جابر بن عتیک ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غیرت کی ایک قسم ایسی ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے اور ایک قسم ایسی ہے جسے اللہ پسند نہیں فرماتا ، رہی وہ جسے اللہ پسند فرماتا ہے ، وہ ہے جو مقام شک میں ہو ، اور رہی وہ جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے وہ غیرت ہے جو غیر شک (گمان) میں ہو ۔ اور فخر کی ایک ایسی قسم ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے ، اور ایک ایسی قسم ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے رہا وہ فخر جسے اللہ پسند فرماتا ہے وہ آدمی کا قتال (جہاد) اور صدقہ کے وقت فخر کرنا ہے ، اور رہا وہ جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے تو وہ نسب میں فخر کرنا ہے ۔‘‘ اور دوسری روایت میں ہے :’’ ظلم میں فخر کرنا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! فلاں میرا بیٹا ہے ، میں نے دور جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسلام میں (بچے کا) دعوی نہیں ، جاہلیت کا معاملہ ختم ہو گیا ، بچہ صاحبِ بستر کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر (رجم یا محرومی) ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چار قسم کی عورتوں کے درمیان کوئی لعان نہیں ، نصرانی عورت مسلمان کے نکاح میں ہو ، یہودی عورت مسلمان کے نکاح میں ہو ، آزاد عورت مملوک کے نکاح میں ہو ، اور مملوک عورت آزاد کے نکاح میں ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو اس وقت حکم فرمایا ، جب آپ نے دو لعان کرنے والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تھا کہ وہ (آدمی) پانچویں شہادت کے وقت اس (لعان کرنے والے) کے منہ پر ہاتھ رکھ دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ وہ (پانچویں گواہی) واجب کرنے والی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات میرے پاس سے تشریف لے گئے آپ کے تشریف لے جانے پر میں جذباتی ہوئی ، چنانچہ آپ تھوڑی دیر بعد تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری حالت دیکھی تو فرمایا :’’ عائشہ ! کیا ہوا ، کیا تم جذباتی ہو گئی ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : مجھے کیا ہے کہ مجھ جیسی کو آپ جیسے کی عدم موجودگی جذباتی نہ کرے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے پاس تمہارا شیطان آیا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں !‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری اعانت فرمائی حتی کہ میں اس سے محفوظ رہتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسلمہ ، فاطمہ بنت قیس سے روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص نے انہیں آخری طلاق اس وقت دی جب وہ مدینہ منورہ سے باہر تھے ، چنانچہ ابوعمرو بن حفص کے وکیل نے وہ ’’جو‘‘ فاطمہ کے سپرد کر دیے جو ابوعمرو نے ان کے لیے بھیجے تھے وہ اس سے ناراض ہو گئیں ، اس پر (اس کے وکیل) نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں ، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے لیے کوئی نفقہ نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم فرمایا ، پھر فرمایا :’’ وہ ایسی خاتون ہیں ، کہ میرے صحابہ اس کے پاس آتے جاتے ہیں ، لہذا تم ابن ام مکتوم ؓ کے ہاں عدت گزارو ، کیونکہ وہ نابینا شخص ہے ، تم اپنے معمول کے کپڑے پہن کر رہ سکتی ہو ، جب تم عدت گزار لو تو مجھے مطلع کرنا ۔‘‘ فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں : جب میں نے عدت گزار لی تو میں نے آپ کو بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ اور ابوجہم ؓ نے مجھے پیغام نکاح بھیجا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوجہم وہ تو اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے نہیں اتارتا (سخت مزاج ہے) ، اور رہا معاویہ وہ تو فقیر آدمی ہے ، اس کے پاس کوئی مال نہیں ، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو ۔‘‘ میں نے اسے ناپسند کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسامہ سے نکاح کر لو ۔‘‘ میں نے اس سے نکاح کر لیا اللہ نے اس میں خیر فرما دی ، اور میں قابل رشک بن گئی ۔ اور انہی سے ایک روایت میں ہے :’’ ابوجہم ! وہ تو عورتوں کو بہت مارنے والا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے خاوند نے جب اسے تین طلاقیں دے دیں تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ تمہارے لیے صرف حاملہ ہونے کی صورت میں نفقہ ہے ، ویسے کوئی نفقہ نہیں ۔‘‘
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ ایک بے آباد گھر میں تھیں ، ان کے متعلق اندیشہ محسوس کیا گیا اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں رخصت عنایت فرمائی ، یعنی عائشہ ؓ کی مراد یہ ہے کہ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں (اپنے گھر سے) منتقل ہونے کی اجازت دی ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے ، عائشہ ؓ نے کہا : فاطمہ ؓ کو کیا ہو گیا وہ اللہ سے کیوں نہیں ڈرتی ، جب وہ یہ کہتی ہے کہ مطلقہ ثلاثہ کے لیے ، سکونت ہے اور نہ خرچہ ۔ رواہ البخاری ۔
سعید بن مسیّب بیان کرتے ہیں ، فاطمہ (بنت قیس ؓ) کو محض اس لیے منتقل کیا گیا کہ وہ اپنے (خاوند کے) اقارب پر زبان درازی کرتی تھیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں ، انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے انہیں گھر سے نکلنے سے منع کیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور واقعہ بیان کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیوں نہیں ، تم اپنی کھجوریں توڑو ، کیونکہ امید ہے کہ تم صدقہ کرو گی یا کوئی بھلائی و نیکی کا کام کرو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ نے اپنے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچے کو جنم دیا ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ آپ سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کریں ، آپ نے انہیں اجازت عطا فرما دی اور انہوں نے نکاح کر لیا ۔ رواہ البخاری ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے ، اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہے ، کیا میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا دوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ دو بار یا تین بار ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر بار یہی فرماتے :’’ نہیں ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ (عدت) چار ماہ دس دن ہے ، جبکہ دور جاہلیت میں تم میں سے ہر کوئی سال کے اختتام پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی ۔‘‘ (ایک سال بعد عدت ختم ہوتی تھی) متفق علیہ ۔
ام حبیبہ ؓ اور زینب بن جحش ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن کے سوگ کے علاوہ کسی اور میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ نہ کرے ، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن کا سوگ کرے ، اور وہ یمنی لکیر دار چادر کے سوا رنگے ہوئے کپڑے بھی نہ پہنے ، نہ سرمہ ڈالے اور نہ خوشبو لگائے ، البتہ جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو پھر قُسط یا اظفار کی معمولی سی خوشبو لگا لے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ وہ مہندی نہ لگائے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ ابوداؤد ۔
زینب بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوسعید خدری ؓ کی بہن فُریعہ بنت مالک بن سنان نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ وہ اپنے قبیلے بنو خدرہ میں اپنے گھر چلی جائے ، کیونکہ اس کا شوہر اپنے مفرور غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا جسے ان غلاموں نے قتل کر دیا تھا ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں کیونکہ میرے شوہر نے نہ تو اپنا ذاتی گھر چھوڑا ہے اور نہ نفقہ ۔ وہ بیان کرتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ میں واپس مڑی حتی کہ جب حجرے میں تھی یا مسجد میں تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بُلایا اور فرمایا :’’ اپنے گھر میں رہو حتی کہ عدت پوری ہو جائے ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے وہاں چار ماہ دس دن عدت گزاری ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب ابوسلمہ ؓ فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایلوے کا عرق لگایا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ام سلمہ ! یہ کیا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : یہ تو ایلوے کا عرق ہے ! اس میں کوئی خوشبو نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ چہرے کو چمکا دیتا ہے ، اسے رات کے وقت لگا لیا کرو اور دن کے وقت صاف کر دیا کرو ، خوشبو لگا کر کنگھی بھی نہ کرو اور نہ مہندی لگا کر کنگھی کرو ، کیونکہ وہ خضاب ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بیری (کے پتوں) کے ساتھ ، تم اپنے سر پر ان کی لیپ کر لیا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ام سلمہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو وہ نہ تو زرد رنگ کے کپڑے پہنے اور نہ سرخ رنگ کے ، اور نہ وہ زیور پہنے اور خضاب لگائے اور نہ ہی سرمہ لگائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ احوص نے شام میں اس وقت وفات پائی جب اس کی بیوی کو (طلاق کے بعد) تیسرا حیض شروع ہو چکا تھا ، وہ اسے طلاق دے چکا تھا ، معاویہ بن ابی سفیان نے اس بارے میں مسئلہ دریافت کرنے کے لیے زید بن ثابت ؓ کے نام خط لکھا تو زید نے انہیں جواب دیا کہ وہ تیسرے حیض میں داخل ہو چکی ہے ، وہ (عورت) اس سے برئ الذمہ ہے اور وہ اس سے برئ الذمہ ہے ، وہ اس کا وارث نہیں اور یہ اس کی وارث نہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
سعید بن مسیّب بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : جس عورت کو طلاق دی گئی اور اسے ایک یا دو حیض آ گئے اور پھر اس کا حیض موقوف ہو گیا تو وہ نو ماہ انتظار کرے گی ، اگر اس کا حمل ظاہر ہو گیا تو پھر یہی (وضع حمل) ہے ورنہ وہ نو ماہ کے بعد تین ماہ عدت گزارے گی اور پھر حلال ہو جائے گی ۔ (اور وہ دوسری جگہ نکاح کر سکے گی) صحیح ، رواہ مالک ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو بچہ جننے کے قریب تھی تو آپ نے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ فلاں شخص کی لونڈی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا وہ اس سے جماع کرتا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر تک اس کے ساتھ جائے ، وہ اس سے کیسے خدمت کا تقاضا کر سکتا ہے جبکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ، یا وہ اسے کیسے وارث بنا سکتا ہے جبکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے غزوۂ اوطاس میں حاصل ہونے والی لونڈیوں کے بارے میں فرمایا :’’ وضع حمل سے پہلے حاملہ (لونڈی) سے جماع نہ کیا جائے اور جو حاملہ نہیں اس سے بھی جماع نہ کیا جائے حتی کہ اسے ایک حیض آ جائے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و الدارمی ۔