّ: رَفَعَهُ أَحَدُ الرُّوَاةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَحَدُهُمْ لَمْ يرفعهُ قَالَ: وَهَذَا الحَدِيث لَيْسَ بِثَابِت
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میری بیوی ہے جو کسی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے طلاق دے دو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں اس سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پھر اسے اپنے نکاح میں رکھ ۔‘‘ اور امام نسائی ؒ نے فرمایا : کسی راوی نے اسے ابن عباس ؓ سے مرفوع نقل کیا ہے اور کسی نے مرفوعاً ذکر نہیں کیا ۔ چنانچہ امام نسائی کہتے ہیں یہ حدیث ثابت نہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 3318
sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قضى أَن كل مستحلق استحلق بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ فَقَضَى أَنَّ كُلَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يملكهَا يَوْم أَصَابَهَا فقد لحق بِمن استحلقه وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ فَإِنْ كَانَ مِنْ أمَةٍ لم يَملِكْها أَو من حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ بِهِ وَلَا يَرِثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ الَّذِي ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنْيَةٍ مِنْ حُرَّةٍ كَانَ أَوْ أَمَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچے کی بابت فیصلہ صادر فرمایا جسے اس کے باپ کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں میں شامل کیا گیا ہو ۔ اگر وہ بچہ ایسی لونڈی کا ہے کہ مرنے والے شخص نے اس لونڈی سے اس وقت ہمبستری کی تھی جب وہ اس لونڈی کا مالک تھا تو وہ بچہ اس کے ورثا میں شامل ہے اس کے پیدا ہونے سے پہلے جو وراثت تقسیم ہو چکی اس سے وہ محروم رہے گا البتہ پیدا ہونے کے وقت جو ترکہ موجود تھا اس میں سے اسے حصہ ملے گا (جس بچے کو شامل کیا جا رہا ہے) اگر اس کے والد نے مرنے سے قبل اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا تو پھر اس بچے کو ورثا میں شامل نہیں کیا جائے گا ، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہے جس کا وہ متوفی مالک نہیں تھا یا وہ ایسی آزاد عورت سے جو اس کے نکاح میں نہ تھی تو اس بچے کو متوفی کے نسب میں شامل نہیں کیا جائے گا لہذا وہ بچہ متوفی کا وارث نہیں بنے گا ، اگرچہ اس بچے کو خود متوفی نے اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قرار دیا ہو کیونکہ وہ زنا کی پیداوار ہے خواہ لونڈی سے ہو یا آزاد عورت سے ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔