جابر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جن (اجنبی) عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں تم ان کے پاس نہ جاؤ ، کیونکہ شیطان تم میں دورانِ خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ میں بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (ہاں) اور مجھ میں بھی ، لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی تو وہ مطیع ہو گیا / میں محفوظ رہتا ہوں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غلام لے کر فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لائے جسے آپ نے انہیں ہبہ کر دیا تھا ، فاطمہ ؓ پر ایک کپڑا تھا ، جب فاطمہ ؓ اس سے اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ آپ کے پاؤں تک نہ پہنچتا ، اور جب وہ اس سے اپنے پاؤں ڈھانپتیں تو وہ ان کے سر تک نہ پہنچتا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس پریشانی اور تکلیف کو دیکھا تو فرمایا :’’ تم پر کوئی حرج نہیں ، ان ، میں سے ایک تمہارے والد ہیں اور دوسرا تمہارا غلام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ گھر میں ایک مخنث تھا ، اس نے ام سلمہ ؓ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ ؓ سے کہا : عبداللہ ! اگر اللہ نے کل تمہیں طائف میں فتح عطا کی تو میں تمہیں غیلان کی ایک لڑکی بتاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب مڑتی ہے تو اس پر آٹھ بل پڑتے ہیں ۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ (مخنث) لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مسور بن مخرمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ایک بھاری پتھر اٹھایا ہوا تھا اور اسی حالت میں مَیں چل رہا تھا کہ میرا کپڑا گر گیا (جس سے ستر کھل گیا) ، میں اسے اٹھا نہ سکا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا :’’ اپنے اوپر کپڑا لو اور عریاں حالت میں نہ چلو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرم گاہ کبھی نہیں دیکھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو مسلمان پہلی مرتبہ کسی عورت کے حسن و جمال پر نظر ڈالتا ہے اور پھر وہ اپنی نظر جھکا لیتا ہے تو اللہ اسے ایک ایسی عبادت کی توفیق عطا فرماتا ہے جس کی وہ حلاوت محسوس کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔
حسن بصری ؒ مرسل روایت کرتے ہیں کہ مجھے روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ ستر دیکھنے والے اور ستر دکھانے والے پر لعنت فرمائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بیوہ عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے مشاورت نہ کر لی جائے ، اور کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے ۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور اس کی اجازت کس طرح ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کا خاموش رہنا اجازت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے ۔ جبکہ کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت طلب کی جائے گی ، اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے ۔‘‘ ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے جبکہ کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بیوہ اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے ، جبکہ کنواری کے متعلق اس کا والد اس سے اجازت طلب کرے گا اور اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
خنساء بنت خذام ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیوہ تھیں اور ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ۔ خنساء نے اسے ناپسند کیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نکاح فسخ کر دیا ۔ رواہ البخاری ۔ اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے : اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کر دیا ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے شادی کی تو ان کی عمر سات برس تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر ان کی رخصتی ہوئی تب ان کی عمر نو برس تھی اور ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو ان کی عمر اٹھارہ برس تھی ۔ رواہ مسلم ۔
ابوموسی ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ ولی کے بغیر نکاح نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ۔ اگر اس (مرد) نے اس سے جماع کیا ہے تو وہ مہر کی حق دار ہے کیونکہ اس نے اس سے مباشرت کی ہے ، اگر وہ (ولی) اختلاف کریں تو جس کا ولی نہ ہو تو سلطان (بادشاہ) اس کا ولی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ زانیہ وہ ہیں جو گواہ کے بغیر اپنا نکاح کریں ۔‘‘ درست بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں اجازت لی جائے گی ، اگر وہ خاموش رہے تو پھر یہی اس کی اجازت ہے ، اور اگر وہ انکار کر دے تو پھر اس پر زیادتی نہ کی جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
امام دارمی نے اسے ابوموسی ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
جابر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو وہ زانی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک نابالغہ لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کی شادی کر دی ہے جب کہ وہ اسے ناپسند کرتی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے (شادی برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا) اختیار دیا ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی عورت دوسری عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ کوئی عورت خود اپنا نکاح کرائے کیونکہ وہ زانیہ ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوسعید ؓ اور ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے ، اسے ادب سکھائے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کر دے ، اگر وہ بالغ ہو جائے اور وہ (والد) اس کی شادی نہ کرے اور وہ کسی گناہ (زنا وغیرہ) کا ارتکاب کر لے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔