ابودرداء ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی چیز سے تیری محبت اندھا اور بہرہ بنا دیتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
اہل فلسطین سے عبادہ بن کثیر شامی اپنی (فلسطینی) فسیلہ نامی عورت سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا ، میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہ بھی عصبیت کے زمرے میں آتا ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ عصبیت تو یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کی ناحق حمایت و نصرت کرے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے یہ انساب (ذات ، قبیلے) کسی کے لیے باعث عار نہیں ، تم سب آدم کی اولاد ہو اور تم سب باہم اس طرح برابر ہو جس طرح ایک صاع دوسرے صاع کے برابر ہوتا ہے ، دین اور تقویٰ کے علاوہ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ، آدمی کے لیے عار کے لحاظ سے یہی کافی ہے کہ وہ زبان دراز ، فحش گو اور بخیل ہو ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تیری والدہ ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تیری ماں ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تیری ماں ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تیرا باپ ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تیری ماں ، پھر تیری ماں ، پھر تیری ماں ، پھر تیرا باپ ، پھر تیرا قریبی رشتہ دار ، پھر اس سے کم قریبی رشتہ دار ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کی ناک خاک آلود ہو ، اس کی ناک خاک آلود ہو ، اس کی ناک خاک آلود ہو !‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کس کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو اپنے والدین میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پا لے پھر وہ (ان کے ساتھ حسن سلوک کر کے) جنت میں داخل نہ ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں ، میری والدہ میرے پاس تشریف لائیں جبکہ وہ مشرکہ تھی ، یہ اس وقت کی بات ہے جب قریش سے (حدیبیہ کا) معاہدہ ہوا تھا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بے شک میری والدہ میرے پاس آئی ہیں جبکہ وہ بہتر سلوک کی متمنی ہے تو کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ! اس سے صلہ رحمی کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آل ابو فلاں میرے دوست و حمایتی نہیں ، میرا حمایتی تو اللہ اور صالح مومن ہیں ، لیکن ان کے ساتھ رشتہ داری ہے جسے میں صلہ رحمی کے ذریعے برقرار رکھوں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مغیرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے ماؤں کی نافرمانی کرنے ، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے ، بخل کرنے اور دست سوال دراز کرنے کو تم پر حرام قرار دیا ہے ، اور فضول باتیں کرنے ، (لوگوں کے احوال جاننے کے لیے) زیادہ سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو تمہارے متعلق ناپسند فرمایا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آدمی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، وہ کسی آدمی کے والد کو گالی دیتا ہے تو (بدلے میں) وہ اس کے والد کو گالی دیتا ہے ، اور یہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ، تو (بدلے میں) وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک آدمی کا اپنے والد کے فوت ہو جانے کے بعد ، اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرنا سب سے بڑی نیکی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا رزق فراخ کر دیا جائے اور اس کی عمر دراز کر دی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا ، اور جب وہ اس سے فارغ ہوا تو رحم کھڑا ہو گیا اور اس نے رحمن کی کمر پکڑ لی ، اس پر (رحمن) نے فرمایا : ہٹ جا ؟ اس (رحم) نے عرض کیا ، یہ مقام اس کا ہے جو تیرے ساتھ قطع رحمی سے پناہ طلب کرتا ہے ، فرمایا : کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اس سے تعلق قائم رکھوں جو تجھ سے تعلق قائم رکھے ، اور جو تجھ سے تعلق توڑ دے میں اس سے تعلق توڑ دوں ، رحم نے عرض کیا ، رب جی ! کیوں نہیں (میں راضی ہوں) ، فرمایا :’’ یہ میں نے جو کہا ایسے ہی ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ رحم ، رحمن سے مشتق ہے ، اللہ نے فرمایا :’’ جس نے تجھ سے تعلق قائم کیا میں اس سے تعلق قائم کروں گا اور جس نے تجھ سے تعلق توڑا میں اس سے تعلق توڑ دوں گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ رحم عرش کے ساتھ معلق ہے ، وہ عرض کرتا ہے : جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے اور جس نے مجھے توڑا اللہ اسے توڑے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صلہ رحمی کے بدلے میں صلہ رحمی کرنے والا ، صلہ رحمی کرنے والا نہیں ، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں ، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں ، میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں ، میں ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ مجھ پر زیادتی کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تمہارا بیان درست ہے تو پھر تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو ، جب تک تم اس روش پر قائم رہو گے تو ان کے خلاف اللہ کی طرف سے تمہیں مدد پہنچتی رہے گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دعا ، تقدیر کو بدل دیتی ہے ، حسن سلوک سے عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے ، بے شک آدمی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں قراءت سنی تو میں نے کہا : یہ کون (قراءت کر رہا) ہے ؟ انہوں نے کہا : حارثہ بن نعمان ہیں ، حسن سلوک کی یہی جزا ہوتی ہے ، حسن سلوک کی جزا ایسی ہی ہوتی ہے ۔‘‘ اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ سب سے بڑھ کر حسن سلوک کرنے والے تھے ۔ بیہقی نے اسے شعب الایمان میں روایت کیا ہے اور ایک روایت میں ہے :’’ میں جنت میں داخل ہوا ‘‘ کی بجائے ’’ میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا ۔‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ والد راضی تو رب راضی ، والد ناراض تو رب ناراض ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔