Back to Mishkat Al-Masabih

Marriage

كتاب النكاح

Chapter 13

Hadith 3379
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأمه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بالغ لڑکے کو اس کے والد اور اس کی والدہ کے درمیان اختیار دیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 3380
sahih
وَعنهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ سَقَانِي وَنَفَعَنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ» . فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، میرا خاوند میرے اس بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے ، جبکہ وہ میرے لیے پانی لاتا ہے اور مجھے فائدہ پہنچاتا ہے ، تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ تمہارا والد ہے اور یہ تمہاری والدہ ہے ، تم ان دونوں میں سے جس کا چاہو ہاتھ تھام لو ۔‘‘ اس نے اپنی والدہ کا ہاتھ تھام لیا تو وہ اسے لے کر چلی گئی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔

Hadith 3381
sahih
عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ سُلَيْمَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فَادَّعَيَاهُ فَرَطَنَتْ لَهُ تَقُولُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتهمَا رَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ. فَجَاءَ زَوْجُهَا وَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي ابْنِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا إِلَّا أَنِّي كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ: مِنْ عَذْبِ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَهِمَا عَلَيْهِ» . فَقَالَ زَوْجُهَا مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ» فَأَخَذَ بيد أمه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد. وَالنَّسَائِيّ لكنه ذكر الْمسند. وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن هِلَال بن أُسَامَة
Urdu

ہلال بن اسامہ اہل مدینہ کے آزاد کردہ غلام ابومیمونہ سلیمان سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : اس دوران کہ میں ابوہریرہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک فارسی (عجمی) عورت ، جس کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی تھی ، اپنے بیٹے کو لے کر ابوہریرہ ؓ کے پاس آئی اور وہ دونوں (والد اور والدہ) اس کا دعویٰ کرتے تھے ، اس عورت نے ابوہریرہ ؓ سے فارسی میں بات کرتے ہوئے کہا : ابوہریرہ ! میرا خاوند میرے اس بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے ۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : تم دونوں اس کے متعلق قرعہ اندازی کرو ۔ ابوہریرہ ؓ نے بھی اس کے متعلق اسے فارسی میں بتایا ، جب اس کا خاوند آیا تو اس نے کہا : میرے بیٹے کے متعلق کون مجھ سے جھگڑتا ہے ؟ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : اے اللہ ! میں یہ فیصلہ اس لیے دے رہا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرا خاوند میرے اس بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے ، جبکہ وہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے اور ابوعنبہ کے کنویں سے پانی لا کر مجھے پلاتا ہے ، اور نسائی کی روایت میں ہے : میٹھا پانی ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کے متعلق قرعہ اندازی کرو ۔‘‘ تو اس کے خاوند نے کہا : میرے بچے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑتا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ تیرا والد ہے اور یہ تیری والدہ ہے ، لہذا تم ان میں سے جس کا چاہو ہاتھ پکڑ لو ،‘‘ اس نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ ابوداؤد ، نسائی ، لیکن انہوں نے اسے مسند روایت کیا ہے ۔ اور دارمی نے اسے ہلال بن اسامہ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔