رافع بن مکیث ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (غلاموں ، رعایا سے) اچھا سلوک کرنے والا باعث برکت ہے جبکہ بُرے اخلاق والا باعث نحوست ہے ۔‘‘ اور میں (صاحب مشکوۃ) نے مصابیح کے علاوہ کسی اور نسخے میں یہ اضافہ نہیں دیکھا جو صاحبِ مصابیح نے نقل کیا ہے :’’ صدقہ بُری موت سے بچاتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کا باعث ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ اللہ کا واسطہ دے تو تم اپنا ہاتھ اٹھا لو (نہ مارو) ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعیب الایمان ، لیکن اس میں ’’ اپنا ہاتھ اٹھا لو ‘‘ کے بجائے ’’ روک لو ‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے والدہ اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دی تو روز قیامت اللہ اس کے اور اس کے چہیتوں (والدین اور اولاد وغیرہ) کے درمیان جدائی ڈال دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو غلام بھائی مجھے ہبہ کیے تو میں نے ان میں سے ایک بیچ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا :’’ تیرا غلام کہاں گیا ؟‘‘ میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے واپس لاؤ ، اسے واپس لاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرمایا اور بیع کو فسخ کر دیا ۔ ابوداؤد نے اسے منقطع روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص میں تین صفات ہوں گی اللہ اس کی موت آسان فرما دے گا اور اسے جنت میں داخل فرمائے گا : کمزور سے نرمی کرنا ، والدین پر شفقت کرنا اور مملوک سے احسان کرنا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی ؓ کو ایک غلام ہبہ کیا تو فرمایا :’’ اسے مارنا نہیں ، کیونکہ نمازیوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔‘‘ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ حسن ، رواہ البغوی فی المصابیح و احمد و الطبرانی ۔
اور امام دارقطنی کی روایت المجتبی میں ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازیوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارقطنی ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے ، اس شخص نے پھر یہی کہا ، آپ پھر خاموش رہے ، جب تیسری بار دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس سے دن میں ستر بار درگزر کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
امام ترمذی نے اسے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے غلاموں میں سے جو غلام تمہاری معاونت کرے تو جو تم کھاتے ہو اسے بھی وہی کھلاؤ اور جو تم پہنتے ہو اسے بھی وہی پہناؤ ، اور ان میں سے جو تمہاری معاونت نہ کرے اسے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو سزا نہ دو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
سہل بن حنظلیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لاغر اونٹ کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، ان پر اس حال میں سواری کرو کہ وہ سواری کے قابل ہوں ، اور انہیں اس حال میں چھوڑو کہ وہ اچھے ہوں (ابھی تھکے نہ ہوں) ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’ تم یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اسی کے ساتھ کہ وہ احسن ہو ۔‘‘ اس کا فرمان :’’ بے شک جو لوگ یتیموں کا مال از راہِ ظلم کھاتے ہیں ۔‘‘ نازل ہوا تو پھر جس شخص کے پاس یتیم تھا اس نے اس کا کھانا اپنے کھانے سے ، اس کا پینا اپنے پینے سے الگ کر دیا ، اور جب یتیم کے کھانے پینے سے کچھ بچ جاتا تو وہ اسی کے لیے رکھ دیتے حتی کہ وہ اسے کھا لیتا یا وہ خراب ہو جاتا ، یہ چیز ان پر بہت دشوار گزری تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ، فرما دیجئے ان کے لیے اصلاح کرنا بہتر ہے ، اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ۔‘‘ انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ اور پینا اپنے پینے کے ساتھ ملا لیا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والد اور اس کے بچے کے درمیان ، نیز بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے پر لعنت فرمائی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارقطنی ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی لائے جاتے تو آپ ایک گھر کے تمام افراد کسی ایک کو عطا فرما دیتے کیونکہ آپ کو ان میں جدائی ڈالنا ناپسند تھا ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں تمہارے بُرے لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں ، وہ شخص ہے جو (بخل و تکبر کی وجہ سے) اکیلا کھاتا ہے ، اپنے غلام کو مارتا ہے اور اپنا عطیہ اس کے مستحق کو نہیں دیتا ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (مملوکوں سے) بُرا سلوک کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت میں تمام امتوں سے زیادہ مملوک اور یتیم ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، تم ان کی اپنی اولاد کی طرح تکریم کرو اور جو خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہمیں دنیا میں کون سی چیز فائدہ دے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گھوڑا جسے تو تیار رکھے تاکہ تو اس پر اللہ کی راہ میں جہاد کرے ، اور مملوک جو تجھے کفایت کرے ، جب وہ نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ احد کے موقع پر چودہ سال کی عمر میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے مجھے واپس کر دیا ، پھر غزوہ خندق کے موقع پر پندرہ سال کی عمر میں مجھے پیش کیا گیا تو آپ نے مجھے (جہاد کرنے کی) اجازت مرحمت فرما دی ۔ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے فرمایا : یہی عمر (پندرہ سال) لڑنے والے جوانوں اور لڑکوں (نابالغ) میں فرق کرنے والی ہے ۔ متفق علیہ ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین اشیاء پر صلح فرمائی ، کہ مشرکین میں سے جو شخص ان کی طرف آئے گا اسے ان (مشرکین) کی طرف واپس کیا جائے گا ۔ اور جو مسلمانوں کی طرف سے ان کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئندہ سال مکہ میں داخل ہوں گے ۔ اور وہاں تین روز قیام کریں گے ، جب آپ اس (مکہ) میں داخل ہوئے اور مدت پوری ہو گئی اور آپ نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو حمزہ ؓ کی بیٹی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چچا جان ! چچا جان ! کہہ کر آوازیں دینے لگی تو علی ؓ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ کر لیا اس کے ساتھ ہی حضرت علی ؓ ، حضرت جعفر ؓ ، اور حضرت زید ؓ کے درمیان حمزہ کی بیٹی کے بارے میں تنازع شروع ہو گیا : علی ؓ نے فرمایا : میں نے اسے پکڑا ہے اور وہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، جعفر ؓ نے فرمایا : وہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے ، اور زید ؓ نے فرمایا : میرے بھائی کی بیٹی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق اس کی خالہ کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا :’’ خالہ ماں کی جگہ پر ہے ۔‘‘ اور علی ؓ سے فرمایا :’’ تم مجھ سے ہو اور میں تجھ سے ہوں ۔‘‘ جعفر ؓ سے فرمایا :’’ تم خَلق و خُلق (سیرت و صورت) میں مجھ سے مشابہ ہو ۔‘‘ اور زید ؓ سے فرمایا :’’ تم ہمارے بھائی اور ہمارے چہیتے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرا یہ بیٹا (کہ دوران حمل) میرا پیٹ اس کے لیے ظرف تھا ، (دورانِ رضاعت) میری چھاتی اس کے لیے مشکیزہ (دودھ پینے کی جگہ) تھی ۔ اور میری گود اس کے لیے ٹھکانا تھی ، اور (اب) اس کے والد نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تک تو (نئے خاوند سے) نکاح نہ کرے ، اس وقت تک تم اس کی زیادہ حق دار ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔