ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت نے اسلام قبول کیا اور اس نے شادی کر لی ، اتنے میں اس کا (پہلا) خاوند نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اسلام قبول کر چکا ہوں اور اس (عورت) کو میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (عورت) کو اس کے دوسرے خاوند سے لے کر اس کے پہلے خاوند کو واپس کر دیا ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے عرض کیا : اس (عورت) نے میرے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (عورت) کو اس کے حوالے کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
شرح السنہ میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی ہی عورتوں کو پہلے نکاح پر ہی ان کے خاوندوں کی طرف لوٹا دیا جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا اگرچہ ایک وقت تک ان کا دین اور رہن سہن ایک دوسرے سے الگ رہا ، ان میں ولید بن مغیرہ کی بیٹی ہیں جو کہ صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں ، فتح مکہ کے روز وہ تو مسلمان ہو گئیں جبکہ ان کا خاوند اسلام قبول کرنے سے بھاگ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چچا زادوہب بن عمیر کو صفوان کی امان کے لیے اپنی چادر دے کر بھیجا ، جب وہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے چار ماہ گھومنے پھرنے کی مہلت عطا کی حتی کہ اس نے اسلام قبول کر لیا تو وہ (ولید بن مغیرہ کی بیٹی) اس کے نکاح میں رہیں ، اور (اسی طرح) عکرمہ بن ابی جہل کی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کر لیا جبکہ اس کا خاوند اسلام سے بھاگ کر یمن چلا گیا تو ام حکیم نے بھی کوچ کیا حتی کہ اس کے پاس یمن پہنچ گئیں اور اسے اسلام کی دعوت پیش کی تو اس نے اسلام قبول کر لیا ، اور دونوں کا نکاح برقرار رہا ۔ امام مالک نے ابن شہاب سے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک و فی شرح السنہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، سات رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور سات نکاح کی وجہ سے ۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں ۔۔۔۔۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے صحبت کی تو پھر اس کے لیے اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنا حلال نہیں ، اور اگر اس نے اس کے ساتھ تعلق زن و شو قائم نہیں کیا تو پھر وہ اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے ۔ اور جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کیا تو پھر اب اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح کرنا حلال نہیں خواہ اس نے اس سے تعلق زن و شو قائم کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث اسناد کے حوالے سے صحیح نہیں ، ابن لہیعہ اور مثنی بن صباح نے اسے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے ، اور ان دونوں کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، یہود کہا کرتے تھے ، جب آدمی اپنی بیوی سے اس کی پچھلی جانب سے اس کی اندام نہانی میں جماع کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، تم جیسے چاہو اپنی کھیتی کو آؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم عزل کیا کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا تھا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور امام مسلم نے مزید یہ بھی روایت کیا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ہمیں منع نہیں فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میری ایک لونڈی ہے وہ ہماری خادمہ ہے اور میں اس سے جماع کرتا ہوں جبکہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو اس سے عزل کرو ، کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ اسے مل کر رہے گا ۔‘‘ کچھ مدت گزری تو وہ آدمی پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : لونڈی تو حاملہ ہو گئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ اس کے مقدر میں جو کچھ ہے وہ اسے مل کر رہے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے تو کچھ عرب لونڈیاں ہمارے ہاتھ لگیں ، ہمیں عورتوں کی رغبت ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہمارے لیے دشوار ہو گیا اور ہم نے عزل کرنا پسند کیا ، ہم نے عزل کرنے کا ارادہ کیا اور ہم نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کئے بغیر عزل کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں موجود ہیں ، ہم نے اس کے متعلق آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا حرج ہے ! اگر تم ایسے نہ کرو ؟ کیونکہ جس جان نے قیامت تک آنا ہے اس نے آنا ہی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عزل کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر پانی (منی) سے بچہ نہیں ہوتا ، اور جب اللہ کسی چیز کی تخلیق کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے عرض کیا : میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا :’’ تم یہ کیوں کرتے ہو ؟‘‘ اس آدمی نے عرض کیا : مجھے اس کے بچے (حمل یا شیر خوار) کے متعلق اندیشہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر یہ (جماع) مضر ہوتا تو یہ فارسیوں اور رومیوں کے لیے مضر ہوتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جُذامہ بنت وہب ؓ بیان کرتی ہیں ، میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے ۔’’’ میں نے ’’غیلہ‘‘ (حالت حمل میں دودھ پلانے) نے منع کرنے کا ارادہ کیا ، پھر میں نے رومیوں اور فارسیوں کو دیکھا کہ وہ اپنی اولاد کو حالت حمل میں دودھ پلاتے رہتے ہیں ، اور یہ ان کی اولاد کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاتا ۔‘‘ پھر انہوں نے آپ سے عزل کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ (عزل کرنا) انسان کو زندہ درگور کرنا ہے ۔ اور یہ (عزل کرنا) اللہ کے اس فرمان :’’ جب زندہ درگور کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا ۔‘‘ کے زمرہ میں آتا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت اللہ کے ہاں سب سے بڑی امانت ‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ روز قیامت اللہ کے نزدیک اس آدمی کا مقام سب سے بُرا ہو گا جو اپنی اہلیہ کے پاس جاتا ہے اور وہ اس کے پاس جاتی ہے ، پھر وہ آدمی اس (اہلیہ) کے راز افشاں کر دیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کی گئی :’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، تم اپنی کھیتی کو آؤ ۔‘‘ ’’سامنے سے آؤ یا پچھلی طرف سے آؤ لیکن پیٹھ میں (لواطت) اور حالت حیض میں جماع کرنے سے بچو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
خزیمہ بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ بیانِ حق سے نہیں شرماتا ، تم عورتوں سے ان کی پیٹھ میں مباشرت نہ کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی اہلیہ کے پاس مقعد میں آئے وہ ملعون ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی اہلیہ سے اس کی دُبر سے آتا ہے تو اللہ اس کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس شخص کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا جو کسی مرد یا کسی عورت سے لواطت کرتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اپنی اولاد کو پوشیدہ طور پر قتل نہ کرو ، کیونکہ ’’ حاملہ عورت کا دودھ اچھا گھوڑ سوار نہیں بننے دیتا اور اسے اس کے گھوڑے سے پچھاڑ دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل کرنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
عروہ ، عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بریرہ ؓ کے بارے میں انہیں فرمایا :’’ اسے (اس کے مالکوں سے) لے کر آزاد کر دو ۔‘‘ اور اس کا خاوند غلام تھا لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (نکاح برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا) اسے اختیار دیا تو اس نے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا ، اور اگر وہ (بریرہ ؓ کا خاوند) آزاد ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اختیار نہ دیتے ۔ متفق علیہ ۔