Back to Mishkat Al-Masabih

Marriage

كتاب النكاح

Chapter 13

Hadith 3139
sahih
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ: مَنْ بَلَغَتِ ابْنَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَمْ يُزَوِّجْهَا فَأَصَابَتْ إِثْمًا فَإِثْمُ ذَلِكَ عَلَيْهِ «. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

عمر بن خطاب ؓ اور انس بن مالک ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تورات میں لکھا ہوا ہے ، جس شخص کی بیٹی بارہ برس کی ہو جائے اور وہ اس کی شادی نہ کرے اور وہ (لڑکی) کسی گناہ کا ارتکاب کر لے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہے ۔‘‘ بیہقی نے یہ دونوں روایتیں شعب الایمان میں بیان کیں ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 3140
sahih
عَن الرّبيع بنت معوذ بن عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كمجلسك مني فَجعلت جويرات لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَالَ: «دَعِي هَذِهِ وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

رُبَّیع بنت معوذ بن عفراء ؓ بیان کرتی ہیں ، جب مجھے شادی کے بعد میرے خاوند کے گھر لایا گیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جس طرح آپ (حدیث کے راوی خالد بن ذکوان) مجھ سے (دور) بیٹھے ہیں ، پس انصار کی چھوٹی چھوٹی بچیاں دف بجا کر میرے ان اباء جو غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے ، کے محاسن بیان کرنے لگیں ، کہ اچانک ان میں سے ایک نے کہہ دیا : ہم میں ایک نبی ہیں ، جو مستقبل کے واقعات جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے چھوڑو ، اور جو تم پہلے کہہ رہی تھیں وہی کہو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 3141
sahih
وَعَن عَائِشَة رَضِي الله عَنهُ قَالَتْ: زُفَّتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ؟ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْو» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت کی ایک انصاری صحابی کے ساتھ رخصتی ہوئی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کھیل کود کا سامان نہیں تھا ؟ کیونکہ انصار کو دف اور اشعار کہنا اچھا لگتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 3142
sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟ . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شوال میں مجھ سے شادی کی اور شوال میں مجھے اپنے گھر لائے اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کون سی وہ بیوی ہے جسے آپ کے ہاں مجھ سے اہم مقام حاصل تھا ؟ رواہ مسلم ۔

Hadith 3143
sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفروج»
Urdu

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جن شروط کے ساتھ تم نے شرم گاہوں کو حلال بنایا ہے ، وہ (شروط) زیادہ حق رکھتی ہیں کہ انہیں پورا کیا جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3144
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَو يتْرك»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح نہ بھیجے حتی کہ وہ نکاح کر لے یا چھوڑ دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3145
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْكِحَ فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اسے اس کا رزق بھی مل جائے اسے چاہیے کہ وہ اس مرد سے خود شادی کر لے ، حالانکہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ اسے مل جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3146
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ’’نکاح شغار‘‘ سے منع فرمایا ہے ۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرے کہ دوسرا آدمی اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دے اور ان دونوں کے درمیان مہر نہ ہو ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسلام میں شغار (بٹے کا نکاح) نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3147
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أكل لُحُوم الْحمر الإنسية
Urdu

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 3148
sahih
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَى عَنْهَا. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ اوطاس کے موقع پر تین روز کے لیے متعہ کی اجازت دی پھر اس سے منع فرما دیا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 3149
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ: التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» . وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسنَا من يهد اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» . وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسلمُونَ) (يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تساءلون وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا) (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيما) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ فَسَّرَ الْآيَاتِ الثَّلَاثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَادَ ابْنُ مَاجَهْ بَعْدَ قَوْلِهِ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ» وَبَعْدَ قَوْلِهِ: «من شرور أَنْفُسنَا وَمن سيئات أَعمالنَا» وَالدَّارِمِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ «عَظِيمًا» ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِهِ وَرَوَى فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خطْبَة الْحَاجة من النِّكَاح وَغَيره
Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز میں تشہد پڑھنا سکھائی اور حاجت (نکاح وغیرہ) میں تشہد سکھائی ، راوی بیان کرتے ہیں ، نماز میں تشہد کے الفاظ یہ ہیں : ((التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)) ’’قولی ، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلامتی ، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں ، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اور کسی حاجت و ضرورت کے وقت پڑھا جانے والا تشہد یہ ہے : ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلہِ نَسْتَعِیْنُہ وَنَسْتَغْفِرُہ وَنَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا ، مِنْ یَّھْدِہِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَہ ، وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَا ھَادِیَ لَہ ، وَاَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ)) ’’بے شک ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے ، ہم اسی سے مدد چاہتے اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، ہم اپنے نفوس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ۔ جس کو اللہ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ تین آیات تلاوت فرماتے : (یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ امَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ ۔ ) ’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جاؤ جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ اور تم اس حال میں مرو کہ تم مسلمان ہو ۔‘‘ (یَآیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مَّنْ نَّفْسِِ وَّاحِدَۃِِ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآءً وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہِ وَالَا رْ حَامَ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا ۔) ’’اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک شخص (حضرت آدم ؑ) سے پیدا کیا ، اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا ، پھر ان دونوں سے بڑی تعداد میں مرد اور عورتیں پیدا کر کے انہیں روئے زمین پر پھیلا دیا اور ڈرو اللہ سے جس کے ذریعے تم اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہو ، اور قطع رحمی سے بچو ۔ اللہ تعالیٰ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔‘‘ (یَآ اَیُّھَا الَّذِیْ امَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا یُّصْلِحْ لکُمْ اَعْمَالکُمْ وَیَغْفِرْلکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ۔) ’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور درست بات کرو ، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) کی اطاعت کرے وہ بہت بڑی کامیابی حاصل کر لے گا ۔‘‘ اور جامع ترمذی میں ہے ۔ سفیان ثوری نے تینوں آیات کی وضاحت کی ۔ اور ابن ماجہ نے ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلہِ)) کے بعد ((نَحْمَدُہُ)) اور ((مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا)) کے بعد ((وَمِنْ سَیَّئَاتِ اَعْمَالِنَا)) کا اضافہ نقل کیا اور دارمی نے (عَظِیْمًا) کے بعد اضافہ نقل کیا ہے کہ پھر اپنی حاجت و ضرورت کا تذکرہ کرے ۔ اور شرح السنہ میں ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ اس تشہد کو نکاح کے خطبہ حاجت یا کسی دوسرے خطبہ میں پڑھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی و فی شرح السنہ ۔

Hadith 3150
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر وہ خطبہ جس میں تشہد (حمد و ثنا) نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 3151
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ فَهُوَ أَقْطَعُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر اہم کام جس کا آغاز اللہ کی حمد سے نہ کیا جائے وہ (کام) برکت سے خالی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 3152
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نکاح کا اعلان کرو اور اسے مسجد میں کرو ، اور اس موقع پر دف بجاؤ ۔‘‘ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 3153
sahih
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَصَلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ: الصَّوْتُ وَالدُّفُّ فِي النِّكَاحِ . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
Urdu

محمد بن حاطب جمحی ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نکاح کے موقع پر (نکاح کی) تشہیر اور دف بجانا (نکاح) حلال اور حرام میں فرق کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔

Hadith 3154
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زَوَّجْتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ أَلَا تُغَنِّينَ؟ فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ الْغِنَاءَ» . رَوَاهُ ابْن حبَان فِي صَحِيحه
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میرے پاس انصار کی ایک لڑکی تھی ، میں نے اس کی شادی کر دی ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ ! تم اشعار کا انتظام کیوں نہیں کرتی ، کیونکہ انصار کا یہ قبیلہ اشعار پسند کرتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن حبان فی صحیحہ ۔

Hadith 3155
sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: أنكحت عَائِشَة ذَات قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَهَدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟» قَالُوا: نعم قَالَ: «أرسلتم مَعهَا من تغني؟» قَالَتْ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فحيانا وحياكم . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، عائشہ ؓ نے انصار میں سے اپنی ایک عزیزہ کی شادی کی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا :’’ کیا تم نے لڑکی کو بھیج دیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے اشعار پڑھنے والوں کو اس کے ساتھ بھیجا ہے ؟‘‘ عائشہ ؓ نے عرض کیا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انصار ایسے لوگ ہیں جو گانے کا رجحان رکھتے ہیں ، اگر تم اس کے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجتی جو کہتا : اَتَیْنا کُمْ اَتَیْنَا کُمْ فَحَیَّانَا وَ حَیَّاکُمْ ہم تمہارے پاس آئے ، ہم تمہارے پاس آئے ہمیں بھی مبارک ہو اور تمہیں بھی مبارک ہو ‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 3156
sahih
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
Urdu

سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس عورت کی شادی دو ولی کر دیں تو وہ ان دونوں میں سے پہلے والے کے نکاح میں ہو گی ۔ اور جو شخص دو آدمیوں سے بیع کرے تو وہ ان میں سے پہلے کے لیے ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔

Hadith 3157
sahih
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا: أَلَا نَخْتَصِي؟ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ فَكَانَ أَحَدُنَا يَنْكِحُ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ)
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں ، ہم نے عرض کیا : کیا ہم خصی نہ ہو جائیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں متعہ کرنے کی رخصت عطا فرمائی ، ہم میں سے کوئی شخص کپڑے کے عوض ایک مدت تک کسی عورت سے نکاح کرتا ، پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اے مومنو ! پاکیزہ چیزوں کو ، جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ، حرام قرار نہ دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3158
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أول الْإِسْلَام كَانَ الرجل يقدم الْبَلدة لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يرى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيَّهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الْآيَةُ (إِلَّا عَلَى أَزوَاجهم أَو مَا ملكت أَيْمَانهم) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَاهُمَا فَهُوَ حرَام. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، متعہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا وہ اس طرح کہ آدمی شہر میں جاتا ، اس کی وہاں جان پہچان نہ ہوتی تو وہ وہاں اپنے قیام کے اندازے کے مطابق عورت سے شادی کر لیتا تو وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کے لیے کھانا تیار کرتی حتی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ مگر اپنی بیویوں پر یا اپنی لونڈیوں پر ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا :’’ ان دونوں (بیوی اور لونڈی) کی شرم گاہ کے سوا ہر شرم گاہ حرام ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔